NRO یا اینارو

(Ali Jan, Lahore)

این آراو وہ لفظ ہے جسے شاید عمران خان سے زیادہ کسی نے استعمالنہیں کیاہوگامیں یہ نہیں کہہ رہاکہ یہ لفظ صرف عمران خان استعمال کرتاہے بلکہ پی ٹی آئی کی مکمل ٹیم ہی این آراو کاراگ الاپتی رہی ہے اورشایدہمیشہ یہ راگ راگ ہی رہے گا مجھے کافی مرتبہ دوستوں نے اس ٹاپک پرلکھنے کوکہامگرمیں نے سوچاکوئی موقع ہواورشایدیہ وہ موقع ہے کیونکہ خان صاحب تواین آراودینے سے رہے اسی لیے میں نے سوچا اب نواز شریف توملک چھوڑ کرچلاگیاہے شایدوہ واپس آجائے کیوں نہ اس سے پہلے ہاتھ صاف کرلیں اپنے قارائین کوبتاتاچلوں خان صاحب ہرخطاب ہرتقریرمیں این آراونہیں دوں گاکی بات کرتے رہتے ہیں توعام آدمی کوپتہ ہی نہیں کہ این آراوہے کیا چیزNational Reconciliation Ordinance یعنی ’’قومی مفاہمتی آرڈینینس‘‘یہ آڑڈننس سات دفعات پرمشتمل اس آرڈننس کامقصدقومی مفاہمت کافروغ ،سیاسی انتقام کی رویت کاخاتمہ اورانتخابی عمل کوشفاف بنانا تھا ایک صدارتی آرڈیننس ہے جسے سابق صدرپرویزمشرف نے 5اکتوبر2007میں جاری کیا اس صدارتی آرڈننس میں قانون ترمیم کرکے ان تمام مقدمات کوختم کرنے کااعلان کیاجویکم جنوری1986سے 12اکتوبر1999کے دوران سیاسی بنیادوں پردرج کیے گئے تھے اس آرڈننس کے تحت8000لوگوں پربدعنوانی، قتل ،اقدام قتل ودیگرجرائم کے ملزم شامل تھے جن کے مقدمات مشرف کے حکم پرختم کردیے گئے لیکن وہ سرائیکی کاجملہ ہے کہ’’ بلادے پچھوں بلاپئی اے‘‘پھروہی ہواکہ دوسال بعداس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے اس آئن کومفاد عامہ اورقانون کے خلاف قراردیتے ہوئے کالعدم قراردے دیاجس کے بعدوہ تمام مقدمات اورملزم پھرسے مجرم بن گئے تھے اب اگربات کریں کہ این آراو سے کس کس نے فائدہ اٹھایاتوسب سے پہلے مجھے یادپڑتاہے کہ اس کافائدہ اٹھاتے ہوئے محترمہ بے نظیربھٹووطن واپس آئیں تھیں شایدیہ قانون پاکستان پیپلزپارٹی کونافذکرنے کیلئے بنایاگیاہواس کے بعد1986اور1989میں آصف زرداری پرمقدمات درج کیے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ بھی ہرمقدمے سے بری ہوگئے اوراس قانون کے ہوتے ہوئے آصف زرداری اوران کے ساتھی پاکستان واپس نہیں آسکتے تھے اورہوسکتاہے مشرف زرداری کوملک کی باگ ڈوردینے کے حق میں ہوں ۔ اس قانون کے تحت کئی سرکاری ملازموں کے خلاف بھی مقدمات خارج کردیے گئے ۔اس آرڈننس کی وجہ سے متحدہ قومی موومنٹ کے کئی لوگوں کے خلاف بھی مقدمات خارج کردیے گئے جن میں بھتہ خوری ،قتل ،زنااورغنڈہ گردی وغیرہ شامل تھے اگرتھوڑی سے نظردڑائیں کہ این آراوکافائدہ لینے والے بڑے نام کون کون سے ہیں تواس میں آصف علی زرداری،الطاف حسین،فاروق ستار،عشرت العباد،رحمان ملک،فضل الرحمان،حسین حقانی ،سلیمان فاروقی،شہبازشریف،اسحاق ڈارکے علاوہ 8000ملزم شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے جب اس فیصلے کوکالعدم قراردیاتویہ لوگ سادھ سے پھرچوربن گئے اوراس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری ہوئے مگراس وقت آصف علی زرداری اس وقت صدرتھے تواسی وجہ سے ان مقدمات سے بچ نکلے مگراب مکمل پکڑمیں ہیں اورجیل کی ہواکھارہے ہیں ۔اب ہوناتویہ چاہیے کہ جتنے بھی چورہیں جس نے بھی ملک کولوٹاہے سب کااحتساب ہوناچاہیے چاہے وہ ن لیگ میں ہیں،پیپلزپارٹی میں ہیں یاپاکستان تحریک انصاف میں چھپے ہوئے ہیں ۔کیااین آراودوبارہ جاری ہوسکتاہے ؟کیاسادھ کے لبادے میں چھپے چورپھرسے پکڑے جائیں گے؟مگرسپریم کورٹ نے اس آرڈننس کوامتیازی قراردیاگیاہے جوپاکستان کے قانون کی کتابوں میں موجودہے جن کودوبارہ جاری کرنابے ایمانی ہوگی کیونکہ عدالت نے خود ہی فیصلہ دیا ہے کہ این آراویاایسے کسی بھی ایسے قانون کومستردکردے گی ۔چاہے عمران خان ہویاکوئی بھی سیاستدان توان کامقصدصرف یہ ہوتاہے کہ سیاسی مخالفین کے مقدمات کوختم کرنا۔ہوناتویہ چاہیے کہ جووزیرمشیرچورہیں ان کافیصلہ عوامی کچہری میں ہوناچاہے جیسے کچھ ماہ پہلے خسروبختیارکے خلاف احتجاج ومظاہرے ہوتے رہے مگرعمران خان ہرجگہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ کسی کواین آراونہیں دوں گامگراس کے اپنے ہی لوگ مجرم بنے پھرتے ہیں جس پرخان خودتوجہ نہیں دیتاا سکے علاوہ عمران خان کہتاہے کہ پاکستان کومدینہ کی ریاست بناؤں گامگراسے یہ یاد رکھناچاہے کہ مدینے والے نے فرمایاہے کہ ’’جھوٹ بولنے والے پرخداکی لعنت ہے ‘‘ مگرعمران خان اپنے ہی بیان سے باربارمکرجاتاہے ۔عمران خان نے پاکستان پیپلزپارٹی اورن لیگ کواین آراو نہ دینے کا اس وجہ سے کہتارہتا ہے کیونکہ زرداری ،نواز شریف پرکئی مقدمات ہیں اورشہباز شریف کے خلاف ماڈل ٹاؤن کیس کے علاوہ گھوٹالے کے کیس چل رہے ہیں جس وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن(یوتھیے)یہ سوچتے ہیں کہ این آراوصرف چوروں کوپکڑنے کانام ہے اسی وجہ سے کہتے رہتے تھے کہ نواز شریف کوباہرنہیں جانیں دیں گے کیونکہ اس نے پاکستان کاپیسہ لوٹاہے اربوں روپے کے گھپلے کرنے والاملک سے باہرچلاگیا مگرپھرمیں ہمارے وزیرمشیرکہتے ہیں کہ مریض پرترس آگیااسی وجہ سے باہرجانے کی اجازت دے دی اورکم عقل ن لیگ کے کارکن اس بات کی خوشی منارہے ہیں اورعمران خان کوطعنہ دے رہے ہیں کہ این آراونہیں دوں گا تمہارا.........باہرچلاگیاابھی بھی کہہ رہے ہواین آراونہیں دوں گااب لگتاہے عوام کہے گی ’’خان صاحب اینانہ رو‘‘۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 152 Print Article Print
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 145 Articles with 30110 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: