کراچی کے بڑھتے مسائل

(Afraz Adnan, Karachi)
جیسا کہ منٹو کے افسانے یا تحریر میں ساری ہمدردی صرف ایک عورت کو ملتی تھی اس ہی طرح میری تحریر میں ساری ہمدردی صرف اور صرف میرے شہر کراچی کو ملے گی اور آخر کیوں نہ ملے میرے اس شہر کو گائوں بنانے میں کوئ کثر تو نہیں چھوڑی اس شہر کے حفاظت کاروں نے۔ کچھ عرصہ قبل پر اگر نظر ثانی کی جائے تو یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کہ یہ شہر آنے والے وقت میں دنیا کی بہترین معیشت رکھنے والا شہر کہلاتا لیکن کیا ہوا اس شہر کو؟ کس کی نظر لگی؟ کیوں پیچھے رہ گیا یہ شہر۔۔؟

میں شہر قائد کا ایک فرد جو امید کی کرن لئے روز اس آس میں اٹھتا ہوں کہ آج کا سورج کراچی کو ایک نئ صبح دکھائے گا کیونکہ میں پاکستان کے ایک ایسے شہر سے تعلق رکھتا ہوں جو پاکستان کا دل کہلاتا ہے، جو قائد کا شہر کہلاتا ہے، جو پاکستان کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ پیدا کرتا ہے جہاں ملک کے مختلف شہروں، علاقوں سے لوگ کمانے کی غرض سے آتے ہیں۔ اچانک اور تیزی سے پھیلتے مسائل اس شہر میں جنم لے رہے ہیں جن کا آئے روز شہریوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جتنا بڑا یہ شہر ہے اس کے مسائل اس سے کہیں ذیادہ بڑے ہیں۔ کراچی شہر پر اگر اس وقت نظر ڈالی جائے تو کراچی مسائل کا شہر بن چکا ہے دیکھا جائے تو بڑھتی ہوئی آلودگی سے لے کر پانی کی نکاسی تک کا نظام درھم برھم ہے۔ بجلی کا بحران، سڑکوں پر خطر ناک ٹریفک، تعلیمی مسائل، گندگی سے پھیلنے والی بیماری سے لے کر کتے کے کاٹنے تک کی ویکسین کا موجود نہ ہونا، سمندر پاس ہوتے ہوئے شہریوں کو پانی میسر نہ ہونا۔ اس کے علاوہ بھی بے تہاشہ مسائل اس شہر میں موجود ہیں۔

کراچی کی اس ناساز حالت کا ذمہ دار اگر مقامی حکومت کے ساتھ ساتھ ہم خود کو بھی ٹھہرایئں تو یہ غلط نہ ہوگا شاید حکومت سے ذیادہ ہم خود ذمہ دار ہیں ہم کراچی کی قدروقیمت تو بہت عرصہ قبل ہی بھول گئے تھے پھر علاقے اور اب گلی محلہ کی بھی قدروقیمت کا اندازہ نہیں۔ شہر تو اس وقت ترقی کرتے ہیں جب انہیں گھر سمجھا جائے اب کراچی کو صرف ایک شہر نہیں بلکہ اسے کمائی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کراچی کے ایک عام شہری سے لے کر کراچی کے میئر تک ہر شخص اس شہر کو نوچ نوچ کر لوٹ رہا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس شہر کو مزید بربادی سے بچا سکیں اگر ہم خود کی اصلاح سے شروعات کریں، خود کو بدلیں، خود سے عمل کریں تو اللہ کے فضل سے ہماری محنت، کوشش اور تبدیلی رنگ لائے گی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 465 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afraz Adnan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: