جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ المنائی ایسوسی ایشن، ریاض چیپٹر

(Muhammad Najeeb Qasmi, Riyadh)

۱۹۲۰ء میں مہاتما گاندھی کی سرپرستی میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن رحمۃ اﷲ علیہ کے دست مبارک سے قائم جامعہ ملیہ اسلامیہ آج دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے، جس کے قیام اور اس کی آبیاری کے لئے حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجید خواجہ، مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمد مجیب اور دیگر اکابرین کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ صرف ایک تعلیمی درسگاہ نہیں بلکہ مختلف علوم وفنون کا ایسا علمی گہوارہ ہے جسے ہمارے اسلاف نے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا۔ اِس ادارہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے بانیان ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لینے والے ہیں۔ جامعہ کا قیام اُس وقت اور اُن حالات میں عمل میں آیا جب آزادی کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ جامعہ کے اکابرین آزادی کی تحریک سے براہِ راست جڑے ہوئے تھے۔ غرضیکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام ہندوستان کی جنگ آزادی کے بطن سے ہوا ہے۔ اسی وجہ سے جامعہ کے خمیر میں سیکولرازم، آزادی، حب الوطنی، روشن خیالی اور رواداری پہلے ہی دن سے موجود ہے۔ جامعہ کے قیام کا مقصد جہاں اقلیتوں میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا ہے وہیں اردو زبان کا فروغ بھی اہم مقصد ہے، اسی وجہ سے ابتدا ہی سے بڑے بڑے اردو شعراء وادباء جامعہ ملیہ اسلامیہ کی زیارت کیا کرتے تھے۔

اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ پوری دنیا میں تعلیمی میدان میں خاص شناحت رکھتی ہے۔ جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد اندرون و بیرون ملک بڑے بڑے عہدوں پر فائض ہوکر جہاں برسر روزگار ہیں وہیں قوم وملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دنیا کی عظیم شخصیات کو جامعہ نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا ہے، جن میں جامعہ المنائی ایسوسی ایشن (ریاض) کے تناظر میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ عبداﷲ بن عبدالعزیز آل سعود اور موجودہ بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے نام قابل ذکر ہیں۔ جامعہ کے متعدد شعبوں بالخصوص انجینئر کالج، ٹیچرس ٹریننگ کالج، ماس کمیونیکیشن سینٹر، سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ، شعبۂ عربی، شعبۂ اردو وغیرہ کو پوری دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ جامعہ کے طلبہ دنیا کے چپہ چپہ پر مختلف میدانوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نام روشن کررہے ہیں۔

جناب سرسید احمد خان نے علی گڑھ میں ایک تعلیمی ادارہ کی بنیاد رکھی تھی، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سرسید احمد خان کو انگریزوں سے قربت حاصل تھی۔ اس لئے مجاہدین آزادی کو اس پر تشویش تھی، لہٰذا ہندوستان کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں نے بھی علی گڑھ میں ہی ایک تعلیمی ادارہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘‘ کی بنیاد ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو علی گڑھ کالج کی جامع مسجد میں رکھی۔ ۱۹۲۵ء میں جامعہ دہلی کے قرول باغ کے کرایہ کے مکانوں میں منتقل ہوئی، جہاں جامعہ میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قریب تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو بند کردیا جائے مگر منتسبینِ جامعہ کی ایک ٹیم آگے بڑھی اور اپنی خدمات پیش کرکے انہوں نے جامعہ کو نہ صرف مشکل وقت سے باہر نکالا بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن کردیا۔ ۱۹۳۵ء میں جامعہ اوکھلا میں منتقل ہوئی جہاں محبےّن جامعہ نے زمینیں خرید خرید کر جامعہ کے لئے وقف کیں۔ جامعہ کے نام سے اسلامیہ کا لفظ نکالنے کی بھی کوشش ہوئی مگر محبین جامعہ خاص کر مہاتما گاندھی نے اس کی سختی کے ساتھ مخالفت کی۔ غرضیکہ اکابرین ملت نے اپنی جان ومال ووقت کی قربانی سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو سینچا ہے جو آج الحمد ﷲ روشن چراغ کے مانند پورے ملک کو روشن کررہا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ ہی ایسی عظیم سرکاری یونیورسٹی ہے جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

۱۹۹۴ء میں دارالعلوم دیوبند سے علوم قرآن وحدیث میں فضیلت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی میں داخلہ لے کر اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھایا، جس کی بنیاد شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن ؒ نے رکھی تھی جو دارالعلوم دیوبندکے پہلے طالب علم ہیں۔ مجھے فخر حاصل ہے کہ اِس ادارہ نے مجھے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اب ہندوستان کی مایہ ناز مرکزی یونیورسٹی ہے جہاں نہ صرف مسلمانوں کے مختلف مسلکوں سے وابستہ ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والے بھی اس سیکولر ادارہ میں زیر تعلیم ہیں۔ جامعہ کے قیام کے دوران مختلف افکار ونظریات رکھنے والوں کے ساتھ میل جول کے ذریعہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک، رواداری، خیر سگالی، انسان دوستی، تحمل اور برداشت کرنے جیسی اہم صفات ہمارے اندر پیدا ہوئیں یا اُن میں تقویت حاصل ہوئی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیمی مراحل مکمل کرتے ہی زندگی کی پہلی ملازمت کے لئے ۱۹۹۹ء کے اواخر میں سعودی عرب کے دارالسلطنت ’’ریاض‘‘ کا رخت سفر باندھا۔ شہر ریاض میں قدم رکھتے ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فارغین سے ملاقات ہوئی اور اس طرح ابتدا سے ہی دیار غیر میں اپنوں کا ساتھ مل گیا۔ سعودی عرب میں سماجی زندگی باقی رکھنے کے لئے برادرانِ جامعہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ برابر جاری رکھا یہاں تک کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن ؒ کے مشورہ پر ۲۰۰۶ میں چند سینئر حضرات کی کوشش سے جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن، ریاض چیپٹر کا قیام عمل میں آیا۔ ایسوسی ایشن کے قیام سے لے کر ۲ جون ۲۰۱۹ء میں سعودی عرب چھوڑنے تک تقریباً ۱۳ سال ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے برادرانِ جامعہ اور قوم وملت کی کچھ خدمت کرنے کا موقع ملا۔ اِس دوران جہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فارغین کے ساتھ قیمتی وقت گزارکر اپنے اندر کچھ اچھی صفات پیدا کرنے کا موقع ملا وہیں بعض برادرانِ جامعہ کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ اگر یہ کہوں تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب میں کس طرح دوسرے افکار ونظریات کے حاملین کے ساتھ رہا جائے اس کا سلیقہ جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن کی دین ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن، ریاض چیپٹر دنیا بھر میں جامعہ کے سابق طلبہ کی سب سے زیادہ فعّال تنظیم ہے، جس کی بنیاد جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن ؒ نے رکھی تھی، جناب نجیب جنگ اور پروفیسر طلعت احمد نے جامعہ کے وائس چانسلر ہوتے ہوئے ایسوسی ایشن کے پروگراموں میں شرکت فرماکر تقاریب کو رونق بخش چکے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے ہمیشہ اپنی مادرعلمی سے تعلق قائم رکھا۔ جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل جناب عبدالنصیب خان ، شعبۂ سوشولوجی کے سابق پروفیسر محمد طالب، سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر زبیر مینائی اور شعبۂ آرٹ کے پروفسیر ظہور احمد زرگر جیسے جامعہ کے عظیم اساتذہ نے وقتاً فوقتاً ایسوسی ایشن کے پروگراموں میں شرکت فرماکر جامعہ اور فضلاء جامعہ کی انجمن کے رشتہ کو مضبوط بنایا۔

ایسوسی ایشن کے ۱۳ سال کے طویل عرصہ میں ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں کے ہمراہ برادران جامعہ کو آپس میں جوڑکر، اُن کی حتی الامکان مدد کرکے، لوگوں کو اپنی وسعت کے مطابق ملازمتیں دلاکر، طلبہ وطالبات کے درمیان علمی مسابقے اور مختلف مقاصد کے تحت پروگرام منعقد کراکر، متعدد مرتبہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نبھاکر اور سعودی عرب میں مقیم برادران جامعہ کے احوال وکوائف پر مشتمل ایک خوبصورت ڈائرکٹری شائع کراکے تعلیم کے میدان میں قوم وملت کی خدمت کا ایساجذبہ پیدا ہوا کہ سعودی عرب کی ملازمت سے سبکدوش ہوکر اپنے وطن ’’سنبھل‘‘ میں النور پبلک اسکول کے نام سے ایک انگریزی میڈیم اسکول قائم کیا ہے، جس کی بنیاد دارالعلوم دیوبندکے اکابرین کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ نے رکھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل جناب عبدالنصیب خان کی نگرانی میں قائم شدہ اس اسکول میں پہلے ہی سال ۲۲۰ طلبہ وطالبات ہیں، ان شاء اﷲ آئندہ سال ۳۶۰ بچوں کا ہدف ہے۔ اسکول کے قیام کا بنیادی مقصد بچوں کو عصری علوم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ان کی دینی تعلیم وتربیت کا خاص نظم کرنا ہے تاکہ ہمارے بچے جہاں اچھے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پروفیسر، افسر اور سائنس داں بنیں وہیں وہ امانت دار، جھوٹ نہ بولنے والے، رشوت نہ لینے والے، ملاوٹ نہ کرنے والے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے والے، حرام لقمہ نہ کھانے والے اور نماز وروزہ کی پابندی کرنے والے مسلمان بھی بنیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مختلف علمی شخصیات النور پبلک اسکول کی زیارت کرچکی ہیں، جن میں جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل جناب عبدالنصیب خان، جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے استاذ جناب ظفر احمد صدیقی، شعبۂ انگریزی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر سرور حسین ، جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے سابق استاذ ڈاکٹر مدنی احمد اور سماجی کارکن ڈاکٹر شفاعت اﷲ خان کے نام قابل ذکر ہیں۔ نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی متعدد علمی شخصیات نے اس اسکول کی زیارت کی ہے، جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جنرل ضمیر الدین شاہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مایۂ ناز سپوت ماہر تعلیم ڈاکٹر ندیم اختر ترین جو النور پبلک اسکول کے سرپرست بھی ہیں اور نیشنل گارڈ یونیورسٹی ( ریاض) کے استاذ ڈاکٹر دلشاد احمد علیگ کے نام قابل ذکر ہیں۔

آخر میں ریاض میں مقیم تمام برادران جامعہ کا میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ حضرات کے مفید مشوروں سے عصر حاضر کی ضرورت کے پیش نظر شہر سنبھل میں النور پبلک اسکول کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس طرز پر متعدد اسکول قائم بھی کئے جا چکے ہیں اور ان شاء اﷲ یہ سلسلہ جاری رہے گا جو جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن کے ممبران کی محبت، خلوص اور اُن کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات اقدس سے قوی امید ہے کہ یہ ادارہ جلدی ہی کالج اور اس کے بعد یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرے گا۔ سعودی عرب میں مقیم دیگر تنظیموں کے ذمہ داروں اور دوست واحباب کا بھی شکر گزار ہوں جو سعودی عرب میں ۲۰ سال کے قیام کے دوران ہمیشہ ہمارے پروجیکٹس کی تکمیل کے لئے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔
جامعہ زندہ آباد جامعہ ایسوسی ایشن پائندہ باد

(مضمون نگار متعدد کتابوں کے مصنف، النورپبلک اسکول سنبھل کے بانی اور مشہور عالم دین ہیں جو نئی ٹکنالوجی کے ذریعہ دین اسلام کی اشاعت میں مصروف ہیں )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Najeeb Qasmi

Read More Articles by Muhammad Najeeb Qasmi: 151 Articles with 63144 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 329

Comments

آپ کی رائے