درد جدائی ۔۔۔۔دسویں قسط

(Shafaq kazmi, Karachi)
ایک ایسی بچی کی کہانی جس کو سب نے تنہا کردیا ۔۔۔ سب کے ہوتے ہوۓ بھی وہ بہت اکیلے تھی کوئی نہیں تھا اس کا ۔۔۔۔۔

درد جدائی .۔۔۔ دسویں قسط ۔۔۔مصنفہ شفق کاظمی

شاہ زین نے کال نہیں اٹھائی اس نے نمبر بند کردیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عدن رو رہی تھی بہت زیادہ گھر میں کوئی تھا ہی نہیں جو اس کی سنے ۔۔
تھوڑی دیر بعد بابا آگئے عدن کو پیار کیا ۔۔۔ باپ اور بیٹی کے دل میں خدا نے ایک الگ ہی محبت رکھی ہے۔۔۔

کیا ہوا عدن بیٹا مجھے ساری بات بتاؤ ۔۔۔۔

بابا آئ ایم سوری بابا میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔ عدن کا رو رو کر برا حال تھا بولا ہی نہیں جا رہا تھا ۔۔۔

عدن تم رونا تو بند کرو میں اپنی بیٹی کو جانتا ہوں وہ کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتی ۔۔اس کو اپنے بابا کی ماما کی عزت کی بہت پرواہ ہے عدن تو بابا کا مان ہے نہ بس چپ ہو جاؤ بیٹا ۔۔۔ بابا نے عدن کو سینے سے لگا لیا .۔۔ عدن کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگے ۔۔۔۔

عدن بابا کے سینے پر سر رکھ کر روۓ جا رہی تھی بابا کی قمیض عدن کے آنسوں سے گیلی ہو گئی ۔۔

بس بیٹا اب چپ ہو جاؤ ۔۔۔

بابا میں سچ کہ رہی ہوں میں نہیں جانتی اس کو پتہ نہیں کون ہے عدن نے ساری بات بابا کو بتا دی ۔۔۔

بیٹا حالات خراب ہیں نہ بس آٸندہ کسی کو رپلائے نہ کرنا ۔
بابا نے عدن پر بھروسہ تو کرلیا تھا پر جو مان ٹوٹا تھا اس کا اس نے عدن کو ۔بہت تنہا بہت اکیلا کر دیا تھا انسان وہ وقت کبھی نہیں بھولتا جب وہ اپنے لئے تنہا لڑ رہا ہوتا اور اپنے ہی اس کے خلاف ہوتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما اس لڑکے نے بتایا تھا کے وہ عدن کا دوست ہے عدن اس کو میسج کیا کرتی تھی ۔۔۔۔ میرب ماما کے ساتھ کھانا کہ رہی رہی اور بتا بھی رہی تھی ۔۔۔۔۔

پتہ نہیں عدن نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔

ماما اس لڑکے کا میسج آیا زرنش کے پاس اس نے مجھے بتایا کے کیا کروں میں نے کہا کے بابا کو بتا دو . ۔

اچھا کیا بابا کو بتا کر تم لوگوں نے

عدن باہر سے آرہی تھی اس کے قدم وہیں رک گئے ۔۔ میرب آپی آپ بھی ۔۔ آپ تو میری سب سے اچھی بہن تھیں مجھے لگتا تھا اس دنیا میں آپ سے بہتر کوئی مجھے نہیں سمجھ سکتا لیکن آپ بھی ماما بابا کو میرے خلاف کر رہیں ہیں ۔۔ مجھے لگا تھا زرنش نے بے وقوفی کی ہے اگر یہ بات آپ کو پہلے پتہ ہوتی تو آپ زرنش کو سمجھاتی اور پہلے مجھ سے پوچھتیں کے عدن کیا بات ہے لیکن آپ ؟ بھی شامل تھیں ۔۔ آپی آپ تو میرا مان نہ توڑتیں آپ کو میں ماما کی طرح سمجھتی تھی ۔۔زرنش کا دماغ گھمنے لگ گیا وہ وہیں چکرا کر گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔
جب بھری دنیا میں کوئی اپنا نہ ہو جب اپنے ہی ایسا کریں تو انسان کا بھروسہ ٹوٹ جاتا ہے وہ سب کے پاس ہو کر بھی سب سے دور ہوجاتا ہے ۔۔ بہت خاموش ہو جاتا ہے ۔۔
لیکن ہمارے معاشرے کا یہی المیہ ہے ۔۔۔بہن بیٹی پر لگے الزامات کی جانچ کیۓ بغیر ہیں ان کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے ۔۔۔لیکن مرد کچھ بھی کر لے ۔۔۔وہ تو مرد ہے ۔۔یہی کہہ کر اس کے ہر جرم پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔۔کوٸ یہ کیوں نہیں سوچتا ۔۔عزت اور غیرت کی تعریف تو ہر ایک کیلۓ یکساں ہیں ۔۔۔پھر اسقدر تضاد کیوں ۔۔عزت اور غیرت کی تعریف صرف عورت کیلۓ ہی کیوں مخصوص کر دی گٸ ہے ۔۔؟
الزامات کی تردید کرنے کے بجاۓ ۔۔۔سارے اپنے ہی تھے جو عدن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ۔۔۔عدن کی ذات کی تزلیل ہوٸ اس کی عزت نفس مجروح ہوٸ ۔۔۔اب کوٸ کچھ بھی کر لیتا ۔۔۔لیکن اس اذیت کا مداوا کرنا ناممکن تھا ۔۔۔وہ درد ناک لمحے ایک بھیانک اژدھے کی مانند عدن کو تاعمر ڈسنے کیلۓ کافی تھے ۔۔۔

عورت ذات کی عزت سے کھیلتے وقت غیرت کہاں مر جاتی ہے ان نام نہاد سطحی سوچ رکنے والے نام نہاد مردوں کی۔۔
شاہ زین یہ کیا کیا تم نے تم بدلے کی آگ میں اتنا گر سکتے ہو تم۔۔۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔شاہ زین جب ہنس ہنس کر سنا کو اپنی بےغیرتی کی داستاں سنا رہا تھا ۔۔۔تب ثنا ٕ کو شاہ زین سے پہلی دفعہ نفرت کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔اور وہ چیخ اٹھی تھی ۔۔۔

اس نے شاہ زین کو اگنور کیا تھا شاہ زین کو۔۔۔ تو سزا تو ملنی چاہئے نہ اس کو ۔۔۔شاہ زین جنونی انداز میں ہنستے ہوۓ ثنا ٕ سے کہہ رہاتھا

اوہ شٹ اپ شاہ زین ۔۔۔۔تم انتہائی گھٹیا اور گرے ہوۓ انسان ہو ۔۔۔

ثناء یہ کیا کہ رہی ہو تم ۔۔۔۔ شاہ زین کو پہلی دفعہ بات کی سنگینی کا کچھ کچھ اندازہ ہوا ۔۔


سہی کہ رہی ہوں ۔۔۔۔

بکواس بند کرو بدتمیز لڑکی تم جانتی بھی ہو تم کس سے بات کر رہی ہو ۔۔۔۔

ہاں جانتی ہوں میں اس دنیا کے انتہائی گھٹیا اور گرے ہوۓ انسان سے بات کر رہی ہوں۔۔۔ تم بتاؤ اگر تمہاری بہن کسی سے لڑکے سے بات کرے اور کوئی لڑکا اسے کرے تب ؟ کیا کرو گے تم ؟۔۔۔۔۔



بکواس بند کرو میری بہن ایسی نہیں میں اس کو جان سے مار دوں گا اور تم عدن کی سائیڈ لینا بند کرو ۔۔۔۔ منگیتر ہوں تمہارا ۔۔۔تمہارے ساتھ۔ میرا نکاح ہونے والا ہے تم اپنے ہونے والے ہسبنڈ سے ایسے بات کررہی ہو ؟



کونسا نکاح کیسا نکاح لعنت بھیجتی ہوں تم پر ارے عدن تو تم سے بات بھی نہیں کرتی تھی تم نے یہ سب صرف بدلے۔ کی آگ میں کیا کے کسی نے تمہیں اگنور کیا تو کیا کیسے ۔۔ ۔۔۔۔ میں تمہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئی مگر تم تھے کے سمجھتے ہی نہیں تھے ۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا تم اتنے گر سکتے ہو ۔۔۔ تم مرد ہو ہی نہیں شاہ زین ۔۔۔۔۔ جب تم جیسے گھٹیا مرد کسی کی ماں یا بیٹی کی طرف غلط قدم اٹھاتے ہو تو تم لوگوں کی خود ساختہ غیرت اور انا کہاں دفن ہوتی ہے ۔۔۔ غیرت کے نام پر خود کی ماں بیٹی کو قتل کرنے والے تم جیسے بے غیرت مرد کسی کی ماں بیٹی کی زندگی برباد کرنے کے گھٹیا منصوبے بناتے ہوۓ ذرا شرمندگی محسوس نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ مرد وہ ہوتا ہے جس کی موجودگی میں عورت خود کو محفوظ سمجھے ۔۔۔۔ اور میں شادی بھی ایک مرد سے ہی کروں گی یہ پکڑو اپنی رنگ آج کے بعد ہمارا کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔۔
ثنا ٕ اپنے گالوں پر بہتے آنسوٶں کو بے دردی سے مٹاتے ہوۓ ۔۔چلی گٸ ۔۔۔

(جاری ہے )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafaq kazmi

Read More Articles by Shafaq kazmi: 86 Articles with 50875 views »
Follow me on Instagram
Shafaq_Kazmi
Fb page
Shafaq kazmi-The writer
.. View More
23 Oct, 2019 Views: 910

Comments

آپ کی رائے