عشق ماہ

(Mah gull, Digri)

تمہیں کتنی بار ایک ہی بات سمجھانی پڑے گی کب سمجھو گی تم!"
اویس اس کا گلا بےدردی سے دبوچے غصے سے دھاڑا...
"کب سے سمجھا رہا ہوں تمہیں پر تم سے بات کرنا ہی فضول ہے-"
خون چھلکاتی آنکھیں ماہی کے زرد چہرے پہ جمائے ہوئےکہا-
ماہی کی اکھڑتی ہوئی سانسیں اور آنکھوں سے نکلتے آنسو اویس کے ہاتھوں میں جذب ہو رہے تھے-"
پچھلے چار سالوں سے سمجھا رہا ہوں تمہیں مت کیا کرو ایسی بکواس کب سمجھو گی تم-"
"مم. میرا وہ مطلب نہیں تھا-"
وہ اکھڑتی سانسوں سے بمشکل کہہ سکی-
"کون سی زبان تمہیں سمجھ آتی ہے ماہی!
بتاؤ مجھے نہیں رہ سکتی ساتھ تو دفعہ ہو جاؤ--"
وہ بس آنسوؤں بھری نظروں کے ساتھ اویس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔اس کی ریڑھ کی ہڈی تک خوف سے سنسنی پھیل گئی زبان سے الفاظ تک نہیں نکل پا رہے تھے-
اس کی بےوقوفی کی وجہ سے آج اویس اس کے ساتھ اتنا برا رویہ اختیار کیے ہوئے تھا--'
اس نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ وہ جو اس سے اتنا پیار کرتا ہے وہ اس طرح سے اس کی جان لینے کے در پر ہو گا- جذباتی ہو کر غصے سے اس کی زبان سے غلط الفاظ ادا ہو چکے تھے جو اویس کو تازیانے کے طرح لگے تھے- ایک دن بس ایک دن وہ اویس کی بے اعتنائی نہیں برداشت کر پائی اور اویس کے کردار پر انگلی اٹھا بیٹھی تھی--'
اور یہی بات اویس کی برداشت سے باہر تھی جو اس سے زندگی بھر ساتھ رہنے کے ساتھ نبھانے کے وعدے کرتی رہی ہے وہ اس کے کردار پہ شک کر رہی تھی--'
اویس کو یہی بات اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی، ایسی کون سی غلطی اس سے ہو گئی کیا کمی رہ گئی تھی اس کے پیار میں جس کو وہ اپنی جان سمجھتا ہے وہی یہ سب بول گئی، اس وقت اس کا دل کر رہاتھا ماہی کے ساتھ ساتھ خود کو بھی شوٹ کر لے تاکہ قصہ ہی تمام ہو--'
"دفعہ ہو جاؤ تم نہیں رہنا مجھے ساتھ تمہارے--"
اویس نے ایک جھٹکے سے اس کا گلا چھوڑتے دور دھکیل دیا--
لڑکھڑاتے ہوئے وہ دور جاگری، جہاں میز کا کونہ اس کے سر کے پچھلے حصے پر زور سے لگا، پر اپنےسر میں اٹھتی ٹیس کو بھلائے روتے ہوئے اویس کے سامنے ہاتھ جوڑ چکی تھی--'
"نہیں پلیز میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر ایسے مت کرو، میں معافی مانگتی ہوں تم سے-"
روتے ہوئے بمشکل اپنی بات دوہرا رہی تھی جہاں وہ غصے سے دوسری طرف چہرہ کیے کھڑا تھا، سر کے پچھلے حصے سے نکلتے ہوئے خون سے اس کا پورا چہرہ بھر چکا تھا-
"نہیں رہنا مجھے تمہارے ساتھ زبردستی ہے کیا کوئی دفعہ ہو جاؤ تم ابھی کے ابھی یہاں سے-'"
دوسری طرف منہ کیے اویس نے چیخ کر اس سے کہا-
وہ اویس کا یہ رویہ لہجہ، برداشت نہیں کر پارہی تھی اسے لگا اس کا دل گہری کھائی میں نیچے پاتال میں جا گرا ہو.اس سے پہلے کے وہ اویس کے پاؤں پکڑتے بھیک مانگتی اس کے دماغ کی نس پھٹ گئی وہ خود کو سنبھال ہی نہ سکی اور وہیں گرتی وہ دیوانی ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سو چکی تھی-
گرنے کی آواز پر اویس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اب کی بار اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئی تھی-'
اور اب صرف پچھتانے کے علاوہ کچھ بچا ہی نہ تھا ایک چھوٹی سی غلط فہمی دونوں کی زندگیاں اجاڑ گئی تھی ایک کی زندگی ختم ہو چکی تھی،تو دوسرے کی دنیا ہی لٹ گئی تھی..--"
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 380 Print Article Print
About the Author: Mah gull

Read More Articles by Mah gull: 3 Articles with 865 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

زبردست
By: سید شازل شاہ گیلانی, Peshawar on Nov, 16 2019
Reply Reply
0 Like
Language: