ترقی پسند ادب اوراسلامی روایات

(Dr Salim Khan, India)

بسم اللہ

ڈاکٹر محمد یحییٰ جمیل
اسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ فارسی، شریمتی کیشر بائی لاہوٹی مہاودیالیہ
امراوتی ۔ ۴۴۴۶۰۳

تمہید
ترقی پسند تحریک افادیت اور مقصدیت کے اصول پر قائم ہونے والی اردو کی وہ پہلی ادبی تحریک ہے جس کے لیے باضابطہ منشور تحریر کیا گیا۔ مارکس، لینن، اینگلز اور گورکی کے نظریات اس کے مآخذ بنے ۔ترقی پسند ادب نے عام آدمی کو شاعری کا مرکز بنایا اور اس کے دکھ درد سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ بات بڑی شدو مد کے ساتھ کہی گئی کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے۔ لیکن کیا واقعی وہ نظریات جو یہ مفکرین پیش کر رہے تھے پہلے دنیا میں موجود نہیں تھے؟ کیا محنت کش کے حق کی بات پہلے کسی نے نہیں کی تھی؟ کیا ادب کے ذریعے سماجی اصلاح کا تصور اس سے پہلے موجود نہیں تھا؟ کیا لفظ و معنی کے درمیان توازن قائم کرنے کی بات کسی نے نہیں کی تھی؟ اس مقالہ میں ان سوالات کے جوابات اسلامی شعریات کی روشنی میں ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۱۔ عربی شعریات
۱ئ۱۔ قدیم عربی شعریات
جی اے وکنس (G. A. Wickens)کے مطابق، ’ قبائلی سماج میں شاعر محض تخلیقی فنکار نہیں تھا بلکہ بیک وقت موجودہ دور کی اصطلاحوں کے مطابق صحافی بھی تھا، مبلغ بھی اور امورِ تعلیماتِ عامہ کا سربراہ بھی۔‘ ۱؎ یہی وجہ تھی کہ قبیلے والے اس کی تمنا کیا کرتے کہ ان کے یہاں کوئی شاعر پیدا ہو۔اور اگر کسی قبیلے میں کسی شاعر کی شہرت ہوجاتی تو دوسرے قبایل انھیں تہنیت پیش کرتے اور یہ جشن مناتے ۔ عربی شعریات ، اجتماعی معنویت اور ضابطہ بند ہیئت کی قایل رہی ہے۔محمد حسن کے مطابق ایسا ہونے پر تخلیقی اپج پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اس لیے عربی شعرا نے مبالغہ کو بہت اہمیت دی۔ اور کہا گیا کہ بہترین شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ کا ستعمال ہو۔نیز فواحش کوبھی قابل داد مانا گیا۔ لیکن ظہور اسلام کے بعد علوم و فنون کے ہر شعبے میں انقلاب آیا۔ اور شاعری کے ضمن میں بھی ادبا کا نظریہ تبدیل ہوا۔
۱ئ۲۔ اسلامی شعریات
قرآن کریم کو فصاحت کا اعلا ترین نمونہ تسلیم کیا گیا اور اسی کی روشنی میں عرب کے مسلم اُدباء نے ادبی تنقید کے اصول وضع کیے۔ انھوں نے موضوعاتی سطح پر فن کی اخلاقی قدروقیمت کو واضح کیا۔ غلو کی مخالفت کی۔ فحش اور جنسی جذبات کو بر انگیختہ کرنے والے مضامین سے گریز کی سفارش کی اور ادب کی اخلاقی ذمہ داری پر اصرارکیا۔ ہیئتی سطح پر انھوں نے قرآن مجید کی سلاست بلاغت اور توازن پر زور دیا۔ توازن اور اعتدال ان کے نزدیک حسن کی اصل ہے۔
محمد حسن کے لفظوں میں:
عدل کا ایک پہلو فصاحت اور بلاغت میں لفظ و معنی کے درمیان اعتدال و توازن، حقیقت اور مبالغے کے درمیان اعتدال و توازن، ضابطہ بندی اور انفرادی اپج کے درمیان اعتدال و توازن ، تفاول اور معاشرے سے اخلاقی کمٹ منٹ کے درمیان اعتدال و توازن کی شکل میں موجود ہے۔ ۲؎
ڈاکٹر سید عبداللہ اپنے مقالے ’تنقید کا دور قدیم‘میں لکھتے ہیں کہ:
قرآن مجید نے اظہار میں تین چار چیزوں پر خاص زور دیا ہے:
۱۔ قول حسین، ۲۔ قول متین، ۳۔ قول سدید، ۴۔ حکمت و موعظت
ادبی اظہار میں حسن ، متانت، لفظی اور معنوی پختگی و محکمیت، علم افروزی اور اخلاق رموزی کے عناصر کے سرچشمے یہی ہیں۔ اور اسی پر ہمارے علم بلاغت کی بنیاد ہے۔ ۳؎
بہرحال اسلامی شعریات شاعر کو تلمیذ الرحمن قرار دے کر اسے عدل و اعتدال کے شعور کا رازداں مانتی ہے۔
اسلامی شعریات میں ایک اور اہم نکتہ ہے، ’تصوف‘۔ وحدت الوجود کے قائل ابن عربی (وفات ۱۲۴۰ئ)کے افکار نے لفظ و معنی،دونوں حیثیتوں سے ادب کو متاثر کیا۔ اسے بھی اسلامی شعریات کا حصہ ماننا چاہیے۔ ابن عربی کے افکار سے ادب میں تمثیل اور علامت کا رواج بڑھا۔ یہ نخل نو ،ایران میں برگ و بار لایا۔
۲۔ ترقی پسند تحریک کی ابتدا
بیسویں صدی کے اوائل کاہندستان، سماجی اور سیاسی سطح پر علَمِ بغاوت بلند کرنے لگا تھا۔ ادب بھی اس سے بیگانہ نہیں رہا۔ دسمبر ۱۹۳۲ء میںمختلف افسانہ نگاروں کے افسانوں کا مجموعہ’ انگارے‘ شائع ہوا۔ اسے حکومت کی جانب سے ضبط کرلیا گیا۔ اکتوبر ۱۹۳۴ء میں ڈاکٹر اختر حسین راے پوری نے ’ادب اور زندگی‘کے عنوان سے ہندی میں ایک مقالہ لکھا، یہ مقالہ جولائی ۱۹۳۵ء میں اردو میں شائع ہوا اور اردو ادب کو ایک انقلابی اساس دستیاب ہوگئی۔
اسی دوران انگلستان میں زیر تعلیم نوجوانوں ،ملک راج آنند ،سجاد ظہیر، ڈاکٹر جیوتی گھوش، پرمود سین گپتا، ڈاکٹر محمد دین تاثیروغیرہ نے ۱۹۳۵ء میں ’ترقی پسند مصنفین کی انجمن‘ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی۔ملک راج آنند اس کے صدر تھے۔ اس انجمن نے اپنا ادبی منشور تیار کیا اور اس کی نقل ہندستان روانہ کی۔ ہندستان کے ادیبوں نے اس کا خیر مقدم کیا ۔ ۱۹۳۶ء میں جب سجاد ظہیر ہندستان لوٹے تو انھوں نے اسے باقاعدہ تحریک کی شکل دے دی۔ ۱۵؍اپریل ۱۹۳۶ء کولکھنؤمیں ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔ کانفرنس میں اردو ادیبوں کو سماجی ذمہ داری قبول کرنے کا مشورہ دیاگیا۔ پنڈت نہرو، رابندرناتھ ٹیگور، پریم چند، حسرت موہانی، مولوی عبدالحق نے اس تحریک کی ہمت افزائی کی۔ ہندستان کی نئی نسل نے اس کے منشور کو دل سے قبول کیا ۔ اگلے چند سالوں میں اس کی مزید کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ ۱۹۳۸ء کے وسط تک ترقی پسند تحریک نے لاہور، لکھنؤ، حیدرآبادوغیرہ میں اپنے مراکز قائم کرلیے اور ترقی پسند تحریک کے خدوخال واضح ہوتے چلے گئے۔
۳۔ ترقی پسند شعریات
ترقی پسند وںکے ابتدائی منشور میں مارکسیت اور اشتراکیت کا ذکر نہیں ملتا ۔اس کا مقصد تھا کہ موجودہ نظام اقدار میں مکمل تبدیلی لائی جائے اور ادیب کسی مخصوص گروہ کی دلچسپی کا سامان نہ بن کر انسانیت کی سماجی، معاشی اور اقتصادی بہتری کے لیے کام کریں۔ لیکن ترقی پسندمصنفین و شعراء کے یہاں اس نظام کی طرف جھکاو نظر آتا ہے۔ لہٰذا اس تحریک سے جڑے ادیبوں کو دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جو ترقی پسندیت اور اشتراکیت کو ہم معنی سمجھتے تھے اور دوسرے وہ جو ترقی پسند ادب کو اشتراکیت کا آلۂ کار نہیں سمجھتے تھے۔ بہر حال ’لال پھریرا اس دنیا میں سب کا سہارا ہوکے رہے گا‘کے عقیدے نے اس تحریک کو نقصان ہی پہنچایا۔
اختر حسین راے پوری ترقی پسند یت کے اولین ناقد ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ آرٹ کا مقصد تلاش حسن نہیں بلکہ ادب زندگی کا ایک شعبہ ہے اور انسانیت اس سے اثر انداز ہوتی ہے۔۴؎ ترقی پسند تحریک کے اغراض و مقاصد یوں بیان کیے گئیکہ:
ترقی پسند تحریک کا رخ ملک کے عوام کی جانب مزدوروں، کسانوں اور درمیانہ طبقے کی جانب ہونا چاہیے۔ ان کو لوٹنے والوں اور ان پر ظلم کرنے والوں کی مخالفت کرنا، اپنی ادبی کاوش سے عوام میں شعور، حرکت، جوش عمل اور اتحاد پیدا کرنا اور ان تمام آثار و رجحانات کی مخالفت کرنا جو جمود رجعت اور پست ہمتی پیدا کرتے ہیں۔۵؎
فیض کے مطابق:
ادب کا زیادہ تعلق زندگی کے اس شعبے سے ہے جسے کلچر یا تہذیب کہتے ہیں، اور اگر ہم ادب سے سماجی ترقی میں مدد چاہیں تو اس ترقی سے ہمیں بیشتر کلچر یا تہذیب کی ترقی مراد لینی چاہیے۔ … ترقی پسند ادب وہ ہے جو کلچر کی ترقی میں مدد کرے۔ کلچر کی ترقی کا مطلب ہے،
۱۔ سماجی اقدار کی ترتیب موزوں کی جائے اور صحیح اقدار کا پرچار کیا جائے۔
۲۔ ان اقدار کو عوام کے لیے اجتماعی طور پر سہل الحصول بنایا جائے۔ ۶؎
سجاد ظہیر ، جنھوں نے تحریک کو نظریاتی اساس مہیا کی، ان کے یہاں ادب کی تخلیق کا بہت متوازن تصور ملتا ہے۔ وہ ہیئت اور موضوع دونوں کو برابر اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق موضوع کے ساتھ فنی اقدار کا التزام ہونا چاہیے۔ فیض کا کلام اس کی اچھی مثال ہے۔لیکن دیگر تحریکوں کی طرح یہ تحریک بھی بعد میں شدت کا شکار ہوگئی اور اس کے شعراء لفظ و معنی کا توازن کھو بیٹھے۔ اور ترقی پسند وں کی جانب سے ادب کو عموماً فن کی بجائے موضوع سے آنکنے کی وکالت کی گئی۔
معروف ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری تلخ لہجہ نقاد بھی ہیں، ان کا خیال ہے کہ موضوع کو فنی قدروں پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اس لحاظ سے انھوں نے فیض کی رمزیت کو ترقی پسند ادب سے خارج کردیاتھا۔مزید ان کے مطابق ترقی پسند نظریۂ شعر اس تصور پر قائم ہے کہ جو چیز مفید نہیں وہ حسین نہیں ہوسکتی۔ اس لحاظ سے علی سردار جعفری نے اقبال کی تعریف بھی کی لیکن ان کی روحانیت کے پیش نظر ان سے بیزارگی کا اظہار کیا۔ اسی طرح عزیز احمد بھی یہ قبول کرتے ہیں کہ اقبال کا آرٹ اور ادب کا نظریہ ترقی پسند ادب کے نظریے سے بہت قریب ہے اور اس کا بہت اہم رہنما ہے۔۷؎
بہت سے ادیب فرائڈ سے متاثر ہوکر عریانیت اور فحاشی کی طرف مائل ہوگئے۔ لہٰذا ماہر القادری نے ممبئی میں اصلاح ادب کانفرنس منعقد کی اور اسی بنیاد پر اس کی مخالفت کی۔
بعد میں سجاد ظہیر، احتشام حسین، علی جواد زیدی ، عزیز احمد وغیرہم نے بھی جنس کے برملا اظہار کو ترقی پسندیت سے خارج کردیا۔
ان کے مطابق:
بے مقصد زندگی ، شکست پسندی، فنا پسندی، جبر پرستی ایسے رجحانات ہیں جو ہماری تہذیب کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہم اس ادب کے مخالف ہیں جو عریانی فحاشی دہشت پسندی اور غارت گری پھیلاتا ہے۔ ہمارا ادب فنی اعتبار سے خوبصورت ہونا چاہیے۔۸؎
عزیز احمد نے لکھا کہ جنس میں ہمہ وقتی آلودگی سب سے تیز افیون ہے نیز یہ کہ بالعموم اعلیٰ ترین ادب اور اعلیٰ ترین حقیقت نگاری کے موضوع اکثر مسائل جنس(جن کا اہم ترین پہلو مسئلۂ افزائش نسل سے ہے)سے ماورا اور بالاتر ہوتے ہیں۔ ۹؎
روس میں مایا کووسکی اور بلاک جیسے شعرا نے انقلاب میں اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کی کوشش کی اور یہاں مستقبل پرستی (futurism)اور پرولتاری ادب (proletcult)کی تحریکیں ابھریں۔۱۰؎ ترقی پسند تحریک کے زمانے میں اردو شعراء و ادباء بھی ان تحریکوں سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے انقلاب سے رومانی وابستگی خود پر لازم کرلی۔
اسلامی اثرات
ترقی پسند ادب میں سب سے زیادہ محنت کش کی قدر و قیمت کی گئی۔ عہد رسالت کا ایک انتہائی اہم واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کے پنجے دیکھ کر دریافت کیا کہ کیا تمھارے ہاتھوں پر کچھ لکھا ہوا ہے؟انھوں نے جواب دیا، نہیں یا رسول اللہ ،کام کی وجہ سے میرے پنجوں پر نشانات بن گئے ہیں۔ یہ سن کر حضورِپر نور ﷺنے بے اختیار ان کے پنجوں کو چوم لیا۔
اعجاز ہے یہ ان ہاتھوں کا ریشم کو چھوئیں تو آنچل ہے
پتھر کو چھوئیں تو بت کردیں کالک کو چھوئیں تو کاجل ہے
مٹی کو چھوئیں تو سونا ہے چاندی کو چھوئیں تو پایل ہے
ان ہاتھوں کی تعظیم کرو
ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری جس بات کا پیغام دے رہے ہیں وہ پیغام ۱۴۰۰ سال پہلے عملی طور پر دیا جا چکا ہے۔
ترقی پسند نظریے کے مطابق سماج اور ادب کا ہیرو ایک ہی ہے۔ اس لیے انھوں نے مزدور کو سماج کا ہیرو بنا کر پیش کیا۔ مجازکی نظم،’انقلاب کا نعرہ‘ کے دو شعر ہیں:
گرادے قصر تمدن کا اک فریب ہے یہ

اٹھا دے رسم محبت عذاب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر

جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر
بلکہ خود کو ایک مزدور کے طور پر پیش کیا۔ مثلاً مجروح کا یہ شعر کہ:
جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق

خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا
تاریخ اسلام میں بہادر خواتین کے واقعات سنہرے حرفوں سے لکھے گئے ہیں۔ مسلم عورتوں نے جنگوں میں حصہ بھی لیا ہے۔ کبھی تلواریں سونت کر کبھی زخمیوں کے لیے سامان جراحت لے کر۔ آزادی نسواںپر مجاز کے یہ شعر ملاحظہ ہوں:
سنانیں کھینچ لی ہیں سر پھرے باغی جوانوں نے

تو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنالیتی تو اچھا تھا
اور سلام مچھلی شہری کہتے ہیں:
خطا معاف کہ جچتی نہیں نگاہوں کو

یہ دیویاں پس چلمن نظر جھکائے ہوئے
مجھے تو ہمدمو ہمراز چاہیے ایسی

جو دست ناز میں خنجر بھی ہو چھپائے ہوئے
اٹھا کے ہاتھ کہے ’انقلاب زندہ باد‘

لہو سے مثل دلہن مہندیاں رچائے ہوئے
جن شعراء نے انقلاب سے رومانی وابستگی اختیار کی ان میں فیض ایک اہم شاعر نظر آتے ہیں:
ویرانیِ حیات کو ویران تر کریں

لے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہم
لیکن یہ زندگی یا محبوب سے فرار نہیںتھا بلکہ وقتی طور پر ایک انقلابی کی قربانی تھی:
چند روز اور مری جن فقط چند ہی روز
ظلم کی چھانو میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
اسلام امن پسند مذہب ہے۔ امن سے متعلق ترقی پسندوں کے یہاں خاطر خواہ ادب موجود ہے۔ مخدوم کہتے ہیں:
جہاں میں جنگ نہیں امن سر بلند چلے

نسیم صبح چلے بادِ تاشقند چلے
ترقی پسند تحریک کے نثر نگاروں اور شاعروں نے اپنی تخلیقات سے مستقبل پرستی (Futurism) کی مثالیں پیش کیں۔ اسلام بھی انسان کو رجائیت کا درس دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد باریِ تعالیٰ ہے:
لا تقنطو مِن رحمت اللہ
ترجمہ: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
مجاز کہتے ہیں:
ذہن انسانی نے اب اوہام کے ظلمات میں
زندگی کی سخت طوفانی اندھیری رات میں
کچھ نہیں تو کم سے کم خواب سحر دیکھا تو ہے
جس طرف دیکھا نہ تھا اب تک ادھر دیکھا تو ہے
فیض کی ایک خوبی رجائیت بھی ہے۔ ان کی نظم کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں:
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے/وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے/جو لوح ازل میں لکھا ہے/جب ظلم و ستم کے کوہ گراں/روئی کی طرح اڑجائیں گے/ہم محکوموں کے پانو تلے/یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی/اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی/ ہم دیکھیںگے
ہماری صوفیانہ روایت میں عاشق ، معشوق زمینی سے معشوق آسمانی کی طرف بڑھتا ہے۔ فیض عشق سے انقلابی جذبہ کا سبق لیتے ہیںاوراللہ کی مخلوق سے ہمدردی کی طرف بڑھتے ہیں۔
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا پایاہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھانہ سکوں
عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے
زیردستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے
تحریک نے عقلیت پسندی اور سائنسی شعور کو بیدار کرتے ہوئے روحانیت سے رشتہ منقطع کیا۔ترقی پسندوں نے فرد کو مادی اعتبار سے آسودگی کا خواب دکھایا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ترقی پسند شعریات، اسلامی شعریات سے مختلف یا منحرف ہوجاتی ہے۔
اقبال کی نظم’اشتراکیت و ملوکیت‘جاوید نامہ میں شامل ہے۔ اس میں پوری بحث جمال الدین افغانی کی زبانی ہے ۔ جو کارل ماکس پر مختلف اعتراضات کرتا ہے۔ اس میں مارکس کی مادہ پرستی پر یہ شعر ملاحظہ ہو:
دین آن پیغمبر حق ناشناس

برمساوات شکم دارد اساس
آخر میں جمال الدین افغانی روسیوں سے کہتے ہیں کہ اشتراکیت کے تمام اساسی اصول اسلام میں ہیں :
چیست قرآں ؟ خواجہ را پیغام مرگ

دست گیر بندۂ بے ساز و برگ
نتیجہ
۱۔ اسلامی شعریات سے پہلے لفظ و معنی کی بحث میں لفظ کو اہمیت دی جاتی رہی تھی اور موضوع کی قید نہیں تھی۔ لیکن اسلامی شعریات کا نظریہ کہ لفظ و معنی میں اعتدال برتا جائے ،یہی نظریہ ترقی پسند ادب کے روح رواں جناب سجاد ظہیر اور دیگر اہم نقادان فن مثلاً سید احتشام حسین وغیرہ کا بھی ہے۔ لہٰذا اسلامی شعریات کے اثر سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
۲۔ اسلامی شعریات نے جنس اور تلذذ کے جذبات بھڑکانے والے مضامین سے گریز کی تلقین کی۔ ترقی پسند ادب میں بھی جب فرائڈ کے زیر اثر جنسیت کا کھلا اظہارہونے لگا تو اسے رد کیاگیا۔
۳۔ ترقی پسند ادب نے مزدور ، محنت کش کے حق کی بات کہی۔ حدیث پاک ہے کہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری اسے دیدو۔
۴۔ ترقی پسند ادب نے ظالم کے خلاف مظلوم کی حمایت کی۔اسلام اسی بات کا درس دیتا ہے۔ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مظلوم کی مدد تو میں کرتا ہوں، مگر ظالم کی مدد کیسے کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو ظلم کرنے سے روک دو یہ اس کی مدد ہے۔ (بخاری و مسلم )
۵۔ ترقی پسند ادبا و شعرا نے عورت سے شانہ بشانہ جدوجہد کی خواہش کی۔ اسلام نے بھی عورتوں کو اپنی حدود میں مجاہدانہ زندگی سے دور نہیں کیا۔ حضرت صفیہؓ، حضرت رمیصائؓ، وغیرہ اس کی روشن مثالیں ہیں۔ جنھوں نے معرکۂ خیر و شر میں اپنی بہادری کے جوہر بھی دکھائے۔
۶۔ترقی پسند ادب میں فیوچرزم یعنی مستقبل پرستی کے ادب پارے موجود ہیں۔ اسلام ، رجائیت کا درس دیتا ہے اور مایوسی کو کفر گردانتا ہے۔
۷۔ ترقی پسند عالمی بھائی چارے کے اور امن کے داعی رہے ہیں۔ یہ بات بھی سب سے پہلے اسلام نے سکھائی ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
الخلق عیالَ اللہ
ترجمہ: سارے انسان اللہ کی عیال ہیں۔
مختصراً ہم اقبال کے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ :
زادن او مرگ دنیای کہن

مرگ آتش خانہ و دیر ثمن
حریت زاد از ضمیر پاک او

این می نوشین چکید از تاک او
عصر نو کاین صد چراغ آوردہ است

چشم در آغوش او وا کردہ است
حواشی:
۱۔G. A. Wickens, Arabic Literature In Literatures of the East بحوالہ محمدحسن(۲۰۰۰ئ)، مشرق و مغرب میں تنقیدی تصورات کی تاریخ، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ص:۱۳۳
۲۔ایضاً، ص:۱۴۴
۳۔مطبوعہ اوراق، لاہور، بحوالہ ایضاً، ص:۱۴۵
۴۔ڈاکٹر انور سدید(۲۰۰۸ئ)اردو ادب کی تحریکیںابتدا تا ۱۹۷۵ئ،کتابی دنیا، دہلی،ص:۵۲۱
۵۔سجاد ظہیر، روشنائی، ص:۷۸-۷۹بحوالہ ڈاکٹر ممتاز الحق (۲۰۰۴ئ)اشاعت دوم، اردو غزل کی روایت اور ترقی پسند غزل، دہلی، ص:۱۵۱
۶۔ فیض احمد فیض، ادب کا ترقی پسند نظریہ بحوالہ سید احتشام حسین(۱۹۶۱ئ)،تنقیدی نظریات (جلددوّم)لکھنؤ،ص:۱۷۲ بحوالہ عقیل احمد صدیقی (۱۹۹۰ئ)، جدید اردو نظم نظریہ و عمل، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ص:۶۹
۷۔ عزیز احمد(مارچ ۱۹۴۵ئ)ترقی پسند ادب،دہلی، ص:۳۸
۸۔ عقیل احمد صدیقی، ص:۵۸
۹۔عزیز احمد ، ص ۲۲
۱۰۔ The Oxford Dictionary of Literary Terms, 1990, Oxford, New York, p137-38, 272
----------------------------------------------------------------
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 239 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 808 Articles with 253033 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: