مصنوعی ذہانت اور روزگار کے نئے مواقع

مصنوعی ذہانت اور روزگار کے نئے مواقع
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

اس وقت ،چین میں کام کرنے کے انداز تیزی سے بدل رہے ہیں۔ چیٹ بوٹس سے لے کر خودکار گاڑیوں تک، مصنوعی ذہانت روزمرہ کام کی رفتار بڑھا رہی ہے اور صنعتی سرحدوں کو دوبارہ متعین کر رہی ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی روزگار کے بارے میں خدشات کو بھی بڑھا رہی ہے، کیونکہ اسمبلی لائن کے کارکن، ڈیزائنرز اور مترجم پہلے ہی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت محض ملازمتوں کو ختم کرے گی یا ایک نئے معاشی اور صنعتی ڈھانچے کی راہ ہموار کرے گی۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق، مصنوعی ذہانت زیادہ تر ایک تبدیلی کا عامل ہے۔ جیسا کہ صنعتی انقلاب یا مشین کاری کے دوران ہوا، نئی ٹیکنالوجیز مارکیٹ میں نئی پیشہ ورانہ شاخیں اور کام کے طریقے پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت بھی معاشی ڈھانچے میں نئے مواقع پیدا کر رہی ہے اور کئی پرانے کاموں کی جگہ نئے کردار لے رہے ہیں۔

چین کی حکومت نے اس تبدیلی کو منظم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ روزگار پر منفی اثر کم ہو اور انسانی سرمایہ میں سرمایہ کاری بڑھائی جا سکے۔ مقصد یہ ہے کہ ورک فورس تیز رفتاری سے بدلتی ٹیکنالوجی کے لیے تیار ہو اور معیشت کی منتقلی میں مددگار ثابت ہو۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے اثرات پر خدشات نئے نہیں ہیں۔ ہر بڑی ٹیکنالوجی، چاہے وہ بھاپ انجن ہو یا مشین کاری، اسی طرح کے خوف پیدا کرتی رہی ہے۔ماہرین کے مطابق، اگرچہ کچھ روایتی کردار کم ہو رہے ہیں،لیکن مصنوعی ذہانت پیداوار بڑھاتی ہے اور نئی صنعتوں کے لیے جگہ بناتی ہے، جس سے ملازمتیں نئے انداز میں وجود میں آتی ہیں۔

اگست 2025 میں،چین کی اسٹیٹ کونسل نے "اے آئی پلس" منصوبے کے رہنما خطوط جاری کیے، جس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو موجودہ ملازمتوں کو اپ گریڈ کرنے اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے فروغ دیا گیا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق، 2030 تک مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پروسیسنگ ٹیکنالوجیز تقریباً 11 ملین نئی ملازمتیں پیدا کریں گی، جو 9 ملین ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے سے کہیں زیادہ ہیں۔


چین میں مصنوعی ذہانت کا بنیادی شعبہ تقریباً 600 ارب یوان (85.58 ارب امریکی ڈالر) کے قریب پہنچ چکا ہے۔ لارج لینگوئج ماڈلز، الگورتھمز اور اے آئی پر مبنی مینوفیکچرنگ، سروسز اور بایوٹیکنالوجی میں انضمام ملازمتوں کی طلب میں اضافہ کر رہا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں چین کی وزارت انسانی وسائل اور سماجی تحفظ نے 72 نئے پیشے شناخت کیے ہیں، جن میں سے 20 براہِ راست اے آئی سے متعلق ہیں۔ ابتدائی مراحل میں ہر پیشہ تقریباً تین لاکھ سے پانچ لاکھ افراد کے لیے روزگار پیدا کرے گا۔

خودکار ڈرائیونگ ایک واضح مثال ہے۔ اس شعبے میں روایتی ڈرائیورز کی جگہ لینے کی بجائے، نئی ملازمتیں تخلیق کی جا رہی ہیں جو عملی تجربے اور ڈیجیٹل مہارت کو یکجا کرتی ہیں۔ روبوٹیکسی سروسز کی کمپنیاں حفاظتی نگران، وہیکل ٹیسٹرز اور الگورتھمز انجینئرز بھرتی کر رہی ہیں۔ کئی مواقع پر سابق ٹیکسی، بس یا رائیڈ ہیلنگ ڈرائیوروں کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ انہیں دوبارہ تربیت دی جا سکے۔

چین نے مصنوعی ذہانت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تربیت، تعلیم اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو تیز کر دیا ہے۔ 2027 تک چلنے والی ایک قومی مہم میں 30 ملین سے زائد افراد کو سبسڈائزڈ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسکولوں میں اے آئی تعلیم کو ابتدائی سطح سے لازمی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ ٹیکنالوجی اور سماج کے باہمی تعلقات کو سمجھ سکیں۔

حکومتی ترجیحات میں ایک نیا تصور ابھرا ہے "انسانی وسائل میں سرمایہ کاری"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے تیز رفتاری سے بدلتے ماحول میں انسانی تخلیقی صلاحیت سب سے اہم اثاثہ ہے، جو چین کو محنتی معیشت سے علم اور تخلیقی صلاحیت پر مبنی معیشت کی طرف منتقل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، جامعات کے نصاب کو اے آئی کی تیزی سے بدلتی دنیا سے ہم آہنگ کرنا، درمیانی عمر کے کارکنوں کی دوبارہ تربیت، اور خودکار نظام سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے جامع پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے۔

ان تمام عوامل کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت چین کی معیشت اور روزگار کے ڈھانچے میں ایک تبدیلی لانے والا عامل ہے۔ یہ ملازمتوں کے حوالے سے نئے شعبے، کام کے طریقے اور مہارتوں کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تربیت اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی حکمت عملی، نئے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے اور ورک فورس کو مستقبل کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس طرح، اے آئی محض ایک تکنیکی انقلاب نہیں، بلکہ چین کے لیے سماجی، اقتصادی اور مہارتوں کے نئے افق کی جانب قدم ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1758 Articles with 1010248 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More