فدوی کا خط بنام وزیراعظم پاکستان

(Mufti Abdul Wahab, UAE Sharjah)

محترم المقام وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب! سلام مسنون کے بعد فدوی امید رکھتا ہے کہ آپ اپنے نسبتاً طویل دورے سے بخیر وعافیت واپس ہو کر ریلیکس ہوئے ہوں گے۔ یقیناً آپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے دلیرانہ، پر مغز اور پر اثر خطاب پر صد مبارک باد کے مستحق ہیں، خاص کر اسلاموفوبیا، ناموسِ رسالت اور کشمیر پر جس اعتماد اور جرات کے ساتھ آپ نے تقریر فرمائی یہ در حقیقت اسلام سے محبت کرنے والے اور مظلوم مسلمانوں کا درد رکھنے والے ہر فرد کے دل کی آواز تھی جس کا عرصہ دراز سے شدت کے ساتھ بہت سے مسلمانوں کو انتظار تھا، یہ انٹرنیشنل فورم اظہار خیال کے لیے جتنا مفید اور اہم تھا اتنا ہی آپ نے اس کے بہتر استعمال کا حق ادا کردیا ہے، ظاہر ہے وہاں سب نے اپنے اپنے مسائل کے حوالے سے اظہار خیال ہی کرنا تھا کسی سے لڑنا تو تھا نہیں اور اس کا آپ نے بھرپور طریقے سے حق واقعی ادا کر دیا ہے۔

عزت مآب وزیراعظم!
آپ نے اپنے خطاب میں مغرب میں بڑھتی اسلاموفوبیا پر مسلم سربراہان کی خاموشی پر افسوس کرتے ہوئے فرمایا: افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم سربراہوں نے بھی اسلاموفوبیا ختم کرنے پر بات نہیں کی"
عرض یہ ہے کہ اسلام وحدت کا داعی ہے اور اسلام میں وحدت کی بنیاد اسلامی عقیدہ و فکر ہے نہ کہ رنگ ونسل یا وطنیت و زبان ، کیونکہ رنگ و نسل یا وطنیت و زبان کی بنیاد پر قائم ہونے والی وحدت وقتی مفادات پر مبنی اور نہایت کمزور اور عارضی ہوتی ہے جبکہ مسلم حکمران آج وطنیت، قومیت اور مفادات کے بتوں کے پجاری بن چکے ہیں، ان کی ترجیحات میں وطنیت، قومیت اور مفادات کا نمبر پہلے ہے اور مذہب کا بہت بعد میں آتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں مسلمانوں پر کہیں پر بھی ظلم ہو ہر مسلم حکمران اس کو اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھتا ہے، اگر مفاد نظر آئے تو بول پڑتا ہے ورنہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتاہے، گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے اقوام مغرب کے سامنے انتہائی اہم نکات پر دو ٹوک گفتگو فرمائی اسی طرح مسلم حکمرانوں کو وقتاً فوقتاً ملاقاتوں کے دوران اور کسی بھی مناسب فورم پر مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر اتحاد اور یکجہتی اور بلا تفریق مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے بھی قائل کرنے کی کوشش فرمائیں، اگر آپ مسلم دنیا کو مذہب اور فکر ونظر کی بنیاد پر متحد کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ آپ کی حیات مستعار کا ایک عظیم کارنامہ تصور کیا جائے گا بصورت دیگر عالمِ آخرت میں آپ کے لیے سرخروئی کا باعث ہوگا۔

عالی مقام!
تقریر تو بہترین تھی کون ظالم ہوگا جو آپ کی مدلل گفتگو پر خوامخواہ اعتراض کرے لیکن چند چیزیں ایسی ہیں جو عمل کی دنیا میں آپ کے کردار کے حوالے سے آپ سے محبت کرنے والوں کو بھی شکوک وشبہات میں مبتلا کر دیتی ہیں، مثلاً آپ نے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے اقوام عالم کے مردہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر فرمایا: افسوس ہے کاروبار کو انسانیت پر فوقیت دی جا رہی ہے، ‏دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے"

بلاشبہ آپ کی یہ صدا پوری مسلم قوم کی آواز ہے لیکن( فدوی کے علم کے مطابق ) خود آپ نے اویغور کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف آج تک چین سے بات نہیں کی، جب برسرِ اقتدار آنے کے بعد آپ نے چین کا دورہ فرمایا تھا تو ان دنوں میں ان پر ظلم کی انتہا کردی گئی تھی، وہاں اب بھی لاکھوں لوگ لاپتہ ہیں۔ لوگوں کو کوئی عدالت کوئی وکیل نہیں ملتا۔ مریضوں کے لیے کوئی دوا نہیں ہے۔ وہاں زندہ افراد کیمپوں سے مردہ حالت میں نکل رہے ہیں۔ ظلم، ظلم ہی ہوتا ہے جہاں کہیں بھی ہو، مظلوموں میں کوئی فرق نہیں ہوتا وہ کہیں کے بھی ہوں، اگر آپ صرف کشمیر کے ظلم پر بات کریں گے تو پھر دیگر دنیا ہمیں بھی مفاد پرستی کا طعنہ دے سکتی ہے کیونکہ چین کے ساتھ ہمارے مفادات وابستہ ہیں، جبکہ اسلامی نقطہِ نظر سے مظلوموں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

جناب وزیراعظم!
آپ نے اپنے خطاب میں حجاب کے حوالے سے بھی بہت اچھی گفتگو کی لیکن حال ہی میں اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت کی جانب سے جاری کیا جانے والا ایک نوٹیفکیشن (جس میں تعلیمی اداروں کی طالبات کے لیے چادر اوڑھنا لازم قرار دیا گیا تھا) سے چند بیرونی پروردہ لبرل طبقے کے واویلا پر آپ کی حکومت نے شام ہی کو یو ٹرن لے لیا تھا۔ کیا یہ گفتار و کردار میں فرق نہیں؟ اہل مغرب پر آپ کا اختیار نہیں چلتا لیکن اپنے ملک میں تو آپ وزیراعظم ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دیا ہے، کیا ایک چھوٹے سے سیکولر طبقے کے دباؤ میں آنا آپ کے شایانِ شان ہے؟ آپ بار بار ریاستِ مدینہ کی بات کرتے ہیں اگر آپ اختیار کے ہوتے ہوئے اپنے ہی ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ نہیں کرسکتے تو پھر مغرب سے اسلاموفوبیا پر شکوہ کرنے میں کیا وزن باقی رہ جاتا ہے؟ کیا یہ مذہب کارڈ کا غلط استعمال نہیں کہ نام تو ریاستِ مدینہ کا لیا جائے اور کرتوت کفریہ ریاستوں کے ہوں؟ اگر ہم اپنے ہی ملک میں عملی طور پر اسلامی قوانین کے نفاذ سے دور بھاگتے ہیں تو کیا یہ بجائے خود پریکٹیکلی اسلاموفوبیا نہیں؟

محترم المقام!
آپ کی تقریر انتہائی ماثر ہوتی ہے، پُر اثر تقریر مخاطب کے دل پر دستک دیتی ہے، تقریر اچھی ہو تو اچھا اثر چھوڑتی ہے ،اور اگر بری ہو تو سامعین پر برا اثر کرتی ہے، گزشتہ چند سالوں میں آپ کی شعلہ بیانی ہی نے نوجوان نسل کو لعن طعن اور سب وشتم کا خوگر بنایا ہے، آپ ہی فرماتے تھے کہ چور کو چور نہ کہوں تو کیا کہوں جبکہ اسلامی نقطہِ نظر سے چور کو صرف چور ثابت کرنے کے لیے عدالت میں جا کر اس کی چوری کی گواہی دیتے وقت تو چور کہا جاسکتا ہے لیکن گلی کوچوں، سڑکوں چوراہوں پر ذلیل کرنے کے لیے نہیں لیکن آپ کی گرجدار تقریروں سے متاثر نئی نسل آج بھی 'گلی گلی میں شور ہے سارا ٹبر چور ہے' کے نعرے کو عینِ عبادت سمجھتی ہے۔ آپ کے بعض وزراء جب چاہیں اسلام اور علماء کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، بات صرف مولانا فضل الرحمان صاحب کے حوالے سے ہوتی تو قوم اسے سیاسی اختلاف سے تعبیر کرکے برداشت کرتی لیکن وہ تو بلا تفریق سب کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں، آپ کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات نے حال ہی میں جان لیوا زلزلے کی تباہ کاریوں اور عوامی تکلیف کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے احساس سے عاری بیان دے دیا تھا۔ مؤدبانہ التماس ہے کہ اگر بارِ خاطر نہ ہو تو اسلامی اخلاق اور طرزِ گفتار کے موضوع پر اپنی دلنشین تقریر سے پوری قوم سمیت اپنے وزراء کو بھی گاہے گاہے مستفید فرما دیا کریں۔ فدوی کے خیال میں آپ کی دلنشین تقاریر کے نتیجے میں وزراء سمیت پوری قوم ہی سدھر کر مہذب نہیں بنے گی بلکہ خود یہ طرزِ عمل آپ کے سابقہ رویے کے لیے یوٹرن اور کفارہ بھی بنے گا۔

جنابِ عالی شان!
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں آپ نے صرف اپنا مدعا پیش کرنا تھا، پیغام دینا تھا اور اپنی بات دلیل کے ساتھ پیش کرنی تھی جس میں آپ کامیاب رہے۔اس کے متعلق آپ سے قوم یہ نہیں پوچھے گی کہ آپ نے اس پر عمل کتنا کیا، لیکن جو، جوشیلے تقریریں آپ نے اپنے ملک میں کی ہیں یا کرتے ہیں وہ تقریریں زیادہ تر دعووں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ وہ فقط تقریریں نہیں بلکہ قوم کے ساتھ وعدے ہیں۔ ان کے متعلق قوم آپ سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آپ نے عملی دنیا میں کیا کیا؟ مثال کے طور (دل پر مت لیجیے گا) آپ نے فرمایا تھا کہ جب مہنگائی بڑھ رہی ہو تو سمجھ لینا کہ وزیراعظم چور ہے۔ یہ تو قوم کا حسن ظن ہے کہ آپ کو چور نہیں کہتی لیکن اب آپ بھی تو انہیں ٹیکس چور کِہ کر ظلم مت کریں نا!
ایسی دسیوں مثالیں ہیں مقصد آپ کو پریشان کرنا نہیں صرف یاد دلانا ہے، اگر آپ خود وقتاً فوقتاً اپنی تقریریں سنیں گے تو بہت ساری مثالیں آپ پر واضح ہو جائیں گی، ہماری قوم میں پہلے ہی سے جوشیلے مقررین کی بہتات ہے، یادش بخیر گزشتہ دور حکومت میں ایک شعلہ بیان مقرر نے اپنے دھرنے کے لاؤ لشکر کو آپ کے دھرنے کے ہجوم سے جوڑ دیا تھا اور دوسرے کی خیریت معلوم کرنے آپ خود فیض آباد تشریف لے گئے تھے۔ کھوکھلی تقریروں کو قوم لولی پاپ کہتی ہے، ان کی نظر بین الاقوامی فورمز پر کئے جانے والے خطابوں پر کم اور روٹی روزی پر زیادہ ہوتی ہے۔

برائے مہربانی آپ اپنے وزراء کو تقریری مقابلوں سے منع فرما کر ان کے لیے عملی اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد فرمائیں تاکہ وہ ہر قسم کے جدید طریقے اپنا کر ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔
والسلام!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Abdul Wahab

Read More Articles by Mufti Abdul Wahab: 41 Articles with 18201 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2019 Views: 253

Comments

آپ کی رائے