نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم کا عشق

(Salman Usmani, )

مولاناقاری احسن رضوان
ایک مسلمان کا حقیقی سرمایہ وہ آپﷺ سے محبت وعشق ہے، اگر کوئی دل عشقِ نبی سے خالی ہو تو وہ دل دل کہلانے کا مستحق نہیں،احادیثِ مبارکہ میں آپﷺ نے اپنی ذات سے محبت ہی کو اِیمان کامل کی علامت قرار دیا ہے،ایک موقعہ پر آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کا مل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نز دیک اس کی ذات سے، اس کے والدین سے، اس کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے زیا دہ محبوب نہ ہو جاؤں(مشکوٰۃ: ص12)علّامہ قطب الدین ؒ فرماتے ہیں :اس حدیث کا حا صل یہ ہے کہ تکمیلِ ایمان کا مدار حبِّ رسول ؐپر ہے، جس شخص میں ذاتِ رسا لت ؐسے اس درجے کی محبت نہ ہو کہ اس کے مقابلے پر دنیا کے بڑے سے بڑے رشتے، بڑے سے بڑے تعلق اور بڑی سے بڑی چیز کی محبت بھی بے معنیٰ ہو، وہ کا مل مسلمان نہیں ہو سکتا،اگر چہ زبان و قول سے وہ اپنے ایمان و اسلام کا کتنا ہی بڑا دعویٰ کرے(مظا ہرِ حق جدید1/76)آپ ﷺ سے محبت کا حقیقی مفہوم تو یہی ہے کہ آپ ﷺ کی اتباع پر ہر چیز کو قربان کردے ،اس کے نزدیک آپ ﷺ کی اتباع کے علاوہ دیگر تمام چیزیں ہیچ ہو ں،اتباع کے بغیر محبت کا تصور ہو ہی نہیں سکتا، اسی لیے ہر مسلمان آپﷺ کی اتباع ہی میں اپنی کامیابی سمجھے‘ آپ ﷺ سے محبت کے بے شمار واقعات ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے محبت کے واقعات انتہائی قابلِ رشک ہیں حضرت ابو بکر صدیقؓ جب مسلما ن ہوئے اور اپنی شہادت کا بر ملا اعلان فرمایا تو کفارِ مکہ آپؓ پر ٹوٹ پڑے۔ آپؓکو زخمی کردیا؛لیکن ان سب کے باوجود جب آپؓ کو ہو ش آیا توانہوں نے اپنے سلسلہ میں کوئی گفتگو نہیں فرمائی بلکہ انہو ں نے سب سے پہلے آپ ﷺ کے متعلق دریافت کیا، اور جب تک آپﷺ کی خبر نہ دی گئی اس وقت تک کو ئی چیز استعمال نہ کی،آپ ﷺسے حضرات صحابہ کرامؓ کو کیسی محبت تھی؛بلکہ آپ ﷺکی ذات مبارک انہیں اپنی جانو ں سے زیادہ عزیز تھی؛اس لیے صحابہ کرامؓ تکالیف خو د برداشت کرتے، پریشانیاں خود اٹھا کر آپ ﷺ کو راحت پہنچانے کی فکر میں رہتے۔ حضرت ابو دجانہث کا غزؤ ہ احد میں حیرت انگیز طرز ِعمل سیر ت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت ابو دجانہؓ نے آپ ﷺ کی حفاظت کی خاطر اپنی پیٹھ کو تیروں کے لیے ڈھال بنا لیا تھا؛ یہاں تک کہ بہت سارے تیر ان کی پیٹھ پر لگے ۔ (سیرۃ ابن اسحاق 1/328) عروہ ابن مسعودثقفی نے آپ ﷺکے صحابہ کرامؓ کو دیکھا تو بے اختیار بول اٹھا کہ میں نے تو ایسا قیصر و کسریٰ کے دربار میں بھی نہیں دیکھا۔

ایک صحابیؓ حضرت زید بن دثنہث کا عجیب و غریب واقعہ ہے۔ جس پر کفار نے بھی حیرت واستعجاب کا اظہار کیا ہے۔جب حضرت زیدؓ کو تختہ دار پر چڑھا یا جارہا تھا تو اس موقع پر ابو سفیان نے کہا کہ اے زیدؓ ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تم اپنے گھر والوں کے ساتھ اطمینان سے رہو اور تمہاری جگہ پر محمدﷺ کو (نعوذباﷲ) تختہ دا ر پر چڑھا یا جائے؟اس موقع پر حضرت زیدؓ نے ابو سفیان کو جو جواب دیا وہ سیرت کی کتابوں میں جلی عنوان والفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ حضرت زیدؓ نے فرمایا: قسم بخدا! میں تو اس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ آپﷺ اپنے مقام ہی پر رہیں اور انہیں کوئی کانٹا چبھ جائے اور میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں۔ حضرت زیدؓ کے اس جواب سے حواس باختہ ابو سفیان نے کہا کہ کوئی انسان کسی انسان سے اتنی محبت نہیں کرتا جتنی محمدﷺ کے ساتھی محمدﷺ سے کرتے ہیں (شفاء 2/23 ) حضرت زیدؓگویا یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے جتنی تکالیف ہو سکے وہ سب برداشت کر لوں گا؛ لیکن آپﷺکے لیے میں کسی ادنیٰ سی ادنیٰ تکلیف کوگوار ا نہیں کرسکتا۔حضرت عبداﷲ بن زید بن عبدربہ ؓجو صاحب ا ذان کے لقب سے مشہورتھے؛اپنے باغ میں کام کر رہے تھے،اسی حالت میں ان کے صاحب زادے نے آکر یہ اندوہناک خبر سنائی کہ سرور ِدو عالمﷺ وصال فرما گئے ہیں، عشق ِ نبوی ﷺسے سرشار،عشق رسول ﷺ میں سرمست یہ صحابی ؓا س جان گداز خبر کی ضبط اورتاب نہ لا سکے، بے تابا نہ فضا میں ہاتھ بلند ہوئے اور زبان سے یہ حسرت ناک الفاظ نکلے،خدا وند!اب مجھے بینائی کی دولت سے محروم کر دے،تاکہ یہ آنکھیں جو سرکار دو عالم ﷺکے دیدار سے مشرف ہوا کرتی تھیں اب کسی دوسرے کو نہ دیکھ سکیں(مظاہر حق جدید1/77)مرد تو مرد تھے، انھیں تو آپﷺ سے غایت درجے کی محبت تھی ہی؛ لیکن عورتیں بھی آپ ﷺ سے محبت کے سلسلہ میں مردوں سے کہیں پیچھے نہیں تھیں؛بلکہ عورتیں بھی آپﷺ سے محبت کے معاملے میں مردوں کے دوش بدوش قدم بہ قدم تھیں۔

ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ اس انصاری عورت کا ہے جو احد کے میدان کی طرف آپﷺ کی شہادت کی خبر سن کر دوڑ رہی تھی، راستہ میں کسی خبر دینے والے نے اس خاتون کو آگاہ کیا کہ تیرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، اس نے کوئی پروا نہیں کی، اس نے یہ خبر سنی ان سنی کر دی اور آگے بڑھتی چلی گئی، کسی نے اس خاتون کو دوبارہ مطلع کیا کہ تیرے بھائی کا انتقال ہوگیا اس پر بھی اس نے کوئی توجہ نہ دی اور بڑھتی ہی رہی، پھر کسی نے اسے مطلع کیا کہ تمہارے باپ کا بھی انتقال ہو چکا ہے، یہ سن کر بھی اس نے میدان احد کی طرف اپنا سفر جاری رکھا؛لیکن جب آپ ﷺ کی ذات ِگرامی کو دیکھ چکی تو بے اختیار اس کے زبان سے یہ الفاظ نکلے ’’کل مصیبۃ بعدک جلل‘‘ہر مصیبت آپ ﷺ کے بعد ہیچ ہے،یعنی آپﷺ کے بعد ہر مصیبت کو ہم گوارا کر سکتے ہیں؛لیکن آپ ﷺ کی شہادت کی خبر ہمیں گوارا نہیں،یہ تھا دورِنبوت کی عورتوں کا آپﷺسے عشق،یہی وہ عشق ہے جس نے ان کی ذاتوں کو بقا نصیب فرمایا،نیز حضراتِ صحابہ کرام ؓ نے اپنی محبت و عشق کے سلسلہ میں فرما یا ہے۔

حضرت عمرؓنے فرمایاتھا:آپ ﷺمجھے میرے نفس سے زیادہ محبوب ہیں عمروبن العاص ؓنے کہا تھا کہ کوئی چیز مجھے آپ ﷺسے زیادہ محبوب نہیں (شفاء21/2) حضرت علی ؓ سے آپﷺ کی محبت کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو کہا: قسم بخدا! آپﷺ مجھے اپنے مال واولاد اور والدین، پیاس کے موقع پر ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہیں(شفاء 22/2) بعض حضراتِ صحابہ کرام ؓکے سلسلہ میں منقول ہے کہ وہ آپ ﷺسے محبت کی بنا پر نگاہ کو پھیرتے بھی نہیں تھے۔ (شفا ء31/2)اسی طرح عورتوں کے عشقِ نبویﷺکے سلسلہ میں حضرت عبداﷲ بن عبّاس ؓ فرماتے ہیں: ایک عورت آپﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتی اور یہ کہتی کہ میں اپنے گھر سے، اپنے شوہر سے نفرت، عداوت ، یا بغض کی وجہ سے نہیں نکلی ہوں!بلکہ صرف اور صرف اﷲ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں گھر سے نکل آئی ہوں (سبل الھدیٰ والرشاد 11/431)حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک عورت آئی اور مجھ سے درخواست کرنے لگی کہ مجھے حضور ﷺ کی قبرمبارک دکھاؤ،حضرت عائشہ ؓ نے قبردکھا دی،وہ عورت قبر دیکھ کر رونے لگی،اتنا زیادہ روئی کہ وہ مر گئی (شفاء 23/2)حضرت عمرؓیک دفعہ رات میں گشت کے لئے نکلے،اتفاقاً ایک گھر میں چراغ کی روشنی نظر آئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بڑ ھیا اون بننے میں مصروف ہے اور آپﷺ کی تعریف میں اشعارپڑھ رہی ہے، یہ سن کرحضرت عمرؓ رک گئے اور اس بڑھیا کے پاس بیٹھ گئے ،اس بڑھیا نے آپ ﷺکی مدحت میں کئی اشعار پڑ ھے ، جسے سن کر حضرت عمر ؓرونے لگے (شفاء 23/2 )

حضرات صحابہ کرامؓ کی آپ ﷺسے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی وہ حضورﷺ کا نامِ مبارک لیتے ان پر کپکپی طاری ہو جاتی، اور بہت زیادہ رونے لگتے،یہی حال دیگر تابعین کرام کا بھی ہوتا(شفاء 26/2) الغرض آپ ؐسے محبت کے بے شمار واقعات ہیں، جن کا احاطہ انتہائی دشوار اور نا ممکن ہے،اس مختصر سے مضمون میں صرف چند واقعات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ واقعات ہمارے لیے عشقِ نبویؐ میں اضافہ کا ذریعہ بنیں، ان واقعات کو پڑھ کر ہم بھی اپنے اندرون میں عشقِ نبوی کی شمع روشن کریں اور عشق کے حقیقی مقتضا اتباع ِنبوی کا راستہ اپنائیں، آپ ﷺ کے فرمو دات کے اتباع کو اپنا نصب العین بنا لیں، اس لیے کہ دیگر تمام چیزیں ختم اور فنا ہونے والی ہیں؛لیکن عشق مصطفی ﷺ ہی ایک ایسی عظیم اور بے بہا دولت ہے جس کو دوام ہی دوام ہے؛ بلکہ یہ عشق رسولﷺ جس ذات کے ساتھ مل جائے،اس فانی ذات کو بھی بقا کی دولت سے معمورکردیتاہے، پھر اس عاشق رسول ﷺ کے تذکرے آسمان وزمین میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہ جاتے ہیں، اس لیے ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندرون میں محبت رسول ﷺ پیدا کرنے کی حتی المقدور سعی وجد وجہد کرے، اس کے لیے آپ ﷺکی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی سعی پیہم کرے؛ اسی لیے علامہ عاقل حسامی نے فرمایا تھا
عاشقِ محمدؐ ہے، غیر کا نہیں عاقل
عشق مصطفی ؐ باقی، عشق غیر فانی ہے
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اﷲ تعالی تمام ہی مومنین کو آپ ﷺ کی حقیقی محبت عنایت فرمائے ۔آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Usmani

Read More Articles by Salman Usmani: 85 Articles with 38448 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2019 Views: 675

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ