عوام لڑائے جان۔۔۔۔فائدہ اٹھائے سیاستدان

(Salman Ansari, )

کوئی بھی انسان ہو خواہ اُس کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو یا نہ بھی ہو وہ عوام کہلاتی ہے ۔عوام وہ ہے جو ایک جان ہوجائے تو بڑے سے بڑے دشمن کو زیر کردیتی ہے اور عوام وہ بھی ہے جو ذاتیات پر آجائے تو اپنے ہی سگے بھا ئی کی دشمن ہوجاتی ہے کسی بھی ملک کی کوئی بھی صنعت ہو اُس میں زیادہ تر عام عوام ہی کام کرتی ہے اگر اس عام عوام کو خاص نہیں سمجھا جائے گا تو پھر صنعت ٹھیک سے نہیں چل پائیگی بلکہ صنعت میں کام کرنے والی عام عوام خود ہی اسے چھوڑ دے گی کیونکہ اس سے انکی ذات کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔

اسی طرح کوئی بھی ملک ہو اُس کی عوام کو عام سمجھا جائے گا اس کے جذبات سے کھیلا جائے گا انکے ٹیکس کا پیسہ چوری کیا جائے گا تو وہ ملک ٹھیک طرح سے نہیں چل پائے گا اور اس ملک میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شعبے میں خرابیاں دکھائی دینا شروع ہوجائیں گی۔ہر عام آدمی کی ایک آن ہے ایک جان ہے ایک شان ہے وہ اپنی آن جان شان کو برقرار رکھنے کیلئے محنت کرتا ہے روزی کماتا ہے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے حلال رزق ،ذاتی مکان ،انصاف والی زندگی ہر انسان کاحق ہے ۔

اس حق کو حاصل کرنے کیلئے عوام ساری زندگی جدوجہد کرتی ہے بہت تھوڑی عوام یہ حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے جبکہ اکثر عوام یہ حقوق حاصل کرنے میں ناکام ہی رہتی ہے۔عوام عوام کی دوست ہو تو عوام کی زندگی بھی اچھی گزرے اور ملک کا مستقبل بھی اچھا ہوگا۔لیکن جب عوام ہی عوام کی دشمن ہو گی تو نہ عوام کبھی ترقی کر سکے گی نہ ملک کبھی ترقی کر سکے گا۔

ایک سیاستدان ایک پارٹی کا صدر ہے وہ عوام اکٹھی کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی مقاصد حاصل کر سکے اور عوام بھی چکنی چوپڑی باتوں میں آکر اس سیاستدان کے کہنے پر چل پڑتی ہے اور یہ سمجھنے لگ جاتی ہے کہ یہ انسان حکومت میں آئے گا تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ،خوشحالی ہوگی ،ہر کسی کو انصاف کی فراہمی ہوگی ،روٹی کپڑا اور مکان ملنا شروع ہوجائیں گے۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ انسان حکومت میں آجاتا ہے اور وزیر اعظم بھی بن جاتا ہے ۔

اب دوسری سیاسی پارٹی کی عوام خوش نہیں ہوتی اور اُسے گالیاں دیتی ہے گلی محلوں میں برائیاں کر رہی ہوتی ہے ۔اسی دوران دوسری سیاسی پارٹی کا لیڈر عوام کو کہتا ہے کہ میرا ساتھ دو میں اس وزیر اعظم کو گراتا ہوں یہ وزیر اعظم جائے گا تو خوشحالی آئے گی ۔اب دوسری سیاسی پارٹی حکومت سے ٹکر لینا شروع کر دیتی ہے فرض کریں دوسری سیاسی پارٹی پہلے وزیر اعظم کو ختم کر دیتی ہے اور دوسرا وزیر اعظم آجاتا ہے ۔دوسرا وزیراعظم آنے کے بعد تیسری سیاسی پارٹی کی عوام اُس سے خوش نہیں ہوتی پھروہ حکومت گرانے کا سوچنے لگ جاتی ہے ۔یہ سب یونہی چلتا ہے لیکن عوام جان لڑا لڑا کے تھک جاتی ہے اور خوش بھی عوام نہیں ہوتی ۔

کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا کہ ایک ہی وزیر اعظم سے ساری عوام خوش ہوجائے گی۔یقینا ایسا ممکن نہیں کہ ایک ہی وزیر اعظم سے ساری کی ساری عوام خوش ہوجائے ۔جب ایسا ممکن ہی نہیں تو پھر رونا کیسا دھونا کیسا۔۔۔سیٹ حاصل کرنے کے بعد بھی سیاستدان کو ہی فائدہ ہوتا ہے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مزدور کی تنخواہ 15ہزار یا16ہزار طے کرتے ہیں اوروہ لوگ جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ آپ اپنی لاکھوں کی تنخواہوں میں سے صرف15ہزاراپنے گھر کے خرچے کیلئے رکھیں اور باقی قومی خزانے میں جمع کرادیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں فائدہ ہواور ملک کا قرضہ بھی اُترے۔

یہ کام بھی پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدان نہیں کر سکتے تو پھر عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کی باتیں کرتے ہوئے انکو شرم آنی چاہیئے۔پچھلے چند سالوں سے دھرنا دھرنا کی آوازیں سننے میں آرہی ہیں کئی ٹی وی چینلز پر تو دھرنوں کے بارے میں اتنے لمبے لمبے تجزیے کیے جاتے ہیں کہ جیسے دھرنوں پر بات کرنے سے عوام کے مسائل حل ہوجائیں گے اور مہنگائی کم ہوجائے گی ۔دھرنے دینے والے بھی لاکھوں کی تعداد میں عوام اکٹھا کرنے کا دعوی کرتے ہیں اتنے لوگوں کو اکٹھا کر نے کیلئے انہی سے پیسے بھی مانگ رہے ہوتے ہیں ۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ لاکھوں کی تعداد والے لوگ اپنا ذاتی پیسہ صرف دھرنے کیلئے اپنے قائد ین کو دیتے ہیں اتنی ہی رقم قرضہ اتارنے کیلئے دی جائے یا قومی خزانے میں جمع کرادی جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ والا سیاستدان واقعی عوام کے حقو ق کی جنگ لڑ رہا ہے م عوام کااورملک کا حقیقی درد رکھتا ہے ۔

اتنے پیسوں سے قرضہ تو نہیں اترے گا اور نہ ہی ترقی کی رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا لیکن سیاستدان کا خلوص اور محبت سامنے ضرور آجائے گی کہ کون اپنے پیٹ کی جنگ لڑ رہا ہے اور کون عوام کے پیٹ کی ۔جب ووٹ ڈالنے کا حق اور ٹائم ملا تھا تب ان لوگوں کو کیوں چنا گیا جو معیار پر اب نہیں اُتر رہے۔اب حکومتیں گرانے کیلئے عوام کیوں لڑارہی ہے جان جب فائدہ اٹھارہے ہیں سیاستدان ۔اﷲ پاک ہمارے ملک پاکستان پر خصوصی شفقت اور مہربانی کا معاملہ کرے اور جو لوگ نیک نیتی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں انکو ڈنکے کی چوٹ پرمزید کام کرنے کا حوصلہ و ہمت عطا فرمائے ۔آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Ansari

Read More Articles by Salman Ansari: 23 Articles with 11842 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Oct, 2019 Views: 334

Comments

آپ کی رائے