سکول کا دروازہ

(Wafa Saadat, Islamabad)

اقراء صبح سویرے سکول جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی۔ اچانک اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ اس نے امی کو بتایا تو وہ بولیں:بیٹا جب تک سکول پہنچو گی آرام آجائے گا۔ پھر بھی احتیاطاً امی نے پیار سے پوچھا: چندہ! رات آپ نے کیا کھایا تھا؟ دُکان سے کوئی چیز لے کر تو نہیں کھائی؟ نہیں امی جان!کل میں نے دُکان سے کچھ بھی لے کر نہیں کھایا، نہ ہی سکول کی کینٹین سے، نہ ہی بابا نے کچھ دِلایا تھا۔اقراء نے معصومیت سے جواب دیا۔

گھر میں ایسا کچھ نہیں پکا تھا جو اقراء کے پیٹ درد کا باعث بن جاتا۔نہ ہی کل اور نہ ہی گزشتہ دِنوں اس کی طبیعت خراب تھی۔امی نے اپنے ذہن میں دن بھر کی روٹین سے کھانے پینے تک، تمام باتوں کا جائزہ لیا۔مگر بظاہر تو اقراء کے پیٹ درد کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔وہ بار بار کہہ رہی تھی امی میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔ میں سکول نہیں جانا چاہتی۔ امی پلیز میں کل چلی جاؤں گی۔۔۔

آج تو کوئی ٹیسٹ بھی نہ تھا پھر اقراء کو کیا ہو گیا تھا۔کوئی بد ہضمی یا کوئی انفیکشن؟ ایسا بھی کچھ نہ تھا۔کیونکہ صبح سویرے اٹھتے ہی وہ بالکل تازہ دم تھی۔ناشتہ بھی امی نے بہت ہلکا پھلکا کرایا تھا۔جس میں ایک جوس اور دلیہ ہی توتھا۔اتنی زود ہضم غذا سے پیٹ کا درد کیسے ہو سکتا تھا؟امی نے پھر یہ بات سوچ کر ذہن سے جھٹک د ی کہ شاید کوئی چھوٹاموٹاپیٹ کا مسئلہ ہوگاجو تھوڑی دیر میں چلنے پھرنے سے ٹھیک ہو جائے گا۔

پچھلے چار مہینوں میں یہ بات اب تیسری، چوتھی بلکہ پانچویں بار اقراء نے دہرائی تھی۔ اور پچھلی دونوں دفعہ ڈاکٹر کو بھی دکھایا تھا۔بلکہ دوسری دفعہ تو سکول سے چھٹی بھی لینا پڑی تھی۔ معائنے کے بعد ڈاکٹر نے اقراء کے والدین کو اس کے صحت مند ہونے کے بارے میں بھی بتایا۔ پانچویں بار پھر یہ بات دہرائے جانے پر امی تشویس کا شکار ہو گئیں۔۔۔۔

خیر سکول کی گاڑی گھر کے باہر آکر رک گئی۔ امی نے پیار سے اقراء کو گلے لگاتے ہوئے تھپتھپایا۔اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: بیٹا سکول پہنچنے تک پیٹ کا درد چھو منتر ہو جائے گا۔ اس پر امی ہنس دیں اسے تھوڑا گدگدایااور بیگ کندھوں پر لگاتے ہوئے اسے گیٹ تک چھوڑ آئیں۔ اقراء نے جاتے جاتے دوبارہ پیچھے پلٹ کر دیکھا، معصومانہ نگاہوں میں ٹھہری آس لئے وہ ماں کو تکتی رہ گئی۔پھر اداس چہرہ اور ننھے بوجھل قدم اٹھاتی وہ گاڑی پر سوار ہوگئی۔ سکول نزدیک آ گیا تھا۔سکول کے احاطے کی سڑک پر آتے ہی اقراء کے پیٹ کا درد بڑھنے لگا اور جونہی گاڑی رکی۔ سکول کا دروازہ دیکھتے ہی اقراء کے پیٹ میں مروڑ تیز ہونا شروع ہو گئے۔انکل اپنی سیٹ سے اٹھے اور بچوں کو بیگ پکڑانے لگے مگر اقراء کو لگا جیسے وہ بیمار ہے اور اسے سکول نہیں چاہیے۔انکل نے اسے بھی بیگ تھما دیا اورچاروناچار اسے جانا ہی پڑا۔

سکول کا میدان پار کر کے وہ عمارت میں داخل ہوئی اور کلاس میں پہنچ کراپنا بستہ کرسی پر رکھ دیا۔سہیلیوں کو لے کر وہ باہر آئی اور میدان میں ٹہلنے لگی۔سکول بہت بڑا اور خوبصورت تھا۔اسی سنگت کے دوران اس کے پیٹ کا درد غائب ہو گیا تھا۔ پھر اسمبلی کے بعد کلاسز شروع ہو گئیں۔ میڈم کلاس روم میں داخل ہوئیں تو سبھی بچیوں سمیت اقراء بھی خاموش تھی۔کلاس میں ہر طرف سناٹا چھا گیا تھا۔صرف ایک میڈم زاہدہ کی آواز گونجتی رہی۔ موٹی موٹی، بڑی بڑی آنکھوں اور ڈیل ڈول والی میڈم زاہدہ سے سبھی بچیاں خائف رہتی تھیں۔میڈم زاہدہ کلاس انچارج بھی تھیں اور اپنے رویے اور گرج دار آواز کے باعث کلاس کی کوئی بچی بھی انھیں پسند نہ کرتی تھی۔ وہ ریاضی کی ٹیچر تھیں۔

آج ضرب اور تقسیم کے سوال بورڈ پر کرائے جا رہے تھے۔کلاس ورک ملنے کے بعد کاپیاں میز پر جمع ہونے لگیں۔ہوم ورک کے ساتھ کلاس ورک بھی چیک ہونا شروع ہوا۔ چند کاپیاں ابھی چیک ہوئیں تو ایک کاپی پر رک کر میڈم کڑک دارآواز میں پکار اٹھیں۔یہ فائزہ اسلم کون ہے؟فائزہ نے ہاتھ کھڑا کیا۔ جی مس؟۔۔۔
اس کے پاس آتے ہی میڈم نے کاپی اس کے سر پر دے ماری اورزور دار چانٹا بھی اس کے منہ پر رسید کر دیا۔تھپڑ کی آواز ساری کلاس میں گونج گئی۔میڈم کا چلّانا، فائزہ کا سرخ منہ اور ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں نے پورے ماحول پر سکتہ طاری کر دیا۔دہشت کے مارے چھوٹی چھوٹی بچیوں کی جان جیسے گلے میں اٹک کر رہ گئی ہو۔ہر بچی کی نظر اب چیک ہوتی کاپیوں پر تھی۔نارنجی رنگ کی کاپی جو تمام کاپیوں کے نیچے پڑی تھی، وہ اقراء کی کاپی تھی۔جلدی چیک ہونے کے ڈر سے اقراء نے لیٹ کلاس ورک کر کے کاپی سب سے نیچے جا رکھی۔اپنی باری کا انتظار اقراء کو بہت خوفزدہ کررہا تھا۔کیونکہ ننھے سے دل میں شاید یہ ڈر ضرور تھا کہ اس کا سوال بھی غلط ہی ہوگا۔سوچہارم کلاس کی ننھی سی سات سالہ اقراء کے ذہن میں خود کو سزا سے بچانے کے طریقے جنم لینے لگے۔اس سے پہلے کہ اس کی باری پر اس کا نام پکارا جائے خود کو بچانے کے لیے اقراء نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا اور کہا: میڈم میں واش روم جا سکتی ہوں پلیز؟ اجازت پا کر وہ کلاس روم سے باہر آ گئی۔اب وہ جان بوجھ کرہولے ہولے ننھے ننھے قدم اٹھا رہی تھی۔جونیئر ونگ سے وہ سینئر ونگ کی طرف اسی رفتار سے بڑھتی رہی۔ حتیٰ کہ اپنے ونگ کے واش رومز بھی پار کر کے آگے بڑ ھ گئی۔وہ سینئر گرلز ونگ کے واش رومز تک جانا چاہتی تھی۔تاکہ واپسی پر کلاس میں تاخیر سے داخل ہو اور پیریڈ ختم ہونے پر جلد گھنٹی بجے اور میڈم کاپیوں سمیت کلاس سے جا چکی ہوں۔بڑے ونگ کے واش روم سے فارغ ہو کر واپسی پر بھی وہ اسی رفتار سے ننھے ننھے قدم آہستہ آہستہ اٹھاتی آ رہی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ فاصلہ دیر سے طے ہو۔وہ راستے سے گزرتے ہوئے اور کلاس سے باہر اب بہتر محسوس کر رہی تھی۔ اس کا دل خوش تھا اسے پوری امید تھی کہ کلاس کی بلڈنگ تک پہنچنے سے پہلے ہی گھنٹی بج چکی ہوگی۔اور میڈم کاپیاں چیک کر کے یا تو میز پر ہی چھوڑ گئی ہوں گی یا ساتھ لے گئی ہوں گی تو ان سے سامنا نہیں ہوگا۔اور یوں وہ سزا سے بچ جائے گی۔
چھوٹے سے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ بلڈنگ نزدیک آ رہی تھی۔بلڈنگ کے اندر داخل ہونے کے بعد وہ سیڑھیاں چڑھتی گئی۔اب کلاس روم اور بھی نزدیک آ رہا تھا۔دھڑکنیں تیز ہو کر جیسے پورے وجود میں پھیل رہی تھیں۔بے چینی سے اس کے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے جنھیں اس نے آپس میں مسلنا شروع کر دیا۔اسی گھبراہٹ میں بالآخر آخری ننھا قدم بھی اسے کلاس تک کھینچ لایا۔جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی اس کی نظر سامنے پڑی تو میڈم زاہدہ کرسی پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔وہ ہکا بکا رہ گئی۔ابھی اس نے کہنا ہی تھا کہ May i come in میڈم؟ کہ وہ پکار اٹھیں۔یہ اقرا صدیق کون ہے؟ اقراء نے ہاتھ بلند کیا اور کہا میں ہوں میڈم! اور اسی دوران اچانک ٹرررن۔ٹرررن گھنٹی بجی اور پیریڈ ختم ہو گیا اور چیک ہوئی کاپیاں میڈم میز پر چھوڑ کر آگے بڑھ گئیں جیسے انہیں جلدی جانا ہو۔اقراء جب میز پر پہنچی تو دیکھا کہ وہ سوال جو اس نے صحیح کرتے کرتے بوکھلاہٹ اور سزا کے ڈر سے غلط کر دیا تھا۔میڈم زاہدہ نے اس پر بڑا سا ریڈ کراس لگا دیا تھا۔بالآخر میڈم کی بے دھیانی اور جلدی اٹھ کر جانے سے اقراء نظر انداز ہو گئی۔یوں مار سے وہ بچ گئی اور دل ہی دل میں اس نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔

چھٹی کے وقت امی سکول کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ اقراء زور سے بھاگی اور خوشی سے امی کے گلے لگ گئی۔جیسے وہ اپنی امی کی پناہ میں سارے خوف اور دہشت سکول کے دروازے کے پیچھے چھوڑ آئی ہو۔۔۔ہانپتے ہوئے وہ امی کو بتانے لگی: امی امی آج مس زاہدہ نے بہت زور سے ایک لڑکی کو تھپڑ مارا۔ امی نے چلتے ہوئے پوچھا: بیٹا آپ کو تو نہیں مارا؟ نہیں امی مگر مجھے بہت ڈر لگا.میم کہیں مجھے بھی نہ ماریں میں کلاس سے باہر چلی گئی تھی۔امی نے فوراً اقرا کو اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔ اور اب گھر جانے تک وہ اقراء کے پیٹ درد کی وجہ خوب سمجھ گئی تھیں۔

سارے معاملے پر غور کرنے کے بعد امی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ پرنسپل سے ملاقات کرکے یہ درخواست کریں گی کہ بچوں کو نہایت نرمی اور شفقت سے تعلیم دیں تاکہ ایک بھی بچہ کسی خوف کی وجہ سے پیٹ درد یا بخار میں مبتلا نہ ہو۔نہ ہی بعد میں وہ کسی ذہنی یا نفسیاتی الجھن کا شکار بنے۔ پھر ایسا ہی ہوا اگلے ہفتے اقراء کی امی نے پرنسپل سے ایک بہت کامیاب میٹنگ کی جس میں یہ حتمی فیصلہ طے پایا کہ کبھی کوئی بھی ٹیچر نہ بچوں کو ماریں گی۔ نہ ہی کوئی جسمانی سزا دیں گی اور نہ ہی کسی چیز سے ڈرائیں گی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اقراء کی امی نے دوبارہ سکول جوائن کیا اور اس حساس معاملے میں تمام اساتذہ اور پرنسپل کی بھی مدد کرنے لگیں۔۔۔بچوں کو بھی پڑھاتیں اور ان کے والدین سے بھی ملاقات کرتیں۔یوں اقراء کی امی نے نہ صرف اقراء کی تکلیف کو سمجھا بلکہ اپنی ہی بیٹی کی وجہ سے ہزاروں بچوں کے مسائل کو سمجھنے کے قابل ہوئیں اور بچوں کو تکلیف سے نکالنے کے اہم مقصد کی خاطر انھوں نے خود سے عہد کیا کہ وہ اپنابہترکردار ادا کرنے کے لئے خود کو بحیثیتِ ٹیچر سکول کے لئے وقف کر دیں گی۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 535 Print Article Print
About the Author: Wafa Saadat
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

ایک بہترین کہانی ہے۔ کہانی کی سب سے اہم بات اس کے تھیم کی نفسیاتی بنیاد ہے۔ بچوں کے اعمال اور رویوں کو علم نفسیات کی جدید تر پیش رفتوں کے آئینے میں دیکھنا ضروری ہے۔ اور ظاہر ہے کہ پھر ان کی روشنی میں بچوں کے معاملات کو بہتر انداز میں ہینڈل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ محض اخلاقی وعظ اور بڑوں کی جانب سے من پسند سانچے بچوں پر تھوپنے کو بچوں کے ادب کا نام نہیں دیا جا سکتا۔اس کہانی کی ڈگر غیر روایتی ہے اور اس کا انجام عملی طور پر ایک تبدیل شدہ رویے کی سمت راہنمائی کرتا ہے اور وہ بھی والدین کی جانب سے۔ہماری عمومی اخلاقیات صرف اور صرف بچوں سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ ماحول سے مطابقت پیدا کریں اور والدین اور بڑوں کی یکطرفہ و غیر مشروط اطاعت کی صورت میں دراصل کلچرل کوڈز اور کنوینشنز پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ حالانکہ بدلتے ہوئے حالات اور وقت کا تقاضا شاید روایتی ترتیب کو الٹنے کا تقاضا کرتے ہے۔اور اسی بات کی نشاندہی اس کہانی کی بنیادی خوبی قرار دی جا سکتی ہے۔ بہت خوب۔باقی اظہر ندیم صاحب کی باتوں سے بھی مکمل اتفاق کرتا ہوں۔
By: جواد حسنین بشر, اسلام آباد on Nov, 02 2019
Reply Reply
1 Like
Language: