فرہادِ لوح و قلم- نند کشور وکرم

گزشتہ اگست کی 27 تاریخ کو 89سالہ بزرگ افسانہ نگار اور ادبی صحافی جناب نندوکشور وکرم کا انتقال ہوگیا۔ وہ جتنی پرسکون زندگی جیے اُن کا آخری سفر بھی ویسا ہی رہا۔ اس رات دس بجے فون آیا، ہمیشہ کی طرح خوش دلی سے پوچھا کیا ہورہا ہے؟ میں نے کہا، ٹی وی دیکھ رہا ہوں، آپ کیا کررہے ہیں؟ بولے عالمی اُردو ادب کا اگلا شمارہ ستیہ پال آنند پر ہے، کمپیوٹر پر کام کررہا ہوں۔ میں نے کہا، اب آپ دیر تک نہ جاگاکریں۔ کہا، بھئی گیارہ ساڑھے گیارہ تک کام کرنے کے بعد ہی سونے جاتا ہوں۔ کل مشرف عالم ذوقی کو بلایا ہے، مجھ پر ’فرہادِ لوح و قلم‘ تم نے مرتب کی تھی، اب دوسری ذوقی کریں گے۔ تھوڑی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ آواز میں وہی تازگی تھی، سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ آخری گفتگو ہے۔ 27کی صبح ساڑھے دس بجے کے قریب فیس بک پر نظر پڑی، ذوق کی پوسٹ تھی، وکرم صاحب نہیں رہے۔ ان کا نمبر ان کی چھوٹی بیٹی کو یاد تھا، سو انھیں پہلے اطلاع مل گئی۔ بھاگا ہوا کرشنا نگر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ صبح سات بجے کے قریب دودھ والے کے لیے ریموٹ سے دروازہ کھولا تھا، دودھ والا دودھ رکھ کر چلا گیا، دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد وہ شاید آٹھ بجے صبح کے قریب بستر سے اُٹھے ہوں گے، پاؤں لٹکا کر چپل پہننے کی کوشش کی ہوگی مگر ایک پاؤں خالی رہ گیا، بستر پر ہی گر کر دائمی نیند سوگئے۔ اچانک دل کا دورہ پڑا ہوگا، جس کا بظاہر کوئی اندیشہ بھی نہیں تھا۔نو بجے کے قریب کام والی آئی، گھنٹی بجائی، آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملنے پر پڑوس کے ایک صاحب کو اطلاع دی جن کے پاس گھر کی چابی رہتی تھی، یہ بھی ان کی پیش بندی تھی کہ کبھی بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ کہا بھی کرتے تھے، عمر ہوگئی ہے، اُردو کا جتنا کام ہوجائے اچھا ہے۔ میں کہتا، آپ اتنے جوان ہیں کہ ہنڈریڈ ناٹ آؤٹ رہیں گے۔ ہنس دیتے۔ دروازہ کھولا گیا، معلوم ہوا کہ وہ آخری سفر پر روانہ ہوچکے ہیں۔ مجھے شدت سے ان کی چند روز پہلے کہی گئی بات یاد آئی۔ ’’17ستمبر کو میرا جنم دن ہے، اس دن اپنا شرادھ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے شرادھ کی بات پر بدمزگی ظاہر کی۔ ہنس کر بولے ’’بھئی میں اس دن سب قلم کار دوستوں کی دعوت کرنا چاہتا ہوں، میرے بعد کون کرے گا، جگہ کے لیے بھی بات کرچکا ہوں۔‘‘
فیس بک پر ذوقی صاحب کی پوسٹ کے تھوڑی دیر بعد ملک میں ہی نہیں پاکستان میں بھی لوگ سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوگئے۔ ان کی وفات اور آخری رسوم کی جگہ گیتا کالونی شمشان گھاٹ اور وقت کی اطلاع ہوگئی۔ میں نے اور ذوقی صاحب نے بھی کئی دوستوں کو فون کردیئے۔ سہ پہر کو ان کی آخری رسوم ادا ہوئیں۔ ہمیں افسوس تھا کہ صرف پانچ اُردو والے شریک تھے۔ عالمی اُردو ٹرسٹ کے اے۔رحمان، مشرف عالم ذوقی، زمرد مغل، حمران اعظمی اور راقم۔ اسے وقت کی ستم ظریفی ہی کہا جاسکتا ہے۔ یوں بھی یہ سب دیکھنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔
وکرم صاحب سے میرا قریبی تعلق اس وقت قائم ہوا تھا جب وہ ’آجکل‘ سے ریٹائر ہوکر اپنا شش ماہی جریدہ ’عالمی اُردو ادب‘ شروع کررہے تھے۔ شروع کے شمارے رشید مارکیٹ میں میرے دفتر میں میرے عزیز کنور مبارک علی خوش نویس نے ہی کتابت کیے۔ انھیں آنے جانے کی آسانی تھی کیونکہ ان کا گھر قریب ہی کرشنا نگر میں تھا۔ وہ آتے تو اکثر دیر تک باتیں ہوا کرتیں۔ انھیں اُردو سے بیحد محبت تھی، حالانکہ ان کی مادری زبان پنجابی تھی لیکن اُردو ان کے لیے اصل زبان تھی۔ انھیں اس بات سے بیحد تکلیف ہوتی تھی کہ اُردو کو صرف مسلمانوں کی زبان بنایا جارہا ہے جبکہ اُردو پورے برصغیر میں رابطے کی سب سے بڑی زبان ہے۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ وہ مجلے کے لیے مواد کی فراہمی، مضامین اور ایڈیٹوریل لکھنے سے لے کر پریس اور بائنڈنگ والوں کے چکر لگانے، سپردِ ڈاک کرنے تک سارا کام تن تنہا انجام دیتے تھے۔ یہ کام انھوں نے تیس برسوں یعنی آخری دم تک اکیلے ہی کیا۔ میں انھیں اُردو کی ’ون مین آرمی‘ کہا کرتا تھا۔
’عالمی اُردو ادب‘ کوئی عام رسالہ نہیں تھا، یہ ایک پختہ جلد کی ضخیم کتاب ہوتی تھی، جس میں منتخب شعرا کا کلام، افسانے، اہم اُردو شخصیات کے تذکرے، تنقیدی و تجزیاتی مضامین، ادیبوں اور شاعروں کے کوائف، ادبی اطلاعات، وفیات، نئی کتابوں کا ذکر، سبھی کچھ بڑی کاوش سے جمع کرکے جریدے کو سچ مچ کا حوالہ جاتی مجلہ بناکر پیش کرتے، یہ سراسر خسارے کا کام تھا، بہت پہلے میں نے ایک بار پوچھا تھا، آپ کا رسالہ بکتا بھی ہے؟ کہنے لگے پچیس تیس کاپیاں بک بھی جاتی ہیں، باقی اُردو دوستوں کو بھیج دیتا ہوں۔ کچھ بانٹ دیتا ہوں۔ میں نے کہا تھا یہ گھاٹے کا کام کب تک کریں گے؟ کہنے لگے، ’’سرکار پنشن دیتی ہے، ساری محنت میں خود کرلیتا ہوں، اُردو کے عشق میں یہ گھاٹے کا سودا نہیں، جب تک زندہ ہوں اپنی زبان و ادب کا حق ادا کرتا رہوں گا، جس نے مجھے عزت اور شہرت دی ہے۔‘‘ انھوں نے اپنا عہد پورا کردِکھایا۔ انتقال سے تین دن پہلے میں ان کے گھر گیا تھا، تھکے تھکے سے لگے تو مزاج پوچھ لیا، بولے ابھی تھوڑی دیر پہلے ڈاکخانے سے آیا ہوں، رات تک پیکٹوں پر پتے اور ٹکٹ چپکاتا رہا، ڈاکخانے میں بہت بھیڑ تھی، رجسٹری والا بڑا سست تھا، دیر تک کھڑا رہنا پڑا۔ انھوں نے تازہ شمارہ عنایت کیا ، جلد پر قاضی عبدالستار مرحوم کی تصویر ہے، ان کے منتخب افسانے اور تجزیاتی مضامین کا اچھا خاصا گوشہ شامل ہے، ساتھ ہی مرحومہ فہمیدہ ریاض اور فضیل جعفری مرحوم پر بھی خاصا مواد بھی ہے۔ اداریے میں جناب ستیہ پال آنند کی شخصیت اور فن پر آئندہ خاص اشاعت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
وکرم صاحب نے جناب شہباز حسین کے ساتھ ماہنامہ ’آجکل‘ کے نائب مدیر کی حیثیت سے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے لیکن ’عالمی اُردو ادب‘ کے لیے ان کی کارکردگی بے نظیر ہے، پچیس سال قبل جب سافٹ ویئر اِن پیج رائج ہوا تو موصوف نے کمپیوٹر خرید لیا اور کسی نہ کسی طرح اُردو ٹائپنگ بھی سیکھ لی۔ خود ہی پورا پرچہ ٹائپ کرتے، سیٹنگ میں دشواری ہوتی تو کسی ماہر کو ایک آدھ بار بلا لیتے۔ گزشتہ دو عشروں میں انھوں نے بڑے بڑے اشاعتی کام کیے، متعدد کتابوں کو ہندی میں کمپیوٹر پر ہی منتقل کیا۔ 2008ء میں جب زندہ ادیبوں اور شاعروں کی سالگرہ پر مضامین کا سلسلہ شروع کیا تو ان کے پاس آناجانا زیادہ ہوگیا، جو ’جواہر عظیم آباد‘ کی تالیف و تصنیف سے لے کر ان کے انتقال تک برابر جاری رہا۔ میرے اس کام سے وہ بہت خوش تھے، کہتے تھے تمہارا کام میری کوشش کی طرح آگے چل کر اُردو لکھنے پڑھنے والوں کے کام آئے گا۔ یہ ان کی اُردو سے محبت ہی تھی کہ مجھے جب بھی کسی پر لکھنا ہوتا اور معلومات فراہم نہ ہوتیں تو ان سے رجوع کرلیتا۔ وہ اپنی لائبریری اور کمپیوٹر میں محفوظ مواد سے بہت کچھ فراہم کردیتے۔ ان کے پاس کتابوں اور ادبی جرائد کا ذخیرہ تھا، ہندوپاک کے بڑے بڑے رسالے ان کے پاس اعزازی طور پر مسلسل آتے تھے۔ ان کے رابطے دُنیا کی ہر اُردو شخصیت اور اداروں سے قائم تھے۔ لیکن ان کی مہربانیاں میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے عام تھیں جو اُردو کا کوئی کام کررہا ہو۔ جانے کتنے طلبہ، طالبات اور اسکالر ان کے گھر آتے رہتے تھے۔ سب کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے، لائبریری سے استفادہ کراتے اور ان کے کام میں رہنمائی بھی کرتے۔ ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی خاطر مدارات اس طرح کرتے جیسے وہ ان کے قریبی عزیز ہوں۔ اکثر پاکستان یا دوسرے شہروں سے آئے ہوئے اُردو مشاہیر ان کے گھر مقیم بھی ہوتے۔ یہ سلسلہ بہت پرانا تھا۔ ان کی اہلیہ محترمہ آشادت جب تک زندہ رہیں مہمانوں کی خاطرداری میں خوشی خوشی لگی رہتی تھیں، چند سال پہلے ان کا انتقال ہوا۔ بیٹا وکاس دت امریکہ میں سیٹل ہوگیا تھا، بیٹیاں ریتو اور جوہی اپنے اپنے گھروں کی ہوگئی تھیں تب بھی تن تنہا وہ یہ فریضہ انجام دیتے رہے۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے تنہا ہی رہتے تھے، جزوقتی ملازمہ گھر کی صفائی اور کچھ کھانا بناکر رکھ جاتی تھی، ضرورت کا سامان لانا اور گھر کے دوسرے کام وہ خود ہی کرتے تھے۔ جب سے اہلیہ کا انتقال ہوا تھا مجھے ان کے گھر جاکر بڑی شرمندگی کا احساس ہوتا تھا، جب وہ چائے کے لیے اصرار کرتے اور خود چائے بناکر لاتے، میں نے کافی دنوں سے یہ بہانہ تراش لیا تھا کہ چائے کی حاجت نہیں صرف ٹھنڈا پیوں گا۔ مجھے معلوم تھا کہ ان کے فریج میں گولڈ ڈرنک اور ایک دو قسم کے شربت اور سرد پانی ہر وقت موجود رہتا ہے، اس طرح وہ چائے بنانے کی زحمت سے بچ جاتے تھے، چونکہ دونوں بیٹیوں کے گھر قریب ہی تھے اس لیے اگر ضرورت پڑتی تو وہ گھر آکر والد کا بوجھ ہلکا کردیا کرتی تھیں۔
وکرم صاحب نہایت خوش اخلاق، نرم مزاج اور وضع دار انسان تھے، میں نے ان کو کبھی کسی پر ناراض ہوتے یا سخت سست کہتے یا کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا، اگر کسی نے انھیں کوئی تکلیف پہنچائی ہوتی تو بھی خاص کوئی ردّعمل ظاہر نہیں کرتے تھے۔ میں نے اُردو شخصیات میں ایسی اعلیٰ ظرفی اور وضع داری کم دیکھی ہے۔
آنجہانی نند کشور وکرم 17ستمبر 1929ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندانی تعلق پنجاب کے موہیال برہمنوں کی دت شاخ سے تھا، ان کا اصل نام نند کشور دت تھا، ان کے والد کا نام رام لعل دت اور والدہ کا نام گومتی دت تھا۔ یہی وہ برہمن برادری ہے جس کے افراد حسینی برہمن کہلاتے ہیں، اس کے پیچھے ایک روایت ہے کہ موہیال برادری کے ایک بزرگ راہب کا تعلق عرب کی کسی ریاست سے تھا جہاں ان کی حکومت بھی تھی۔ روایت کے مطابق راہب نے حضرت امام حسینؓ کی حمایت میں یزید سے جنگ کی تھی جس میں ان کے ساتوں بیٹے قربان ہوگئے تھے۔ اس روایت کا آغاز کیسے اور کب ہوا کہنا مشکل ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ موہیال برہمن برصغیر کے برہمنوں سے یکسر مختلف ہیں، یہ عام برہمنوں کی طرح دان اور خیرات قبول نہیں کرتے۔ راجپوتوں اور چھتریوں کی طرح بہادر، جنگجو، شکاری اور اکثر گوشت خور ہوتے ہیں۔ ان حسینی برہمنوں میں اُردو زبان سے قربت اس وقت سے ہے جب پنجاب میں اُردو کا ارتقائی دور تھا۔ حافظ محمود شیرانی نے اپنی مشہور کتاب ’پنجاب میں اُردو‘ میں ایک حسینی برہمن شاعر نامدار خاں دت کا ذکر کیا ہے جس نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سپہ سالار کی ایک حادثے میں موت پر پراثر مرثیہ لکھا تھا، جس کا ایک مصرع تھا:
افسوس ہے جہاں کے ثبات و قرار پر
یہ حقیقت ہے کہ اُردو زبان و ادب کے ہر شعبے میں دت برادری کے افراد کو خاصا نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ نامور صحافی اور ادیب جمنا داس اختر، وشوناتھ دردؔ، اِندر سروپ دت نادانؔ، کالم نگار اور انگریزی صحافی یوگیندر بالی، فلمی گیت کار آنند بخشی، معروف جریدہ ’فن و شخصیت‘ کے مدیر صابر دت جیسی متعدد علمی ادبی شخصیات کا تعلق اسی برادری سے تھے۔ مشہور سیاسی اور فلمی شخصیت سنیل دت بھی حسینی برہمن تھے۔ وکرم صاحب اپنے حسینی برہمن ہونے کا ذکر وہ اکثر بڑے فخر سے کیا کرتے تھے۔ وہ نظریاتی طور پر راسخ العقیدہ اشتراکی تھے حالانکہ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ دور رہے، انھیں ہر قسم کی فرقہ پرستی سے شدید نفرت تھی، جس کا اظہار ان کی تخلیقات میں جابجا نظر آتا ہے۔
نند کشور وکرم کی ابتدائی تعلیم تقسیم سے قبل پنجاب میں ہی ہوئی۔ تقسیم وطن کی قیامت اور انسانی خون کا سیلاب ان کے خاندان کو ہندوستان لے آیا۔ قتل وغارت ، حیوانیت و درندگی کا ننگا ناچ ا انہوں نے پنی آنکھو ں سے دیکھا اور دل پر محسوس کیا تھا ، پہلے شاعری کا شوق تھا لیکن داخلی کرب کے اظہار کے لیے یہ میدان ناکافی اور دشوار سا لگا تو پوری توجہ افسانہ نگاری کی طرف مرکوز کردی۔ ان کی کہانیوں میں اپنی سرزمین سے بچھڑ جانے کی روحانی اذےّت، دھرم، مذہب اور سیاست کے نام پربے گناہ انسانوں کا خون بہانے والی شیطانی فطرت سے نفرت، مذہب ، عقیدہ اور ذات برادری سے بالاتر ایک صحت مند اورپرامن انسانی سماج کی آرزو دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی آواز کی طر ح گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ہندو پاک او رہندو مسلمان کے اس تاریخی المیہ پر اردو میں ہزاروں کہانیاں لکھی گئی ہیں، منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، اور خواجہ احمد عباس وغیرہ نے اس موضوع پر لافانی کہانیاں تخلیق کی ہیں، نند کشور وکرم کی کہانیاں بھی اپنی شدتِ اثر، بیانیہ تکنیک اور جامعیت کے اعتبار سے ہمارے افسانوی ادب کے اسی زمرے میں شامل ہیں، آدھا سچ ، ایک پاکستانی کی موت، زمین میں دفن سچائی، کابلی والا کی واپسی، کاگا سب تن کھائیو، اس عہد کی زند ہ جاوید کہانیاں ہیں لیکن وکرم صاحب کا دائرہ ٔ فکر یہیں پر محدود نہیں ہوجاتا۔ انہوں نے سماجی ستم ظریفیوں ’انسانی فطرت ‘احساسات ونفسیات ِکا گہرا مطالعہ کیا تھا اور اپنے تجربات ومحسوسات کو کہانیوں کے پیکرمیں ڈھالا۔ ان کی بعض کہانیاں جیسے، خود ندامتی، رشتے کا نام ، سہما ہوا آدمی، سینی ٹوریم کے دروازے تک، طولِ شب فراق ،عجیب لڑکی اور انتم پروچن ایسی تخلیقات ہیں جن میں انسانی جذبوں کی زندہ عکاسی کے ساتھ ساتھ برائی پرتیکھا طنز،بدی کو فنا کرکے ایک پاک وصاف دنیا تعمیر کردینے کا حوصلہ او رخوبصورت مستقبل کی روشن بشارتوں کا احساس ابھرتاہے۔
نند کشور وکرم کی پہلی کہانی 1947ء میں دہلی کے ایک رسالے ’نرالا جوگی‘ میں شائع ہوئی تھی۔اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کا تخلیقی سفر جاری رہا۔ انہوں نے 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ اسی یونیورسٹی سے فارسی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، 1966ء میں انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور اسی دور انیہ میں ادیب فاصل کا امتحان بھی پاس کیا۔ اس شاندار تعلیمی سلسلے کے ساتھ ساتھ ان کی تصنیفی اور صحافتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ 1948ء میں میں میلا رام وفا کی ادارت میں کانپور سے شائع ہونے والے روزنامہ قومی اخبار اور ’امرت‘ میں کام کیا ۔ 1949ء میں اپناماہنامہ ’ ارتقا‘ شروع کیامگر یہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ 1953-54ء میں وہ اس وقت کے مشہور رسالے ’ نئی کہانی‘ کے ایڈیٹر رہے۔1964ء میں محکمہ اطلاعات حکومت ہند میں ان کا تقرر ہوگیا اوروہ ماہنامہ آج کل ، کے نائب مدیر بنے۔ اس منصب پر فائز ہوکر انہوں اپنے مدیر اعلیٰ شہباز حسین صاحب کے ساتھ مل کر 1979ء تک 15برسوں میں اپنی غیر معمولی صحافتی صلاحیتوں کا مظاہر ہ کیا۔ان کے دورمیں ’آج کل ‘کے تقریباً پونے دو سو عام او رخاص شماروں میں شہبازحسین اورنند کشور وکرم کی صحافتی جھلک اتنی تابناک ہے کہ ان کے بعد یہ سرکاری ماہنامہ آج تک ویسا رنگ روپ حاصل نہ کرسکا۔ نند کشور وکرم کے شاندار تعلیمی اور صحافتی سفر نے ان کے فکری افق کو نئی نئی بلندیاں بخشیں۔ انہوں نے نہ صرف ادب کی مختلف جہات بلکہ ہندوستانی تہذیب ، سنسکرتی اور فنون لطیفہ سے متعلق مختلف النوع موضوعات پر دستاویزی شمارے ترتیب دیے اور سیکڑوں مضامین بھی لکھے۔بطور فلمی صحافی انہوں نے اپنی خاص شناخت بنائی اس کے لیے انہوں نے پو نہ فلم انسٹی ٹیوٹ سے باقاعدہ تربیت بھی حاصل کی تھی۔
نند کشور وکرم کی ادبی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ ان کا حیرت انگیز سوانحی ناول ، انیسواں ادھیائے، ہے۔ یہ محض حالات اور واقعات پر مبنی کہانی نہیں، خدا، فطرت، ذات وکائنات اور حیات وممات کا فلسفیانہ تجزیہ ہے۔ چونکہ شروع سے ہی انہیں ایسے حقائق کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب ان کا ذہن تمام دھارمک کتابوں، پوجا ، بھگتی ، رسومات اور عقیدوں سے منحرف ہوگیا۔ کانپور کے زمانہ قیام میں دیوندر اسرّ جیسے راسخ اشتراکی ادیب کی قربت او رمارکسی لٹریچر کے مطالعے نے انہیں پختہ کار کمیونسٹ بنادیا۔وہ کبھی مندر نہیں جاتے ہندو دھرم ہی نہیں انہیں دنیا کے تمام مذاہب کی رسوم وروایات سے اتفاق نہیں رہا، اسی نظریاتی پس منظر میں انہوں نے ’انیسواں ادھیائے‘ لکھ کر دنیا ئے ادب کو اس طرح بھی سوچنے پر مجبور کردیاہے۔ یہ ناول صرف آپ بیتی نہیں ،یہ غیر منقسم پنجاب کی مشترکہ تہذیبی اور سماجی تاریخ بھی ہے اور تقسیم کے المیوں سے گزرتے ہوئے ایک حساس اور باغی ذہن کا مشاہداتی تجزیہ بھی ۔ مذاہب کے وضع کردہ اصولوں سے انکار کے عقلی اورمنطقی جواز کی وضاحت خود مصنف نے اس طرح کی ہے:
’’دراصل ہوش سنبھالتے ہی مجھے مظاہر فطرت، موت ،جنت اور جہنم جیسے مسائل HAUNT کرنے لگے تھے (ویسے تقریباً سبھی کو کرتے ہی ہیں)اور پھر تقسیم اور ہزارہا افراد کی ہلاکت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں ان تمام مدوں پر زیادہ سنجیدگی سے سوچنے لگا۔ میں چاہتا تھا کہ اپنی موت سے پیشتر ان امور پر اپنا تجزیہ پیش کروں تاکہ میرے خیالات اورنظریات میرے ساتھ ہی نہ مرجائیں، لہٰذا میں نے متعدد کتابوں کا مطالعہ کیا، اپنی زندگی کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں ان تجزیات کو ناول کی صورت میں پیش کیا۔ ‘‘
ہندوؤں کی مقدس کتاب گیتا کے اٹھارہ ادھیائے ہیں ، نند کشور وکرم نے اپنے ناول کا عنوان ، انیسواں ادھیائے، رکھ کر ایک طرح سے اپنے تجزیے کو اس سے آگے کا اضافہ قرار دینے جیسا انتہائی باغیانہ اقدام کیا لیکن یہ ناول پڑھنے پر وہ ملحد ، دہریے یا گیتا کی تعلیمات کے منکر نظر نہیں آتے۔ دراصل تشکیک اور انکار کی کوکھ سے ہی ایمان ویقین کا جنم ہوتاہے۔ قاری کو وکرم صاحب کے انکار میں بھی اقرار کا باریک اور بلیغ پہلو محسوس ہونے لگتاتھا۔
نند کشور وکرم کی پوری زندگی علم و ادب کی خدمت میں گزری، ان کی نگارشات اُردو دُنیا میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی رہیں گی، جن میں ’یادو کے کھنڈر‘ (ناول، 1981ء)، ’آورہ گرد‘ (افسانوی مجموعہ، 198ء)، ’اُنیسواں ادھیائے‘ (ناول، 2001ء)، ’آدھا سچ‘ (افسانوی مجموعہ، 2007ء) ، اور اگر تحقیق و تالیف اور ترتیب و ترجمہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو وکرم صاحب کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ انھوں نے کرشن چندر، گوپی چند نارنگ، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، علی سردار جعفری، دیوندر اسر، اشفاق احمد اور کشمیری لال ذاکر جیسی اہم شخصیات پر ’عالمی اُردو ادب‘ کے جو خاص شمارے ترتیب دیئے وہ ادبی صحافت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن انھوں نے ’غالب: حیات اور شاعر‘، ’مصور تذکرے‘، گمنام مجاہدین آزادی کے حالات پر ’بھولے بسرے مجاہدین‘، ادیبوں و شاعروں کے تذکرے ’کچھ دیکھے، کچھ سنے‘ جیسی تالیفات کے لیے بھی انھیں یاد رکھا جائے گا۔ انھوں نے ہنس راج رہبر اور علی عباس حسینی کے افسانوں کے کلیات مرتب اور شائع کرکے یادگار کارنامہ انجام دیا۔ اُردو ادب کو ہندی حلقوں میں مقبول کرانے کی کوشش میں وکرم صاحب نے تاریخ ساز کارنامے انجام دیئے۔ قرۃ العین حیدر کا ناول ’آگ کا دریا‘، عصمت چغتائی، منٹو اور پاکستانی ادیبوں کے افسانوں کے مجموعوں کے علاوہ پریم چند، علی عباس حسینی، خواجہ احمد عباس، دویندر ستیارتھی، رام لعل، انتظار حسین اور پرکاش پنڈت وغیرہ کے متعدد افسانے ہندی بھاشا میں شائع کیے۔ اسی طرح انھوں نے علی سردار جعفری اور ساحرؔ لدھیانوی کی حیات اور شاعری پر مبسوط کتابیں ہندی زبان میں پیش کیں۔ ترجمہ کے میدان میں وکرم صاحب کی خدمات خاصی اہم ہے۔ انھوں نے گیانی ذیل سنگھ اور سماجوادی لیڈر یوسف مہرعلی پر انگریزی میں لکھی گئی مؤقر کتابوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ کتابیں نیشنل بک ٹرسٹ سے شائع ہوئیں۔ پنجابی زبان سے اُردو میں منتقل کی گئیں ان کی نگارشات میں امرتاپریتم کا ناول’نہ رادھا نہ رُکمنی‘، کیسر سنگھ کا ناول ’جنگی قیدی‘ اور ہندی سے اُردو میں شرت چند چٹرجی کاناول ’گرہ داہ‘، بھیشم ساہنی کی کتاب ’جلیانوالا باغ‘ اور شیلا شرما کا ناول ’گومکھ یاترا‘ بھی نیشنل بک ٹرسٹ سے شائع ہوئے۔
انھیں عام طور سے اُردو ادیبوں اور شاعروں کی طرح انھیں نقادوں کی کم توجہی یا ناقدری کی شکایت کبھی نہیں رہی۔ ویسے بھی وہ نقادوں اور مبصروں سے کچھ زیادہ ربط نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنی کتابوں پر کسی بڑے دانشور سے دیباچہ وغیرہ لکھوانے کے حق میں نہیں رہتے تھے۔ ان کی تحریروں پر حکومت ہند نے دو بار انعام سے نوازا۔ ناول ’یادوں کے کھنڈر‘ پر اترپردیش اُردو اکیڈمی اور بنگال اُردو اکیڈٗی نیز افسانوی مجموعے ’آوارہ گرد‘ پر دلّی اُردو اکیڈمی نے انعام سے سرفراز کیا۔ 2008ء میں پاکستان رائٹرس فاؤنڈیشن کی عالمی اُردو کانفرنس کی جانب سے خصوصی اعزاز پیش کیا گیا۔ 2009ء میں ان کی مجموعی ادبی خدمات پر غالب ایوارڈ حاصل ہوا۔ ہندی ادارے انوواد پریشد اور سنکھ کی آواز کی طرف سے بھی ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ 2013ء میں انھیں دوحہ قطر کی مجلس فروغِ اُردو نے اپنے گرانقدر ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے علاوہ بہت سی ملکی و غیرملکی تنظیموں نے ان کی عزت افزائی کی۔ وکرم صاحب نے نہ صرف ہندوستان کے مختلف شہروں بلکہ امریکہ، کینیڈا، نیپال، پاکستان اور ترکی میں منعقد ہونے والے سیمیناروں میں شرکت کی۔ ہندوپاک کے متعدد رسالوں نے ان پر گوشے شائع کیے۔ بہت سے مشاہری نے ان کے فن و شخصیت پر مقالات تحریر کیے جن کا ایک مجموعہ ’فرہادِ لوح و قلم‘ کے عنوان سے راقم السطور نے مرتب کیا تھا جو چند سال پہلے شائع ہوچکا ہے، اسی طرح کا دوسرا اور اب آخری مجموعہ مشرف عالم ذوقی صاحب نے ترتیب دیا ہے جو عنقریب اشاعت پذیر ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ اُردو ادب کی تاریخ میں ان کے نام اور کام کو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔qq
 

Farooq Argali
About the Author: Farooq Argali Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.