الذی علم بالقلم

(Fatmah Hussain, )

#پہلا سین#

"ارے زنیرا بیگم یہ چائے کے رنگ کو کیا ہوا اتنی کالی کیوں ہوگئی؟"
حارث صاحب چائے کا رنگ دیکھ کر حیران اسے تکے جارہے تھے۔۔


"ارے کیا ہوگیا؟؟ کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے آپنے"،

ایک ہاتھ میں اپنی چائے کا کپ تھامے دوسرے میں چند پیپرز کا پھلندا پکڑے زنیرا بیگم نخوت سے بولیں

"میری پیاری بیگم !میں بس یہ عرض کر رہا تھا اس چائے کے رنگ کو کیا ہوا؟؟ جس میں دودھ کا شائبہ تک نظرنہیں آرہا"
حارث صاحب فورا سنبھل کر بولے مبادا انکی شامت ہی نہ آجائے
انکی نظر بیگم کی چائے کے کپ پہ جا ٹکی اور انکے دوسرے ہاتھ میں پیپرز دیکھ کر وہ سمجھ گئے بس آج سب کہانیاں ایک ہی ساتھ انڈیل دینگیں بیگم صاحبہ

"ہائے اللہ!! رحم کرے مجھ غریب پہ۔۔"
دل ہی دل میں سوچ کے رہ گئے
زنیرا بیگم چائے کے گھونٹ بھرتیں بڑے اطمینان سے بولیں

"بھئ سیدھی سی بات ہے جناب۔۔میں نے چائے چڑھائی اور ساتھ اپنی کہانی کا ایک سین سوچنے بیٹھ گئی لو بھئ ابھی میں نے سین آدھا ہی سوچا تھا کہ چائے کا رنگ کالا ہوگیا
اب آپ ہی کہتے ہیں کہ "کوئی چیز ضائع نہیں کرنی چاہیے" اب اس رنگ کی چائے میرے حلق سے تو اترتی نہیں اور بچے بھی کہاں پیتے اسلئے آپ کو ہی دے دی کہ آپکی بات بھی رہ جائے اور چائے بھی ضائع نہ ہو

حارث صاحب بس مظلوم سی شکل بنا کے رہ گئے

"واہ بیگم صاحبہ !دل خو ش کردیا ،کتنا خیا ل ہے آپکو میرا سچی کہ میرے پہ ہی یہ تجربہ کرڈالا ۔واقعی میں خو ش نصیب ہوں جو ایسی بیگم ملی مجھے "
دل ہی دل میں بس آہ بھر کے رہ گئے۔۔۔

زنیرا بیگم کی بتیسی نکل آئ

"جی کبھی غرور نہیں کیا ویسے میں نے۔۔اتنی تعریف کا شکریہ۔۔!

"اچھا میری نئی کہانیاں تو سنتے جائیں"

"نہیں بیگم فی الوقت نہیں آنے کے بعد آفس سے پکا سن لونگا"
حارث صاحب جان چھڑاتے ہوئے عجلت میں بولے۔۔جانتے تھے کہ کہانیاں سننے بیٹھ گئے تو اچھے خاصے لیٹ ہوجائینگے پھر زبردستی کی تعریف بھی کرنا پڑے گی

"دیر ررر ویر سب چھوڑیں پہلے کہانیاں سنیں ورنہ سوچ لیں رات کھانا نہیں ملیگا اگرچہ مل بھی گیا تو چائے جیسا ہوگا"

حارث صاحب گھبراگئے۔

بھلا کھانا کالے رنگ کا کیسے کھا پائیں گے جھٹ سے بیو ی کی بات مان لی اور کرسی پہ تسلی سے بیٹھ گئے

"جی سنا ئیں، ویسے اللہ کرے آپکی تحریر دوسروں کو بھی سننا نصیب ہو تاکہ وہ بھی فیض یاب ہوں،،،آمین

آخر ہم پہ صرف ہم پہ یہ ظلم کب تک؟؟

زنیرا بیگم اپنی گردن سیدھی کرتی انہیں گھورنےلگیں

"جی کیا کہا آپنے؟" میں اپنی کہانیا ں سنا کے ظلم کرتی ہوں آپ پہ"

۔حارث صاحب بوکھلا گئے

"ارے بیگم میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔آپ تو خواہ مخواہ برا مان گئیں میں تو بس یہ کہہ رہا تھا آپکی کہانیاں تحریروں سے جو لوگ اب تک محروم ہیں ان پہ تو ظلم ہی ہوا ناں ایک طرح سے"

زنیرا بیگم خفا ہوگئیں تھیں

"بس سارے جہاں میں آپکو ہی میری قدر نہیں ورنہ تو میری تحریر اتنی اچھی ہیں کہ میرے بچے بھی خوشی خوشی سنتے اور خوب داد دیتے ہیں"

"بس آپ سے ہی دو بول نہیں بولے جاتے تعریف کے"

حارث صاحب بیگم کا بگڑتا موڈ دیکھکر فورابات سنبھلانے لگے۔

"بھلا یہ کیا بات کردی بیگم؟ "
"اب بچے تو داد دینگے ہی انہیں بھلا آپکی تحریر کہاں سمجھ آتی ہے۔اسلئے وہ سمجھتے ہیں بس واہ واہ کردی جائے تاکہ انکی مما ان سے خو ش رہیں اور انکی بات مانتی رہیں۔۔

اوررہی بات ہماری بھئ ہم تو بڑے شوق وذوق سے سنتے ہیں ، تعریف بھی کرتے ہیں اور ساتھ یہ دعا بھی کہ آپکو کوئ گروپ یا کوئ ادارہ ہی نصیب ہوجائے جہاں اپنی تحریر بھیج سکیں اور یوں ہمارا بھی کچھ بوجھ ہلکا ہو"

زنیرابیگم کو حارث صاحب کی بات اچھی لگی جھٹ سے موڈ ٹھیک کرلیا

"جی جی یہ بھی ہوجائیگا مجھے یقین ہے اپنی خداداد صلاحیت پہ بس جلد میری تحریر اخبار میگزین کی زینت ہو اکرے گی۔۔۔ ان شآ ء اللہ ۔۔۔۔ہائے پھر میں سب کو بتاوں گی کہ میری تحریر کہاں کہاں چھپتی۔ ہے۔اور سب فخر سے بولا کرینگے " وہ دیکھو حارث کی بیگم جارہی ہیں جو کیا خوب لکھتی ہیں۔۔اور کیا ہی زبردست لکھاری ہیں"

حارث صاحب نے انہیں خوابوں کی دنیا سے باہر نکالنا بہتر سمجھا۔۔

"۔بس بیگم دن میں خواب دیکھنا چھوڑدیں"۔۔

"مجھے دیر ہورہی ہے دفتر سے آکے بات کرینگے اور گزارش ہے آپ سے کھانے کا رنگ بالکل صحیح ہو سیا ہ نہ کر دیجئے گا"

زنیرا بیگم کو انکی بات تپا گئی۔

"جی جی اب ایسی بھی پھوہڑ نہیں میں آپ دفتر جائیں اور جلدی آجائیگا میں نے ایک اور سسپنس تحریر لکھی ہے بس تھوڑی باقی ہے آپکے واپس آنے تک مکمل ہوجائیگی ۔۔آپکو ضرور سنانی ہے میں نے"

حارث صاحب کا چہرہ اتر سا گیا معصوم سی شکل بنا کے بولے

"جی اچھا بیگم اور کتنا ظلم کرینگی ہم پہ ،تھوڑی رعایات بھی دے دینی چاہیئے بندے کو"

انکی بات نے زنیرا بیگم کو پھر سے غصہ دلا دیا وہ منہ پھلا کے
انہیں دیکھنے لگیں

"آپ جارہے ہیں کہ نہیں؟ بھلا کسی کی تعریف کرنے کا زمانہ ہی نہیں رہا جب دیکھوں نقص ہی نکالتے رہتے ہیں ارے آپ خوش قسمت ہیں جو مجھ جیسی لکھاری کی کہانیاں یوں مفت میں سن لیتے ہیں"

حارث صاحب بھی چپ نہ رہ سکے

"جی وہ تو دیکھ ہی رہا ہوں میں آپ جیسی فربہ مائل سانولی رنگت اور چار بچوں کی اماںںںں ۔۔۔لکھاری صاحبہ کو۔۔۔"

زنیرا بیگم چراغ پا سی ہوگئیں۔ انکی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہوچکی تھیں

"جی کیا کہاں میں موٹی؟،میں موٹی۔۔۔ہیں؟؟؟، ذرا غور سے اپنی بہن کو دیکھا ہے کبھی جو اس قدر موٹی ہوگئ ہے کہ لگتا ہی نہیں صرف دو بچے ہیں اسکے بلکہ ایسا گمان ہوتا ہے جیسے پانچ یا چھ بچوں کی اماں ہو ۔۔اور رنگت مزید سانولی ہوگئ اس پہ سہنے پہ سہاگہ یہ کہ اتنا بڑا چشمہ پہنتی ہیں کہ چہرہ مزید بڑا لگتا ہے۔۔اور بس رعب جھاڑتی پھرتی ہیں جیسے کہیں کی صدر ہوں سچ میں ترس آتا ہے مجھے افضل بھائی پہ ان ہی کا دل گردہ ہے جو برداشت کرلیتے ہیں "

حارث صاحب نے بھی ترکی بہ ترکی جواب داغا

"جیسے میں آپکو برداشت کرتا ہوں"

زنیرا بیگم مزید چڑ سی گئیں

"کیا کہا آپنےےےے "؟؟؟

حارث صاحب معصومیت سے بولے

"ارے آپ میری بہن کی جان بخش بھی دیجئے وہ کیا ہے ناں کبھی کبھی سچ اپنے آپ ہی باہر آجا تا ہے بس میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔۔ اب آپ جیسی ہیں میں نے ویسے ہی عرض کیا"

زنیرا بیگم کہاں ہار ماننے والی تھیں


"جی میں اب بھی بہت پیاری ہوں مجھ دیکھکر کوئی یقین ہی نہیں کرتا چار بچے ہیں میرے ما شآ ء اللہ ؟ ہر دوسری خاتون مجھے ستائشی نظر وں سے دیکھتی ہے "

حارث صاحب بمشکل اپنی ہنسی روک پارہےتھے


"جی نظر یں کمزور ہو نگیں ان سب کی"

زنیرا بیگم بھی جھٹ سے بول پڑیں

"انکی نہیں صرف آپکی۔۔۔"!!


"اب جایئں دیر ہورہی آپکو۔۔"

حارث صاحب نے گھڑی پہ نگاہ ڈالی واقعی کافی لیٹ ہوچکے تھے۔۔
"جی بالکل بیگم"
"فی امان اللہ"




#دوسرا سین#

زنیرا بیگم کا موڈ خوشگوار تھا حسب خلاف انہوں نے بڑے پیار سے حارث صاحب کو پکارا

"سنئے "

حارث صاحب انکا میٹھا لہجہ دیکھکر چونکنا ہوگئے پتہ نہیں کیا فر مائش کر ڈالیں
"جی کہیئے بیگم"

زنیرا بیگم اپنے ہاتھ میں پکڑا پیپر لہرا لہرا کے حارث صاحب کو دکھانے لگیں

"دیکھیں میں نے کیا لکھا ہے آپ کے لئے"
حار ث صاحب کی چھٹی حس نے انہیں اشارہ کیا دال میں کچھ کالا ہے
وہ حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگے جیسے کوئ عجوبہ دیکھ لیا ہو

"اللہ خیر کرے!! آج چھٹی کے دن کیا دھماکہ کر دیا آپ نےےےےے؟""

"مجھھھھھ غریب پہ کچھ لکھاااااا""'
میرے کانوں کو تو یقین ہی نہیں آرہا؟؟"""

زنیرا بیگم ہنوز اطمینان سے بیٹھی تھیں

"تو یقین کر لیں، بس کبھی کبھی میرا قلم یہ گستا خی کر جاتا ہے"

حارث صاحب خوشی سے سر شار ہوچکے تھے

"تو بیگم رکی کیوں ہیں سنا ئیں ناںںںں!!

زنیرا بیگم نے پیپر آگے کردیا


"جی یہ نظم لکھی ہے میں نے" ہائے بیچارا میرا مظلوم شوہر"

اتنا سننا تھا کہ حارث صاحب جذ باتی ہوگئے۔۔

"بس بیگم بس۔۔آنکھیں بھیگ گئیں میری ۔۔۔میں کیا سمجھتا تھا آپکو کہ آپکو میرا ذرا احساس تک نہیں ہے سنگ دل ہیں آپ۔۔۔پر نہیں ۔۔۔آپنے مجھے غلط ثابت کردیا ۔۔آپ تو میرے دکھ کو اتنے اچھے سے سمجھتی ہیں،، کون کہتا ہے کہ بیوی شوپر کو مظلوم نہیں سمجھتی،، میں فخریہ کہتا ہو ں میری بیوی بڑی قدردان ہے "


"ارے سچ میں آپ نے میرا دل جیت لیا
میں بہت خوش ہوں ۔۔یہ نظم تو ضرور شائع ہونی چاہیئے۔"

مجھے دیجئے میں ایف بی پہ ضرور اپ لوڈ کرونگا"


پر ایک بات مجھے حیرت زدہ کرگئ ہے کہ آپکو یہ خیال آیا کیسے؟؟"

زنیرا بیگم حارث صاحب کی کیفیت سے لطف اندوز ہورہی تھیں انکے استفسار پہ ایک دلکش مسکراہٹ سجالی


"اسمیں اتنی حیرانگی کی کیا بات ہے۔۔؟؟"

بھئ سیدھی سی بات ہے بیوی کی مظلومیت پہ تو سب ہی لکھتے ہیں میں نے سوچامیں اپنے شوہر پہ کچھ لکھوں راتوں رات ایف بی پہ واٹس ایپ پہ غرض ہر سو شل میڈیا پہ وائرل ہوجائیگی میری یہ نظم اور پھر مرد حضرات بڑے شوق سے پڑھیں گے اور اپنی بیویوں کو کہیں گے
"دیکھو ایسی ہوتی ہے بیوی کیسے اپنے شوہر کو خراج تحسین پیش کیا کہ اس پہ نظم ہی لکھ ڈالی کچھ سیکھو اس سے"

ایک طرح سے میرا ہی نام ہوگا۔۔۔میں مثال بن جاؤں گی"

حارث صاحب نے سکون کا سانس لیا وہ سمجھ گئے تھے انکی بیوی سدھرنے والی نہیں

"واہ بیگم واہ کیا خوب دماغ پایا ہے آپ نے!! یعنی اس میں بھی اپنا ہی نام ۔۔۔مان گئے آپکو۔۔۔بھئ۔- مان گے"

زنیرا بیگم ہنسنے لگیں

جی شکریہ اس تعریف کا، بس کیا کریں ہم ہے ہی کچھ ایسے۔۔۔!!
دریا دلی تو ہم میں کو ٹ کوٹ کے بھری ہے"


"جی وہ تو میں دیکھ ہی چکا ہوں بیگم"




#آخری سین#

"کیا بات ہے آج تو گھر میں عید کا سما ں ہے ہر چیز عام دنو ں سے زیادہ صاف اور کچن سے بھی دل لبھاتی کھانوں کی مہک اسکے صحیح رنگ کا پتہ دے رہی ہے"

"کہیں میں غلط گھر میں تو نہیں آگیا۔۔؟
وہ اپنے آپ سے باتیں کر ہے تھے

"زنیرا بیگم کہاں ہیں آپ؟ "
"آج گھر کا حال اتنا اچھا کیوں ہے ؟"

"کیا آپ نے لکھنا چھوڑ دیا؟"
ایک ہی سانس میں سب سوال کر بیٹھے۔

زنیرا بیگم کچن میں مصروف حارث صاحب کی آواز سن کے باہر آگئیں

"جی آئ بس"۔۔

اور انکے سوالات سننے کے بعد وہ خفگی سے بولیں

"کیا ا س سے پہلے میں گھر کا حال برا رکھتی تھی ؟؟جو آپ اسطرح کہہ رہے ہیں۔؟"

اور میرے لکھنے سے آپ اتنا پریشان ہیں کہ چاہتے ہیں لکھنا ہی چھوڑ دوں "

حارث صاحب انہیں منانے لگے


"ارے نہیں بیگم وہ بس گھر کا حا ل، کھانے کی خوشبو نے ذرا بندے کو شاکڈ کر دیا میرا مطلب بہت خوش کردیا ہے"

وہ پوچھے بنا نہ رہ سکے

"سب خیریت ہے اتنی تبدیلی ایک دم سے کیسے آگئ ؟"

"جی آج میں بہت خوش ہوں اور یہ سب اسی وجہ سے ہے،

پتہ ہے آپکو حمیدہ باجی ہیں ناں واٹس اہپ پہ جو کہ ایک معروف رائیٹر ہیں جن کی تحریریں کئی رسالوں میں چھپتی ہیں ،میں اکثر ان کے پاس اپنی تحریر بھیج دیتی تھی اور وہ میری اصلاح کردیا کرتی تھیں"

"انھوں نے ہی مجھے اپنے گروپ "الزی علم بالقلم" میں ایڈ کیا ہے"

"اللہ !!سچ میں بہت خوش ہوں!!"


"پتہ ہے اس گروپ کا مقصد کیا ہے " آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ کی حفاظت "
"تحفظ ختم نبو ت"


"جب میں نے یہ سنا تو میری خو شی کا کوئ ٹھکا نہ نہیں رہا"
اور

"اس گروپ کا نام بھی بڑا پیارا ہے "

"الذی علم بالقلم"!!!

جسکا تر جمہ ہے:"وہ اللہ،کہ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا"!!!

""اللہ اللہ میں نے تو کبھی سو چا ہی نہیں تھا کہ اپنے قلم سے اس پہ بھی کبھی کچھ لکھ سکوں گی۔۔اللہ نے تو سچی مجھ پہ بڑی ہی مہر بانی کردی""


"پس یہ سب اسی کی خوشی میں ہے "

حارث صاحب یہ سب سن کے بہت خوش ہوئے انکی خوشی بھی دگنی ہوچکی تھی

"واقعی بیگم خبر تو زور دار ہے اور نہایت خوش کن بھی"

"اچھا ہے اب مظلوم بہو ،ظالم ساس و نند کے عنوان کی تحریروں سے جان چھوٹ جائیگی ۔۔ورنہ ہر دوسری کہانی میں ہیروئن بیچاری بہو اور ویمپائر ساس اور نند ہوتیں

"اور یہ بھی کہ اب ہماری ڈیوٹی ختم کہانیاں سننے کی ۔۔


گروپ والوں کی ڈیوٹی شروع، اللہ رحم کرنا انکی حالت پہ انہیں برداشت کی طا قت دیجئے گا۔۔۔آمین"

زنیرا بیگم مصنوعی ناراضگی سے انکی طرف دیکھنے لگیں

"آپ آج کے دن بھی باز نہیں آئینگے
بے فکر رہیں آپکو بھی سناؤں گی اپنی تحریر یں
۔جان نہیں چھوڑنے والی آپکی۔۔اور اس خوشی میں آپکی کسی بات کا برا بھی نہیں مناؤں گی"

حارث صاحب کھل اٹھے


"ارے واہ بیگم!! اسی بات پہ لگے ہاتھ یہ بھی بتا دیں کہ کھانے میں۔کیا کیا بنایا ہے؟؟""
کھانے کی اشتہاء انگیز خوشبو نے میری بھوک کو دوگنا کردیا ہے اب باقاعدہ چوہے کرکٹ میچ کھیل رہے ہیں "

زنیرا بیگم نے اثبات میں سر ہلایا

"جی جی کیوں نہیں!!!۔
میں نے سب آپکی ہی پسند کا بنایا ہے۔۔!""
"بریانی ،قورمہ اور کھیر"

حارث صاحب خوشی سے پھلے نہیں سماں رہے تھے

"یا اللہ خیر!! آج تو واقعی عید ہے اپنی ۔۔سچ بیگم !!اتنا خوش تو میں عید پہ بھی نہ ہوسکا جتنا آج کردیا آپنے ۔"!!۔

زبیرا بیگم شرماتے ہوئے اپناڈوپٹہ درست کرتی بولیں

"اب بس بھی کردیجئے میں اتنی بھی بری نہیں""


حارث صاحب کا چہرہ دمک اٹھا

"واقعی ہماری بیگم تو لاجواب ہیں۔۔یا اللہ اس گروپ اور گروپ والوں۔کو ہمیشہ سلامت رکھنا"
"تاکہ ہم۔پہ بھی یہ کرم نوازی بنی رہے۔۔۔""
آمین ثم آمین


#حیا_مسکان
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 191 Print Article Print
About the Author: Fatmah Hussain

Read More Articles by Fatmah Hussain: 3 Articles with 839 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: