سیاست کے نام پر منافقت

(Umar Khan Jozovi, )

غالباًیہ چودہ سال پہلے کی بات ہے، 2005کے قیامت خیززلزلے کے بعدجب ہم نے بچاکچھاسامان سمیٹ کرگاؤں سے شہرکی طرف ہجرت کیاتوشہرمیں جس مکان میں ہم نے پڑاؤڈالا۔اس کی گلی کے شروع میں اس وقت کچھ دکانیں تھیں ۔اب تووہاں پوری ایک مارکیٹ بن گئی ہے۔اس وقت ان دکانوں میں سے شروع کی ایک دکان ایک بابے کی ہواکرتی تھی۔اس بابے سے دوتین دن سوداسلف لینے کے بعد ہماری اس قدر شناسائی ہوئی جیسے ان کے ساتھ برسوں پراناکوئی تعلق ہو۔ کچھ دن گزرنے کے بعدجب ہمیں معلوم ہواکہ دوسرے دکانداروں کے مقابلے میں یہ باباگرانفروشی میں اپناکوئی ثانی نہیں رکھتے تورفتہ رفتہ ہم نے بھی اپنارخ دوسری دکانوں کی طرف موڑدیا۔پھرہمارے لئے کوئی دکان خاص نہیں تھی۔ویسے بھی نقدپیسے دے کرہم خریداری کرتے ۔اس لئے پھرجومناسب لگتاوہیں سے ہم خریداری کرلیتے۔رخ دوسری دکانوں کی طرف موڑنے کے بعد ایک دن اچانک ہمارا باباجی سے آمناسامناہوا تویوں لگاجیسے ہم باباجی کے ساتھ زندگی میں کوئی پہلی بارمل رہے ہوں۔ہم پرایک نظرپڑنے کے بعد باباجی کے چہرے پرواضح طورپر ،،بارہ بجتے،،دکھائی دے رہے تھے۔پھریہ بات ہم نے برسوں سے شہرمیں رہنے والے ایک دوست سے کی تووہ پہلے بہت ہنسے ۔پھرکہنے لگے آپ بھی کمال کے سادہ ہیں۔یہ گاؤں نہیں شہرہے اورشہرمیں بغیرپیسوں اورمفادکے کوئی سیدھے منہ بات نہیں کرتا۔یہ گاؤں تونہیں کہ جس دکان سے مرضی سودالے لیا۔یہاں توایک دن جس سے سودالیا،دوسرے دن اس کے سامنے اگرساتھ والی دکان سے ایک روپے کی بھی کوئی چیزلی تواس پردل کے دورے پڑنے شروع ہوجائیں گے۔پھراس چیزکوشہرکے اعلیٰ تعلیم یافتہ اورصابروشاکرلوگوں کے درمیان رہ کرہم نے ایک نہیں باربارمحسوس بھی کیا۔جس دکان سے بھی جب تک سودالیتے تب تک وہ دکانداردورسے دیکھ کرسیلوٹ مارتا۔جس دن کسی اوردکان کارخ کرتے وہ بابے کی طرح تیوربدل کرہم سے منہ دوسری طرف پھیردیتا۔ہم تودیہاتی اورسادہ سے لوگ ہیں ۔بغض ،حسداورمنافقت ہمارے بزرگوں نے کبھی نہیں کی ۔پھرہمیں کیاپتہ۔۔؟بغض ،حسداورمنافقت کن بلاؤں کے نام ہیں۔۔؟گلی،محلے کے دکاندار اوربازار کے تاجرتواپنے دلوں میں بغض ،حسداورمنافقت کی آگ ہمیشہ بھڑکاتے رہتے ہیں لیکن اب یہ کام ہمارے سیاسیوں نے بھی شروع کردیاہے۔گلی محلے کے دکانداراورتاجرتوپھربھی اپنی دکان پرنہ آنے والے مجبورولاچار انسان کومعاف کردیتے ہیں لیکن ان سیاسیوں کے ہاں توایسے انسانوں کے لئے کوئی معافی ہی نہیں۔مولاناطارق جمیل بیگم کلثوم نوازکی وفات پرسابق وزیراعظم نوازشریف کاغم ہلکاکرنے کے لئے جب رائیونڈمحل گئے توتحریک انصاف کے سونامیوں اورکھلاڑیوں نے ان پرسنگ باری کا ختم نہ ہونے والاایک سلسلہ شروع کیا۔یہ مولوی نہیں درباری،یہ دولت کاپجاری۔مطلب اس وقت تحریک انصاف والوں کے منہ میں جوآیاانہوں نے مولاناطارق جمیل کے بارے میں وہ کہہ دیا۔پھراسی مولاناطارق جمیل نے جب وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ والے نعرے کی حمایت کی توپھرمسلم لیگ ن اورجے یوآئی کے کارکنوں نے تحریک انصاف کے سونامیوں وکھلاڑیوں کی جگہ لے کرمولاناکے خلاف مورچے سنبھال لئے۔وہ مولاناجس نے ساری زندگی امت کوجوڑنے کی صدابلندکی۔جس نے جھوٹ،منافقت اورنفرت کے اندھیروں میں سچائی،حق گوئی اورمحبت کاچراغ روشن کیا۔آج وہ مولاناخودسیاسیوں کی نفرت اورمنافقت کے نشانے پرہے۔افسوس کامقام یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ والے نعرے کی حمایت کی پاداش میں آج وہ لوگ بھی دین کے ٹھیکیداروعلمبرداربن کرمولاناپر تیربرسارہے ہیں جن کواسلام کے بنیادی ارکان کابھی نہیں پتہ۔جس نے اپنے اعمال،افعال اورکردارسے پاکستان سمیت دنیابھرمیں ہمارے جیسے ہزاروں اورلاکھوں گناہ گاروں وسیاہ کاروں کوراہ راست پرلایا۔جنہوں نے اپنی محبت اورشفقت سے بتوں کاپوجاکرنے والوں کودائرہ اسلام میں داخل کرکے اﷲ کے گھروں تک پہنچایا۔جس نے اﷲ اوراس کے پیارے حبیب حضرت محمدﷺ کاپیغام دنیاکے کونے کونے تک پہنچایا۔آج یہ سیاسی نادان اس مولاناطارق جمیل کے بارے میں نازیباالفاظ استعمال کرنے پرخوشی محسوس کررہے ہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ مولاناطارق جمیل کوہماری اس سیاست جوسیاست کم اورمنافقت زیادہ ہے اس کاکوئی خاص اتہ پتہ ہے یا نہیں۔۔؟ لیکن یہ ہم ضرورجانتے ہیں کہ اچھے برے،حلال وحرام ،ثواب اورگناہ مطلب ایک انسان کی فلاح وہمیشہ کی کامیابی کاجتناعلم اورتجربہ مولاناطارق جمیل کوہے اتناکسی سیاسی کو نہیں ہوگا۔ مولاناطارق جمیل ایک داعی ہیں اورداعی کاکام ہرکسی کودعوت دینااﷲ کی طرف بلاناہے۔ مولاناطارق جمیل نے جب بیگم کلثوم نوازکی وفات پررائیونڈکادورہ کرکے سابق وزیراعظم نوازشریف کودینی تعلیمات کی روشنی میں جودلاسہ دیاتھااس وقت بھی اس نے کوئی برانہیں کیاتھانہ ہی کوئی گناہ کاارتکاب کیاتھا۔پھرجب مولاناطارق جمیل نے ریاست مدینہ کے نعرے پروزیراعظم عمران خان کی حمایت کی تب بھی مولانانے کوئی گناہ اورجرم نہیں کیا۔انسان ظاہرکامکلف ہے ۔کسی کے باطن کاکسی انسان کوکوئی پتہ نہیں ۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے وزیراعظم عمران خان کے دل میں کیاہے۔۔؟اس کانہ مولاناطارق جمیل کوخبرہے نہ ہی ہمیں کوئی پتہ۔بظاہرعمران خان ملک کوریاست مدینہ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں اورکپتان کے اسی نیک خواہش کامولانانے احترام کیا۔کسی کی مثبت سوچ اورنیک خواہش کوسپورٹ کرنایااحترام کرنانہ کوئی جرم ہے اورنہ ہی کوئی گناہ۔مولاناطارق جمیل اگر وزیراعظم عمران خان کے کسی ایسے کام کی حمایت وسپورٹ کریں جودین اسلام سے متصادم ہو۔پھرتومولانانہ صرف ہم سب کے بلکہ اﷲ کے بھی مجرم ہیں اورایسے مجرم کوپھرہم سب جومرضی کہیں لیکن خدارامحض سیاسی عداوت میں مولاناطارق جمیل جیسے قوم اوراسلام کے ہیروکونشانہ ہرگزنہ بنایاجائے ۔اپنے ہویابیگانے سب ایک بات یادرکھیں ۔داعی کسی ایک فرد،گروہ اورپارٹی کانہیں ہوتا۔مولاناطارق جمیل جیسے ہمارے ہیں اسی طرح مولاناتحریک انصاف،مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی،جے یوآئی،اے این پی ،جماعت اسلامی اوردیگرپارٹیوں اورلوگوں کے بھی ہیں۔نفرت کے ان اندھیروں میں امن ،محبت اوراخوت کے چراغ جلانے والے مولاناطارق جمیل جیسے عظیم لوگ ہمارے اصل ہیرواوردین اسلام کے اصل سپاہی ہیں ۔ہمیں اپنے مردہ سیاسی گھوڑوں پرماتم کے وقت مولاناجیسے لوگوں کونشانہ بناکراپنی آخرت خراب نہیں کرنی چاہیئے۔ہم پہلے بھی عرض کرچکے اب بھی ڈنڈے کی چوٹ پرکہتے ہیں کہ میرالیڈرایمانداراورتیرالیڈرچوروالایہ کلیہ منافقت بلکہ بہت بڑی منافقت ہے ۔یہ سلسلہ اب ختم ہوناچاہیئے۔کوئی بندہ محض پارٹی بدلنے سے نہ فرشتہ بنتاہے اورنہ ہی چور۔جوبندہ مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی یاکسی اورپارٹی میں اگرچورہے تووہ تحریک انصاف میں جاکربھی چوررہے گا۔پارٹی بدلنے سے اگرلوگ ایمانداربنتے توآج عام عوام کے علاوہ ہمارے یہ سارے سیاستدان ڈبل اورٹرپل پاورکے ایماندارہوتے مگرایسانہیں ۔جتنے بے ایمان ،چوراورڈاکوہمارے ان سیاستدانوں میں ہیں اتنے کہیں اورنہیں۔ہرمخالف کوچوراورڈاکوکہنایہ سیاست نہیں منافقت ہے اوراس منافقت نے آج ہمیں کہیں کانہیں چھوڑاہے۔سیاست کے سائے تلے خدمت کاچورن بیچنے والے ہمارے اکثرسیاستدانوں کاکام ہی منافقت کرنارہ گیاہے۔ہم میں سے ہربندے نے اپنی قبرمیں جاناہے۔کل کوکوئی لیڈراورسیاستدان بروزمحشرکسی سیاسی اورمذہبی کارکن کے کام نہیں آئے گا۔ہربندے نے اپنے اعمال ،افعال اورکردارکاجواب خود دیناہوگا۔اس لئے ہمارے سیاسی کارکنوں کوایسے لوگوں کے ہاتھوں گمراہ ہوکرمولاناطارق جمیل جیسی ہستیوں کی کردارکشی کرنے سے ہرممکن گریزکرناچاہیئے تاکہ کل کوانہیں کوئی پیشمانی اورپچھتاوانہ ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 113 Articles with 34446 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2019 Views: 234

Comments

آپ کی رائے