وہ 6 چیزیں جن سے ہم مستقبل میں محروم ہو جائیں گے

وسائل میں کمی کا تکلیف دہ احساس ہمیں رفتہ رفتہ ہونے لگا ہے۔

تقریباً ہم سبھی نے یہ پڑھا ہو گا کہ پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے یا تیل اور شہد کی مکھیاں کم ہو رہی ہیں لیکن ایسی اور بھی کئی چیزیں ہیں جن سے ہم محض بد انتظامی کی وجہ سے محروم ہو سکتے ہیں۔
 


یہ وہ چیزیں ہیں جو روزمرہ زندگی میں ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہم نے یہاں ایسی چھ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔

1. زمین کے مدار میں گنجائش
سنہ 2019 میں تقریباً 500,000 اجسام یا ٹکڑے زمین کے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔

ان میں سے صرف دو ہزار فعال ہیں یعنی وہ مصنوعی سیارے یا سیٹلائٹ جنھیں ہم روزمرہ کی زندگی میں مواصلات، جی پی ایس یا اپنے من پسند ٹی وی شو دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جبکہ باقی وہ ملبہ ہے جو راکٹ خلا میں داخل ہوتے وقت پیچھے چھوڑ جاتے ہیں یا جو مدار میں مخلتف چیزوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوا ہے۔
 


تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ یہ پانچ لاکھ اجسام وہ ہیں جو ہمارے مشاہدے میں ہیں جبکہ اس میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔

جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید بہتر ہو رہی ہے ویسے ویسے چیزوں کو مدار میں بھیجنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔

اسے انسانوں کے لیے اچھی خبر سمجھا جا سکتا ہے لیکن ہماری سڑکوں کے برعکس آسمان کی ٹریفک کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی نظام موجود نہیں۔ ہمارے پاس ایسا بھی کوئی نظام نہیں کہ زمین کے گرد چکر لگاتے ملبے یا باقیات کا صفایا کر سکیں۔

زمین کے مدار میں ان اجسام کے اضافے سے ان کے باہمی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ نیٹ ورک خراب ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے موبائل فون استعمال کرتے ہیں، موسم کا حال جانتے ہیں، دنیا کے نقشے دیکھتے ہیں یا سمت شناسی اور جی پی ایس سے متعلق دیگر کام کرتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام جاری ہے لیکن فی الحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔
 


2. ریت
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ریت بھی بھلا دنیا سے ختم ہو سکتی ہے۔ ہمارے پاس اتنے سارے صحرا اور ساحل سمندر تو ہیں جہاں ریت ہی ریت ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹھوس اشیا میں جو چیز سب سے زیادہ نکالی جا رہی ہے وہ ریت اور بجری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جس رفتار سے اسے نکالا جا رہا ہے اس تیزی سے یہ پیدا نہیں ہو رہی۔

پتھروں کے قدرتی کٹاؤ یا بردگی کے عمل سے ہزاروں برس میں بننے والی ریت روزانہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام، پانی کی تطہیر، سیم زدہ زمین کو پھر سے کام میں لانے، ہماری کھڑکیوں کے شیشے بنانے اور موبائل فونز کے پرزے بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔

ریت کے اس نقصان سے کمزور ماحولی نظاموں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وسیلے کے استعمال کی عالمی سطح پر نگرانی کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
 


3. ہیلیم
جشن کے موقع پر رنگین غباروں کا استعمال عام ہے اور پھر انھیں یوں ہی ہوا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ جان کر شاید آپ کا ضمیر ملامت کرے کہ ان میں بھری جانے والی ہیلیم گیس کے ذخائر بھی محدود ہیں۔

یہ گیس زمین کی گہرائی سے حاصل کی جاتی ہے اور شاید چند دہائیوں کا ذخیرہ ہی اب باقی بچا ہے۔

بعض اندازوں کے مطابق 30 سے 50 برس کے اندر ہی اس گیس کی کمیابی کے اثرات ظاہر ہونے لگیں گے۔

اس کی کمی سے جشن ہی پھیکے نہیں پڑیں گے بلکہ ہمارا علاج معالجہ بھی متاثر ہوگا کیونکہ یہ گیس ایم آر آئی یا بدن کی اندرونی تصویر کشی کرنے والی مشین کے مقناطیسوں کو ٹھنڈا کرنے کے بھی کام آتی ہے۔

اس نے سرطان، اور دماغ اور حرام مغز کی چوٹ کی تشخیص اور علاج میں انقلاب برپا کیا ہے۔
 


4. کیلے
تجارتی پیمانے پر پیدا کیے جانے والے کیلوں کی زیادہ تعداد پاناما نامی بیماری کے فنگس یا پھپھوندی سے متاثر ہے۔

ہم جو کیلے کھاتے ہیں اس کا تعلق کیلے کی اس قسم سے ہے جو کیونڈش کہلاتی ہے۔ پاناما نامی پھپھوندی کیلے کی اس نسل میں تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ سنہ 1950 میں اس بیماری نے دنیا بھر میں کیلے کی پوری فصل تباہ کر دی تھی جس کے سبب کاشتکاروں نے گراس میچل نامی کیلے کی قسم چھوڑ کر کیونڈش قسم اگانا شروع کر دی تھی۔

محققین کیلوں کی ایسی اقسام تیار کرنے میں مصروف ہیں جو پھپھوندی کے مقابلے میں مدافعت رکھتی ہوں اور کھانے میں لذیذ بھی ہوں۔

5. قابلِ کاشت مٹی
اگرچہ قابل کاشت مٹی میں کمی کا فوری طور پر کوئی خدشہ نہیں ہے مگر ہماری بدانتظامی نے اس سلسلے میں تشویش کو جنم دیا ہے۔
 


ٹاپ سوئل یا مٹی کی بیرونی پرت وہ مقام ہے جہاں سے پودے اپنی خوراک کا سب سے زیادہ حصہ حاصل کرتے ہیں۔

جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف، کے اندازے کے مطابق پچھلے 150 برسوں میں زمین کی اوپری پرت کا آدھے سے زیادہ حصہ ختم ہو چکا ہے اور صرف ایک انچ دبیز پرت کی قدرتی طور پر بحالی میں 500 برس لگ سکتے ہیں۔

زمین بردگی یا کٹاؤ، شدید کاشتکاری، جنگلات کی کٹائی اور عالمی حدت میں اضافہ جیسے اسباب کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی وجہ سے زمین کی قابل کاشت پرت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی پرت پر ہماری خوراک کی پیدوار کا انحصار ہے۔
 


6. فاسفورس
فاسفورس کا بظاہر ہماری روز مرہ زندگی میں کوئی خاص عمل دخل نہیں ہے۔

درحقیقت یہ نا صرف حیاتیاتی اعتبار سے انسانی ڈی این اے کی ساخت کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مصنوعی کھاد کا بھی اہم جزو ہے جس کا کوئی معلوم متبادل نہیں ہے۔

پہلے یہ پودوں اور جانوروں کے فضلے کے ذریعے اسی مٹی میں لوٹ جاتا تھا جہاں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ مگر اب یہ فصل کے اندر ہونے کی وجہ سے شہروں کو منتقل ہو رہا ہے جہاں سے یہ پانی میں دھل کر نکاسی کے نظام میں گم ہو رہا ہے۔

جس رفتار سے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاسفورس کے ذخائر 35 سے 40 برس تک ہی چل پائیں گے جس کے بعد ہمیں بھوک ستانے لگے گی۔


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Wonderful
By: Saima, Gujranwala on Oct, 24 2019
Reply Reply
0 Like
Language: