زلزلے، اسلام اور سائنسی کی نظر میں

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

حادثات اور قدرتی آفات کے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں۔مختلف ادوار میں بعض آفات نے انسانی آبادی کے بڑے حصے کو صفحہء ہستی سے مٹا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے اثرات دیگر قدرتی آفات کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ زلزلے سے زندہ بچ جانے والے افراد پر برسوں شدید حزن وملال اورخوف و حراس مسلط رہتا ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق کرہ ارضی پر اب تک آنے والے زلزلے آٹھ کروڑ انسانوں کی جانیں لے چکے ہیں اور اس کے علاوہ مالی نقصانات بے حد و بے شمار ہیں۔حالیہ دنوں میں میر پور آزاد کشمیر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں قیامت خیز زلزلہ آیا۔بہت سا جانی و مالی نقصان ہوا۔ دعا گو ہیں کہ اﷲ کریم زمینی و آسمانی آفات سے محفوظ فرمائے۔ تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلی درجات اور زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔اس موقع پر ایک سوال ذہن میں آرہا ہے کہ یہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟ زلزلے کے بارے میں لوگوں میں عجیب وغریب آرا پائی جاتی ہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مافوق الفطرت قوت کے مالک بڑے بڑے درندے جوزیر زمیں رہتے ہیں وہ زلزلے پیدا کرتے ہیں، ایک مذہب کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب و ہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں، (اس طرح کی بات ایک موضوع حدیث میں بھی ہے)۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زمین ایک بڑے کچھوے کی پیٹھ پرہے، وہ جب حرکت کرتا ہے تو زلزلے آتے ہیں،یہ سب غیر اسلامی اور غیر سا ئنسی نظریات ہیں۔ زلزلے کے متعلق سائنسی نکتہ نظر میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ایک نظر یہ یہ ہے کہ زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ سائنس داں حضرات کا دعوی ہے کہ زمین کے اندرونی حصے میں آگ کے بگولے دہک رہے ہیں اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے اور زلزلے آتے ہیں۔ لیکن سب سے مقبول نظریہ PlateTectonicsکا ہے کہ جب زمین کی پلیٹ جو تہہ در تہہ مٹی، پتھر اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے، کسی زمینی دباؤکا شکار ہور کر ٹوٹتی ہے تو سطح زمین پر زلزلے کی لہریں پیدا ہوتی ہیں اور اِن لہروں کی وجہ سے سطح زمین پر موجود ہرچیز ہچکولے کھانے لگتی ہے۔زلزلے کے متعلق اِسلامی نقطہ نظر بہت واضح ہے کہ بلا شبہ زلزلے، سیلاب، طوفان، اور دیگر آفتوں کے کچھ ظاہری اسباب ہوتے ہیں جن کی نشاندہی ان علوم کے ماہرین کرتے رہتے ہیں۔کوئی مسلمان اس دار الاسباب میں ان ظاہری اسباب کا انکار نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا یہ بھی بنیادی عقیدہ ہے کہ فطری قوانین اور نیچرل سورسز کے پیچھے کوئی کنٹرولر اور نگران موجود ہے۔ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے گزشتہ اقوام پر آنے والی ان آفتوں، زلزلوں، آندھیوں، طوفانوں، وباؤں، اور سیلابوں کا ذکر ان اقوام پر اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کے اظہار کے طور پر کیا ہے اور ان قدرتی آفتوں کو ان قوموں کے لیے خدا کا عذاب قرار دیا ہے۔ ان قدرتی آفات کے ذریعے ہمیں یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ تمھارا رب تم سے ناراض ہے، تم نیکیوں کی جانب متوجہ ہوجاؤ۔ اچھے کام کرو اور برائیاں چھوڑ دو۔سائنس نے یہ تو بتادیا کہ زمین کی پلیٹیں ہلتی ہیں تو زلزلہ آتا ہے لیکن اِس کا حل اور ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے، یہ نہیں بتایا۔ لیکن اِسلام نے جہاں ایک طرف زلزلے کے اسباب بتائے، وہیں دوسری طرف اُس کا معقول اور مطمئن حل بھی بتایا ہے اور بالخصوص تباہ شدہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے جو کچھ بتایا ہے اُس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا، اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ زلزلے ہمیں یہ سبق سکھاتے ہیں کہ تم نے کتنی بھی ترقی کرلی، کیسی بھی ایجادات کرلیں، کتنی ہی مضبوط قلعے اور بینکر بنا لئے، ہوائی جہاز اورکمپیوٹر ایجاد کرلیے، چاند پرکمندیں ڈال لیں اور ترقی کے سارے ریکارڈتوڑ ڈالے۔لیکن یہ سب کچھ بھی تم نے خداداد صلاحیتوں سے ہی کیا ہے۔تم اپنی اوقات اور تخلیق کا مقصد یاد رکھو، اپنے مالک وخالق سے لا تعلق مت ہوجاؤ، دنیا وآخرت کا فرق سمجھو، دنیا اور آخرت کی زندگی کا راز جاننے اور ماننے کی کوشش کرو۔ اسی طرح یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھو کہ تم سے بڑھ کر بھی کوئی عظیم ذات ہے، جس کی قدرت وعظمت اور قہاریت وجباریت کا تم اندازہ بھی نہیں لگاسکتے۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ کے اندر زلزلہ آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا رب چاہتا ہے کہ تم اپنی خطاؤں کی معافی مانگو۔(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم:4338 فی الصلاۃ فی الزلزلہ). اسلام نے دنیاکو یہ حقیقت بھی سمجھائی ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا، جب یہ دنیا ختم ہوجائے گی اورسب سے بڑے دربار میں احکم الحاکمین کے سامنے سب کو اپنی زندگی کا حساب دینا ہے، اسے قیامت کہتے ہیں۔یہ زلزلے انسان کواُسی قیامت کی یاد دلاتے ہیں کہ ابھی تو تھوڑی سی زمین ہلادی گئی ہے تو یہ حال ہے، جب قیامت کا زلزلہ آئے گا تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ لہٰذا وقت سے پہلے اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال درست کرلو۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: سرکارِ دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ علم اٹھالیا جائے اور زلزلوں کی کثرت ہوجائے۔(بخاری، رقم:6301)۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں’’ جہاں زلزلہ آتا ہے اگر وہاں کے لوگ توبہ کرلیں اور بد اعمالیوں سے باز آجائیں تو ان کے حق میں بہتر ہے، ورنہ ان کے لیے ہلاکت ہے‘‘۔ (الجواب الکافی لابن القیم،ص:74) اس سلسلہ میں ہمارا سب سے پہلا فریضہ یہ ہے کہ ہم توبہ و استغفار کریں۔ا پنی زندگیوں کو بدلنے کی کوشش کریں۔ معاشرے میں برائیوں کو روکنے اور نیکیوں کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ ہماری بہت بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کریں، ان کی بحالی کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں کہ یہ ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے اور اس کا اﷲ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔اس کے ساتھ ہی اس سلسلہ میں جاں بحق ہونے والے خواتین و حضرات کے لیے دعائے مغفرت کا اہتمام ضروری ہے۔ چونکہ وہ لوگ اچانک اور حادثاتی موت کا شکار ہوئے ہیں اس لیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق وہ شہداء میں شامل ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا بھی ہم پر ان کا حق ہے اور ہمیں اپنی دعاؤں میں انہیں یاد رکھنا چاہیے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 190 Print Article Print
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 181 Articles with 88685 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More

Reviews & Comments

Language: