قصور کی تین سالہ کارکردگی کو سامنے رکھیں تو پولیس کی کارکرردگی زیرو ہے

(Syed Anis Bukhari, )
قصور کی تین سالہ کارکردگی کو سامنے رکھیں تو پولیس کی کارکرردگی زیرو ہے جس سے ظاہرتا ہے کہ پولیس کی تربیت ، عدم توجہی ،
ہم قصور میں ہونے والے بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی اور قتل میں پولیس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اس درجہ رنگ و بُو سے تہی ہو گئی حیات
بچے بھی پوچھتے ہیں، کب آئے گی قیامت

قصور میں بچوں کا ریپ اور قتل کے پے در پے لرزہ خیز واقعات اس با تکی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہماری پولیس بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔قصور کی سات سالہ زینب انصاری کے بہیمانہ جنسی تشدد کے واقعے کے بعد ایسے واقعات کے اسباب اور روک تھام کیلئے انتہائی موثر ا قدام اٹھانے کی اشد ضرورت تھی مگر ہماری پولیس نے ان واقعات کو کوئی اہمیت نہ دی اور چشم پوشی کرتے ہوئے روائتی انداز اپنا یا جسکا نیتجہ یہ نکلا کہ بچوں کا ریپ اور انکے قتل کے واقعات میں ااضافہ ہوا جسکی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت اور پولیس پر عائد ہوتی ہے جو کہتی ہے کہ ہم ہر گلی میں پولیس کو مقرر نہیں کر سکتے۔ جس سے ظاہر ہوتاہے کہ پولیس کی بے توجہی اور عدم دلچسپی بچوں کے ریپ اور قتل کی ذمہ دارہے اور ہماری پولیس عوام کو کسی قسم کی حفاظت دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے تو ہمیں ایسی پولیس کا کیا کرنا ہے ہر ایک کو حفاظت خود اختیاری کے اختیارات دے دئے جائین تا کہ عوام اپنیابندو پست از خود کرے اور پورے ملک میں انارکی ہو اور خونریزی عام ہوجائے جو غلط ہوگا۔

2015 ء میں تقریباً 280 بچوں کی جنسی تشدد اور عصمت دری کی ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ ویڈیوز بچوں کو بلیک میل کر کے ان سے پیسے بھی بٹورے گئے اور ان بچوں نے خوف اور ڈر کی وجہ سے اپنے گھروں میں چوریاں کرکے اد ا کئے جو ہماری حکومت اور پولیس سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس واقعہ کے پیچھے کون لوگ تھے تا حال عوام کو انکے مکروہ چہرے نہیں دکھائے گئے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تفصیل سامنے آئی کہ اس کیس کا انجام کیا ہوا۔

اگر ہم قصور کی چار سالہ کارکردگی کو سامنے رکھیں تو پولیس کی کارکرردگی زیرو ہے جس سے ظاہرتا ہے کہ پولیس کی تربیت، عدم توجہی، عدم تعاون، کرپشن جدید خطوط پرپولیس افسران واہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے جسے یقینی بنانے کیلئے پنجاب پولیس اپنے ٹریننگ سسٹم کی اپ گریڈیشن کیساتھ ساتھ دیگر ناموراداروں کے ساتھ تعاون اور اشتراک کو یقینی بنائے تاکہ ان واقعات کو کنٹرول کیا جا سکے اور پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے جو معمولی سی رشوت لیکر پولیس کی خفیہ معلومات مجرمان تک پہنچاتی ہیں۔ پولیس میں احتساب کا نظام رائج کیا جائے اور ایسے پولیس والوں کو انکے انجام تک پہنچایا جائے۔ حکومت پولیس کے نظام میں بہتری لانے کیلئے صرف جمع تقسیم تو کرتی ہے مگر عملی طور پر پولیس کے معاملات زیرو ہیں جو پولیس کی کارکردگی سے صاف عیاں ہیں اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بڑے منظم طریقے سے ہو رہے ہیں۔

ایک عام شہری کی سمجھ میں یہ بات آ سکتی ہے تو پھر ہماری حکومت، پولیس اور عدلیہ اِس کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے کہ ایک بندے کو گرفتار کر کے ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ لو جی مجرم پکڑا گیا۔عوام اِس بات پر تالیاں بجائیں کہ چار سالوں کے عرصے میں 700 کیس رپورٹ ہونے کے بعد ایک مجرم پکڑا گیا ہے جس سے پولیس کی کارکردگی کا پول کھل کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہاں سب سے اہم سوال سیاسی لیڈرشپ پر اُٹھتا ہے کہ چار سالوں سے اِس کی روک تھام کے لئے کیا گیا؟ یہی نہیں بلکہ ریپ کیس کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے وہ بھی ایک چھوٹے سے علاقے میں۔ جس سے پولیس کی نا اہلی، ہٹ دھرمی، بے توجہی، اور عدم دلچسپی کا صاف پتہ چلتا ہے۔ پولیس کو ٹھیک کر لو مسائل حل ہو جائینگے۔ ہمارا سماجی نظام بتدریج شکست و ریخت کا شکار ہے۔ غیر اخلاقی ویڈیوز ایک بہت بڑی صنعت بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے فحش اور غیر اخلاقی مواد تک نوجوانوں کی رسائی آسان ہو گئی ہے۔ جس سے وہ نئے نئے طریقے سیکھتے ہیں جسے روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بچوں کی ننگی اور فحاشی پر مبنی وڈیوز پاکستان میں عام ہیں جو کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں، اسی طرح انٹر نیٹ کیفوں پر چائلڈ پورنوگرافی یا بچوں کی فحش فلمیں اور تصاویر بھی عام ہیں۔ پولیس ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے میں لیت و لال سے کام لیتی ہے ایسے لوگوں ں ے تنظیمیں بنآ رکھی ہیں جیسے ہی کوئی پولیس ایسے نیٹ کیفے پر چھاپا مارتی ہے یہ لوگ اکھٹے ہو کر پولیس کو ناکام بنا د یتے ہیں۔ پولیس کو چاہئے کہ اپنے خفیہ نظآم میں بہتری لائے، بازاروں، مارکیٹیوں، گلیوں، محلوںِ، اسکولوں، مساجد، دینی مددارس، ورکشاپس، ہوتلوں پر کام کرنے والے چھوٹے بچوں پر کڑی نگرانی رکھی جائے اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کی نگرانی کرکے انکی تفتیش کی جائے۔ قانون کو سخت بنایا جائے اور اس پر سختی سے عمل کرتے ہوئے مجرموں کو سزائے موت دی جائے اور تربیتی کیمپ قایم کیئے جائیں تاکہ بچوں کے جنسی استحصال اور قتل کی وارداتوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ اسی طرح ہماری عوام کو چاہئے کہ بچوں کے ریپ اور قتل پر سڑکوں پر آ کر اپنا احجاج ریکارڈکرائیں تاکہ ہم یہ میسئج دے سکیں کہ ہم ایک ذندہ قوم ہیں اور یہ مسلۂ ہم سب کا اجتماعی مسئلہ ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 64896 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2019 Views: 294

Comments

آپ کی رائے