Truth Four The Fear is Gift

اس آرٹیکل کا مرکزی خیال بیسٹ سیلر کتاب
Unlearn
One Hundred and One Simple Truths for a Better
Life
سے لیا گیا ہے۔

خوف لفظ ہی اپنے اندر ڈر اور خوف رکھتا ہے کہ سینسٹو لوگ اس سے نظریں چراتے
مگر ۔۔۔۔۔ڈھیٹ لوگ ۔۔۔۔۔اسکو ہنسی میں اڑاتے نظر آتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ اندر ہی اندر وہ بھی کسی خوف کے قیدی ہوں مگر
رخ روشن پر نہ آنے دیتے ہوں۔

انسان کے اندر خوف کسی شخص یا جگہ یا واقعے سے پیدا ہوسکتا ہے۔

اندھیرے کا ، بلند ی کا، موت کا، اونچی آوازوں کا، حشرات الارض کا، نئے لوگوں
سے ملنے کا، لوگوں سے بات چیت کرنے کا
پانی کا ، جان لیوا بیماری کا ، امتحان میں ناکام ہونے کا
۔۔۔۔۔ بریک اپ۔۔۔۔۔۔ کا خوف کئی طرح کی ورائٹی آپکو اپنے ارد گرد نظر آئے گی۔

ہمارے دماغ کے اندر راستے بنے ہوتے ہیں۔ جن پر چلتے ہوئے ہم شعوری بھی اور لاشعوری
کام بھی انجام دیتے ہیں۔ جیسے بعض لوگ شعوری طور پرسانس گہری لیتے ہیں
مگر بعض لوگ اتنی گہری نہیں لیتے کیونکہ انھوں نے اپنے دماغ کے اندر وہ راستہ ہی شعوری طور پر
نہیں بنایا ہوتا۔

اسی طرح جب ہم چھوٹے سے بچے ہوتے ہیں تو لوگوں کا رویہ ہمارے ارد گرد خوف کی تشکیل
میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔
بچوں میں استاد کا ۔۔۔مولا بخش ۔۔۔خوف پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا تھا جسکو اب مار نہیں
پیار سے ری پلیس کر دیا گیا ہے۔

جوانی میں انسان کے شوق بدل جاتے ہیں مگر تب بھی گھر والوں کا خوف انسان کو
۔۔۔۔۔تیر ۔۔۔۔ کی طرح سیدھا رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔



بدلتے موسم گرمی میں لوڈ شیڈنگ اور سردی
میں گھا ئل کرنے والا عجیب سا ڈپریشن سب مل کر مت مارنے
کے لئیے تبدیلی کو اتنا خوشگوار نہیں رہنے دیتے۔

کچھ قیمتی رشتہ ہو یا شہرت کھو دینے کا خوف۔
یہ خوف سب سے عام خوف ہے ۔
مگر
ہر خوف دنیا میں مینیج اور نجات کے قابل ہے۔

خوف سے نکلنے کا آسان ترین نسخہ ہے
جو کہ آزمایا ہوا ہے

گوگل کرو
اسکے بارے میں معلومات اکٹھی کرو
آپ کو خوف یا فوبیا ہے ۔ آپ اسکے کس مقام پر کھڑے ہیں
وہ جانیں
ماہر سے رائے لینے کی ضرورت ہے تو لیں
خود جو کچھ کر سکیں کریں

اتنی چھوٹی سی تو زندگی ہے اس میں یہ سوچنا کہ لوگ کیا سوچیں اور اپنا آپ بہتر
نہ بنانا اپنی زندگی خود ضائع کرنا ہے
نیا سال زندگی میں نیا پن بھی تو لائے

جس طرح رات بس سورج کی روشنی غیر موجود ہونے کا نام ہے اسی طرح خوف بھی ذہن میں
اچھے راستے کی جگہ ایک تکلیف دہ راستے کے موجود ہونے کا نام ہے۔
sana
About the Author: sana Read More Articles by sana: 263 Articles with 345065 views A writer who likes to share routine life experiences and observations which may be interesting for few and boring for some but sprinkled with humor .. View More