مولانا کا دھرنا یا کپتان کا امتحان۔۔؟

(Umar Khan Jozovi, )

نااہل اورکم ترلوگ جب حکمران بنتے ہیں توپھرایساہی ہوتاہے۔ملک میں ڈاکٹرز، تاجر، ٹیچرز، معذور افراداورغریب عوام کاپہلے ہی حکومت کے خلاف پارہ ہائی ہوچکااوپرسے مولاناکے پرامن مریدوں کواشتعال دلانے والے کام شروع کردیئے گئے ہیں۔حکمرانوں کاکام آگ پرپانی ڈال کراسے بجھاناہوتاہے بھڑکانانہیں مگرہمارے نادان اورنااہل حکمران آگ بجھانے کی بجائے تیل پرتیل ڈال کراسے مزید بھڑکانے پرتلے ہوئے ہیں ۔پرامن احتجاج اگرہرشہری کاآئینی،قانونی اورجمہوری حق ہے توپھرطاقت کے نشے میں مدہوش جمہوریت کے علمبرداروں کو دھونس دھمکیوں،غنڈہ گردی اوربدمعاشی کے ذریعے پرامن احتجاج کرنے والوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کیاضرورت۔۔؟خیبرپختونخوامیں اس پڑھے لکھے طبقے جس نے تحریک انصاف کی تبدیلی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالاکومحض ایک سال کے اندراپنے کپتان کے سامنے کس نے لاکھڑاکیا۔۔؟وہ ڈاکٹرجوسال پہلے ہسپتالوں اورکلینک پرآنے والے مریضوں کوپرچی پردوائی کے ساتھ،، پی ٹی آئی کوووٹ دو،،کی نشہ آورسیرپ تجویزکیاکرتے تھے وہ خودآج تحریک انصاف کی حکومت پرصبح سے شام تک لعن طعن کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔طاقت کے ذریعے مولانااورمولاناکے مریدوں کواحتجاج سے روکنے کے خواب اورسپنے دیکھنے والوں نے خیبرپختونخوامیں سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرزکوبھی بزورطاقت احتجاج اورہڑتال سے روکنے کاایک خواب دیکھاتھا۔اس خواب کاکیاہوا۔۔؟پوری دنیاجانتی ہے کہ خیبرپختونخوامیں حکومتی احکامات ،اقدامات اورطاقت کے بے دریع استعمال کے باوجودپچھلے ایک ماہ سے چھوٹے بڑے تمام سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرزہڑتال اوراحتجاج پرہیں ۔ڈاکٹروں کے احتجاج اورہڑتال کوطاقت کے ذریعے کچلنے کے خواب دیکھنے والے ابھی تک سرکاری ہسپتالوں کانظام چلاسکے ہیں اورنہ ہی ہسپتالوں کے یہ بنددروازے عوام کے لئے جلدکھلنے کی کوئی امید دوردورتک نظر آرہی ہے۔جولوگ لاٹھی چارج،آنسوگیس اوروحشیانہ تشددکے ذریعے چندہزارڈاکٹروں کواحتجاج اورہڑتال سے روک نہ سکے وہ مولاناکے ہزاروں اورلاکھوں مریدوں کوطاقت کے بل بوتے پرکیسے روک پائیں گے۔۔؟جس طرح زوروزبردستی گاؤں اورگھرآبادنہیں ہوتے اسی طرح بزورطاقت ملک بھی چلایا نہیں جاسکتا۔وائٹ کوٹ پہننے والے نہتے ڈاکٹروں کوپرامن احتجاج پردیکھ کر حکمران یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ لاٹھیوں اورگولیوں سے ان کورام کردیاجائے گامگران کویہ نہیں پتہ تھاکہ مکھیوں کے جتھوں میں ہاتھ ڈالنے کاانجام کیا ہوتاہے۔۔؟پیاراورمحبت کے دوبول بولنے اورچندمطالبات ماننے سے جوڈاکٹرزرام ہوسکتے تھے انہیں پکوڑے فروش،مفادپرست نہ جانے اورکیاکیاکہہ کراس قدرمشتعل کردیاگیاکہ اب وہ حکمرانوں کے کسی زبانی کلامی اعلان پریقین کرنے کے لئے تیارنہیں۔ہزاروں ڈاکٹرزانجکشن ہاتھ میں لئے حکومت کوٹیکہ لگانے کے لئے پہلے ہی تیارکھڑے ہیں اوپرسے مولاناکے لاکھوں مریدوں کوبھی اکسانے اوراشتعال دلانے کاکام شروع کردیاگیاہے۔وہ مولانافضل الرحمن جس کے کسی احتجاج ،مظاہرے،جلسے اورجلوس میں آج تک کوئی ایک گھملابھی نہیں ٹوٹا۔جس نے اپنے سیاسی مریدوں اورکارکنوں کوکبھی نفرت،توڑپھوڑاورجلاؤگھیراؤکی کوئی ترغیب نہیں دی ۔جس مولاناکے پرامن سیاسی جدوجہدکے اپنے کیا۔۔؟ بیگانے بھی نہ صرف تعریف کرتے ہیں بلکہ گواہی پرگواہی دے رہے ہیں ۔اب محض سیاسی دشمنی میں اس مولانا کے پرامن احتجاج کوروکنے کے لئے ریاستی ڈنڈااٹھاناکوئی عقلمندی ہے اورنہ ہی کوئی دانشمندی ۔۔جہاں مرغی کے انڈے سے کام چلتاہووہاں ڈنڈااستعمال کرنے کاکوئی تک نہیں بنتا۔جولوگ امن کوداؤپرلگائے۔ملک کی سالمیت سے کھیلے۔توڑپھوڑاورجلاؤگھیراؤکاراستہ اختیارکریں ایسے لوگوں کے لئے ریاست اورطاقت کاڈنڈاایک نہیں ہزارباراستعمال کیاجائے لیکن خدارااقتدارکے نشے میں ہرراہ چلتے شخص پرڈنڈے برسانے کایہ کھیل اب بندکیاجائے۔خیبرپختونخوامیں نہتے ڈاکٹروں پرڈنڈے برسانے کونہ کسی نے اچھی نظرسے دیکھااورنہ اب جے یوآئی اوردیگرسیاسی ومذہبی جماعتوں کے پرامن کارکنوں پرڈنڈے برسانے کے عمل کی کوئی تعریف وتحسین کرے گا۔بھاری کنٹینرزکے ذریعے راستے بندکرنا،موٹرویزاورجی ٹی روڈبلاک کرنا،احتجاجی مظاہرین کی راہوں مین روڑے اٹکانایہ جمہوریت کے شایان شان نہیں ۔جمہوریت میں راستے اوردروازے کبھی بندنہیں ہوتے۔جولوگ ایساکرتے ہیں وہ کبھی بھی جمہوریت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔یہ ملک اس وقت احتجاج،مظاہروں ،جلسے ،جلوس اوردھرنوں کامتحمل ہے یانہیں لیکن توڑ،پھوڑ،جلاؤگھیراؤ،فسادات اوربدامنی کاباالکل بھی متحمل نہیں۔اس لئے پرامن فضاء کوریاستی ڈنڈے کے ذریعے آلودہ کرناکسی بھی طورپرمناسب نہیں ہوگا۔پی ٹی وی سنٹرپرجوحملہ کریں۔۔قانون جوہاتھ میں لیں۔ ۔قوم کوریاست کے خلاف جو بغاوت پراکسائیں۔۔جوکارکنوں کوبجلی وگیس کے بل جمع نہ کرنے کی تلقین کریں ۔۔سپریم کورٹ کے گیٹ اوردیوارپرجواپنی شلواریں لٹکائیں ۔۔اپنے کارکنوں کوجوپولیس اہلکاروں سے اسلحہ اورڈنڈے چھیننے کاحکم دیں ۔ایسے عناصراورلوگوں پرنہ صرف راستے بندکریں بلکہ ان کے گھراورزبانوں کوبھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تالے لگادیں ۔ملک کی سلامتی سے کھیلنے والوں کوبے شک نشان عبرت بنایاجائے لیکن انتقامی سیاست کی آڑمیں کسی مولانایاکسی مولاناکے مریدکونہ چھیڑاجائے۔ ڈی چوک میں دھرناجس طرح پی ٹی آئی کاآئینی اورقانونی حق تھااسی طرح اب یہ مولانافضل الرحمن کابھی آئینی،قانونی اورجمہوری حق ہے۔مولانایامولاناکے کارکن اگرقانون ہاتھ میں لیں یاامن وامان کاکوئی مسئلہ بنائیں توحکومت بلاکسی ہچکچاہٹ کے ان کے خلاف کارروائی ضرورکریں لیکن صرف سیاسی مخالفت میں مولاناکودھرنے سے روکنے کے لئے حربے اورہتھکنڈے استعمال کرنے سے گریزکرے۔ ڈاکٹروں ،تاجروں اورمیڈیاسے پنگالیکرحکومت نے اپنے لئے ایک میدان تیارکردیاہے اب مولاناسے ٹکرلیکرحکومت اپنے لئے آخری گڑھانہ کھودے۔موٹرویزاوردیگراہم مقامات پرکنٹینرزپہنچاکرنادان حکمرانوں نے تومولاناکاراستہ روکنے کے لئے تیاریاں شروع کردی ہیں لیکن حکومت نے اگرواقعی مولاناکاراستہ روکنے کی احمقانہ حرکت کی تواس کی پھرنہ صرف عقل سے ان عاری حکمرانوں بلکہ ملک وقوم کوبھی بھاری قیمت چکاناپڑے گی۔اس لئے حالات کاتقاضایہ ہے کہ حکمران جمہوریت پسندی کاثبوت دیتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے والوں کے راستے بنداوران پرلاٹھیاں برسانے کی بجائے کھلے دل سے اپنے خلاف ہرقسم کے احتجاج،مظاہروں،جلسے ،جلوس اوردھرنوں کوبرداشت کریں۔حق،سچ اورعوام کاسامناکرنے والے حکمران ہی ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں ۔چوروں کی طرح عوام اورسیاسی مخالفین سے نظریں چرانے والے حکمران کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔بہادراورغیرت مندحکمرانوں کی مثالیں دینے والے وزیراعظم عمران خان کواب خودایک بہادراورجرات مندکپتان وحکمران بن کرعوام کاسامناکرناچاہیئے۔22کروڑعوام کے کپتان اوروزیراعظم اگرچندہزاریاچندلاکھ لوگوں سے راہ فراراختیارکریں گے توکل کولوگ اس بہادراورغیرت مندکپتان کے بارے میں پھرکیاکہیں گے۔۔؟ اس لئے مولاناکے دھرنے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے دیواراورکنٹینرزکے پیچھے چھپنے کی بجائے کپتان کوسامنے آکرجمہوری طریقے سے مولاناکامقابلہ کرناچاہیئے۔پیٹھ پیچھے وارکرنے والے حکمران کونہ دنیابہادرسمجھتی ہے اورنہ ہی ایسے لوگ غیرت مندوں میں شمارہوتے ہیں ۔بہرحال کپتان کے پاس دوراستے ہیں یاوہ جمہوری طریقے سے مولاناکاسامناکریں یاپھر ریاستی طاقت کے ذریعے وہ اپنی انصاف پسندحکومت کودنیاکے سامنے تماشابنائیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 105 Articles with 31064 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2019 Views: 329

Comments

آپ کی رائے