نیلی چڑیا

(نواب رانا ارسلان, Umerkot)
مختصر خلاصہ یہ ہے کے محبت انسان کو نصیب سے ملتی ہے ضد یا دولت سے نہیں ۔ اور عورتوں کو عزت دینی چاہیے نہ کہ انہیں قید کرنا چاہیے

یہ کہانی شہزادی جیسی پیاری سی نیلی آنکھوں والی لڑکی رامین کی ہے۔ جو داؤد اجمل صاحب کے ہاں پیدا ہوتی ہے۔ رامین اجمل داؤد اجمل صاحب کے ہاں پہلی اولاد ہوتی ہے۔
❇❇❇
مبارک ہو شہزادی ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے داؤد اجمل صاحب کو خوش خبری دی۔ داؤد اجمل صاحب خوشی سے چمک اٹھے۔ مبارک ہو بھائی جان ، پاس کھرے ان کے بھائی جواد اجمل صاحب نے گلے لگ کر مبارک باد دی۔
❇❇❇
دو دن بعد
داؤد اجمل صاحب اپنی بیگم تہمینہ داؤد اجمل صاحبہ اور ننّی شہزادی کو گھر لے کر آ جاتے ہیں گھر میں میاں اجمل صاحب ( رامین کے دادا ) اپنے بیٹے داؤد اجمل صاحب کے گلے لگ کر مبارک باد دیتے ہیں اور ننّی شہزادی کو گود میں لے لیتے ہیں ، پیاری سی نیلی آنکھیں اور خوبصورت چہرا ، میاں اجمل صاحب ننّی شہزادی کا ماتھا چومتے ہیں کہتے ہیں کہ شہزادی کے لیے نام بتاؤ ، جواد اجمل صاحب بچی کا نام بتاتے ہیں " رامین " اور سب کو یہ نام پسند آتا ہے اور یہ نام رکھ لیا جاتا ہے۔ رامین اجمل میاں اجمل صاحب کے آنگن میں ایک ہی ننّی شہزادی ہوتی ہے اس لیے سب اس کو بہت چاہتے ہیں۔
❇❇❇
دو مہینے بعد
جواد اجمل صاحب ( رامین کے چچا ) کی شادی ایک بہت ہی حسین لڑکی کرن کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ رامین اجمل دو مہینے کی ہو کر اور بھی زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے اور کرن جواد اجمل صاحبہ کو بھی رامین اجمل بہت ہی اچھی لگتی ہے ۔
❇❇❇
15 مہینے بعد
جواد اجمل صاحب کو الله تعالي بیٹا عطا کرتا ہے ۔ جس کا نام میاں اجمل صاحب " راحیل اجمل " رکھتے ہیں، راحیل اجمل بھی ماشالله بہت خوبصورت ہوتا ہے۔
❇❇❇
2 سال بعد
جواد اجمل صاحب کو الله تعالي ایک اور بیٹا عطا کرتا ہے جس کا نام " رمیز اجمل " رکھا جاتا ہے۔ اور رامین کو بچوں کے اسکول میں داخل کروایا جاتا ہے چند روز بعد "حیاء " رامین کی اسکول میں سہیلی بن جاتی ہے۔
❇❇❇❇
12 سال بعد
میٹرک کرنے کے بعد رامین کو سیالکوٹ کے بہت ہی اچھے کالج میں داخل کروایا جاتا ہے ، جہاں رامین کی بچپن کی سہیلی حیاء بھی داخلہ لیتی ہے۔ رامین کو پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے اور کالج میں وہ بہت ہی پڑھائی میں مصروف رہتی ہے رامین بہت ہی رہمدل اور انسانیت پرست ہوتی ہے، انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور ہر کسی کی مدد کرنا اسے بہت اچھا لگتا ہے۔ کالج میں ایک لڑکا " بدر الزماں " جسے رامین کی خوبصورت نیلی آنکھیں اور اس کی انسانیت پرستی بہت پسند آتی ہے، بدر الزماں بھی بہت ہی خوبصورت اور صاف دل انسان ہوتا ہے ، رفتہ رفتہ بدر کو رامین سے محبت ہو جاتی ہے ۔ بدر رامین کی محبت میں مجنوں ہو جاتا ہے، سارا دن کالج میں رامین کو دیکھنا اور سیاہ راتوں میں تارے گننا یہی بدر کا کام رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ رامین پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہے

✡✡✡
کیوں کہ رامین پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہے، اس لیے اس طرف توجہ نہیں دیتی کہ کوئی اسے سارا دن دیکھتا ہے۔ رامین کالج میں حیاء اور ایک دو اور سہیلیوں سے بات چیت کے علاوہ کسی اور سے زیادہ بات چیت نہیں کرتی۔ یوں ہی دو سال گزر جاتے ہیں۔ لیکن بدر اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتا۔ رامین کالج کی پڑھائی مکمل کر لیتی ہے اور راحیل اجمل بھی جوان ہو جاتا ہے ۔ راحیل اجمل کو رامین بچپن سے ہی بہت اچھی لگتی ہے اور جوان ہو کر راحیل کو رامین سے محبت ہو جاتی ہے۔
✡✡✡✡
رامین اور حیاء اعلٰی پڑھائی کے لیے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لیتی ہیں ۔اور جب بدر الزماں کو اس بات کا علم ہوتا ہے وہ بھی قائد اعظم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتا ہے
بدر الزماں اپنی خوش اخلاقی اور خوش مزاجی کی وجہ سے یونیورسٹی میں جلد ہی چھا جاتا ہے۔ بدر کے لیے یونیورسٹی آنے کا ایک یہ بھی مقصد ہوتا ہے کہ وہ رامین کو پا سکے۔ رامین کو بدر کی خوش اخلاقی اچھی تو لگتی ہے، لیکن رامین کے دل میں بدر کے لیے محبت کے احساسات نہیں جاگتے بدر خود کو تسلی دیتا ہے کہ آج نہیں تو کل رامین کے دل میں جگہ ضرور بناؤ گا۔
بدر رامین کی ہر بات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جس کی وجہ سے حیاء کو علم ہو جاتا ہے کے بدر رامین سے محبت کرتا ہے۔ حیاء رامین کو بتاتی ہے کے بدر کے دل میں رامین کے لیے کیسے جزبات ہیں، لیکن رامین حیاء کی بات کو اہمیت نہیں دیتی۔
اور وہاں راحیل اجمل کی نیندیں اُڑی ہوئی ہوتی ہیں رامین کی محبت میں، بدر اور راحیل اجمل کی ایک ہی آرزو ہوتی ہے " رامین " ، اور حیاء پگلی راحیل اجمل سے محبت کر بیٹھتی ہے۔

بدر الزماں اپنے نام کی طرح واقع ہی زمانے کا چاند ہوتا ہے لیکن رامین کی توجہ صرف پڑھائی کی طرف ہوتی ہے ۔ یونیورسٹی میں ایک اور لڑکا جس کا نام نواب زادہ سفیان ہوتا ہے، سفیان جب رامین کو دیکھتا ہے تو پہلی ہی نظر میں اسے رامین پسند آ جاتی ہے ۔ نواب زادہ سفیان حیدرآباد کے بہت ہی امیر شخص نواب بابر خان کا بیٹا ہوتا ہے ، نواب بابر خان کے دو بیٹے ہوتے ہیں ۔ 1۔ نواب زادہ سفیان، 2۔ نواب زادہ عفان ، نواب بابر خان کا ایک بھائی ہوتا ہے جس کا نام نواب حیدر خان ہوتا ہے۔ نواب حیدر خان کا ایک بیٹا نواب زادہ آہل اور ایک بیٹی ہانیہ حیدر ہوتی ہے۔ نواب حیدر خان صاحب کی اہلیہ ہانیہ اور آہل کے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں۔ نواب بابر خان کا خاندان اِکسویں صدی میں رہ کر بھی پرانے خیالات کے حامی ہوتے ہیں۔ ان کے خاندان میں عورتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ، نواب بابر خان کے دونوں بیٹوں کی تربیت ان کی اماں نے بہت اچھی کی ہوتی ہے، اس لیے دونوں بیٹے اپنے خاندان کے خیالات کے بہت خلاف ہوتے ہیں ، خاص طور پر سفیان عورتوں کو حقوق دینے کا حامی ہوتا ہے۔ ہانیہ حیدر نواب زادہ سفیان سے محبت کرتی ہے لیکن نوابوں کی ہویلی عورتوں کے لیے قید خانہ ہوتی ہے ، اس وجہ سے وہ ڈرتی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتی۔
✡✡✡
یونیورسٹی میں سفیان کا ایک دوست ہوتا ہے ، جس کا نام وجیہ ہوتا ہے۔ نواب زادہ سفیان بہت ہی خوبصورت اور خوش اخلاق ہوتا ہے۔ سفیان کو رامین سے محبت ہو جاتی ہے، رفتہ رفتہ رامین کو بھی سفیان اچھا لگنے لگتا ہے ، جو بات بدر کو اچھی نہیں لگتی خیر بدر در گزر کرتا ہے اور ایک دو سال ایسے ہی گزر جاتے ہیں
✡✡
راحیل بھی قائد اعظم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتا ہے۔ رامین سفیان کی طرف مائل ہو رہی ہوتی ہے، یہ بات بدر کو بہت تکلیف دیتی ہے۔ دوسری طرف راحیل بھی شب و روز یہی دعا کرتا ہے کہ رامین اسے مل جائے۔ بدر سفیان کو دو تین مرتبہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام ہو جاتا ہے۔ آخر بدر سفیان سے کہتا ہے " رامین سے دور رہو وہ میری محبت ہے، میں اسے پچھلے چار سال سے پسند کرتا ہوں" سفیان جواب دیتا " محبت کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں جہاں تمہارا چار سال سے آشیانہ ہے تو وہ تمہاری ہوگئی، محبت محبوب کے دل کے شاہی محل میں جگہ بنانے سے ملتی ہے، جو کوئی صدیوں سے نہ بنا سکا اور کوئی چند روز میں محل کا بادشاہ بن گیا۔ رامین اسی کی ہوگی جسے وہ چاہتی ہوگی" بدر نے کہا " چلو اس بات کا فیصلہ تقدیر پہ چھوڑتے ہیں کہ رامین کس سے محبت کرتی ہے جس سے وہ محبت کرے گی رامین اسی کی ہوگی۔
بدر الزماں بہت خوبصورت ہوتا ہے اور سفیان سے زیادہ مال دار ہوتا ہے، لیکن سفیان بھی نواب زادہ ہوتا ہے۔
✡✡
حیاء راحیل سے اظہار محبت کرتی ہے " راحیل ہمیں آپ بہت پسند ہیں ہم آپ سے محبت کرتے ہیں" راحیل حیران رہ جاتا ہے اور کچھ دیر بعد جواب دیتا ہے " معاف کیجیئے گا لیکن ہم کسی اور سے محبت کرتے ہیں" اور حیاء کا دل ٹوٹ جاتا ہے
✡✡
دوسری طرف نواب زادہ عفان کو حانیہ حیدر سے محبت ہو جاتی ہے، لیکن ہانیہ سفیان سے محبت کرتی ہے۔
✡✡
سفیان رامین سے اظہار محبت کرتا ہے، چاندنی رات کو سفیان لڑکیوں کے ہوسٹل میں چھپ کے جاتا ہے اور اکیلی بیٹھی رامین کی طرف دیکھتا رہتا ہے، رامین سوال کرتی ہے " سفیان آپ یہاں کیا کر رہے ہو اور میری طرف ہی کیوں دیکھ رہے ہو " سفیان ٹھنڈی آہ لیتا ہے اور چاند کی طرف دیکھتا ہے پھر رامین کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے " آپ تو چاند سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں " رامین کہتی ہے کہ " کیا مطلب" سفیان جواب دیتا ہے " شہزادی صاحبہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں"، رامین نظریں جھکا لیتی ہے اور چپ ہو جاتی ہے، سفیان کہتا ہے کہ" رامین صاحبہ جواب دیں" ، رامین اٹھتی ہے جھکی ہوئی نظر سے اور ہلکی سی آواز سے کہتی ہے کہ "" ہمیں بھی آپ سے محبت ہے "" اتنا کہہ کر رامین وہاں سے چلے جاتی ہے۔

یونیورسٹی کی پڑھائی مکمل ہو چکی ہوتی ہے، سب اپنے اپنے گھر جانے کی تیاری میں ہوتے ہیں۔ بدر کو رامین اور سفیان کی محبت بہت تکلیف دیتی ہے، بدر دل میں سوچتا ہے کہ " رامین صرف میری ہے میں رامین کو سفیان سے چھین لوں گا۔ اور وہاں سفیان رامین سے یونیورسٹی میں آخری ملاقات کے لیے بے تاب ہوتا ہے ۔ جب ان کی ملاقات ہوتی ہے رامین چشم پر نم ہو جاتی ہے سفیان رامین کے آنسو صاف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ " فکر مت کریں ہم آپ کو بہت جلد دلہن بنا کر لے جائیں گے، رامین نم آنکھوں کے ساتھ مسکراتی ہے اور کہتی ہے ""ہم آپ کا انتظار کریں گے"" اور یوں سب اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔
✡✡✡
سفیان جب حیدرآباد ہویلی میں پہنچتا ہے، نواب بابر خان سفیان سے کہتے ہیں "ہم نے ہانیہ کا رشتہ کر دیا ہے اور اب تمہاری باری ہے" سفیان یہ بات سن کر خاموشی سے ہویلی کے اندر جاتا ہے اور سفیان کو معلوم ہوتا ہے کہ ہانیہ سے پوچھے بغیر اس کا رشتہ کر دیا گیا ہے، سفیان ہانیہ کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے " ہانیہ کیا آپ آپ اس رشتے سے خوش ہو" ہانیہ حیرانگی سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے "بہت اچھا لگا کہ کسی نے پہلی بار میری خوشی پوچھی، ویسے کیا میری خوشی ضروری ہے؟" ہانیہ سوال کرتی ہے، سفیان کہتا ہے "ہاں آپ کی خوشی ضروری ہے" ہانیہ کہتی ہے "نہیں میں خوش نہیں ہوں کیوں کہ مجھے محبت ہو گئی ہے" سفیان کہتا ہے "کس سے" ہانیہ جواب دیتی ہے """اس قید خانے سے جہاں میں نے صرف اندھیرے ہی اندھیرے دیکھے ہیں اب یہاں سے جانے کو دل نہیں کرتا اب یہاں سے میری ڈولی نہیں صرف میرا جنازہ ہی نکلے گا، لیکن یہاں کے شہنشاہوں کے آگے کسی کی ضد نہیں چلتی، ان کے منہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ پتھر بن جاتے ہیں لیکن میں اپنی ضد منوا کر رہوں گی""" سفیان کو ہانیہ کا جواب الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ کچھ وقت بعد سفیان اپنی اماں کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے "امی جان مجھے محبت ہو گئی ہے" امی جان کہتی ہیں کہ "کس سے" سفیان جواب دیتا ہے "سیالکوٹ کی اک بہت ہی حسین لڑکی رامین سے" امی جان کہتی ہیں "" الله تعالي تمہیں تمہاری محبت مبارک کرے"" یہ بات ہانیہ سن لیتی ہے اور ہانیہ دل ہی میں کہتی ہے کہ ""میں سفیان سے اظہار محبت کر کے اسے الجھن میں نہیں ڈال سکتی"" اور ہانیہ خود کشی کر لیتی ہے۔
سفیان کو ہانیہ کی موت کا بہت دکھ ہوتا ہے اور عفان بھی اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، ہانیہ کے ابا نواب حیدر خان کچھ روز بعد ہانیہ کے غم میں وفات پا جاتے ہیں۔ ہانیہ اور اس کے ابا کی وفات آہل کو تنہا کر دیتی ہے، آہل جو خود کو حیدرآباد کا شہنشاہ سمجھتا تھا اب وہ اندر سے بہت کمزور ہو جاتا ہے۔
✡✡✡
اور وہاں میاں اجمل صاحب راحیل اور رامین کا رشتہ کر دیتے ہیں۔ راحیل تو بہت خوش ہوتا ہے لیکن رامین سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ راضی ہے تو رامین درد کے مارے اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے اور سب سمجھتے ہیں کہ شائید شرما گئی۔
سفیان کو جب اس بات کا علم ہوتا ہے تو سفیان سیالکوٹ رامین کے گھر جا کر رامین کے ابا داؤد اجمل صاحب سے رامین کا ہاتھ مانگتا ہے "" سر میں رامین سے بہت محبت کرتا ہوں، اسے ہمیشہ خوش رکھوں گا اور رامین بھی مجھ سے محبت کرتی ہے مہربانی فرمائیں مجھے رامین کا ہاتھ دے دیں"" سفیان داؤد اجمل صاحب سے کہتا ہے۔ داؤد اجمل صاحب کو غصہ آتا ہے اور وہ راحیل اور اپنے نوکروں سے کہتے ہیں کہ اسے مار کر باہر کا راستہ دکھلاؤ اور راحیل اور ان کے نوکر سفیان کو بہت مارتے ہیں۔ وہاں سے وجیہ سفیان کو ہاسپٹل لے جاتا ہے، رامین کو یہ بات بہت تکلیف دیتی ہے اور راحیل رامین سے پوچھتا ہے "کیا آپ سچ میں سفیان سے محبت کرتی ہیں؟" رامین کا جواب ہاں میں ہوتا ہے۔ یہ بات سن کر راحیل کا دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن راحیل رامین سے وعدہ کرتا ہے "رامین فکر مت کریں سفیان آپ کو ضرور ملے گا" راحیل سب کو سمجھاتا ہے لیکن داؤد اجمل صاحب نہیں مانتے، راحیل اپنے دادا سے جا کر کہتا ہے کہ " دادا جان رامین کو اسکی خوشی دے دیں وہ سفیان سے محبت کرتی ہے" میاں اجمل صاحب فیصلہ کرتے ہیں کہ رامین کی شادی وہیں ہوگی جہاں رامین چاہے گی یہ فیصلہ سب کو ماننا پڑتا ہے اور رامین بہت خوش ہو جاتی ہے سفیان کچھ دن بعد دوبارہ رامین کے گھر آتا ہے اور پھر سے رامین کے لیے التجا کرتا ہے اور میاں اجمل صاحب کہتے ہیں کہ " عزت کے ساتھ بارات لے کر آؤ اور رامین سے نکاح کر کے اسے لے جاؤ " اور سفیان خوش ہو جاتا ہے۔
سفیان خوشی خوشی حیدرآباد کے لیے نکلتا ہے راستے میں بدر اور اس کے ساتھی سفیان کو بہت مارتے ہیں۔ اس بات کا وجیہ کو جب علم ہوتا ہے تو وجیہ سفیان کو پھر ہاسپٹل لے جاتا ہے۔

اور سفیان کے ٹھیک ہو جانے کہ بعد وجیہ اور سفیان دونوں حیدرآباد کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ حیدرآباد ہویلی پہنچ کر سفیان نواب بابر خان سے بات کرتا ہے "بابا میں رامین اجمل سے شادی کرنا چاہتا ہوں" نواب صاحب کہتے ہیں " وہ کون ہے" سفیان جواب دیتا ہے "وہ سیالکوٹ کی ہے داؤد اجمل صاحب کی بیٹی ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں" نواب صاحب کہتے ہیں "تم نے اسے کہا دیکھا" سفیان جواب دیتا ہے "وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی" نواب بابر خان کہتے ہیں " ہم تمہاری شادی اپنی مرضی سے کریں گے اور وہ پڑھی لکھی لڑکی ہمارے گھر کی بہو نہیں بن سکتی اس لیے تم اسے بھول جاؤ" سفیان جواب دیتا ہے "بابا میں رامین کو نہیں بھول سکتا" نواب صاحب کہتے ہیں "تمہیں اسے بھولنا پرے گا نہیں تو اس کا انجام بڑا ہوگا" سفیان جواب دیتا ہے "بابا آپ کی اسی ضد نے ہانیہ کی جان لی ہے" نواب صاحب غصے میں کہتے ہیں "اگر اس لڑکی کے بارے میں دوبارہ بات کی تو تمہیں گھر سے نکال دوں گا" یہ کہہ کر نواب بابر خان وہاں سے چلے جاتے ہیں۔
سفیان جا کر اپنی اماں سے ملتا ہے اور بتاتا ہے "اماں جان میں رامین کے گھر والوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ میں بارات لے کر آؤں گا لیکن بابا سائیں مان نہیں رہے، سفیان کی اماں کہتی ہیں ""بیٹا جاؤ تم رامین سے شادی کر لو"" اور سفیان کی اماں سفیان کو ایک نصیحت کرتی ہیں، "بیٹا کبھی بھی رامین کا دل مت دکھانا اور کسی بھی عورت کا دل مت دکھانا سب عورتوں کی عزت کرنا" اور سفیان کی اماں سفیان کے سر پہ ہاتھ رکھتی ہیں اور کہتی ہیں ""جاؤ بیٹا میری دعا تمہارے ساتھ ہے"" سفیان نواب صاحب کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے " بابا سائیں میں جا رہا ہوں رامین سے شادی کرنے" اور سفیان وہاں سے چلے جاتا ہے۔ نواب بابر خان عفان کو بلاتا ہے اور کہتا ہے "جاؤ سفیان کو روکو اور نہ رکے تو اسے باندھ کر لے آؤ اور ہویلی میں قید کر دو، عفان جواب دیتا ہے "بابا سائیں میں بھائی جان کو نہیں روکوں گا بلکہ میں ان کے لیے دعا کروں گا کے وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں"۔ نواب صاحب آہل کو کہتے ہیں کہ "جاؤ اسے لے کر آؤ" آہل جب ہویلی سے نکلتا ہے تو اس کے پیچھے ہی عفان چلا جاتا ہے۔ آہل سفیان کو پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ "سفیان چپ کر کے میرے ساتھ عزت سے ہویلی چلو نہیں تو میں تمہیں بے عزت کر کے لے جاؤں گا۔
سفیان جواب دیتا ہے "آہل تم ابھی تک پرانے زمانے میں جی رہے ہو مجھے جانے دو اسی میں تمہارا بھلا ہے" اور وہاں عفان بھی پہنچ جاتا ہے اور عفان آہل سے کہتا ہے ""آہل بھائی ہم نے اسی ضد کی وجہ سے ہانیہ کو کھو دیا کیا اب سفیان بھائی کو بھی کھونا چاہتے ہیں آپ؟ آہل بھائی مہربانی کر کے اس قید خانے کی دیواریں توڑ دیں نہیں تو ناجانے کتنے پرندے اس اندھیرے میں ڈر ڈر کر مر جائیں گے"" آہل پر عفان کی بات کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے اور آہل عفان سے کہتا ہے "جاؤ تم سفیان کے ساتھ آزادی سے جیو چچا جان کو میں خود ہی سمبھال لوں گا۔" اور عفان سفیان اور وجیہ سیالکوٹ جانے کے لیے نکل جاتے ہیں۔ نواب بابر خان کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو وہ اپنے خاص آدمی "دلاور" سے کہتا ہے "جاؤ انہیں میرے پاس لے کر آؤ" دلاور اپنے ساتھ بہت سے ساتھی لے کر نکلتا ہے لیکن نواب زادہ آہل شہر کے سارے باہر جانے والے راستوں پہ اپنے ساتھی چھوڑ دیتا ہے، اور دلاور کو پکڑ کر نواب صاحب کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے "چچا جان دلاور بہت بہادر ہے لیکن میرے ہوتے ہوئے حیدرآباد سے باہر چڑیا بھی نہیں جا سکتی، چچا جان میں نے آپ کے ہر فیصلے کا مان رکھا، آج آپ بھی میرے فیصلے کو مان لیں مہربانی فرمائیں سفیان کو جانے دیں" نواب صاحب کو غصہ آتا ہے اور ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے، آہل سفیان اور عفان کو واپس بلا لیتا ہے اور نواب صاحب کو ہاسپٹل لے جاتا ہے، سفیان اور عفان دونوں ہاسپٹل پہنچتے ہیں۔ نواب صاحب آہل، سفیان اور عفان سے ملنے کی خوائش کرتے ہیں۔ جب وہ تینوں نواب صاحب کے پاس جاتے ہیں تو نواب صاحب کہتے ہیں ""بیٹو مجھے معاف کر دو میں تم سب کا اور خاص طور پر ہانیہ کا گناہ گار ہوں"" اور نواب صاحب یہ بات کہہ کر وفات پا جاتے ہیں۔ نواب صاحب کی موت کا سب کو بہت دکھ ہوتا ہے۔ نواب صاحب کی وفات کی چار مہینے بعد آہل سفیان سے کہتا ہے "جاؤ تم رامین کو بیاہ کر گھر لے آؤ" سفیان اور عفان ایک بار پھر سیالکوٹ جاتے ہیں لیکن راستے میں بدر دونوں کو اغوا کروا لیتا ہے۔ اس بات کا علم جب وجیہ کو ہوتا ہے تو وجیہ راحیل اور آہل کو بتاتا ہے۔ بدر سفیان پر بہت تشدد کرواتا ہے اور کہتا ہے کی واپس چلے جاؤ لیکن سفیان نہیں مانتا۔
رامین کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو وہ بہت روتی ہے۔ راحیل، وجیہ اور آہل سارے شہر میں سفیان اور عفان کو ڈھونڈتے ہیں۔ آخر آہل کو وہ مل ہی جاتے ہیں، اس کے بعد آہل کی بدر کے ساتھیوں کے ساتھ کافی جھڑپ ہوتی ہے۔ سفیان بدر سے کہتا ہے "تم ہمارا راستہ چھوڑ دو نہیں تو پچھتاؤ گے " بدر جواب دیتا ہے "چلو ایک بازی لگاتے ہیں ٹینس کی بازی، اگر تم جیت گئے تو میں تمہارا راستہ چھوڑ دوں گا اور اگر میں جیت گیا تو تم واپس حیدرآباد چلے جاؤ گے" سفیان جواب دیتا ہے کہ " مجھے منظور ہے" بدر ٹینس کا بہت اچھا کھلاڑی ہوتا ہے لیکن سفیان کو بھی اپنی محبت پر یقین ہوتا ہے، دونوں کے بیچ کافی جنگ ہوتی ہے آخر سفیان جیت جاتا ہے، لیکن پھر بھی بدر ان کا راستہ نہیں چھوڑتا، سفیان کے ساتھ وجیہ، عفان، آہل اور راحیل ہوتے ہیں اور بدر کے ساتھ بہت سے ساتھی ہوتے ہیں، ان کے بیچ کافی جھڑپ ہوتی ہے سفیان والوں کو کافی چوٹیں لگتی ہیں اور پھر دلاور اپنے ساتھ بہت سے ساتھی لے کر وہاں پہنچ جاتا ہے، اب اگر ان کے بیچ جھڑپ ہوتی تو بہت سی جانیں قربان ہو جانی تھی، لیکن رامین وہاں آجاتی ہے اور کہتی ہے ""بدر ہم سفیان سے محبت کرتے ہیں اور اگر سفیان یہاں سے چلے بھی گئے تو بھی ہم آپ سے نکاح نہیں کریں گے مہربانی کر کے آپ اس جھگڑے کو روکو نہیں تو پہلے مجھے مار دو پھر جو مرضی کر لینا "" بدر رامین کے آنسوؤں کے آگے سر جھکا دیتا ہے اور سفیان سے کہتا ہے "" بلکل درست کہا تھا تم نے کہ محبت زمین کا ٹکڑا نہیں، جاؤ لے جاؤ رامین کو، خدا تمہارا محافظ ہو"" یہ بات کہہ کر بدر اور اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں۔
اور پھر سفیان اور رامین کی شادی ہو جاتی ہے اور رامین راحیل سے کہتی ہے "راحیل آپ حیاء سے شادی کرلیں" اور راحیل اور حیاء کی بھی شادی ہو جاتی ہے۔ سفیان رامین کو حیدرآباد لے جاتا ہے۔
ہویلی میں نواب زادہ آہل اپنے سب نوکروں کو بلاتا ہے اور کہتا ہے ""آج سے تم سب ہمارے ساتھ بیٹھو گے اور ہمارے ساتھ کھاؤ گے اور عورتوں کی عزت کرو گے، آج سے نواب وہ نہیں جو صدیوں پرانی ریت کو آگے لے کر چلے گا ، نواب وہ ہوگا جو انسانی حقوق کا علم بردار ہوگا، نواب وہی ہوگا جو عورتوں کی عزت کرے گا، نواب وہی ہوگا جو اپنے دل کی سنے گا۔
✡✡✡
چند مہینے بعد
سفیان اور رامین سیالکوٹ جاتے ہیں، ان کو سیالکوٹ کے بازار میں اک لمبے بالوں والا پاگل نظر آتا ہے، اس کے پاس ایک پنجرا ہوتا ہے جس میں ایک نیلی چڑیا ہوتی ہے اور وہ اسے بہت پیار کرتا ہے، یہ وہی بدر الزماں ہوتا ہے جو رامین سے محبت کرتا تھا جو سیالکوٹ کا امیر ترین شخص تھا۔ رامین اور سفیان اسے دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ " بدر یہ کیا حال بنا رکھا ہے" بدر مسکراتا ہے اور کہتا ہے کہ """ کیا تم نے کبھی نیلی چڑیا دیکھی ہے؟ ایسی ہوتی ہے نیلی چڑیا، سفیان یہ میں تمہیں نہیں دوں گا، پہلے بھی تم مجھ سے میرا سب کچھ چھین کر لے گئے تھے، اب پھر تم مجھ سے میری جان لینے آ گئے ہو""" اتنا کہہ کر بدر الزماں وہاں سے چلا جاتا ہے۔ رامین کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور سفیان رامین کو وہاں سے لے جاتا ہے۔

"مکتبِ عشق سے ہر کوئی واقف نہیں جناب
پا لینا ہی عشق نہیں فنا ہونا بھی عشق ہے"
۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: نواب رانا ارسلان

Read More Articles by نواب رانا ارسلان: 2 Articles with 1227 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2019 Views: 738

Comments

آپ کی رائے