کیا لوگ اثر انداز ہوتے ہیں؟؟؟

(Munazza Saher, Karachi)

کیا ہمارے اردگرد کے لوگوں کا ہم پر اثر ہو رہا ہوتا ہے؟ بہت کم یہ سوال ہمارے دماغی راستوں سے گزرتا ہے۔ اردگرد کے لوگ کون؟ سب سے پہلے ہماری فیملی، ہمارے رشتے دار، ہمارے دوست، اور وہ لوگ بھی جن سے روز مرہ کی روٹین میں ملاقات ہوتی ہے۔ اچھا اب سوال یہ بھی ہے کہ جو اثر ہورہا ہے أس بارے میں ہمیں پتا بھی ہے؟وہ منفی ہے یا مثبت عموماً ایسا سوچا نہیں جاتا۔کم ہی لوگ اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ اچھا تو بات ہورہی تھی کہ اثر ہوتا ہے لوگوں کا یا أن کے ریوں کا؟ بلکل اثر ہوتا ہے نا صرف لوگوں کا بلکہ ماحول کا اور بھی چیزوں کا۔ نومبر کے اوائلی دنوں کی بات ہے یونیورسٹی میں، میں، اور پانچ چھ لڑکیاں، دوستیں ہی کہہ لیں ایک ڈیپارٹمنٹ ویزٹ کرنے گۓ۔ تو کافی دیر ہوگئی،اس دن ہماری کلاس تھی اور ہم پندرہ منٹ لیٹ تھے۔ ڈیپارٹمنٹ سے جلدی جلدی نکلتے ہوئے سب آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ بھئ اب تاخیر کی وجہ کیا بتائی جاۓ سر کو۔ سب نے بہت مہارت دکھاتے ہوئے تاخیر کی وجوہات بتائی، ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹ، میں بھی پیچھے کیسے رہتی میں نے بھی بھرپور طریقے سے اپنا حصہ ڈالا۔ اب سلیکشن ہو رہی تھی کہ کونسا جھوٹ بولا جاۓ، کچھ ہی دیر میں سب نے ایک جھوٹ پر اکتفاء کیا، کلاس کے لیے جانے ہی لگے تھے کہ ایک لڑکی جو کافی دیر سے چپ تھی خاموشی کو توڑتے ہوئے بولی "اتنی سی بات کے لیے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے" ایک جھوٹ بولیں گے پھر سر کچھ سوال کرلیں گے پھر أس کے جواب میں ایک اور جھوٹ اور پھر جھوٹ کی ایک لمبی فہرست تیار۔ "ارے سچ بول لیتے ہیں کچھ بھی نہیں ہوگا" زیادہ سے زیادہ ڈانٹ پڑ سکتی ہے لیکن کوئی بات نہیں، اس سے زیادہ تو کچھ نہیں ہوگا نا تو پھر اتنی سی بات کے لیے جھوٹ کیوں؟ سب خاموشی سے أسے دیکھنے لگے۔ اور پھر چپ چاپ کلاس لینے جانے لگے۔ کلاس میں پہنچے تو سر نے کوئی سوال ہی نہیں کیا۔ عجیب اتفاق تھا۔ وہاں کھڑی کسی لڑکی نے اس بات پر غور کیا ہو یا نہیں، یا کسی نے اپنے ضمیر سے سوال کیا ہو یا نہیں لیکن میں نے غور کیا، فوراً سے ایک سوچ نے دماغ کے ارد گرد اپنا گھیرا کرلیا، "ایسے بھی لوگ ہیں دنیا میں جو اتنی سی بات کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتے" مطلب ایک نارمل سی بات تھی یہ میرے لیے کہ کلاس میں لیٹ ہی تو ہوۓ ہیں بول دیں گے کچھ بھی۔ "جب اتنی سی بات کے لیے جھوٹ نہیں بولتے تو پھر بڑی سی بڑی بات کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتے ہونگے" ان سوچوں نے مجھے مجبور کر دیا کہ زرا میں اپنے ضمیر سے تو ایک ملاقات کرلوں، اندر کا سین ہے کیا آخر۔ اندازہ ہوا کہ میں تو کتنے جھوٹ آرام سے بول دیتی ہوں، سوچے سمجھے بغیر۔ لیکن أس انسان کا جو رویہ تھا نا اس بات پر مجھے مجبور کر رہا تھا "میں بھی تو کوشش کر کے دیکھوں" انسان تو ہم دونوں ہی ہیں عقل شعور أس کے پاس بھی ہے میرے پاس بھی ہے، اب اگر وہ اتنی سی بات پر جھوٹ نہیں بول سکتی تو میں بھی کیوں نہیں؟ أس دن کے بعد سے تھوڑی احتیاط شروع کردی، کسی بات پر جھوٹ بولنے لگتی تو چپ ہو جاتی تھی،پھر آہستہ آہستہ سچ ہی بولنے کی کوشش شروع کردی، اب صورتحال یہ ہے کہ جھوٹ بولنا قدرے کم ہوچکا ہے۔ بتانے کا مقصد آپ کو تب ہی سمجھ آ سکتا ہے جب آپ سمجھیں۔ جب آپ تھوڑا غور کریں۔ ایسے اور بھی بہت سے قصے ہیں۔ فی الحال اگر ہم اسی پر تھوڑا غور کریں تو شاید اوپر کیے گئے سوال کا جواب ہم حاصل کرلیں۔ اب أس لڑکی کا جو رویہ تھا أسے آپ کس طرح سے دیکھتے ہیں، منفی اور مثبت دونوں اثرات ہیں اس کے۔ اب آپ کس پر زیادہ غور کرتے ہیں، اور غور کرتے بھی ہیں یا نہیں تو یہ آپ پر منحصر ہے۔ یہ تو بس ایک چھوٹا سا رویہ تھا جو اتنا اثر کر گیا۔ کیوں نا ہم ہی وہ لوگ بن جائیں جو لوگوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکیں۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 109 Print Article Print
About the Author: Munazza Saher

Read More Articles by Munazza Saher: 2 Articles with 150 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: