سیز فائر لائن توڑنے کی تیاریاں

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 آزاد کشمیر کے ہزاروں افرادنے سیزفائر لائن توڑنے کے لئے دھرنا موخر کر دیا ہے۔ یہ لوگ گزشتہ 11روز سے مظفر آباد سرینگر شاہراہ پر واقع چکوٹھی سیز فائر لائن کے قریب جسکول کے مقام پر دھرنے پر بیٹھے تھے۔لبریشن فرنٹ کی تحریک اور انتظام میں آزاد کشمیر بھر سے عوام یہاں پہنچے تھے۔ جو سیزفائر لائن توڑ کر ادویات، خوراک، بچوں کا دودھ سمیت امدادی سامان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے محصور آبادی تک پہنچانا چاہتے تھے۔ مقبوضہ کشمیر کی تقریباً ایک کروڑ آبادی کو بھارت نے 74دنوں سے قید کر رکھا ہے۔انہیں ریاستی دہشتگردی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی قابض فورسز کے مظالم خفیہ رکھنے کے لئے کشمیریوں کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ کاٹ دیا گیا ہے۔ تمام کاروبار زندگی بند ہے۔ تعلیمی اور عوامی سزرگرمیاں معطل ہیں۔ دفعہ 144کی آڑ میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ پاکستان کی تحریک پر امن پسند دنیا بھارت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ مگر بھارت نے دنیا کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ بھارتی مظالم نے آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا میں موجود کشمیریوں اور منقسم خاندانوں اور ان کے ہمدردوں کو سخت بے چین کر دیا ہے۔ بھارت کی دہشتگردی کے خلاف آزاد کشمیر ، پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے کئے گئے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی سفارتی اور سیاسی طور پر بھر پور کوشش کی۔مگر اس کے باوجود کشمیریوں کی شہری آزادیاں بحال نہ ہو سکیں۔ مقبوضہ ریاست کا لاک ڈاوئن جاری رہا۔ یہاں تک کہ بھارتی میڈیا پر سنسر لگا دیا گیا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا بھی بے بس ہو گئی۔ عدلیہ پر بھارتی حکومت کا دباؤ یا جانبداری کا یہ عالم ہے کہ بھارتی عدلیہ کشمیریوں کو عدل و انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بھارتی عدلیہ کشمیریوں پر پابندیوں کے سرکاری احکامات طلب کر رہی ہے۔ مگر حکام ریارڈ فراہم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کبھی زمینی حقائق اور کبھی قومی سلامتی کے نام پر کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی جاری رکھنے کی ڈھیل دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں نمائش کے طور پر کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔ آئیندہ سماعت 25اکتوبر کو ہو گی۔ مگر کشمیریوں کو اب تک کوئی بھی ابتدائی ریلیف تک نہیں دیا گیا۔ سات ہفتے بھارتی عدلیہ نے یوں ہی گزار دیئے۔ مگر بھارتی فورسز کے مظالم پر روک نہ لگائی جا سکی۔ ایسے میں کشمیریوں کی پریشانی اور تشویش کا بڑھنا اور بھارت کے خلاف غصہ قدرتی بات ہے۔ کشمیری بھارت کی قید میں اپنے خاندانوں کے بارے میں بہت متفکر اور اضطراب میں ہیں۔ ان کے سامنے جنگ بندی لائن توڑنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ دنیا سے اپیلیں اور مذمتی قراردادوں ، مظاہروں سے بھارت پر کیا اثر پڑا۔

گو کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی کشمیریوں سے جنگ بندی لائن ان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر تک نہ توڑنے کی اپیل کی تھی۔ اقوام متحدہ سے واپسی پر انھوں نے بھی سیزفائر لائن توڑنے سے متعلق خاموشی اختیار کر لی۔ اسی وجہ سے لبریشن فرنٹ میدان میں آئی۔ اس نے عوام م کو متحرک کیا۔ ہزاروں کشمیری مرد ، خواتین، بچے سیز فائر لائن کی جانب نکل پڑے۔ انہیں آزاد کشمیر حکومت نے سیز فائر لائن سے دور روک لیا۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ سیز فائر لائن عبور کرنے پر بھارتی فوج نہتے شہریوں پر فائرنگ کر دے گی۔ کیوں کہ بھارتی فوج آئے روز آزاد کشمیر میں آبادی پر گولہ باری کر رہی ہے۔ لا تعداد غیر مسلح اور نہتے کشمیری شہید کر دیئے گئے ہیں۔ اس لئے سیز فائر لائن کی جانب بڑھنے سے روکنے پر لوگ سڑک پر دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔ حکومت نے عدم تشدد کی پالیسی اپنائی۔ مارچ کے شرکاء بھی پر امن رہے۔ اس لئے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ یہ رواداری اور سوجھ بوجھ پر مبنی بہترین حکمت عملی تھی۔ جس میں حکومت اور لبریشن فرنٹ نے اپنا کردار ادا کیا۔ عوام 11روز تک دھرنے پر بیٹھے رہے۔ جس سے دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول ہوئی۔ مارچ کے شرکاء بھی آگے بڑھنے کے لئے کفن باندھ کر نکلے تھے۔ وہ کسی بھی قیمت پر سیز فائر لائن توڑنا چاہتے تھے۔ اس لائن کو عبور کرنے کا انہیں حق حاصل ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت کسی کو اپنی سرزمین پر آزادی سے سفر کرنے سے نہیں روک سکتی ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں کو اس لائن کو پار کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ تا ہم اقوام متھدہ کے فوجی مبصرین کے ساتھ وزیراعظم آزاد کشمیر کی قیادت میں حکومتی وفد اور لبریشن فرنٹ کے زعماء نے بات چیت کی۔ یہ فوجی مبصرین سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کے بارے میں یو این سیکریٹری جنرل کو رپورٹ کرتے ہیں۔ یہی ان کا منڈیٹ ہے۔ چونکہ معاملہ سیز فائر لائن توڑنے کا تھا ، اس لئے مظفر آباد میں یو این فوجی مبصرین کے دفتر میں مبصر مشن کیا آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور لبریشن فرنٹ کے قائدین سے مذاکرات ہوئے۔ یو این مبصر مشن کے زریعے یو این سیکریٹری جنرل کے نام مراسلہ ارسال کیا گیا۔ اس کے بعد سیز فائر لائن توڑنے کے لئے عوامی مارچ کو 6ماہ ت روک دیا گیا۔ 15 اپریل2020تک اقوام متحدہ سے مسلہ کشمیر کو یو این قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی اپیل کی گئی۔ ڈیڈ لائن مکمل ہونے پر مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں مقبوضہ ریاست کے دونوں اطراف سے کشمیریوں کی طرف سے جنگ بندی لائن توڑنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے لئے ہمہ گیر مہم اور منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اے پی سی بلانے پر بھی غور ہو رہا ہے ۔ جس میں کشمیری مفتفقہ طور پر کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ حکومت اور مارچ کے شرکاء کے پاس خون خرابے سے بچنے کا شاید یہی ایک راستہ تھا۔ تا ہم جب یو این سلامتی کونسل کشمیریوں کو سیز فائر لائن عبور کرنے سے نہیں روکتی تو کوئی حکومت سیز فائر لائن کو مقدس کیوں سمجھتی ہے۔ بھارت اس لائن کو انٹرنیشنل بارڈر کا درجہ دینے کے لئے کشمیریوں کو اسے پار کرنے کی پابندی لگا رہا ہے۔ بھارت کی رکاوٹ غیر قانونی ہے۔ جو کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں ، عالمی پروٹوکولز کی خلاف ورزی ہے۔ جن میں شہریوں کو اپنے علاقوں میں ّزادی سے سفر اور تجارت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اس بارے میں رجوع کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔پاکستان اگر سلامتی کونسل میں اپنا موقف تیاری کے ساتھ اور رکن ممالک کو بھرپور اعتماد میں لے کر پیش کرے توکشمیریوں کے لئے سیز فائر لائن پر آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لئے ماحول سازگار بن سکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 251 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 460 Articles with 141060 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: