بیت المقدس سے خانہ کعبہ تک

(Muhammad tariq, Arifwala)
پہلے تمام مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے خانہ کعبہ کا حکم کب اور کیسے ملا

جب حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینۂ منورہ میں تشریف لائے تو انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اورنبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ پاک کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں۔ البتہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قلبِ اطہر کی خواہش یہ تھی کہ خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیاجائے۔ چنانچہ ایک دن نماز کی حالت میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس امید میں باربار آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم آجائے، اس پر نماز کے دوران یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جس میں حضور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رضا کو رضائے الٰہی قرار دیتے ہوئے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کے حسین انداز کو قرآن میں بیان کرتے ہوئے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خواہش اور خوشی کے مطابق خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز ہی میں خانہ کعبہ کی طرف پھر گئے، مسلمانوں نے بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا اورظہر کی دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف ہوئیں اور دو رکعتیں خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کی گئیں۔(تفسیر صراط الجنان، ۱/۲۳۳ملتقطاً) وہ آیتِ کریمہ جو نازل ہوئی وہ یہ ہے:

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗؕ (پ۲، البقرۃ:۱۴۴)

ترجَمۂ کنزالایمان: ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانوتم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو




 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad tariq

Read More Articles by Muhammad tariq: 3 Articles with 1161 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2019 Views: 184

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ