نصاب تعلیم اور مدارس کی اہمیت

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

ایک قوم بننے کیلئے ہم زبان ہونا، یکساں نصاب ہونا، مشترکہ نصب العین اور نقطہ نظر کی آہنگی سے ہمکنار ہونا ضروری ہے۔ ایک مخصوص نصاب محض معلومات اور طباعت وغیرہ کے لحاظ ہی سے ہی مختلف نہیں ہوتا بلکہ اپنی اثر پذیری کے لحاظ سے بھی قطعی مختلف ہوتا ہے۔ جس طرح کے نصاب تعلیم کےتحت طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اسی طرح ان کے ظاہر اور باطن کے تاثرات کی جھلک معاشرے میں نظر آتی ہے۔ نصاب تعلیم کا انحصار کسی بھی ریاست کی قومی تعلیمی پالیسی پر ہوتا ہے، جس میں مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جاتا ہے۔ وقت اور حالات کے تحت جہاں دیگر ریاستی امور تبدیلیوں اور تغیرات سے گزرتے ہیں، وہیں تعلیمی اہداف بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں چونکہ نصاب تعلیم قومی اہداف سے مشروط ہوتا ہے، اس لئے اس میں بھی ماحول اور حالات کے مطابق تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ تعلیمی نظام کی یک رنگی سے قومی یگانگت ابھرے گی، ہمارے تعلیمی ادارے جتنے رنگوں میں رنگے ہوئے ہوں گے اتنے ہی رنگوں کی قوم وجود میں آئے گی اور یہ مختلف رنگ ظاہر اور باطن دونوں پر چھائے ہوئے ہوں گے۔ ایک متحد و مربوط قوم بننے کےلئے ضروری ہے کہ ہمارے تمام تعلیمی اداروں میں ایک ہی نصاب تعلیم پڑھایا جائے۔ آج کے موضوع کےانتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حالیہ دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں رضا اسلامیہ کالج برائے خواتین کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ ادارہ دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج ہے۔ اس موقع پر مہمانوں نے نصاب تعلیم کی یکسانیت اور دینی اداروں کی اہمیت پر خوبصورت گفتگو کی۔ چند معروضات راقم نے بھی پیش کیں۔ مناسب سجھا کہ ان کا خلاصہ ہدیہ قارئین کروں۔ یہ ادارہ صاحبزادہ پیر سید محمد علی رضا شاہ صاحب بخاری ایم ایل اے و سجادہ نشین آستانہ عالیہ بساہاں شریف کی سر پرستی میں خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ بہر کیف یہ ایک اشد ضرورت تھی کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد سے ہی ہمارا نصاب تعلیم ایک ہوتا تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک قوم بن سکتے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ سینکڑوں اقسام کے تعلیمی ادارے، سرکاری غیر سرکاری، انگلش میڈیم، اردو میڈیم، مشنری سکولز، کالج، کمیونٹی سکولز اور کالجز، دینی مدارس، کیڈٹ سکولز اور کالجز موجود ہیں۔ جب ہم نظام تعلیم کے موجودہ ڈھانچے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر موجود ہونی چاہئے کہ یہ ڈھانچہ استعماری دور حکومت میں لارڈ میکالے کی تیار کردہ تعلیمی پالیسی کی بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا۔ اس کے بنیادی مقاصد یہ تھے کہ انتظامی مشینری کیلئے کلرکوں سے لے کر آئی سی ایس (موجودہ سی ایس ایس) افسروں تک تاج برطانیہ کے وفادار اور سستے ملازمین کی کھیپ تیار کرنا۔ مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کا غلبہ بپا کرنا۔ معاشرتی زندگی کا مربوط ڈھانچہ توڑ کر اس کی متحدہ قوت کو پارہ پارہ کرنا۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے تعلیمی نظام کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دینی مدارس مخصوص حالات میں ایک خاص مقصد کیلئے معرض وجود میں آئے۔ اسے سمجھنے کیلئے تاریخی پس منظر کو جاننا بہت ضروری ہے۔ برصغیر کی تاریخ کا یہ افسوسناک باب ہے کہ1857کے انقلاب کی ناکامی کے بعد جب انگریزوں کا تسلط قائم ہوگیا تو علماء کی ایک بڑی تعداد کو حکومت وقت نے قتل کر دیا، بعض کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور جو بچ گئے انہیں گرفتار کرکے کالا پانی مالٹا اور جزیرہ انڈمان بھیج دیا گیا۔ دہلی اور آس پاس کے معزز خاندان تباہ ہو گئے۔ مزید یہ کہ اوقاف، جس کی آمدنی سے دینی درسگاہیں چلتی تھیں اسے ضبط کر لیا گیا۔ اس پر آشوب دور میں جب ہندوستان میں اسلام کی بقا کی کوئی صورت بظاہر نظر نہیں آ رہی تھی، علمائے اسلام نے اپنی مدد آپ کے تحت دینی ادارے قائم کئے۔ اگر آج اسلام اپنی تمام خصوصیات و امتیازات کے ساتھ نظر آ رہا ہے، تو وہ انھیں مدارسِ دینیہ کی وجہ سے ہے۔ کسی بھی جگہ دین کا شعلہ یا اس کی تھوڑی سی رمق اور چنگاری سلگتی ہوئی نظر آ رہی ہے، وہ انھیں مدارس کا فیض ہے۔ برصغیر میں مدارس کی ابتدائی تحریک کا جائزہ لیجئے کہ کن اسباب و محرکات کے تحت اس نظام کے حامل مدارس کا آغاز ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام نے حصول علم کو تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کا فریضہ قرار دیکر اسے ہوا اور پانی کی طرح بلاقیمت اور حسب توفیق و اہلیت رکھا تھا۔ اسلامی معاشرہ کے نو آبادیاتی دور سے قبل پوری اسلامی دنیا تعلیم کی فیس سے نا آشنا تھی۔ شہزادوں اور عام لوگوں کیلئے ایک ہی طرح کا نظام تعلیم تھا۔ اسلام نے مسجد کی طرح مدرسہ میں بھی کامل مساوات پر مبنی نظام برقرار رکھا۔ شہزادوں کو تاخیر سے مدرسے آنے پر غریبوں کی جوتیوں کے درمیان بٹھا دیا جاتا تھا اور علم کی دنیا میں چھوٹے بڑے کا ہر امتیاز مٹا دیا گیا تھا۔ داعی اسلام حضرت محمدﷺ نے مسجد نبوی میں صفہ کا جو مثالی مدرسہ قائم کیا اس کے چشمہ فیض سے بے سہارا، غریب نادار اور کئی کئی وقت کا فاقہ کرنے والے سب سے زیادہ فیض یاب ہوئے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ علم غرباء کی میراث بنا۔ ہمارے محدثین، مفسرین، فقہا، مورخین، ریاضی دان، حکما، سائنسدان اور مختلف علوم و فنون کے ماہرین میں سے اکثر پسماندہ اور متوسط طبقے سے ابھر کر آسمان علم پر آفتاب اور ماہتاب بن کر چمکے۔ ذرا انگلیوں پر حساب لگا کر دیکھئے کہ ہمارے اکابرین علم میں شہزادوں اور نوابزادوں کا تناسب کیا ہے۔ یقین جانئے کہ ہم تعلیمی اداروں کے نظام میں یکسانیت قائم کئے بغیر معاشرے میں کبھی مساوات قائم نہیں کر سکتے۔ مساوات تو کجا ہم اس کے بغیر ایک متحد و منظم قوم بھی وجود میں نہیں لا سکتے۔ اسلام دشمنوں کے پھیلائے گئے فریب میں آکر دینی مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی کم فہمی کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں اسلام کی بقاء میں دینی اداروں اور مدارس کا اہم کردار ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو اعتقادی و اخلاقی گندگیوں سے پاک رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہی مدارس ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے اصلاحِ امت اور بھلائی کے فروغ کے سارے مقاصد کو اپنے ناتواں کندہوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ مدارس مسلم معاشرے کا اسلام کے ساتھ حقیقی ربط برقرار رکھتے ہوئے، جملہ ضروریات کی تکمیل میں پوری تندہی کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ مثلاً مساجد کے لئے عملی صلاحیت کے حامل مبلغین و ائمہ تیار کئے جا رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی تدریس کیلئے مدرسین و اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح امت مسلمہ کے مختلف مسائل کے اسلامی حل کیلئے دارالافتاء کا قیام اور اس کیلئے باصلاحیت اور دور رس نگاہ رکھنے والے مفتیان عظام کی خدمات بھی دینی اداروں کا کارنامہ ہے۔ علی ہذا القیاس تصنیف وتالیف، دعوت و تبلیغ، وعظ وارشاد اور خانقاہی نظام کے ذریعےاصلاحی اقدامات شامل ہیں۔ معاشرے کی دینی ضروریات کی تکمیل میں مدارس کی حیثیت اس کسان کی سی ہے جو زمین کے ہموار کرنے، فصل کے اگانے، کٹائی سے لیکر اس غلہ اور اناج کے مارکٹ پہنچنے تک اپنی ساری توانائی اور قوت استعمال کرتا ہے، پس وہ غلہ تمام انسانوں کی آسودگی اور بھوک مٹانے کا سبب بنتا ہے، دین کے تمام شعبوں کو زندہ، بیدار اور متحرک رکھنے میں مدارس کا کردار بھی اسی طرح اہم اور ناقابل فراموش ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 272 Print Article Print
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 182 Articles with 91165 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More

Reviews & Comments

Language: