سوچ!!!!!!

(Hira Mumtaz, Sargodha)
آج کے دور اور اسلام کو سمجھنے کی کوشش!!!

ہم،جیسے کے آپ جانتے ہیں اس قدر تیز اور ٹیکنالوجی بھری زندگی گزار رہے ہیں،لیکن اسی تیز زندگی میں ہم اپنے مذہب اور اسکی بہت ہی بنیادی باتیں سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔ ہم خود کو بہتر کرنے یا اپنی سوچ کو مثبت کرنے کی بجائے دوسروں پہ نقطہ چینی کرنا اپنا فرض سمجھ کہ بیٹھ گئے ہیں۔

چلیں ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں جو کے نہایت پیچیدہ ہے۔ 'سوچ' سے مُراد انسان کی چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت اور اُنکے بارے میں رائے۔ انسان کی سوچ اگر صرف دوسروں کی غلطیاں دیکھنے اور گنوانے تک محدود ہو جائے تو ایسا انسان صرف ترس کے قابل رہ جاتا ہے۔

اپنے موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک مثال دیتی چلوں،آج کل ہمارا معاشرہ اخلاقی بدحالی کا شکار ہے اور اس بدحالی کا الزام عورتوں کے سر ڈالا جاتا ہے، پتہ ہے کیوں،کیونکہ یہ ایسے مردوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے،جو اپنی زندگی صحیح عیاشی میں گزارتے ہیں لیکن جیسے ہی اُن خرابیوں کی بات ہوتی ہے تو فٹ سے کہتے ہیں ضرور اس عورت کی غلطی ہوگی، اور یہی تو اُس انسان کی سوچ ہوتی ہے۔ جی آپ لوگ صحیح سمجھے میرا اشارہ آج کل کی سب سے بڑی برائی کی طرف ہے٫میرا اشارہ ریپ کی طرف ہے، جس کا نشانہ آج کل صرف عورتیں نہیں بلکہ کمسن بچے بھی ہیں،جنہوں نے شاید ابھی اپنی زندگی کا پہلا لفظ بھی نہیں بولا ہوگا۔ وحشی مرد تو انکو بھی نہیں چھوڑتے پر پھر بھی کہا جاتا ہے عورت غلط ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی سوچ یہ برداشت ہی نہیں کر پاتی کہ گنہگار مرد بھی ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے اُن مردوں کی بات کرتے ہیں جو خود کو مُلّا یا دوسروں سے افضل ثابت کرنے کے لیے لوگوں کو انکے گناہ گنوانا اور یہ بتانا کے وہ خود تو اللہ کی بہترین مخلوق ہیں، اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد سمجھتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو یقیناً آپ سب بھی جانتے ہونگے،بہت مل جاتے ہیں جو عام لوگوں پر طنز کر کر کہ اپنا خون جلاتے رہتے ہیں۔

ایسی ذہنیت کے مالک لوگوں سے میں سوال کرتی ہوں کے کیا بالغ عورتوں کے ساتھ ساتھ کمسن بچوں پر بھی پردہ فرض ہے؟؟ یا نہیں بلکہ یہ پوچھنا صحیح ہے کے کیا وہ بھی اُن جسم پرستوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں؟؟

نہیں، ہرگز نہیں،بلکہ اگر عورت کی غلطی ہے تو اُس سے کہیں زیادہ آج کل کے مردوں کی غلطی ہے جو راہ چلتی لڑکی پہ آوازیں کسنا یا انہیں تنگ کر کے دوستوں میں اپنی عزت بنانا فرض سمجھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں اُس عورت نے پردہ نہیں کیا تبھی ایسا ہوا۔ ارے جاہلو تم لوگوں نے تو کبھی پردے والی کو کیا، معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ اسلام پڑھو تو پتہ چلے کے اسلام کس قدر خوبصورتی سے سب کچھ بیان کر چکا ہے آج سے ہزاروں سال پہلے۔ اگر اسلام میں عورت کو پردے کا حکم ہے تو ساتھ ہی ساتھ مرد کو نا محرم کے سامنے آنکھیں جھکائے رکھنے کا حکم ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں تو یہ گناہ بہت حد تک کم ہو سکتا ہے کیونکہ بدنگاہی ہی زنا کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"(اے نبی ﷺ) مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نيچی رکھا کریں اور۔۔۔۔۔۔"
(النور ۳۰)

اگر مرد خود سے شروع کر کہ اِس برائی کے خاتمے کے لیے کوشش کریں تو اُنھیں کبھی عورتوں کو پردے کا حکم یاد دلانے کی ضرورت ہی نا پڑے۔ اِس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کے میں سارا ملبہ مردوں پہ ڈال دوں،بلکہ میں عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی اسلام کے احکام یاد دلانا چاہتی ہوں کہ حساب صرف عورتوں کا نہیں اُنکا بھی ہوگا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 179 Print Article Print
About the Author: Hira Mumtaz

Read More Articles by Hira Mumtaz: 7 Articles with 1613 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Aur han agar aap ko meri baat say itefaaq nhe to is baat ka jawab den kay rape cases kyun barh rahay hain?
Mard ki hawas kyun din ba din barhti jaarahi hai?
Jawab bhi aap ko de deta hun, kay jun jun aurat ka libaas km aur tang hota jaaraha hai ye cases bhi barhtay jaarahy hain aur ise terha barhtay rahengay.
Aurat ka behooda libaas seedha aik mard ki nafsiyat per hit karta hai, kuch mard khud per control kar kay apnay aap ko kamzoor kar letay hain ya phir galat raasta ikhtiyaar kar letay hain.
Ise liye mard aurat ko apna libaas durust karnay kay liye kehtay rehtay hain.
Jo chahtay hain kay aurat ki izat barqarar rahay wo izat daar libaas ki baat kartay hain aur jo chahtay hain k aurat ki izat ise terha loot'ti rahay wo aurat k nangay pan ko support kartay hain.
Apnay ander aqual paida kijiye thori se, ALLAH ne mard ki aik fitrat banai hai wo usay pura karni hai, agar usay uksaanay wali chezain samnay ayen gi to wo biphray ga.
Sher kay aagay bakri ho to yaa to wo khud ko bhooka rakh kar mar le ga ya phir apni bhook mitanay k liye us per hamla karay ga, mard ki ye fitrat us kay ander aik bhook ka kaam karti hai, aur aurat ka libaas us ki bhook ko barhanay ya km karnay ka zimadar hai.
By: Taha Rafiq, Karachi on Nov, 05 2019
Reply Reply
0 Like
Aik mard ko be-hayai ke taraf lanay wali chez bhi aaj kal ki aurton ka behooda libaas hai. Aik mard apni fitrat per kb tak control kary ga? jb wo roz subha sham ghar se bahir phirnay wali aurton ko, office ki larkiyon ko, university me, college may, behooda libaas may dekhay ga. Apni aqual kay parday kholo madam. Mard ki fitrat ko samjhain usay na mard bananay ki kosheh naa karain werna wo shadi kay bad kesi kaam ka nhe rahay ga.
By: Taha Rafiq, Karachi on Nov, 05 2019
Reply Reply
0 Like
Language: