مکان بنانے کا تخمینہ اور اَن دیکھے اخراجات ـ" اُف"!

(Arif Jameel, Lahore)

 انسان کی اولین خواہشات میں روٹی،کپڑے کے بعد رہنے کیلئے ایک اپنا مکان ہوتا ہے۔بلکہ مرد سے زیادہ ہر عورت کا ایک خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاوند بچوں کے ساتھ چاہے کسی چھوٹے سے گھر میں رہے ہو وہ اُسکا اپنا۔لہٰذا اس تگ و دو میں جب انسان یہ فیصلہ کر ہی لیتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کے ایک حصے سے یہ ذمہداری بھی پوری کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ اسکے لیئے سب سے پہلے اپنے عزیز واقارب سے مشورہ کرتا ہے کہ وہ کہاں زمین خریدے جہاں وہ اپنا مکان بنا سکے۔
 


ایک دن اُسکو اپنے بجٹ کے مطابق اس پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن ٹرانسفر فیس بمعہ ترقیاتی اخراجات کے متعلق زیادہ تر پراپرٹی ڈیلر واضح نہیں کرتے لہٰذا پہلی مشکل کا سامنا اُس وقت ہوتا ہے جب اس مد میں بھی ایک رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔جو اولین بجٹ کا حصہ نہیں ہوتی۔

بس پھر آغاز ہوتا ہے اُس بنیادی مالی تخمینے کا جو مکان کی تعمیر کیلئے ہونا لازمی ہے۔

اولین تخمینہ:
لگانے کیلئے ویسے تو آجکل آسان طریقہ فی مربع فُٹ ہے جس کے مطابق بنانے والا اپنے تعمیری رقبے کو ضرب دے کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ اُس کا مکان بنانے پر کتنا خرچ آئے گا۔لیکن یہاں دو قباحتیں پیش آتی ہیں : ایک تو یہ کہ اُس وقت کے ریٹ پر تعمیری میٹریل کسی معیار کا استعمال کیا جائے گا اور اُسکی بازاری قیمت میں کتنا رد و بدل ہوا اور دوسرا یہ کہ اگر مکان بنانے کا پہلا تجربہ ہو تو لوگوں کے مشوروں پر کتنا عمل کیا جا رہا ہے۔مثلاً اگر کسی سے سوال کر لیا جائے تو وہ جواب میں فوراً کہہ دیتا ہے کہ وہ توآپ کو غلط گائیڈ کر رہا ہے لاؤ کاپی پنسل مجھے پکڑاؤ میں ابھی بتا دوں گا کہ آپ کا مکان کتنے میں تیار ہو جائے گا؟اتنے کی اینٹ ،ریت ،سمینٹ اور اتنے کا سریا چھت کے لینٹر کیلئے۔بجلی کا کام ، لوہے کی کھڑکیاں، مین گیٹ اور لکڑی کے دروازے وغیرہ ۔کچھ اوپر کے اخراجات اور باقی ٹھیکیدار کی ادائیگیاں۔

رقم کا نتظام :
بس اہم ہے اگر آپ یہ کر لیں تو مکان تیار ۔مزید ایک دو سے مشورہ کریں تو وہ بھی اس کے قریب ہی تخمینہ لگائیں گے ۔ کچھ بجری و روڑی وغیرہ کا مزید اضافہ کر دیں گے۔ جس کے بعد مکان بنانے والا اپنی بچت پر ہی انحصار کرتے ہوئے آگے قدم بڑھا دے گا یا پھر لگائے گئے تخمینے کے مطابق کچھ قرضے کا بھی بندوبست کرے گا تاکہ اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ سکے۔لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ کتنے اَن دیکھے اخراجات کا اُس کو سامنا کرنا پڑے گا۔

زمین کا محل ِوقوع:
سب سے اہم ہے ۔یعنی خریدی گئی زمین کا رقبہ سڑک کے برابر ہے یا نیچے ۔کیونکہ اس صورت میں اُسکی بھرائی ضروری ہو جائے گئی تاکہ سڑک کے برابر لایا جا سکے اور پھر اگلا خرچہ مکان کی بنیادوں کی کھدائی ہے ۔یہ دونوں اپنی جیب کے مطابق جس سائز کا بھی مکان بنا رہے ہوں ایک اچھی خاصی رقم لے جاتے ہیں۔

دیمک کی دوائی و سڑک سے اونچائی:
بنیادیں کھودنے کے بعد اور مکان کے فرشوں کی بنوائی سے پہلے یعنی دو دفعہ دیمک کی دوائی کے چھڑکاؤ کیلئے اپنے مختص بجٹ میں سے ایک رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ساتھ میں سب سے اہم ہے مکان کی چوکی ( سڑک کے لیول سے اُونچا کیا جانا) ۔تاکہ پانی وغیرہ اندر نہ داخل ہوسکے اور گٹر سسٹم بہترین ڈھلون کے ساتھ کام کرے۔ اُس کیلئے" گھسو" نامی مٹی کی بھرائی کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا ان دونوں کاموں کو نظر انداز نہ کرتے ہوئے رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔

سیوریج سسٹم:
آج کے جدید دور کا وہ تحفہ ہے جس سے صدیوں انسان دُور رہا۔اسکو بچھانے کیلئے سیوریج پائپز کی ضروت پڑتی ہے اور اس کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب ایک دن صبح کے وقت ٹھیکیدا مالک کو کہتا ہے صاحب فلاں جگہ جائیں اور یہ اتنے پائپ سیوریج و گٹر سسٹم کیلئے لے آئیں۔ بس پھر وہ وہاں پہنچ کے جب اُنکی قیمت معلوم کرتا ہے تو اُس کے ہوش اُڑ جاتے ہیں ۔کیونکہ اُس دن کے اینٹوں سیمنٹ کا بجٹ کہیں اور پُھر۔

سریئے کا استعمال :
چھت کے لینٹر سے منسلک ہو تا ہے ۔لہٰذا تخمینہ لگاتے وقت یہ خیال نہیں رکھا جاتا کہ دروازوں ،کھڑکیوں کے اوپر لینٹل اور اگر سیڑھی بنانی ہے تو اُس میں بھی سریئے کی ایک مقدار استعمال ہو گی۔گو کہ ٹھیکیدا مالک کو حوصلہ دینے کیلئے پہلے تھوڑا تھوڑا منگواتا ہے لیکن بعد میں اُس پر آنے والے خرچے کا اندازہ لگایا جاتا ہے تو مکان کے لینٹر کی رقم کا ایک چوتھائی پہلے ہی خرچ ہو چکا ہوتا ہے۔

مکان کی تعمیر کے دوران رفقاء کے مشورے:
جاری رہتے ہیں اور مقام پر آنے والے تو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔بعض انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں ۔زیادہ تر خرچے بڑھانے والے اور شاید چند واقعی اہم ۔بہرحال مالک کا دماغ ٹھکانے لگ جاتا ہے اور اُن میں سے کسی ایک کے مشورے پر بھی عمل کرنا اَان دیکھے اخراجات کا باعث بن ہی جاتا ہے۔

متفرق اخراجات:
وہ ہیں جو ذین کے کسی کونے میں ہوتے تو ضرور ہیں لیکن شاید یہ سوچا جاتا ہے کہ وقت پر کچھ کر لیں گے۔ مثلاً خوبصورت مکان کی تعمیر کے شوق میں اَرکیٹکٹ سے رابطہ ،مقام پر چوکیدار ،ضروری و غیر ضروری تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلی یعنی مہنگی ہوتی جانا،ٹھیکیدار کی طرف سے فوراً کسی ایسی شے کی طلب جسکے لیئے تمام کام چھوڑ کر اُس کا انتظام کرنا تعمیراتی تخمینے کو پش ِپُشت ڈالنے کا باعث بنتا چلا جاتا ہے۔ان میں بجلی ، سوئی گیس و سینٹری وغیرہ کا وہ متفرق سامان جو مکان بنانے کے آغاز میں کہیں بھی قابل ِذکر نہیں ہوتا۔ ان میں چھت پر مٹی اور اینٹ نُما ٹائیل بھی شامل ہے۔ سب سے دلچسپ کہ اگر آپ فرش پر کوئی اچھی ٹائیل یا پتھر لگوانے کے خواہش مند ہیں تو اُس سے متعلقہ قیمتی سیمنٹ۔ اضافی ٹرانسپورٹ و پسند کی شے پر کمیشن جیسے اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

لکڑی و رنگ و روغن کا کام مکان کی خوبصورتی:
بے جا اَن دیکھے اخراجات ویسے تو فرشوں کی تیاری سے پہلے ہی تمام تخمینے پر اثر انداز ہوچکے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اس مرحلے تک پہنچ جائے تو وہ یقیناً لکڑی و رنگ و روغن سے پہلے دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہوتا ہے۔یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ کیا اب وہ مکان مکمل کر پائے گا؟وہ جس کا خواب دیکھ کا اُس نے اپنے بجٹ کے کے مطابق آغاز کیا تھا یا باقی جیسے بھی ہو بس مکمل کر کے اپنی فیملی کے ساتھ منتقل ہو جائے؟
 


ٹھیکیدار سے معاہدہ اور ذاتی پسند :
یہ بھی اَن دیکھے اخراجات کی ایک اہم کڑی ہوتی ہے۔مکان کے آغاز میں ٹھیکیدار سے جن شرائط پر معاہدہ کر کے کام شروع کروا دیا جاتا ہے اُن میں مکان بنانے والے کے گھر والوں کی پسند فی الوقت نظر انداز ہو جاتی ہے ۔لیکن پھر کوئی کہتا ہے کہ بارش سے بچنے کیلئے شیڈ ضروری ہیں،تو کوئی کہتا ہے کہ فرنٹ پر کچھ زاویئے مکان کو خوبصورت بناتے ہیں۔ کوئی اپنے کمروں میں تبدیلی چاہتا ہے وغیرہ۔ حالانکہ یہ کوئی نہیں سوچ رہا ہوتا کہ ایک تو ان خواہشات پر میٹریل زیادہ لگنے سے لاگت بڑھ جائے گی اور دوسرا ٹھیکیدار جب آخر میں فیتے سے پیمائش کرے گا تو فالتو کاموں کا حساب کر ڈالے گا۔مثلاً جتنا شیڈ باہر ہو گا اُسکی ادائیگی فی مربع فُٹ کا آدھا ادا کرنا پڑے گا جو کہ عام طور پر معاہدے میں نہیں لکھا ہوتا ۔اسطرح ٹھیکیدار ایک اچھی خاصی رقم کا مطالبہ کر دیتا ہے۔ بلکہ ایک دلچسپ بات اور یہ ہے کہ اگر ٹھیکیدار سے مکان کے کمروں کی اندر سے چھت کے ساتھ سکارٹنگ کو معاہدے میں شامل کرنا بھول جائیں اور پھر کوئی اُسکی طرف توجہ دلوا دے تو پھر اُس پر خرچہ فی مربع فُٹ سے الگ ہی ہو گا۔

یاد رکھیئے !آخری مراحل:
مکان کو مکمل کرنے کیلئے مندرجہ بالا اَن دیکھے اخراجات کو ذہین نشین کر لیں اور انکو بھی تخمینے کا اولین حصہ سمجھیں۔ کیونکہ ایک دن آپ بھی اُن میں ہی شامل ہو سکتے ہیں جو یا تو آخر میں مکان کے کئی کام نامکمل چھوڑ کر فی الوقت رہائش اختیار کر لیتے ہیں ۔بلکہ اگلے کئی سال تک دوبارہ ہمت ہی نہیں کر پاتے کہ مکان مکمل کرسکیں یا پھر مکمل کرنے کی خواہش میں مزید قرضے کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔یا دوسروں کی کاروباری رقم کو استعمال کر کے اُس کے چکر لگوانا شروع کر دیتے ہیں۔

 

Reviews & Comments

Language: