صحرائے نامیب: قدیم افریقی صحرا کا وہ راز جو آج تک کوئی نہیں جان سکا

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ دیوتاؤں کے نقشِ پا ہیں جبکہ بعض دوسروں کا خیال ہے کہ وہاں پریاں رقص کرتی ہیں لیکن چند ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ وہاں اڑن طشتریاں آتی ہیں۔

لیکن آج تک کوئی بھی صحرائے نامیب پر بنی لاکھوں دائرہ نما بیضوی شکلوں کی وضاحت نہیں کر سکا ہے۔
 


سنگلاخ صحرا
جنوب مغربی افریقہ میں بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع نامیب صحرا زمین کے خشک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

مقامی زبان میں اس کا مطلب ’وہ علاقہ ہے جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔‘

سیارہ مریخ کی سطح سے مشابہت رکھنے والے اس خطے پر ریت کے ٹیلے، اوبڑ کھابڑ سنگلاخ پہاڑ ہیں۔ یہ وسیع و عریض خطہ تین ممالک کے 81 ہزار مربع کلومیٹر پر کنکریوں اور ریت کا پھیلا ہوا میدان نظر آتا ہے۔

ساڑھے پانچ کروڑ سال قدیم اس صحرا کو دنیا کا قدیم ترین صحرا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں صحرائے صحارا صرف 20 سے 70 لاکھ سال پرانا ہے۔

موسم گرما میں یہاں کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور راتیں اتنی سرد ہوتی ہیں کہ برف جم جائے۔

آبادی کے لحاظ سے یہ زمین کے ایک انتہائی ناقابل رسائی علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود بہت سے قبائل نے اسے اپنا گھر بنایا ہوا ہے۔

اس عمل میں کچھ عجیب زمینی شکلوں کی تعمیر ہوئی جو ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

نامیب صحرا جنوبی انگولا سے نمیبیا اور پھر وہاں سے دو ہزار کلومیٹر دور افریقہ کے شمالی حصے تک پھیلا ہوا ہے۔

نمیبیا میں طویل بحر اوقیانوس کے ساحل پر یہ ڈرامائی انداز میں سمندر سے ملتا ہے۔

ایسا لگتا ہے جیسے مشرق کی طرف ریت کا لامتناہی سمندر پھیلا ہو جو جنوبی افریقہ کے اندر 160 کلومیٹر دور بڑی ڈھلان تک جاتا ہے۔
 


وہاں کی مناسبت کے جانور
صحرائے نامیب کے انتہائی خشک حصوں میں سال میں اوسطاً صرف دو ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ کئی سال تو ایسے بھی ہوتے ہیں جب بارش بالکل نہیں ہوتی۔

اس کے باوجود اورکس، اسپرنگ بوک (ہرن کی دو اقسام)، چیتے، لگڑبگھوں، شترمرغ اور زیبروں نے یہاں کے سخت حالات میں خود کو ڈھال لیا ہے۔

شتر مرغ پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے اپنے جسم کا درجہ حرارت بڑھا لیتے ہیں۔

ہارٹ مین کے پہاڑی زیبرے بہت ہوشیار کوہ پیما ہیں جنھوں نے خود کو صحرا کے ناہموار خطوں میں رکھنا سیکھ لیا ہے۔

اوریکس بغیر پانی کے صرف پودوں کی جڑوں اور قند کھا کر ہفتوں تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
 


جہنم کا دروازہ
نامیب کا سب سے خطرناک علاقہ ریت کے ٹیلوں اور ٹوٹے ہوئے جہازوں کے زنگ آلود ملبوں سے بھرا ہوا ہے۔

بحر اوقیانوس کے ساحل پر 500 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا یہ علاقہ کنکال بیچ یا پنجر ساحل کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جنوبی انگولا سے وسطی نمیبیا تک پھیلا ہوا یہ علاقہ وھیل کے بے شمار پنجر اور تقریبا ایک ہزار بحری جہازوں کے ملبے سے بھرا ہوا ہے جو گذشتہ کئی صدیوں سے وہاں جمع ہوتے رہے ہیں۔

یہ پنجر کا ساحل اکثر گہری کُہر سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے جو بحر اوقیانوس کی سرد ہواؤں اور صحرائے نمیب کی گرم ہواؤں سے تشکیل پاتا ہے۔

بحری جہازوں کے لیے اس دھند سے گزرنا مشکل ہوتا ہے۔ مقامی سان قبائل کا کہنا ہے کہ خدا نے اس علاقے کو غصے کے عالم میں بنایا ہے۔

سنہ 1486 میں افریقہ کے مغربی ساحل کے ساتھ چلتے ہوئے پرتگال کے معروف جہاز راں دیاگو کاؤ کچھ دیر پنجر کے ساحل پر ٹھہرے تھے۔

کاؤ اور وہاں کے لوگوں نے وہاں صلیب کھڑی کی لیکن مشکل حالات میں وہ زیادہ دن وہاں نہیں رہ سکے۔

جاتے جاتے انھوں نے اس جگہ کا نام 'جہنم کا دروازہ' رکھ دیا۔
 


شاندار ریت کے ٹیلے
سیاح سوسسویلے کے آس پاس کے ریت گہرے بھورے ٹیلوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ نمک اور کیچڑ کا علاقہ افریقہ کے تیسرے سب سے بڑے قومی پارکوں میں شامل ہے جو 50 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

ریت کے ٹیلے تو نامیب میں ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن ان کا رنگ سوسسویلے کے پاس گہرا نارنجی ہو جاتا ہے۔

یہ رنگ دراصل زنگ کا ہے۔ یہاں ریت میں لوہے کی مقدار بہت زیادہ ہے جو اسے زنگ آلود بنا دیتا ہے۔

یہاں کے کچھ ریت کے ٹیلے دنیا میں سب سے بلند ہیں۔ کچھ ٹیلوں کی اونچائی 200 میٹر تک ہے۔ سوسسویلے کے شمال میں ایک ٹیلہ تو تقریبا 400 میٹر اونچا ہے۔

نامیب کی حیران کن پہیلیوں میں ایک پہلی زمین کا وہ حصہ ہے جسے 'پریوں کے حلقے' یا دائرے کہا جاتا ہے۔

کسی خاص نوع کے گھاس سے گھرے دائرہ نما حلقوں یا دائروں میں کوئی پودا نہیں ہوتا۔ پورے صحرائے نامیب میں اس قسم کے لاکھوں حلقے یا دائرے ہیں جنھوں نے کئی دہائیوں سے ماہرین کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔
 


ریت پر دائرہ نما دھبے
آسمان سے ان حلقوں کو دیکھیں تو یہ بہت خوشمنا لگتے ہیں۔ یہ حلقے نامیب کے لامتناہی صحرا میں ہر جگہ نظر آتے ہیں جو بعض اوقات چیچک کے دھبوں کی طرح نظر آتے ہیں۔

یہ حلقے کنکڑی کے میدانی علاقوں اور ریت کے ٹیلوں پر بھی پائے جاتے ہیں۔ ہر جگہ ان کی شکلیں گول ہیں۔

وسطی نامیب میں حلقوں کا قطر 1.5 میٹر سے چھ میٹر تک ہے۔ شمال مغربی نامیبیا میں وہ اس سے چار گنا تک بڑے ہو سکتے ہیں۔ وہاں کے دائروں کا قطر 25 میٹر تک ہے۔

برسوں تک یہ خیال ظاہر کیا جاتا رہا کہ پریوں کی یہ حلقے صرف نامیبیا میں ہی ہیں۔ لیکن سنہ 2014 میں ماحولیاتی سائنس دان برانوین بیل کو مغربی آسٹریلیا کے علاقے پیلبرا میں اسی طرح کے حلقے نظر آئے۔

ان فنی نمونوں سے حیرت زدہ ہو کر بیل نے جرمنی کے ماحولیاتی سائنس دان سٹیفن گیٹزین سے رابطہ کیا اور اپنی دریافت کے بارے میں بتایا۔

آسٹریلیا میں پائے جانے والے حلقے تو نامیبیا کے حلقوں جیسے ہی ہیں لیکن دونوں مقامات پر مٹی کا ڈھانچہ مختلف ہے۔ اس بات نے سائنسدانوں کو مزید حیران کیا ہے۔
 


دیوتاؤں کے نقشِ پا
'پریوں کے حلقوں' کی پہیلی کو سلجھانے میں ماہرین اب تک حیران اور پریشان ہیں، لیکن نامیبیا کے مقامی لوگوں کو ان شکلوں کے بارے میں بہت پہلے سے پتا تھا۔

مقامی ہیمبا کے لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ روحوں کے ذریعہ بنایا گیا ہے اور وہ ان کے دیوتا مکورو کے نقشِ پا ہیں۔

ان نمونوں کے اسرار کو حل کرنے کے لیے ریاضی کے چند ماہرین نے ماڈلز بنا کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آیا یہ حلقے کسی خاص پیٹرن میں بنتے ہیں۔

لیکن نامیب نوکلوفٹ نیشنل پارک کے باہر روسٹاک رٹز ڈیزرٹ لاج کے مالک ہین شولز کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پراسرار شکلیں یا دائرے یا حلقے اڑن طشتریوں یا رات کو ناچنے والی پریوں سے بنتے ہیں۔
 


سچ سامنے ہے
آج تک ان حلقوں کی وضاحت کا کوئی عمومی نظریہ سامنے نہیں آیا ہے جو سب کو قابلِ قبول ہو۔

حالیہ برسوں میں نامیبیا، جرمنی، امریکہ اور دیگر ممالک کے سائنسدانوں نے ایک ساتھ مل کر ان پر کام شروع کیا ہے۔

ریگستان کے وسط میں قائم گوبابیب نامیب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دان یوجین ماریس کا کہنا ہے کہ نامیب میں پانی کی شدید قلت سے دو بڑے اصول سامنے آئے ہیں۔

کچھ تحقیق بتاتی ہیں کہ یہ حلقے دیمک کی وجہ سے بنتے ہیں جو زمین سے پانی اور غذائی اجزا تلاش کرتے رہتے ہیں۔

پودے کی جڑیں کھا کر وہ زمین کے نیچے خالی جگہ پیدا کرتے ہیں جس سے بارش کے پانی کا زمین کے اندر پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔

اس نظریہ کے مطابق دیمک زیرِ زمین ذرائع سے پانی پی کر سال بھر زندہ رہتی ہیں۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ نباتات خود اس کا انتظام کرتے ہیں۔ گھاس کے پودوں کو بھی پانی اور غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی جڑیں ایک دوسرے سے اس کا مقابلہ کرتی ہیں۔

بنجر دائرہ نما علاقہ ایک حوض کی طرح کام کرتا ہے جہاں سے وہ پانی اور غذائی اجزاء حاصل کرتے ہیں۔
 


گنجلک پہیلی
برسوں کی خشک سالی کے بعد گھاس سوکھ جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہیں۔ ماریس نے ایک اور پہیلی کی وضاحت کی۔ یعنی جب بھی بارش ہوتی ہے اچانک یہ حلقے جادو کی طرح نمودار ہو جاتے ہیں۔

ماریس کے مطابق نامیب کے ان پریوں کے دائروں پر کی گئی تحقیق بنیادی طور پر کنکریوں کے میدانی علاقوں یا ریت کے ٹیلوں پر پائے جانے والے حلقوں پر مرکوز رہی ہے۔

ان شکلوں کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ان کے خیال میں محققین کو بیک وقت دونوں مقامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماریس کا خیال ہے کہ ان حلقوں کے بننے کا سبب ایک نہیں ہے بلکہ کئی اسباب کے یکجا ہونے سے یہ وجود میں آتے ہیں۔ لیکن وہ کیا اسباب ہیں یہ بات اب تک صیغۂ راز میں ہے۔


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language:    
Standing atop one of the tallest dunes on Earth, it felt as though the sand beneath our feet stretched into infinity. With its red dunes rolling endlessly into the ocean, the Namib is the oldest desert in the world — a sea of silica stretching along Namibia‘s entire Atlantic coast.