کوہاٹ اسپورٹس کمپلیکس: جہاں اسپورٹس کم اور “ملٹی ٹاسکنگ” زیادہ ہے

کوہاٹ اسپورٹس کمپلیکس بظاہر کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بنایا گیا تھا، مگر زمینی حقائق دیکھیں تو یہ جگہ ایک ایسے انتظامی تجربہ گاہ کا منظر پیش کرتی ہے جہاں ہر شخص وہ کام کر رہا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں، اور جو اصل کام ہے وہ کہیں درمیان میں گم ہو چکا ہے۔کمپلیکس سے وابستہ ملازمین اور مقامی ذرائع کے مطابق یہاں مسئلہ صرف بدانتظامی کا نہیں، بلکہ اختیارات کی ایسی تقسیم کا ہے جو کسی فائل میں تو شاید خوبصورت لگتی ہو، مگر عملی طور پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ کھیلوں کے میدان ہوں، سوئمنگ پول ہو، جمنازیم ہو یا ہاسٹل، ہر شعبہ اپنی الگ کہانی رکھتا ہے، اور ہر کہانی میں ایک مشترک نکتہ ہے: ریکارڈ، شفافیت اور جواب دہی کا فقدان۔

ذرائع کے مطابق کمپلیکس میں مختلف سہولیات کی ممبرشپس اور بکنگ کی ذمہ داریاں باقاعدہ انتظامی یا ٹیکنیکل عملے کے بجائے نچلے درجے کے ملازمین کے سپرد کی گئیں۔ ٹریک کی ممبرشپ چوکیدار کے حوالے رہی، جمنازیم کی ممبرشپ مالی کے پاس، کرکٹ گراونڈ کی بکنگ بھی چوکیدار کے ذمے، ہاکی کی ممبرشپ مالی کو دے دی گئی، جبکہ سوئمنگ پول کی ممبرشپ اور ہاسٹل کی نگرانی بھی مبینہ طور پر چوکیدار ہی سنبھالتا رہا۔سوال یہ نہیں کہ چوکیدار یا مالی کام کے اہل نہیں، سوال یہ ہے کہ جب کمپلیکس میں گریڈ پندرہ، سولہ اور سترہ کے افسران موجود ہوں تو فیصلے اور مالی معاملات نچلے درجے کے ملازمین کے ہاتھ میں کیوں دیے گئے؟ کیا یہ انتظامی حکمتِ عملی تھی یا سہولت پر مبنی خاموش سمجھوتا؟

حالیہ انکوائری کے دوران جب مختلف گراونڈز، ممبرشپس اور بکنگز کا ریکارڈ طلب کیا گیا تو ذرائع کے مطابق متعلقہ ذمہ دار تاحال مکمل دستاویزات فراہم نہیں کر سکے۔ یہاں سے کہانی مزید سنجیدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ سرکاری اداروں میں ریکارڈ ہی وہ واحد چیز ہوتی ہے جو دعووں کو حقیقت اور حقیقت کو جھوٹ ثابت کرتی ہے۔اگر بکنگز واقعی ہوئیں، فیس لی گئی، سہولیات استعمال ہوئیں، تو اس کا تحریری یا ڈیجیٹل ریکارڈ کہاں ہے؟ اور اگر ریکارڈ موجود نہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رقم کہاں گئی، اور کس کے علم میں تھی؟

ذرائع کے مطابق سوئمنگ پول سے متعلق لوہے کے سامان کو رات کے وقت نکالے جانے کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کی نگرانی مبینہ طور پر متعلقہ عملے نے کی۔ رات کا وقت، سرکاری سامان، اور خاموشی، یہ تینوں عناصر جب ایک ساتھ ہوں تو کسی بھی تحقیقاتی صحافی کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتے ہیں۔ابھی تک اس معاملے پر کوئی حتمی سرکاری مو¿قف سامنے نہیں آیا، مگر سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر سب کچھ قانون کے مطابق تھا تو دن کی روشنی میں کیوں نہیں ہوا؟

اسپورٹس کمپلیکس میں واقع سرکاری رہائش گاہوں کے استعمال پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کا واضح ریکارڈ دستیاب ہے اور نہ ہی کرایہ وصولی کی مکمل تفصیلات سامنے آ سکیں۔یہاں طنز خود بخود پیدا ہوتا ہے: جب ملک میں عام شہری بجلی کے بل پر احتجاج کر رہا ہو، وہاں سرکاری کوارٹر بغیر بل اور بغیر کرایہ کیسے چل رہے ہیں؟ کیا یہ بھی کسی کھیل کا حصہ ہے، یا صرف ایک پرانا میچ ہے جس کا اسکور کبھی لکھا ہی نہیں گیا؟

ذرائع کے مطابق کوہاٹ اسپورٹس کمپلیکس میں اس وقت ستر کے قریب افسران اور اہلکار موجود ہیں، جبکہ تئیس کے قریب منظور شدہ آسامیاں اب بھی خالی ہیں۔ ان خالی آسامیوں میں مالی، چوکیدار اور لائف گارڈ جیسے عہدے شامل ہیں، جو زیادہ تر گریڈ تین اور چار سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جانب، کمپلیکس میں گریڈ سولہ کا ایک گراونڈ مین، گریڈ پندرہ کا ایک سپروائزر، گریڈ سترہ کا ایڈمنسٹریٹر اور سپرنٹنڈنٹ، گریڈ سولہ کا اسسٹنٹ، گریڈ سولہ کا کمپیوٹر آپریٹر اور گریڈ آٹھ کا کیئر ٹیکر بھی موجود ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جب اتنا پورا انتظامی ڈھانچہ موجود ہو، تو ممبرشپس، بکنگز اور ہاسٹل جیسے حساس معاملات نچلے درجے کے ملازمین کے حوالے کرنے کی منطق کیا تھی؟ کیا یہ انتظامی کمزوری تھی یا دانستہ آنکھ بند کرنے کی پالیسی؟

ذرائع یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ ایک افسر کو اب بھی روزانہ مفت ناشتہ اور رات کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ الزام بظاہر معمولی لگ سکتا ہے، مگر سرکاری نظام میں یہی “معمولی سہولتیں” اکثر بڑے سوالات کو دبانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔جب ناشتہ اور کھانا مفت ہو تو سوال پوچھنا مہنگا لگنے لگتا ہے، اور جب سوال نہ پوچھے جائیں تو بدانتظامی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہے۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں انہیں یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ اگر کسی نے شواہد فراہم کیے یا زیادہ بولنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اگرچہ ان دعووں کی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی، مگر خود یہ تاثر کسی بھی ادارے کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ادارے خوف سے نہیں، اعتماد سے چلتے ہیں، اور اعتماد ریکارڈ، شفافیت اور واضح جواب دہی سے بنتا ہے۔

آخر میں سوال وہی ہے جو ہر ٹیکس دینے والا شہری پوچھنے کا حق رکھتا ہے: عوامی پیسے سے بننے والے اسپورٹس کمپلیکس میں اس سطح کی بدانتظامی، غیر واضح اختیارات اور ممکنہ وسائل کے ضیاع کو اتنے عرصے تک کیسے نظر انداز کیا گیا؟یہ تمام معاملات عوامی مفاد میں سامنے آنے والی شکایات اور خدشات پر مبنی ہیں، جن کی حتمی تصدیق چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ کی ہدایت پر قائم دو رکنی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی، جو اس وقت کوہاٹ اسپورٹس کمپلیکس میں مبینہ بدعنوانیوں اور انتظامی ناکامیوں کی جانچ کر رہی ہے۔

#Kohat #SportsComplex #KPK #KP #SportsNews #Accountability #PublicFunds #Mismanagement #Inquiry #Transparency #Governance #Kikxnow #DigitalCreator


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 920 Articles with 730943 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More