بیماری اور صدقہ وخیرات

(Maqbool Ahmed, Saudi Arab)

بیماری اس خالق کی طرف سے ہے جس نے پوری کائنات بنائی ، زندگی اور موت پیدا فرمائی ، ہم انسان کو ایک بہترین ڈھانچے میں تمام مخلوقات سے ممتاز عقل وسمجھ دے کر بنایا۔اسی کے ہاتھ میں ہماری سانسیں ، جسم وجاں اور ہرقسم کی حرکات وسکنات ہیں ۔ وہ جب چاہتا ہے کسی کو بیمار بنادیتا ہے اور جب چاہتا ہے کسی بیمار کو شفا دیدیتا ہے اس لئے مومن کا ایمان یہ ہونا چاہئے کہ صرف وہی اکیلا بیماری دینے والا اور شفایاب کرنے والا ہےاسی کے سوا سنسار میں کوئی زندگی وموت اور بیمار ی وشفا پر ذرہ برابر بھی قدرت نہیں رکھتا ہے ۔بیماری آزمائش کے طورپر اور کبھی گناہوں کے باعث آتی ہے ۔ ہم کس قدر خوش نصیب ہیں کہ خوشی وغم دونوں میں ہمارے لئے خیرکے پہلو ہیں بشرطیکہ خوشی میں شکر اور غمی میں صبرکریں۔ نبی ﷺفرماتے ہیں :
عَجَبًا لأَمْرِ المُؤْمِنِ، إنَّ أمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وليسَ ذاكَ لأَحَدٍ إلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إنْ أصابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكانَ خَيْرًا له، وإنْ أصابَتْهُ ضَرَّاءُ، صَبَرَ فَكانَ خَيْرًا له(صحيح مسلم:2999)
ترجمہ: مومن کا معاملہ عجیب ہے،اس کے لئے ہرمعاملہ میں بھلائی ہے اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں۔اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اوراگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو(اللہ کی رضا کے لیے) صبر کر تا ہے، یہ بھی اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔
اللہ کی جانب سے بیمار کے لئے ایک بڑی خوشی یہ بھی ہے کہ بیماری کی وجہ سے اس نیکی کے نہ کرسکنے پر بھی اجر لکھا جاتا ہے جو تندرستی میں کیا کرتا تھا، نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا مرضَ العبدُ ، أو سافرَكُتِبَ له مثلُ ما كان يعملُ مُقيمًا صحيحًا (صحيح البخاري:2996)
ترجمہ: جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا ۔
ہم میں جب کوئی بیمار ہوجائے تو مایوسی کا شکار نہ ہو، اپنے خالق ومالک پرپورا پورا بھروسہ رکھے ، بیماری کے لئے ڈاکٹر سے علاج کرائے ، اللہ سےشفایابی کی دعا بھی کرےاوراپنے گناہوں سے توبہ کرے ۔
کبھی کبھی لوگ بیمار کا علاج کراکر تھک جاتے ہیں، بے شمار روپئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں پھر بھی مریض کو افاقہ نہیں ہوتاایسے میں کچھ لوگ بیحد مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ،کچھ تو اللہ سے دورہی جاتے ہیں اور غیراللہ سے مدد مانگنا شروع کردیتے ہیں ۔یاد رکھئے غیراللہ سے مدد مانگنا یا بیماری اور مصیبت کے وقت غیراللہ کوپکارنا شرک اکبر ہے ، اس گناہ کی وجہ سے آدمی اسلام سے نکل جاتا ہے اور اس حا ل میں مرنے والا ہمیشہ کے لئے جہنم رسید کیا جائے گا۔
بیماری کے وقت ایک مومن کا شیوہ ہوکہ اللہ پر کامل بھروسہ رکھے، اسی سے شفا کی امید لگائے اور توبہ واستغفار کے ساتھ اپنے رب سے شفایابی کے لئے دعا مانگے ۔ اگربیماری طویل ہوجائے پھربھی نہ گھبرائے ، ہمارا ہمارے بارے میں ہم سے بہتر جانتا اور حکمت ومصلحت سے پر فیصلہ کرتا ہے۔
اس مضمون میں بتانا چاہتا ہوں کہ جس طرح اللہ دعاؤں سے اور مسنون اذکار سے روحانی طور پر شفا نصیب ہوتی ہے اسی طرح صدقہ وخیرا ت بھی بیماری دور کرنے کا ایک روحانی علاج ہے ۔ یوں تو اس بارے میں علماء سے مختلف قسم کے روحانی تجربات منقول ہیں مگر ہمیں رسول پاک کے فرمودات میں ہی بہت سارے دلائل مل جاتےہیں جن کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ بیماری میں صدقہ کرنے سےاللہ شفا نصیب فرماتا ہے ۔اس بات کو مثال سے اس طرح سمجھیں کہ ایک شخص بلٖڈکینسر کے مرض میں مبتلا ہے، اس نے اپنا علاج کافی کرایا مگر مرض دور نہیں ہورہا ہے ایسے میں مریض کو اللہ کی طرف سچے دل سے انابت کرنا چاہئے اور سما ج میں موجود فقراءومساکین اور یتیم ونادار پر اپنا مال اس نیت سے صدقہ کرنا چاہئے کہ اللہ اس نیکی کے بدلے بیماری سے شفادے گا۔ اس کی دلیل ایک مشہور حدیث ہے جسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع میں حسن قرار دیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
دَاوُوا مَرضاكُمْ بِالصَّدقةِ(صحيح الجامع:3358)
ترجمہ:صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو۔
دل کی سختی ایک بیماری ہے اس کے علاج کے لئے رسول اللہ نے مسکین کوکھاناکھلانے اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کو کہا ہے۔ آُپ کا فرمان ہے:
إنْ أردتَ أنْ يَلينَ قلبُكَ ، فأطعِمْ المسكينَ ، وامسحْ رأسَ اليتيمِ(صحيح الجامع:1410)
ترجمہ: اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔
اگر اللہ کی ناراضگی یا گناہ کی وجہ سے بیماری آئی ہے تو صدقہ کرنے سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور صدقہ گناہوں کو بھی مٹا دیتا ہے، اس طرح یہ بیماری بھی دور ہوسکتی ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے:
إن صَدَقَةَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ تباركَ و تعالى(صحيح الترغيب:888)
ترجمہ: بے شک پوشیدہ طورپر صدقہ کرنے سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔
اور ایک دوسری حدیث میں ہے ، نبی ﷺفرماتے ہیں:
والصَّدقةُ تطفئُ الخطيئةَ كما يطفئُ النَّارَ الماءُ(صحيح ابن ماجه:3224)
ترجمہ: اور صدقہ گناہوں کو اسی طرح ختم کردیتا ہے جس طرح پانی آگ بجھا دیتا ہے۔
صدقہ ظالم سے بھی نجات دلاتا ہے چنانچہ نبی ﷺ کے فرمان کا ایک ٹکڑا ہے ۔
وآمرُكم بالصَّدقةِ؛ فإنَّ مثَلَ ذلك كمثَلِ رجلٍ أسَره العدوُّ، فأوثَقوا يدَه إلى عنُقِه، وقدَّموه لِيَضرِبوا عُنقَه، فقال: أنا أَفْديه منكم بالقليلِ والكثيرِ، ففدَى نفسَه منهم(صحيح الترمذي:2863)
ترجمہ: اور تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیا ہے، اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے گردن سے ملا کر باندھ دیئے ہیں اور اسے لے کر چلے تاکہ اس کی گردن اڑا دیں تو اس قیدی نے کہا کہ میرے پاس تھوڑا زیادہ جو کچھ مال ہے میں تمہیں فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لینا چاہتا ہوں پھر انہیں فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرا لیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افضل صدقہ بیماری سے پہلے دینا ہے کیونکہ موت کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور موت کے بعد آدمی کا مال اس کے وارثین کا ہوجاتا ہے جیساکہ ایک صحابی نے رسول سے پوچھا کہ سب سے افضل اور بڑا صدقہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا:
أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الفَقْرَ، وَتَأْمُلُ البَقَاءَ، وَلَا تُمْهِلَ حتَّى إذَا بَلَغَتِ الحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كانَ لِفُلَانٍ.(صحيح مسلم:1032)
ترجمہ:تو صدقہ دے اور تو تندرست ہو اور حریص ہو اور خوف کرتا ہو محتاجی کا اور امید رکھتا ہو امیری کی، وہ افضل ہے اور یہاں تک صدقہ دینے میں دیر نہ کرے کہ جب جان حلق میں آ جائے تو کہنے لگے: یہ فلانے کا ہے، یہ مال فلانے کو دو اور وہ تو خود اب فلانے کا ہو چکا یعنی تیرے مرتے ہی وارث لوگ لے لیں گے۔
اس سلسلے میں ایک سچا واقعہ بیان کرنا افادہ سے خالی نہ ہوگا،ذہبی رحمہ اللہ نے ابن شقیق سے روایت کیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن المبارک سے ایک آدمی کے بارے میں سنا جو ان سے اپنے عارضہ کے بارے میں پوچھتے ہیں جو سات سالوں سے گھٹنے میں لاحق تھا اور مختلف قسم کا علاج کراچکا تھا اورمختلف قسم کے اطباء سے پوچھا مگر ان لوگوں کی کوئی دوا کام نہ کی تو اس سے ابن المبارک نے کہا کہ جاؤ اور ایک ایسی جگہ کنواں کھودو جہاں لوگ پانی کے لئے محتاج ہوں ، مجھے امید ہے کہ وہاں سے چشمہ نکلے گا تو تیرے قدم سے بہنے والا خون رک جائے گا،اس آدمی نے ایسا ہی کیا اور اللہ کے حکم سے وہ ٹھیک ہوگیا۔(سير أعلام النبلاء 8/ 408)
صدقہ کرتے وقت چند باتیں یاد رکھنی چاہئے ۔
پہلی بات : اچھے مال کا صدقہ کریں جسے آپ خود اپنے لئے پسند کرتے ہوں ، اللہ تعالی کا فرمان ہۓ:
لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚوَمَاتُنفِقُوامِنشَيْءٍفَإِنَّاللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ(آل عمران:92)
ترجمہ: جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالی کی راہ میں خرچ نہ کروگے ہرگز بھلائی نہ پاؤگے اور تم جو خرچ کرواسے اللہ تعالی بخوبی جانتا ہے۔
دوسری بات: صدقہ اعلان کرکے نہیں بلکہ لوگوں سے چھپاکر کریں حتی اپنے گھروالے اور دوست واحباب کو بھی خبر نہ ہو۔ ایسے لوگ جو چھپاکر صدقہ کرتے ہیں قیامت میں اللہ کے عرش کے سایہ تلے جگہ پائیں گے ۔ نبی ﷺ فرمان ہے:
ورَجُلٌ تَصَدَّقَ بصَدَقَةٍ فأخْفاها حتَّى لا تَعْلَمَ يَمِينُهُ ما تُنْفِقُ شِمالُهُ(صحيح مسلم:1031)
ترجمہ: اور ایک ایسا آدمی جو اس طرح چھپاکرصدقہ دے کہ داہنے کو بھی خبرنہ ہو کہ بائیں ہاتھ نے کیاخرچ کیا؟
تیسری بات: آپ نیک آدمی کو صدقہ دیں ، نبی ﷺ کا فرمان ہے:
لا تصاحبْ إلا مؤمنًا ، ولا يأكلْ طعامَك إلا تقيٌّ.(صحيح أبي داود:4832)
ترجمہ:مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے۔
ایک دوسری جگہ فرمان رسول ہے:
نِعْمَ المالُ الصَّالحُ للمَرءِ الصَّالحِ(صحيح الأدب المفرد:229)
ترجمہ: چھا مال اچھے آدمی کے لئے کیا ہی بہتر ہے۔
چوتھی بات: کسی کو صدقہ دینے کے بعد اس پر احسان نہ جتلائے ، اللہ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ(البقرة:264)
ترجمہ:اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلاکر اور ایذا پہنچاکر برباد نہ کرو ،جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرےاور نہ اللہ پر ایمان رکھے اور نہ قیامت پر۔
دو باطل اعتقادات کی وضاحت :
(1)کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ بیماری جنات یا گھر پر کسی موذی چیزکی وجہ سے ہے لہذا جانور ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون بہاتے ہیں اس اعتقاد کے ساتھ اس کی وجہ سے جنات یا موذی چیز کاشر دور ہوجائے گا اور تکلیف رفع ہوجائے گی ۔ یہ اعتقاد باطل ہے ۔
(2)اسی طرح کچھ لوگ حفظ ماتقدم کے طور پر جنات اور موذی چیز کے شر سے بچنے کے لئے گھر میں جانورپالتے ہیں یا جانور اس غرض سے ذبح کرتے ہیں ،یہ اعتقاد بھی باطل ومردود ہے ۔
اللہ ہمیں ایسی آزمائش میں نہ مبتلا کرے جس میں کامیاب نہ ہوسکیں اور ہمیں ایسی کوئی بیماری نہ دے جوہمارے لئے فتنے کا سبب بن جائے ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 258 Print Article Print
About the Author: Maqbool Ahmed

Read More Articles by Maqbool Ahmed: 264 Articles with 113002 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: