چڑھتی عمر اور بڑھتی کمر

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

کئی لیکچر سنے موٹیویشن پر ، مقصد کے حصول پر، وغیرہ وغیرہ اور موٹیویٹ بھی ہوا ۔ پھر حالات بھی ایسے ہوئے اور کچھ ذمہ داریاں بھی پڑیں کہ طاقت آئ اور بہت کچھ کر گزرنے کا جزبہ بھی بیدار ہوا اور میں دیر تک سونے والا جلدی بھی بیدار ہوا اور بہت کچھ کر بھی گزرا لیکن وقت گزرا جو کہ اس کی اچھی بات ہے کہ جیسا بھی ہو گزر ہی جاتا ہے لیکن یہ خیال گزرا بلکہ گزر کرنا دیا اور ٹھہر ہی گیا کہ
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے

اور عمر گزرنے کے ساتھ دوسرے مصرعے میں اتنی سی تبدیلی معزرت کے ساتھ کہ
لیٹے رہیں تصور جاناں کئے ہوے اور اس تصور میں لیٹا موبائل کی پیڈ پر تحریر کر رہا ہوں اور بزور شمشیر کر رہا ہوں کہ شمشیر اس وقت قلم ہے اور بلند یہی عّلّم ہے ۔
عمر چھپانا بھی ایک ہنر ہے جو جس میں کافی حد تک کامیاب ہوا لیکن ایسا کب تک ممکن ہے کہا نہیں جا سکتا لیکن کیا خوبصورت خیال کے ساتھ جیا نہیں جا سکتا اور کیا غصہ پیا نہیں جا سکتا ، آج کے لمحہ کو اچھی طرح گزار کر کہ آج ہی تو ہوتا ہے ،

کل کی کس کو خبر جان جاں
دوک لو آج کی رات کو

آج جانے کی ضد نہ کرو

لیکن خان تو ضدی ہے اور مخالفین کو جیل میں ڈال کر ہی اسے چین نصیب ہو گا لیکن معاف کر دینے والا صاحب نصیب ہو گا جو کم از کم عوام کو معاف کر دے اور مہنگائ صاف کر دے۔

رات محفل میں کسی نے تنقید کی کہ آپ غمزدہ کیوں ہیں ، آپ تو بڑا کہتے تھے کہ بڑھتی عمر مجھ پر حاوی نہیں ہوتی اور یہ کیفیت سب پر مساوی نہیں ہوتی اور آپ نہیں مانتے تھے عمر کے ساتھ مزاج کو تو میں نے جواب دیا،

ہاں میں نہیں مانتا ہوں لیکن اندر سے خود تو جانتا ہوں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 232 Articles with 87028 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2019 Views: 192

Comments

آپ کی رائے