غذائی ریشے یعنی فائبر

(HOMEO DR FATEHYAB ALI SYED, Rawalpindi)
فائبر غذائیت یا کیلوری کی فراہم نہیں کرتے بلکہ اہم حیاتیات افعال کی کارکردگی سر انجام دیتے ہیں بڑی آنت میں اربوں کے حساب سے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور فائبر ان کی غذا ہے

غذائی ریشے یعنی فائبر پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں جو پودوں کے خلیات کی دیواروں میں پائے جاتے ہیں جسمانی ہاضمہ انزائمز سے فائبر مزاحت رکھتے ہیں فائبر غذائیت یا کیلوری کی فراہم نہیں کرتے بلکہ اہم حیاتیات افعال کی کارکردگی سر انجام دیتے ہیں بڑی آنت میں اربوں کے حساب سے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور فائبر ان کی غذا ہے غذائی ریشہ کی دوا قسام ہیں حل پذیر اور نا حل پذیر نا حل پذیر فائبر پانی میں حل پذیر نہیں ہوتےجسمیں لگینن ، سیلولوز اور ہیمی سیلوز شامل ہیں حل پذیر فائبر جو پانی میں حل پذیر ہیں جسمیں پیکٹین ؛ گونداورلیس شامل ہیں فائبر پودوں بشمول پھل ، سبزیاں ، سالم اناج ، اور پھلیاں میں پایا جاتا ہے زیادہ تر خوراک میں نا حل پذیر فائبر 50-75 فیصد جبکہ30-25 فیصد حل پذیر فائبر ہوتا ہے خوراک جئی ؛چوکر ، جو ،سرخ لوبیا ؛ کالا لوبیا ؛پھلیاں اور مٹر زیادہ حل پذیر فائبر ریشہ پرمشتمل ہیں جبکہ گندم کا چوکر ، بھوری چاول ، لیٹش اور پالک کم حل پذیر فائبر ریشہ پر مشتمل ہیں فائبر کےصحت پر اثرات حل پذیر ریشہ سے خون میں کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ کم کرتا ہے تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ حل پذیر فائبر بائل ایسڈ کو باندھتا ہے اورآنتوں سے خارج کرتا ہے چونکہ بائل ایسڈ کم دستیاب ہیں جگر خون کے بہاؤ سے زیادہ کولیسٹرول کھینچتا ہے اس سے بلڈ کولیسٹرول سے سطح کم ہوتی ہے حل پذیر فائبر سے بلڈ شوگر کی سطح کواستحکام ملتی ہے ذیابیطس میں پیٹ خالی ہونے میں تاخیر محسوس ہوتی ہے اس سے کاربوہائیڈریٹ کی جذب ہونے کی شرح سست ہوجاتی ہے جذب ریگولیشن کو بہتر بناتا ہے بلڈ شوگر کم کرتا ہے اور انسولین کی ضروریات کم ہو جاتی ہےفائبرمیں پانی کو روکنے کی کافی گنجائش ہے ا گر کافی سیال پیئتے ہوں تو پاخانہ کو نرم کرنے اورقبض دورکرتا ہے فائبر کی مقدارقبض کو روکنے کے لئے مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے فائبر خاص طور پر ناقابل تحلیل ریشہ ہے اور کولن کینسر کا خطرہ کم خاتمے کی رفتار میں اضافہ کرتا ہےمؤثر وقت میں سَرطانی مادَّہ (کینسر کا سبب بننے والا مادَّہ) آنتوں کے خلیوں میں اسکی مقدار کو کم کرتا ہے پاخانہ میں کارسی نوجن کوکمزور اور کم نقصان دہ ہو جاتے ہیں فائبر احساس بڑھاتا ہے ڈھیر سی خوراک کھائے بغیر سیر ہونے کابغیر اضافی کیلوری کےموٹاپا کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں اورذیابیطس کی شدت کو بھی اعلی فائبر غذا آنتوں میں تھَیلیوں اور آنتوں میں تھَیلیوں کی تشکیل کے خطرے کم کرکے اور بڑی آنت کے اندر دباؤ کم کرکے اعلی فائبر غذا بواسیر کے خطرے کو کم پاخانہ کے ساتھ منسلک کشیدگی کا خاتمہ کر سکتی ہے کل اوسطا عام افرادکو بالترتیب خواتین اور مردکو غذائی ریشہ روزانہ 12-18 گرام لینا چائیے تجویز کردہ صرف غذائی ریشہ کی مقدار 14 گرام ہے فی 1000 کیلوری زیادہ اناج ؛پھلیاں ؛سبزیاں؛ پھل اور اناج کی روٹی کھا کر حاصل کر سکتے ہیں فائبرکا بتدریج اضافہ تاکہ ضمنی بداثرات کم جیسے آنتوں کی گیس فائبر کی مقدار میں اضافہ کے ساتھ سیال یعنی پانی کی مقدار میں اضافہ بڑھانا چائیے تحقیق سے معلوم ہوا غذائی طریقے جن کی بنیاد کم نشاستے والی خوراک ہیں معاشرے میں مقبول ہو رہی ہےاگرچہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ فائبر اور چھلکے والا اناج لمبی زندگی کے لیے یقیناً ضروری ہےفائبر قدرتی طور پر دل کے دورے، فالج اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کر دیتی ہے وزن، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول کو بھی قابو میں رکھتی ہے ماہریں متفق ہیں غذا میں بتدریج تبدیلیاں کر کے فائبر کی مقدار میں اضافہ کرنا چاہیےسفید روٹی کے بجائے بہترہے کہ اناج کی پوری بھوسی والی روٹیاں استعمال کریں روزانہ دو دفعہ پھل اور تین بار سبزیوں کا استعمال کریں بران جئ صحت کے لئے بران اوٹ کے مثبت اثرات اور کافی بہتر ہےحقیقت یہ ہے کہ جئ چوکر فائدہ مند ہے کیونکہ یہ ریشہ کا ایک بہترین ذریعہ ہے بران جئ میں فائبر 50٪ حل پزیر ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے185 مطالعوں اور 58 طبی ٹیسٹ سے فائبر کی اہمیت سامنے آئی ہے اور اس کی تفصیلات حال ہی میں معروف امریکی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر 1000 افراد کو 15 گرام (کم ترین فائبر) سے 25 سے 29 گرام فائبر(زیادہ فائبر) کی جانب لایا جائے تو اس سے 6 افراد کو دل کے امراض اور 13 افراد کو قبل ازوقت موت سے بچایا جاسکتا ہے۔زیادہ ترخوراک میں ان میں سے 25٪ ریشہ حل پزیر شکل میں لہذا کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں اتنا موثر نہیں ہےپھلیاں ، جو ؛ کچھ پھل اور سبزیاں بھی حل پزیر ریشہ کے بہترین اور سستے ذرائع ہیں تحقیقات اور مطالعوں سے فائبر کی اہمیت دنیا پر واضح ہوچکی ہے۔ ماہرین روزانہ 25 سے 30 گرام فائبر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

پھل اور خشک میوہ جات
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ چھلکے کا مطلب بھرپور فائبر کا استعمال ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اینٹی اوکسی ڈینٹس، وٹامن اور معدنیات بھی ان میں بھرپور ہوتے ہیں۔ جبکہ گودے سے 33 فی صد فائبر چھلکے میں ہوتا ہے اور اینٹی اوکسی ڈینٹس 328 گنا زیادہ ہو سکتے ہیں خشک میوہ جات میں پروٹین اور فائبر پایاجاتا ہے جس سے دل کی بیماریوں کو دور رکھنے میں مدد ملتی ہے خشک پھلوں میں وٹامن ’’ای‘‘ بھی وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے، جس سے کولیسٹرول کنٹرول میں رہتا ہےمونگ پھلی بھی دل کے لیے انتہائی مفید ہے خشک میوہ جات ذہنی اور جسمانی توانائی کا سبب بنتے ہیں اور یہ غذائیت اور فائبر سے بھر پور ہوتے ہیں، ان میوہ جات میں بادام، پستہ،اخروٹ، کاجو، مونگ پھلی، چلغوزے، خوبانی، ناریل، کشمش، انجیر اور دیگر شامل ہیں

سیب (جلد کے ساتھ) 1 میڈیمکل فائبر 2.8 گرام کیلے 1 چھوٹا کل فائبر 2.0 گرام انجیر ، خشک 3 کل فائبر 4.6 گرام اورنج 1 چھوٹا کل فائبر 1.8 گرام ناشپاتیاں 1 درمیانی کل فائبر 4.1 گرام اسٹرابیری 1 کپ کل فائبر 2.8 گرام

سبزیاں اور پھلیاں
سبزیاں اور پھلیاں فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں سبزیوں میں موجود بہت سے فائیٹو کیمیکلز اینٹی آکسیڈ ینٹ ہوتے ہیں ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ سیاہ لوبیا آنتوں اور معدے کے کینسر سے بچاتی ہے پھلیوں میں فائبر کی زبردست مقدار موجود ہوتی ہے جو خون میں گلوکوز کی مقدار کنٹرول کرتی ہے ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ لوبیا انسانی لبلبے کی کارکردگی بہتر بنا کر ذیابیطس کو روکتی ہے دنیا بھر کی طرح پاکستانیوں کی اکثریت جگر کی چربی (فیٹی لیور) میں مبتلا ہے، لوبیا جگر میں چربی جمع ہونے سے روکتی ہے
بروکولی ، پکا ہوا 1/2 کپ کل فائبر 3.2 گرام گاجر ، پکا ہوا 1/2 کپ کل فائبر 2.8 گرام مکئی ، پکا ہوا 1/2 کپ کل فائبر 3.9 گرام گرین لوبیا ، 1/2 کپ پکایا کل فائبر 1.2 گرام

سویا بین کی پھلیاں ، ½ کپ پکایا کل فائبر 7.0 گرام مونگ پھلی کا مکھن 2 چمچ. کل فائبر 2.4 گرام مٹر ، پکا ہوا 1/2 کپ کل فائبر 4.3گرام آلو ، بیکڈ (جلد کے ساتھ) 1 میڈیم کل فائبر 4.7 گرام آلو کے چپس 1 اونس کل فائبر 0.6 گرام

اناج اور دالیں
دالیں فائبر کا خزانہ ہیں اور ایک کپ میں 15 گرم تک فائبر موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دالیں خاص کر چنے، کالے چنے پروٹین سے مالا مال ہوتی ہیں ثابت مسور کہاوت ہے یہ منہ مسور کی دال- دالیں دل کے لیے بہت فائدہ مند ہیں جبکہ ان میں اینٹی آکسائیڈنٹس، پروٹین اور فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں 4 بار دالوں کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ 22 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق اناج فائبر کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ اناج کا استعمال کسی بھی صورت میں کیا جائے چاہے وہ گندم کے بسکٹ ہی کیوں نہ ہوں جسم کی فائبرکی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں گیہوں کے بھوسے میں فائبر ہوتا ہے اور گیہوں کا آٹا وٹامن ای سے بھرپو ر ہوتا ہے
بران اناج 1/3 کپ کل فائبر 8.5 گرام روٹی ، سفید 1 ٹکڑا کل فائبر 0.7 گرام روٹی ، پوری گندم 1 ٹکڑا کل فائبر 1.5 گرام کارن فلیکس 1 کپ 2.7 گرام گراہم کریکرز 2 ہر 2.8 گرام
جئ بران ، خشک 1/3 کپ کل فائبر 4.2 گرام دلیا ، 2/3 کپ پکایا کل فائبر 3.0 گرام کشمش برن 1 کپ کل فائبر 4.0 گرام چاول بھوری 1 کپ کل فائبر 2.4 گرام

فائبر کی زیاتی کےمضر اثرات
فائبر کی زیاتی شدید درد کے ساتھ اسہال اور آنتوں کی گیس فائبر میں اچانک اضافے سے وابستہ کچھ مسائل ہیں آہستہ آہستہ ریشہ کی مقدار کو چھ سے آٹھ ہفتوں تک بڑھانا بڑے اثرات کوکم کر سکتےہیں کچھ افراد آہستہ آہستہ انٹیک کے باوجود تکلیف کا سامنا کرسکتے ہیں پانی کی مقدار میں اضافہ سےمنفی ضمنی اثرات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہےضرورت سے زیادہ فائبر کی مقدار بعض ضروری معدنیات کو خون کے دھارے میں جذب ہونے کی بجائے ان کو خارج کرنے کا سبب بن سکتی ہے خوراک کی اشیاء سے بہت زیادہ فائبراضافی فائبر کی مقدار انتہائی اونچی اور خطرناک سطح کا نتیجہ ہے -

ہیومیوپیتھک ڈاکڑ فتحیاب علی سید بی ایس سی (غذااورغذائیت)ڈی ایچ ایم ایس[ 1974 لاہور]آر ایم پی (نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی حکومت پاکستان)رجسٹریشن نمبر 9027 تھراپیز٭غذااور غذائیت٭ ہیومیوپیتھی٭ ہربل میڈیسن٭ کلینیکل Meditation طبی مراقبے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 426 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: HOMEO DR FATEHYAB ALI SYED

Read More Articles by HOMEO DR FATEHYAB ALI SYED: 6 Articles with 13515 views »
I am qualified HOMEOPATH & NUTRITIONIST give consultation to CHRONIC patients since 1974. HOMEOPATHIC DOCTOR. FATEHYAB ALI SYED Bsc(Food& Nutrition).. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: