دل تتلی بن اُڑا - پانچویں قسط

(Saima Munir, Nankanasahib)

سرخاب"رجب رات کے اسوقت کیا ھوا؟ خیریت ھے!رجب"بلکل نہیں " سرخاب پریشان ہوگئی "
رجب"وہ کرچیاں لاو۔ سرخاب" کونسی؟ وہ اچھا___ انکا کیا کرو گے؟ رجب"مسجد میں اعلان کروانا ہے"
سرخاب"پاگل ہوگئے ہو" رجب"اف ! نہیں کروانا سُر انہیں ٹھکانے لگانا ہے۔ آگے بڑھ کر باسکٹ کو پلاسٹک بیگ میں الٹا دیا۔
سرخاب:تمہارا مطلب ہم جھوٹ بولیں گے؟ نہیں بابا نہیں! وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ رجب:کس نے کہہ دیا جھوٹ بولنا ہے؟ سُر ہم خاموشی اختیار کریں گے۔ایک گلاس ایک کپ ایک پلیٹ ہی تو ہے۔ اس نے کمرے سے نکل کر جائزہ لیا چلو آو کوئی نہیں ہے۔سرخاب:بات تو اصول کی ہے ____ویسے ٹرے کو کاونٹ نہیں کیا۔ رجب:کل ملا کر کتنے ٹکرے بنتے ہیں یہ بھی بتا دو وہ باہر کی طرف چل دیا۔سرخاب بھاگ کر اسکے سامنے کھڑی ہوگئی وہ پچھلے دروازے کے پاس پہنچ چکا تھا۔ دیکھو حقیقت کو چھپانا چوری ہے چور اگر جھوٹ نہیں بولے تو پکڑا جائے۔ رجب: واہ____ اچھا بہانا ہے۔ سرخاب:رجب رک جاو دیکھو ہم مما سے سوری بول دیں گے۔تمہیں پتا میں اور زمرد بہت نقصان کرتے تھے۔ کیا تم بھی تم کبھی شرارتی تھی؟ رہنے دو اسنے معصومیت سے دیکھا۔ سرخاب:بات کو پھیرتے ہوئے ویسے بھی معاف تو کر دیتیں ہیں۔ رجب نے بائیں ہاتھ سے داہنا کان چھوا توبہ ہٹلر جان سے مارتا تھا مما لفظوں سے نشانے لیتی ہیں۔ سرخاب:تم جانتے ہو, مجھے جھوٹ سے نفرت ہے۔ رجب: نہیں جانا نہ جاو ہاتھ باندھتے ہوئے مجھے جھوٹا ثابت کرنے کی مذموم کوشش مت کرو کچھ بھی ہو میں کوئی کمپرومائز نہیں کرنے والا۔ رجب بنا سنے چلا گیا۔ وہ کمرے کی طرف لوٹی تو کمرے میں داخل ہوتے اس کی نظر ایک لڑکے پر پڑی جو دیواد پر لگی تصویر کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ جس میں صدیق نے سرخاب کو کندھے پر اٹھا رکھا تھا اور وہ دونوں بازووں کو کسی پرندے کے پروں کی مانند ہوا میں لہرا رہی تھی۔ اسے چند ایک سال پہلے والا واقعہ یاد آگیا جب کوئی آدمی کمرے کی کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر داخل ہونے لگا تھا وہ خوف کے مارے سہم گئی مشکل سے بول سکی کو__کو___کون؟زمرد پیچھے کو مڑا تو زور سے چلائی علی تم یہاں؟؟زمرد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا پاگل ہو آہستہ بولو۔ سرخاب نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا____ایک لمحے کو ہچکولے سے سنہری بال سیبوں سے گالوں کو چھپا گئے ۔ بال چہرے سے ہٹائے آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔۔۔۔پھر فورا سے پھیر لیں۔ میں کیوں آہستہ بولوں اسکی زبان لڑکھڑا رہی تھی نقب زن تم ہو میں نہیں۔ زمرد 'سوری 'کہہ کر چل پڑا____ پھر ٹھہر کر بولا میں نے سوچا کہ تمہیں حقیقت سے آگاہ کردوں۔ سرخاب" مسٹر علی فیس بک پر تم زمرد کے دوست تھے اب زمرد بن کر آگئے ہو،رہی حقیقت اگر ایسا کچھ ہوتا تو پھوپھو مجھے بتا دیتی۔ویسے بھی تم جیسے جھوٹے لوگ اپنی حقیقت چھپانے والے کسی کو کیا حقیقت بتائیں گے۔زمرد اسکی طرف دیکھتا رہا جیسے کہ پتھر کا ہوگیا ہو۔سرخاب نے کہا نکلو!پانی ادھر ہے" انگلی سے کچن کی طرف اشارہ کیا اور درواز کھولتے ہوئے بولی حیرت ہے پھوپھو نے بھی نہیں بتایا کہ تم آرہے ہو۔انکا فون بھی آف جارہا ہے اور لینڈ لائن کوئی پک نہیں کر رہا۔ علی آپ جا سکتے ہو سرخاب کافی اونچی آواز میں بولی مگروہ چپ کا روزہ رکھے اپنے اردگر سے بے نیاز اسکی طرف محو تھا (تم بولتی رہو میں سنتا رہوں کاش یہ لمحہ تھم جائے ) آہ بھری اور بولا 'سرخاب' سرخاب کا منہ دوسری طرف تھا آنکھیں بند کیں مٹھی کو زور سے دبایا اور خاموش رہی۔ کچھ دیر بعد دروازہ بند ہونے کی آواز کان میں پڑی تو اسکی آنکھیں کھل گئیں۔بھاگ کر بیڈ پر لیٹ گئی تکیے کے نیچھے سر دے کر سو گئی۔
<----->
سب ناشتے میں مصروف تھے۔ سرخاب کمرے سے نکلی سیدھے باہر کا رخ کر لیا۔ سکینہ:سرخاب بیٹا اتنی صبح صبح کہاں؟ چلتے ہوئے مما یونیورسٹی جارہی ہوں ۔
سکینہ:مگر فائنل تو کب کے ہو چکے۔ وہ رک کر بولی مما ایک کتاب کا____ اس ہفتے viva ہے۔
سکینہ:بیٹا ناشتہ تو کر لو۔
سرخاب:مما پوائنٹ نکل جائے گی۔ اللہ حافظ! سکینہ بیٹا اپنی گاڑی لے جانا____دیکھو تو باپ کی طرح یہ بھی میری ہر بات سنی ان سنی کر دیتے۔
عباس:سکینہ بیگم ناشتہ کریں___آتی ہے تو سمجھا دینا ہمارے ہاں بھوکے پیٹ گھر سے نکلنے کا رواج نہیں ہے۔
شبنم کرسی دھکیلتے ہوئے عباس بھائی رواج بنانے سے بنتے ہیں۔ کیوں سکینہ بھابی؟ عباس کے چہرے پر خفت تھی اس نے آدھ کھایا ٹوسٹ پلیٹ میں رکھ دیا۔ شبنم فون کان کو لگا کر وہاں سے کسک گئی۔
سکینہ اپنا دھیان ناشتے پر مرکوز کیے ہوئے تھی جیسے اسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ زمرد اٹھا تو جھٹ سے بولی بیٹا تم کدھر چل دیے۔
زمرد:ممانی جان آفس کا چکر لگانا ہے ریحان کل شام سے کالزکر رہا ہے۔
سکینہ:اچھا بیٹا____رکو میں تمہاری گاڑی کی چابی لادوں۔ زمرد"بہت شکریہ ممانی جان!
عباس:بیٹا دھیان سے گاڑی چلانا۔۔۔۔وہ دراصل پاکستان اور باہر ذرا دائیں بائیں کا فرق ہے۔
زمرد: جی ماموں جان میں ہینڈل کرلوں گا۔ سکینہ چابی زمرد کو تھماتے ہوئے "یہ لو بیٹا " ماتھے پر بوسہ لے کر بیٹا دھیان سے جانا_____زمرد نے اسکا ہاتھ تھاما اوکے ممانی جان! رجب"ماں تھوڑی سی دعائیں میرے لیے رکھ لیں " جب سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے تو بولا "پیپر ہے نا۔
عباس"تم سدھر نہیں سکتے" زمرد "سکینہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر، جیلس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کزن۔
رجب "بھائی اب آپ یہ تو نہ کریں۔ سکینہ اور عباس نے چہرے پھولوں کی طرح کھلے ہوئے تھے
زمرد:بہت کنجوس ہو ویسے رجب تم____میں ذرا فائل لےآوں۔ وہ اوپر چلا گیا ۔
عباس: رجب چلو میں تمہیں سنٹر چھوڑ دوں گا۔
رجب:نہیں بابا حسن آتا ہو گا___اتنے میں ہارن کی آواز گھونجنے لگی"لیں بابا وہ آگیا۔ اللہ حافظ! عباس "اللہ حافظ"
سکینہ اسکے ساتھ چلتے چلتے دروازے تک گئی سر پر بوسہ لیا فی امان اللہ! باہر گیا تو گارڈ نے ایک پیلے رنگ کا کارڈ دیا "یہ سرخاب بی بی نے دیا ۔ رجب "کارڈ پکڑ کر شکریہ
صابر چچا____کارڈ پر 'بیسٹ آف لک:)' لکھا تھا۔ میری پیاری بہن!
<----->
زمرد کمرے سے نکلا تو سرگوشی سنی____"ٹھنڈی کر کے کھاو شاداب" شاداب کا نام سن کر ادھر کو چل پڑا جدھر سے آواز آئی۔
شبنم:دیکھو آج اچھا موقع ہے اس میں روبینہ کی جان ہے۔
ہاں وہ تو ٹھیک ہے اگر ثاقب کو ذرا سی بھنک بھی پڑ گئی۔ انجام جانتے ہو؟' میری گھر بدری' پھر یہ تمہارے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی!
شاداب " سول کپڑوں میں___پاس کھڑے فضلو کو آنکھ سے جانے کا اشارہ کیا) انہیں سیکیورٹی دی جا رہی ہے۔
شبنم: کیا میری ریکی بھی ہو رہی ھے۔
شاداب :نہیں نہیں ابھی تم پر کسی کو شک نہیں ہے۔عباس ہاوس کے ایک ایک فرد کی خفیہ پروٹیکشن ہو رہی ہے تبہی تو میں اپنی جان سے مل نہیں رہا۔
شبنم:بس شاداب بیس سال سے تم کسی اور کو پانے کے لیے تڑپ رہے ہو۔ اب مجھے سمجھ آئی کیوں دھوکے سے یہاں بھیجا۔ تم اسکے لیے یہ جان وان سنبھال کے رکھو،بے وفا انسان!
زمرد: جھنجھلا کر پیچھے کو چل پڑا۔ اسکے ہاتھ میں سفید رنگ کی فائل تھی۔
شاداب" دیکھو شبنم تم میری پہلی محبت ہو____ایسی باتیں کر کے دل نہ دکھایا کرو,
شبنم:بس شاداب کام کی بات کیا کرو میرے ساتھ ____اب رکھتی ہوں فون۔
شاداب"سنو_____تمہارے" اتنے میں فضلو بھاگا آیا سر سر____فضلو کو غصے سے گھورتے ہوئے۔۔۔۔ اچھا پھر کال بیک کرتا ہوں موبائل ٹیبل پر رکھا دیا۔
کتنی دفعہ بتایا ہے____فضلو فون آگے کرتے ہوئے سر یہ۔ شاداب فون پر چیل کی طرح جھپٹا___
فضلو صحت سے ذرا تہی دامن ہی تھا ٹیبل پر گرتے گرتے بچا۔سوری سر___ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
شاداب ہیلو ارے خان صاحب زھے نصیب زھے نصیب
اکبر خان: کیا حال ہے استاد جی۔
شاداب:جناب شرمندہ تو نا کیا کریں اس ناچیز کو۔
اکبر خان: چٹھی تو مل گئی تھی؟
شاداب: جی جناب____بس حکم کا منتظر ہے بندہ۔
اکبر:استاد جی مرغا فرئی کر دیں۔
شاداب : جناب آپ کبھی لاہور آئیں تو ہمیں خدمت کا موقع ضرور دیجئے گا۔
اکبر: کیوں نہیں! بس خوشخبری ملتے ہی حاضر ہوجائیں گے۔
شاداب بس پھر ٹکٹ بک کرا لیں جناب۔ فون پیچھے کھڑے فضلو کو دے دیا۔ٹیبل پر پڑا لفافہ اٹھا کر اسکے اندر سے تصویر نکالی فضلو یہ سلمان کو دے آو ۔۔۔۔جب وہ چل پڑا تو آواز دی وہ رجی والا کچھ بنا؟ فضلو رک کر "ٹیرھی ہے ذرا مگر آپ فکر مند مت ہوں؛کام ہوجائے گا" شاداب ٹانگ پر ٹانگ دھر کر بیٹھ گیا۔
<----->
ریحان: اسلام علیکم سر
زمرد:وعلیکم سلام کیسے ہو؟
ریحان : کرم ہے اللہ پاک کا۔
زمرد: اچھا لگا۔۔۔۔۔بے حد خوشی ہوئی میری سوچ سے اچھا آرگنائز کیا ہے آفس۔ کرسی گھما کر دائیں جانب لگی شیشے کی دیوار سے باہر جانکا
ریحان:شکریہ سر
زمرد"نو سر کال می علی" اور ورکرز کا تو ہوگیا مگر ایڈمنسٹریشن بھی چاہیے۔
ریحان:جی سر_____سوری میں نے کچھ لوگ شاٹ لسٹ کیے ہیں۔ بس آپ کا ویٹ تھا۔ کل ہی انٹرویو کے لیے بلاوا لیتے ہیں۔
زمرد:شاباش۔۔۔۔۔کل 11 بجے ڈن کردو۔ اچھا مجھے کام ہے میں نکلتا ہوں ۔
ریحان :اوکے
زمرد:ذرا سا رک کر وہ تمہیں کام بولا تھا۔
ریحان"او ماتھے پر خارش کی آئی ایم سوری سر" زمرد نے اسے گھورا۔وہ گلہ کھنکار کے بولا علی میں آفس کی سیٹلمنٹ میں آپ کو بتانا بھول گیا۔ ایک سفید رنگ کا وزٹینگ کارڈ دراز سے نکالا یہ لیں۔ زمرد"کارڈ پکڑ کر اسکی طرف دیکھا گھماتے ہوئے صرف نمبر، نام اور کنٹری بس ایڈرس بھی نہیں ہے یہ کیسا وزیٹنگ کارڈ؟
ریحان: وہ کہتا میرا پتہ میرا ملک ہے۔
زمرد: سٹرینج___
ریحان :علی آپ کو اسے سب سچ بتانا ہوگا۔اگر بات اسکے دل کو لگی تو دل و جان سے مدد کرے گا۔
زمرد: ھمھم ______مسٹر دو نمبر" چلو پھر ملتے ہیں۔
<<------>>

سرخاب گھاس پر بیٹھی سامنے تھوڑی دور ٹھہلتے ایک کپل کو دیکھ رہی تھی۔ دوپ سے منہ کو بچانے کے لیے اپنے اور سورج کے درمیان کتاب حائل کر رکھی تھی۔
پیچھے سے کسی نے زور سے دھکیلا تو یکدم ڈر گئی۔ پیچھے مڑ کر "اف! سارہ کی بچی ڈرا دیا مجھے " کتاب اسے دے ماری۔
سارہ: کیا سین ہے پھر؟
سرخاب: پتہ نہیں____اسکا منہ لال ہوگیا ۔
سارہ: ارے یار میری دھڑکن دو سو بیس پہ پہنچ گئی ہے۔
سرخاب اسکے گلے لگ گئی۔
سارہ: سرخاب زمرد بہت برا ہے کیا؟دیکھو کہانیوں میں آئیڈیلز خود بنائے جاتے وہ حقیقت سے مبرا کردار ہوتے ہیں ۔حقیقی زندگی ان ناولز کی دنیا سے بہت مختلف ہوتی ہے۔دیکھو سب ہماری طرف دیکھ رہے___رونا بند کرو۔
سرخاب "آنکھیں پونجھیں_____پتا نہیں وہ کیسا ہوگا۔
سارہ:کیا مطلب؟ اسے آئے ہوئے تقریبا اٹھائیس گھنٹے ہونے کو ہیں۔ مجھے لگتا تمہارے سر سے علی والا بھوت اترا نہیں!
سرخاب:میں نے بلاک کردیا تھا اور زمرد کے علاوہ سب کچھ بھلانا چاہا تھا مگر____!
سارہ"سرخاب مگر کیا؟
سرخاب :علی زمرد بن کر ہمارے گھر تک آگیا۔
سارہ: کیا کہا؟ یہ تمہارا ناول نہیں۔سرخاب:وہ زمرد کا دوست بن کر میری زندگی میں آیا،دل کو اچھا لگا____ پھر یکطرفہ محبت جسے دل کے کسی گوشے میں دفن کر چکی تھی اب وہ پھر سے پنپنے لگی ہے۔
سارہ: مطلب تم اب علی کا سوچ رہی ہو۔تم باقاعدہ زمرد کے نکاح میں ہو۔
سرخاب: تم فکر نہ کرو ہم مشرقی لڑکیوں پر جو عزت و غیرت کا خوبصورت خول چڑھا ہوتا ہے وہ ہر جزبے کے آگے ڈھال بن جاتا ہے مگر یہاں تو شریعت کے پہرے ہیں۔
سارہ:آج کل مشرقی لڑکیاں سب سے زیادہ بھاگتی مغربیوں کو ضرورت نہیں پڑتی شاید اس لیے سرخاب نے اسکی بات پر دھیان نا دیا وہ گم سم بیٹھی تھی۔
سارہ : ویسے تو علی کی شخصیت کافی پر کشش ہے یہ بھی تو سوچو ہوسکتا ہے زمرد اس سے بھی ہینڈسم ہو۔
سرخاب: یہ ضابطے تو دلگی والوں کے لیے ہیں اگر عشق کا مدع حسن ہوتا تو کوئی ایک معمولی شکل و صورت والی سانولی لڑکی کے لیے مجنوں نا بنتا۔
سارہ:تمہیں یاد ہے نا تمہارے نکاح والے دن؛ تم تب انکار کرتی مولوی صاحب نے سب کے سامنے پوچھا تھا مگر تم تو ایسے چپ تھی____ جیسے زبان کو قفل لگا ہو۔
سرخاب: پتہ نہیں کیوں جب پتہ نہیں ہوتا مرضی کیا ہے تب مرضی پوچھی جاتی ہے۔ اسکی آنکھ سے آنسو ٹپکا____ وہ سوچوں میں ڈوب گئی
مما مجھے نہیں کرنا یہ نکاح____سکینہ اسکے پاس بیٹھ گئی بیٹا یہ تمہاری پھو پھو اور بابا کا فیصلہ ہے۔ گڑیا کے اغواء کے بعد تمہارے بابا بہت ڈر گئے ہیں ۔
سرخاب"روتے ہوئے مما اور آپ کا فیصلہ؟ اسکی آنکھیں نم تھیں۔
سکینہ نے منہ دوسری طرف پھیرا اور بولی بیٹا تمہیں یاد ہے تمہارے پھوپھا مرحوم بھی یہی چاہتے تھے کہ تمہیں اپنی بیٹی بنائیں۔
سرخاب: مما میں کل بھی انکی بیٹی تھی آج بھی ہوں۔ مگر میں زمرد سے شادی نہیں کر سکتی۔بچپن میں ہماری دوستی تھی بس صرف کزن ہونے کی وجہ سے پھر پھوپھو امریکا شفٹ ہو گئیں پانچ سال گزر چکے کبھی اسنے بات تک نہیں کی۔ ہمارے درمیان دو مختلف معاشروں کی اونچی دیواریں حائل ہو چکیں ہیں۔ مما پلیز ویسے بھی میں پڑھنا چاہتی ہوں میرا ذہن ڈیوائیڈ نہ کریں۔ ابھی میٹرک کا رزلٹ بھی نہیں آیا۔
عباس روم میں داخل ہوا_____سرخاب مولوی صاحب آنے لگے ہیں۔
سرخاب: بابا مجھے____اسکی بات کاٹتے ہوئےعباس"بیٹا تمہارا باپ بہت مجبور ہے لاج رکھ لینا"
سارہ: سرخاب کو ہلاتے ہوئے کہاں گم ہو_____ اس نے آنسو صاف کیا_____عجیب دنیا ہے ہر اک انسان مجبور ہے کوئی دل کے ہاتھوں کوئی زمانے کے ہاتھوں۔
سارہ :مجھے شدید رونا آرہا ہے تم نے تو جذبات کے سمندر میں ڈوبو دیا۔
سرخاب: یہ بناوٹی دکھی چہرہ کامیڈی سیریل میں اچھا لگتا ہے___اپنی کتاب سے اسکی ٹھوڑی کو مس کیا اور مسکرانے لگی۔
سارہ اسکے کندھے پر ٹھوڑی ٹکا کر سامنے انگلی پوائنٹ کی آو جانو کپل کی کلاس لیں۔
سرخاب :آج دل نہیں چاہ رہا۔
سارہ:بازو سے کھینچتے ہوئے ابھی کرے گا۔ سرخاب "سارہ چھوڑو میں چل رہی ہوں۔
وہ دونوں کپل کے پاس پہنچ کر کھڑی ہوں گئیں۔ جو کافی دیر سے فونٹین کے ارد گرد چکر لگا رہے تھے۔ سارہ بھاگ کر انکے قریب دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔سارہ آگے بڑھ کر ان سے ایک گز دور کھڑی ہو گئی۔دونوں نے ٹائٹ فیٹنگ پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔لڑکے کی شرٹ کے تین بٹن کھلے تھے گلے میں کالے بڑے بڑے موتیوں والا گردن سے تھوڑا ڈھیلا ہار پہنا رکھا تھا۔ سارہ کی طرف دیکھ کر گردن سے لے کر دھڑ تک ہلا پیچھے کی طرف ہاتھ کر کے بولا جانو ہم ادھر چلتے ہیں۔
جب وہ چل دیے تو سارہ نے زور دار آواز دی "جاو تم میری کونسا ٹانگیں نہیں ہیں"جب لڑکی پیچھے مڑنے لگی تو سارہ نے کتاب کھول کر "کیا ڈائیلاگ ہے اسنے سرخاب کو ہاتھ سے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ سرخاب نے ہنستے ہوئے دونوں ہاتھوں سے انکار کر دیا بس کرو اب۔ لڑکے نے لڑکی کاہاتھ پکڑ کر "جانو چلو" جب وہ دوبارہ چل پڑے تو پھر دبے پاوں انکے پیچھے ہو لی۔ لڑکا "میری مما بھی بیسٹ برانڈ کی چیزیں استعمال کرتی" لڑکی "زین ہمارے گھر میں بھی ہر چیز برانڈڈ ہی آتی ہے" ویسے گفٹ بہت اچھا تھا" سارہ جو کہ گھٹنوں میں خم ڈالے انکے پیچھے چل رہی تھی سرخاب اسے دیکھ کر بانچھیں پھاڑ کر ہنسنے لگی اور تالاب کی دیوار پر بیٹھ گئی۔ سارہ اف بہت ہی بد ذوق ہیں میری تو بس ہو گئ۔ زور سے بولی تو وہ دونوں پیچھے مڑ کر دیکھنے لگے سارہ کھلی کتاب پر نظریں جمائے انکے نزدیک سے آگے نکل گئی۔
لڑکا:دفعہ کرو جانو کندھے کو انچا نیچا کیا چلو کینٹین چلتے ہیں۔ سرخاب اسکے پاس آئی آج پھر بھگا دیا بیچاروں کو۔وہ سائیڈ پر لگی زنجیروں کی باڑ پھلانگ کر گھاس والی گراونڈ میں چلی گئی۔ آو سرخاب اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا۔ اب موڈ اور خراب کرلیا جاو تمہارے لیے پنگا لیا اور تم ہو کہ پھر وہی حال۔ سرخاب :تم نے بہت برا کیا انکو حال دل بھی نہ بیان کرنے دیا۔ آہ لگے گی تجھے۔
سارہ:ماتھے پر ہاتھ رکھا "لگ ہی نہ جائے۔تمہیں پتہ وہ کیا بیان کررہے تھے۔
سرخاب: توبہ کرو انکی باتیں سنتی رہی ؟
سارہ: ہاں خودبخود ہی انکی باتیں کانوں تک پہنچ گئیں۔ تمہیں پتہ ہے وہ پاکستان کے مہنگے مہنگے برانڈز کو ڈسکس کر رہے تھے۔
سرخاب:کیا وہ وہاں اکیلے برانڈز کی بات کر رہے تھے۔ سرخاب دل کھول کر ہنسی۔ چلو تمہیں سکون تو مل گیا پورے چار سال سے یہی پتہ کرنا چاہ رہی تھی کہ یہ دونوں گھنٹوں کونسا رومینس لڑاتے ہیں۔
سارہ:یونیورسٹی لائف کا آخری مدع بھی سلجھ ہی گیا۔ آو کینٹین چلتے ہیں۔
سرخاب :اب کوئی شرارت تو نہیں سوجھی۔
سارہ:نہیں یار آو پیٹ میں چوہے ڈور رہے ہیں۔



 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 115 Print Article Print
About the Author: Saima Munir

Read More Articles by Saima Munir: 5 Articles with 838 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: