لیاری میں تاریکی کے بعد روشنی

(Amjad Buledi, Karachi)

لیاری جو کئی دہائیوں سے اپنوں کے ہی ہاتھوں کشت و خون میں رنگا رہا اب یہاں ان دنوں کی یاد بھی ایک گناہ کے طور مانی جاتی ہے تاریکی کے بعد جب گلی محلوں سے نکلنے والی چھوٓٹی چھوٹی ادبی محفلوں اور فنی سرگرمیوں نے لیاری کو اس کی اصل حالت میں رنگنا شروع کیا تو لیاری لٹریچر فیسٹیول کی صورت یہ رنگ قوس قزح کی طرحآسمان پر ایسے بکھرے کہ آج پورے شہر میں ہر زبان عام و خاص پر صرف لیاری کا ہی ذکر ہے ۔

وزیراعظم کی امریکہ یاترا کے پیش نظر اس میلے کے بعض ایونٹ سے غیر حاضر رہا لیکن جن ڈسکشنز اور ایونٹ میں شرکت کی ان سے مستفید بھی ہوا۔ اس نفع اور نقصان میں ہی آج ان کمزور ہاتھوں نے عرصے بعد قلم سنبھالا ہے اور اس تحریر کو لکھنے کی طاقت دی ہے۔

لیاری اور کراچی کے موضوع پر گل حسن کلمتی صاحب جب بولتے ہیں دل کرتا ہے کہ بس ان کو سنتے جائیں گل حسن کلمتی ،رمضان بلوچ ،لالہ فقیر محمد جب اس موضوع پر محو گفتگو تھے تو ہم اپنے اردو کے روح رواں سر شبیر حسین بلوچ کے برابر میں نشست پر براجمان ہوئے اس وقت رمضان بلوچ صاحب کی بات جاری تھی اور وہ ضیا دور کے کچھ تلخ حقائق بیان کررہے تھے اس موقع پر بحث کے میزبان حنیف دلمراد نے گل حسن کلمتی سے سوال کیا تو انہوں نے جواب کچھ یوں دیا ،لیاری کو ہم اس شہر کی ماں اس لئے کہتے ہیں کہ پہلے یہ شہر کھڈا مارکیٹ نیاآباد سے مزار قائد تک آباد تھا جب کہ باقی علاقے شہر سے باہر تھے کوئی حب کا حصہ تھا تو کوئی سندھ کا اصل شہر ہی لیاری سے شروع ہوا ہے تو ہم ماں کیوں نہ کہیں۔

بحث اختتام پذیر ہوا تو اسٹالز کا رخ کیا جہاں کہیں کتابوں کا ڈھیر لگا تھا تو کہیں ثقافت کے رنگ بکھرے ہوئے تھے کسی اسٹال پر مصوری کے شاہکار تھے تو کہیں شیشوں میں قید سندھ دھرتی میں زندگی کی جھلکیاںنظر آرہی تھیں جبکہ اس گلی میں دونوں طرف کپڑے کی دیواروں پر لیاری کے روشن چہروں سے آویزاں پورٹریٹ مصور کی محنت کا صلہ بروقت ادا کرنے کا مشورہ دے رہے تھے بلوچی کڑھائی والے پوشاک میں طلبا کی چہل پہل جہاں ثقافت سے روشناس کرارہی تھیں تو وہیں بعض نوجوانوں کے ہئیر اسٹائلز عالمی فٹبال کھلاڑیوں کی یاد دلارہی تھی

لیاری کی خوبصورتی یہاں بسنے والے لوگوں سے ہے جو زندہ دل بھی ہیں اور صابر بھی۔ ان ہی لوگوں کی زندہ دلی اور صبر نے لیاری لٹریچر فیسٹیول کی صورت لیاری کو آج ایک بیش قیمتی اور تاریخی تحفے سے نوازا ہے پروفیسر اختر بلوچ،بانک پروین ناز ،سعدیہ بلوچ ،اویس رمضان،ناز بارکزئی، فہیم شاد اور جو جو اس فیسٹیول کے انعقاد میں حصہ دار تھے بلاشبہ انہوں نے اپنی مٹی کا فرض ادا کردیا ہے جس کیلئے یہ تمام افراد مبارکباد کے مستحق ہیں
لیاری میں رنگا رنگ ادبی میلے کے انعقاد نے جہاں علاقے کے نوجوانوں میں ایک شعور بیدار کیا ہے تو وہیں یہاں علم و ادب کے کئی نئے باب کھولنے میں بھی یہ فیسٹیول کارگر ثابت ہوسکتا ہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 623 Print Article Print
About the Author: Amjad Buledi Baloch

Read More Articles by Amjad Buledi Baloch: 13 Articles with 6011 views »
i am journalist.. View More

Reviews & Comments

Language: