بے قیمت ۔ افسانے از ڈاکٹر تنویر انور خان (فلیپ)

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اُسلوب سادہ اور بے ساختگی ہے
ڈ اکٹر تنویر انور خان کا افسانوں کامجموعہ ’بے قیمت افسانے

ڈاکٹر تنویر کے افسانوں اور کہانیوں کو ان کے مجموعوں نے ادبی سطح پر متعارف کرایا،ان کا شمار لمحہ موجود کے صفحہ او ل کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ مَیں ڈاکٹر تنویر سے ان کے افسانوں کے مجموعوں سے ہی متعارف ہوا،اس سے پہلے میری ان سے واقفیت یا تعارف نہیں تھا، ’شگون کے پھول‘ کے افسانے میں نے پڑھے اور ان پر اظہار خیال بھی کیا، پھر ایک کے بعد دوسرا مجموعہ میرے زیر مطالعہ رہا، ہر افسانہ اپنے اندر انفرادیت، دلچسپی، بے ساختگی اورایک سبق لیے ہوئے ہے، ان کے کردار زیادہ تر ان کے اپنے پیشے اور اردگرد کے ماحول سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیوں اور افسانوں میں اسپتال، ڈاکٹر، سرجن، مریض، نرسیز، میڈیکل کے طالب علم اور طالبہ،میڈیکل کالج، لیباریٹریز اور واقعات میں ایکسیڈینٹ، زہر پینا، دل میں سوراخ، معذوری جیسے مریضوں کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں، تاہم بعض کہانیاں مختلف موضوعات لیے ہوئے ہیں۔کہانی اور کردار، ماحول، حالات اور واقعات کاحسین اظہارہے، کڑی سے کڑی، کہانی سے کہانی، واقعہ سے دوسرا واقعہ ملتا چلا جاتا ہے۔ان کا اسلوب سادہ، جملوں میں بے ساختگی، اپنی فکر، خیال اور مثبت پیغام کا مربوط اظہار کرتی ہیں،وہ اپنی بات احسن انداز سے قاری تک پہنچانے میں کامیاب نظر آتی ہے،یہی کہانی کار یا افسانہ نگار کی خوبی ہوتی ہے۔ خوبصورت افسانہ نگاری پر مصنفہ کو مبارک بات۔
پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
پروفیسر۔ منہاج یونیورسٹی، لاہور
سابق ایسو سی ایٹ پروفیسر۔ سرگودھا یونیورسٹی
(فلیپ)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659894 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
24 Nov, 2019 Views: 433

Comments

آپ کی رائے