پاکستان کے تیزی سے پگھلتے، سرکتے گلیشیئر اور نئی جھیلیں

پاکستان کے ضلع چترال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گلیشیئروں کو اپنے سامنے تیزی سے پگھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اِس وجہ سے نئی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں۔ اس خطے کے گلیشیئروں پر پڑنے والے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن آج چترال جائیں گے اور ماہرین کے ساتھ مل کر وادی کے ایک کونے میں واقع کوئی گلیشیئر کا جائزہ لیں گے۔
 


چترال کے رہائشی اور اِس وقت پشاور میں کام کرنے والے ماہرِ ماحولیات حامد احمد میر بتاتے ہیں کہ وہ کئی مرتبہ چنیتر گلیشیئر اور دیگر گلیشیئر پر جا چکے ہیں۔ اُن کے مشاہدے کے مطابق ان علاقوں میں چنیتر گلیشیئر کے علاوہ باقی گلیشیئروں پر واضح طور کئی چھوٹی بڑی جھیلیں بن چکی تھیں۔

حامد احمد میر سنہ 2012 تک چترال کی وادیِ بروغل میں مختلف خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ چنیتر گلیشیئر پر بھی بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اس میں بڑے بڑے سوراخ ہو رہے ہیں جن کی بناء پر مقامی لوگ اس کے قریب بھی جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

انھوں نے وادی بروغل میں کئی سال تک تحقیقاتی کام بھی کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چنیتر گلیشیئر 35 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جو دریائے چترال کا منبع بھی ہے۔

حامد احمد میر کا کہنا تھا کہ اسی طرح چاٹی بوئے یا گرم چشمہ گلیشیئر، دارکھوت اور کوئی گلیشئیر بھی بڑے گلیشئیر ہیں مگر بدقسمتی سے چنیتر گلیشیئر سمیت ان سب کے بارے میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کوئی تحقیق موجود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان گلیشیئروں پر حالیہ برسوں میں کچھ غیر ملکیوں نے کام کیا ہے مگر وہ تحقیق ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔
 


'میں سنہ 2016 میں جب وہاں گیا تھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گلیشیئر کس تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں یہ گلیشیئر چالیس سے پچاس میٹر کم ہوئے ہیں اور ان پر موجود جھیلیں زیادہ بڑی ہوئی ہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال ہے۔ اگر اسی طرح یہ گلیشیئر پگھلتے رہے تو آنے والے 20 سال میں ان کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔`

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی وادی بروغل کو سیاح اور مہم جو زمین پر جنت قرار دیتے ہیں۔ تین سو گھروں اور کئی چھوٹے دیہاتوں پر مشتمل یہ وادی چترال سے شمال کی جانب 250 کلومیٹر دور افغانستان کی سرحد پر چھوٹے بڑے گلیشیئروں کا مرکز قرار دی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کا واحد ذریعہ معاش مال مویشی اور سیاحوں کو خدمات فراہم کرنا ہے۔

وادی بروغل کے سابق ناظم امین جان تاجک نے بتایا کہ وادیِ بروغل میں کئی چھوٹے بڑے گلیشیئر موجود ہیں جن کے مقامی زبان میں مختلف نام ہیں۔ عموماً یہاں پر ہر گلیشیئر کو اس کے گاؤں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مقامی افراد کے مشاہدے کے مطابق یہ سب گلیشئیر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
 


امین جان تاجک کا کہنا تھا کہ جب وہ سکول کے زمانے میں چاٹی بوئے یا گرم چشمہ گلیشئیر سے ہو کر سکول جایا کرتے تھے تو اس وقت بھی دیکھا کرتے تھے کہ وہاں پر پانی اکھٹا ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تقریبا چودہ سال بعد لوگوں کے لیے اِس گلیشیئر سے ہو کر گزرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ بہت چھوٹا ہوچکا ہے اور وہاں کا پانی پار کرنا ممکن نہیں ہے۔

'اسی طرح کچھ سال پہلے تک ہم لوگ دارکھوت گلیشیئر سے گزر کر گلگت بلتستان جایا کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ اب ہم نیچے سے گزر کر گلگت بلتستان کی طرف جاتے ہیں۔ گوئی گلیشیئر کی بھی یہی صورتحال ہے۔'

شاہی جوڑا بدھ کو ’کوئی گلیشیئر‘ کا رخ کرے گا۔ امین جان تاجک کے مطابق اس کا نام چترال اور ہنزہ میں موجود ہندو راج پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ’کوئی‘ کی نسبت سے پڑا ہے اور اسی نام کا ایک گاؤں بھی وہاں پر آباد ہے۔ گاؤں سے پیدل ایک گھنٹہ کی مسافت پر چاٹی بوئے یا گرم چشمہ گلیشیئر موجود ہے۔
 


'ہمارے آباؤ اجداد بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں کوئی اور گرم چشمہ گاؤں کے بہت قریب ہوتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے اور میرے سامنے یہ گلیشیئر بہت سکڑ چکا ہے۔'

حامد احمد میر کے مطابق اس گلیشیئر کا راستہ کافی دشوار گزار ہے۔ اس پہاڑی سلسلے میں اکثر و بیشتر مہم جو ہی جاتے ہیں۔

محکمہ موسمیات اسلام آباد میں گلیشیئر کے شعبے کے ماہر ڈاکٹر فرخ بشیر نے بھی اِسی تشویش ناک صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے گلیشیئروں میں سینکڑوں جھیلیں ہیں مگر اس میں انتہائی خطرناک کی تعداد تیس سے چالیس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بین الاقوامی اداروں کی مدد سے ایک نئی تحقیق جاری ہے جس کے بعد تازہ صورتحال سامنے آئے گی۔
 


ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گلیشیئروں کے مسائل صرف جھیلیں بننے کی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں سرکنے کا عمل بھی جاری ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں گلیشیئر جھیلیں بن رہی ہیں جن کے پھٹنے کا خطرہ موجود رہتا ہے جو سیلاب اور تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ مقامات پر یہ گلیشیئر سرک بھی رہے ہیں۔

حامد احمد میر کا کہنا تھا کہ وادی بروغل میں گلیشیئر کو نقصان پہچنے ایک سبب مقامی حالات بھی ہیں۔ اس علاقے میں درخت نہیں ہیں مال مویشی اور چراہ گاہیں ان لوگوں کا واحد اثاثہ ہیں۔ وہاں پر موجود گھاس میں بہت زیاد گیس اور معدنیات ہوتی ہیں۔ یہ ایک خاص قسم کی گھاس ہے جو عام نہیں ہے۔ اس کو پیٹ کہا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کے پاس ایندھن کے لیے واحد سہولت صرف یہ گھاس ہے جو کہ وہ گرمیوں اور سردیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک تو گھاس کا دھواں اور دوسرے اس گھاس کی یہ دیر تک جلتے رہنے کی خصوصیت بھی گلیشیئر کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اِس لیے ضروری ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے ایندھن کے دوسرے ذرائع کا انتظام ہو جو ماحول دوست بھی ہوں۔
 


وادی بروغل کا جنگلی حیات کے حوالے سے بھی اپنا خاص مقام ہے۔ اس علاقے میں 1374 سکوائر کلومیٹر رقبے پر نیشنل پارک قائم ہے۔ وائلڈ لائف چترال کے اعلیٰ اہلکار محمد ادریس کے مطابق اس علاقے میں جنگلی حیات کی آمجگاہیں محفوظ ہیں اور جنگلی حیات کی غذا کا قدرتی نظام بھی محفوظ ہے۔

اس علاقے میں آئی بیکس، بھورا ریچھ، گولڈن مارمیٹ، مارکولو بھیڑ، بلیو شیپ، بھیڑیا، رام چکور اور چکور جیسے قیمتی انواع کے علاوہ مہمان پرندوں کی بھی بڑی تعداد ہر سال آتی ہے۔

محمد ادریس کے مطابق وادی بروغل میں جنگلی حیات کے محفوظ ہونے کی ایک وجہ تو اس کا دور دراز علاقہ ہونا ہے جہاں پر ابھی تک ماحول کو نقصاں پہچانے والے عوامل نہیں پہنچے ہیں اور دوسری بڑی وجہ مقامی آبادیاں ہیں جو تعداد میں زیادہ تو نہیں ہیں مگر ان جنگلی حیات کا شکار وغیرہ نہیں کرتے ہیں اور کسی شکاری کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔
 

Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language: