دبائی جو آواز ۔۔۔۔ذراخوف نہ آیا

(Salman Ahmed Ansari, )

ظلم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ ظلم کسی پر بھی ہو ظلم ظلم ہوتا ہے لیکن ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے آپ منافقت سے کام لیں تو آپ سے بڑا ظلم کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔اس بات کی زندہ مثال کشمیریوں پر ہونے والا ظلم ہے جو انڈیا کے کالے چہرے کو عیاں کرتا ہے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آواز کو دبانا میں سمجھتا ہوں بہت بڑا ظلم ہے ۔مسئلہ کشمیر جو کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین کئی برسوں سے چلا آرہا ہے یہ نمک ،کوئلہ، بجلی یا گیس کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے ۔کیونکہ کشمیر میں انسانی جانوں کے ساتھ حیوانوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اورخاص طور پر مسلمانوں کو بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

دنیا میں امن کے گیت گانے والا بھارت اصل میں خود امن کا دشمن ہے گھر بیٹھ کراور کُرسی پر مائیک لگا کر باتیں کرنے والے دور اب ختم ہوچکے ہیں مسئلوں کو حل کرنے کیلئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی پڑتی ہے ۔یا تو ہمارے سیاستدانوں کو انگریزی نہیں آتی تھی یا پھر جان بوجھ کر نہیں بولتے تھے جو کئی برس اقتدار کے مزے لوٹنے کے باوجود بھی کشمیر کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہوئے۔اگر کوئی پارٹی اقتدار میں آتی تو دوسری پارٹی کے لیڈران کرپشن کی باتیں کر کر کے برائیاں کرتے اور عوام سے ہمدردی سمیٹتے ۔اسی طرح دوسری حکومت آجاتی تو پہلے والی پارٹی ان کے خلاف برائیاں کر کے وقت گزار دیتی ۔کرپشن کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا کیونکہ نہ تو کرپشن ثابت ہوتی تھی نہ کوئی کاروائی عمل میں لائی جاتی تھی ۔

بس 5سال تیری باری پھر 5سال میری باری کرتے کرتے پاکستان کے قیمتی سال ضائع کر دیئے گئے کیونکہ پچھلے بیس سالوں میں کئی ملک ترقی کی منازل طے کر گئے اور ہم وہیں موجود ہیں ۔ہمارے ملک میں ایسی یونیورسٹیاں نہ بن سکیں جہاں انٹرنیشنل لیول کی ریسرچ ہوسکے ،ایسے ہسپتال بھی نہ بن سکے جہاں اعلیٰ معیارکا علاج ہوسکے ۔افسوس اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ جب ہمارے ملک میں عام انسان یا اعلیٰ قیادت میں سے کوئی بھی بیمار ہوجاتا ہے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس بیماری کا علاج ہمارے ملک میں میسر نہیں ۔اگر کسی بیماری کا علاج دریافت ہی نہیں ہوا اور پوری دنیا میں ریسرچ جاری ہے تو یہ الگ بات ہے لیکن اگر دنیا میں کسی ایسی بیماری کا علاج موجود ہے جو پاکستان میں دستیاب نہیں تو یہ ہمارے اُن حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جو کافی عرصہ اقتدار میں رہ گئے ۔

اعلیٰ قیادت کو یہ احساس ہوجانا چاہیئے کہ پیسے رکھنے والے لوگ اپنے علاج کیلئے ملک سے باہر توجاسکتے ہیں لیکن وہ لوگ جو دووقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے ان کو اگر کسی بیماری نے گھیر لیا ہو تو اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔پیسے والے لوگ اپنے بچوں کو بیماری کے علاج کے لئے دوائی کھلاتے ہیں جبکہ غریب لوگ صبح شام اپنے بچوں کو دوائی کی جگہ تسلیاں کھلاتے ہیں۔عوام کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ہم72سالوں میں اپنی بنیادی ضروریات میں بھی خود کفیل نہیں ہوسکے تو پھر برسوں کا عرصہ حکومت میں رہنے والے آج ٹی وی پر آکر جب یہ کہتے ہیں کہ مجھے6مہینے دیں میں ملک کی تقدیر بدل دونگا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ ان لیڈروں کے ذہن میں تقدیر بدل دینے کی تعریف کیا ہے ؟شاید یہ حکومت بدلنے کو تقدیر بدلنا کہتے ہیں ورنہ زندگی کی کئی بہاریں اقتدار میں گزارنے کے باوجود بھی عوام کی تقدیر نہیں بدل سکے تو6مہینے میں کیسے بدل دیں گے ۔

اسی طرح مسئلہ کشمیر پر ٹھوس اور موثر حکمت عملی شروع دن سے بنائی ہوتی اور اس پر منافقت سے ہٹ کر کاروائی کی گئی ہوتی تو آج کشمیری مسلمانوں کا یہ حال نہ ہوتا ۔ موجودہ حکمران مسئلہ کشمیرکو جہاں تک اٹھاسکتے تھے انہوں نے اٹھایا اور ایک تحریک بھی شروع ہوگئی ملک میں ہر بندے کی زبان پر کشمیریوں کیلئے دعائیں اور اظہار یکجہتی کے احساسات تھے ہر مسلک اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے موجودہ حکومت کو کشمیر کے مسئلہ پر ٹھوس آواز اٹھانے پر خراج تحسین بھی پیش کیا ۔

پاکستان اور اسلام کا امیج دنیا پر واضع ہوگیا تھا کہ ہم امن پسند ہیں اور ہمار ا مذہب بھی امن کا پیغام دیتا ہے گلی گلی کوچے کوچے میں کشمیر کی آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی لیکن عین اسی وقت حکومت مخالف مظاہرے اور حکومت کے ناجائز ہونے بارے عوام کی ذہن سازی شروع کر دی گئی تاکہ وہ آواز جو حق سچ کی فتح کیلئے بلند ہورہی تھی اُسے دبایا جائے۔وہ آواز پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ کی کسی کی ذات کو فائدہ نہیں دے رہی تھی وہ انسانوں ،مسلمانوں ،نوجوانوں ،چھوٹے بچوں ،بیواؤں کے حقوق کی آواز تھی ۔

آپ کو کسی بھی لیڈر سے کوئی بھی اختلاف ہو ملک کے مفاد اور کشمیر کی عوام پر سیاست نہیں چمکانی چاہیئے اور نہ ہی منافقانہ رویے اپنانے چاہیئے اگر اس وقت کشمیر کے مسئلہ پر مخالف سیاسی پارٹیاں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تو وہ آواز حق جو دبادی گئی ہے وہ آج سر چڑھ کر بول رہی ہوتی اور مسئلہ کشمیر حل ہونے کے نزدیک ہوتا ۔لیکن دنیا کے سامنے یہ ظاہرکرنے کی بجائے کہ ہم کشمیر پر ایک ہیں یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی قیادت پر تو عوام یقین ہی نہیں کرتی ۔ٖ ملک پاکستان اور ملکی مفادات کے ساتھ اس سے بڑی منافقت کی مثال اور کیا ہوگی۔

مشہور کہاوت ہے جس انگلی درد ہوتا ہے اُسے ہی پتہ ہوتا ہے کشمیر کے بھائی بہن مائیں بچے بھوک روٹی پانی اور ظلم و ستم سے مر رہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں سیاستدان اپنی سیاست چمکارہے ہیں ۔اﷲ پاک تمام سیاستدانوں کو ہدایت دے ،ملکی مفادات خصوصاً کشمیر کے مسئلہ پر سب کو یک جان ہوکر اس مسئلہ کے حل کیلئے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Ahmed Ansari

Read More Articles by Salman Ahmed Ansari: 23 Articles with 11496 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2019 Views: 155

Comments

آپ کی رائے