ناصر ناکا گاوا جاپان میں پاکستان اور اردو زبان وادب کابے لوث سفیر...پہلی قسط۔۔۔

(Afzal RAZVI, Adelaide, AUSTRALIA)

ناصر ناکا گاوا کا تعلق پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی وثقافتی شہر کراچی سے ہے۔ وہ 3/ستمبر 1964ء کو یہیں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مقامی ہائی اسکول سے میٹرک کیا اور پھر علامہ اقبال کالج میں داخل ہوئے یوں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی۔ کام اور اکنامکس میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتے ہی سات سمندر پار کا رختِ سفر باندھا اور پھر جاپان کے ہو کر رہ گئے، چنانچہ 1988ء سے یہیں آباد ہیں لیکن ملکو ں ملکوں پھرنا اور وہاں کی سیاحت سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ان مقامات کو نظرِ عمیق سے دیکھنا اور پھر انہیں پردہ ئ دماغ میں محفوظ کر لینا ان کا خاصا ہے۔

ناصر نے اپنے پروفیشنل کیریئر کا آغاز ہٹاچی ٹیلیویژن اور لیور برادرز پاکستان سے کیا اور پھر جب جاپان سکونت اختیار کی تو وہاں ناکاگاوا گلوبل کمپنی قائم کی جس کے وہ چیرمین ہیں۔جاپان میں بہترین مترجم کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اس حیثیت سے وہ جاپان کی عدالتوں، پولیس، امیگریشن میں مترجم کے طور پر خدمات سر انجام دیتے ہیں علاوہ ازیں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ان کی خدمات سے استفادہ کرتی ہیں۔انہیں بیک وقت اردو، انگریزی اور جاپانی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

ناصر ایک مترجم ہی نہیں بہترین صحافی اور قلم کار بھی ہیں۔صحافت سے ان کے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اردو نیٹ جاپان کے نام سے ایک آن لائن اخبار کا اجراء کر رکھا ہے اور یوں وہ جاپان میں رہتے ہوئے اردو زبان و ادب اور مشرقی ثقافت کے پرچار کا بہترین کام کررہے ہیں۔
ناصر ناکاگاوا اپنا بہت سا وقت رضاکارانہ کاموں میں بھی صرف کرتے ہیں۔ آج کل وہ آل پاکستانیز اوورسیز انٹرنیشنل جاپان کے قانونی مشیرہیں۔جیسے میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ دیس دیس کی سیاحت ان کے مشاغل کا حصہ ہے۔چنانچہ وہ اب تک کوئی تیس بتیس ممالک(بشمول پاکستان اور جاپان) کی سیاحت کرچکے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، چین، تھائی لینڈ، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، بھارت، قطر، افریقہ، فلپائن، سویڈن، فن لینڈ، رومانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، چلی، لندن، ہالینڈ، جرمنی، یوگنڈا، بحرین، عمان، ڈنمارک، ناروے، سپین ایران، مکاؤاور ویت نام شامل ہیں۔

ناصر نے صرف ان ممالک کی سیر نہیں کی بلکہ وہاں کی ثقافت اور بود و باش کا نظرِ عمیق سے مطالعہ بھی کیا مزید اسے صرف مطالعے کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اپنی یاداشتوں کو رقم بھی کرتے رہے اور پھر انہیں ترتیب دے کر کتابی شکل بھی دی۔ اب تک ان کی ان سیاحتوں پر مشتمل پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ 2013ء میں ان کی ان کی پہلی تصنیف”دیس بنا پردیس“ کے عنوان سے زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے قیامِ جاپان اور مادرِ وطن پاکستان کے بارے اپنے تاثرات بیان کیے۔”دنیا میری نظرمیں“ ناصر ناکاگاوا کی دوسری تصنیف تھی جو 2016ء میں عوام الناس کے ذوقِ مطالعہ کی نظر ہوئی۔ اس کے بعد”دیس دیس کا سفر“ کے نام سے ان کا سفر نامہ 2017ء میں منصہ شہود پر آیا جب کہ ان کی چوتھی تصنیف ”دیارِ دوستاں“ کے نام سے2018 ء میں شائع ہوئی اور اب ان کی پانچویں تصنیف بعنوان”انجانی منزلوں کا مسافر“ الحمد پبلی کیشنز لاہور سے طبع ہوئی ہے۔ جس میں انہوں نے ڈنمارک، ناروے، اسپین، مکاؤ، ہانگ کانگ اور ویت نام کی سیاحت کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات اور اپنے تاثرات کو نہایت ادیبانہ انداز میں رقم کیا ہے۔ناصر نے اپنی تصانیف میں اپنے سفرناموں کے علاوہ دیگر مضامین جن میں افسانے بھی شامل ہیں، ان تصانیف کا حصہ بنائے ہیں۔”انجانی منزلوں کا مسافر“ میں ناصر نے جہاں مذکورہ بالا ممالک کی سیاحت کو قلم بند کیا ہے وہیں سفر نامے کو جاذبِ نظر بنانے کے لیے اس میں اہم مقامات کی تصاویر بھی شامل کی ہیں تاکہ قارئین تحریر کے ساتھ ساتھ وہاں کے پیکٹوریل ویو سے بھی محظوظ ہو سکیں۔

ناصر ناکاگاوا کے بارے جہاں تک راقم الحروف کی معلومات ہیں یا بعد از تحقیق جس بات نے بے حد متاثر کیا وہ ان کا ادب اور ملنساری کا جذبہ ہے جسے نہ صرف ان کا حلقہ احباب نگاہِ احترام سے دیکھتا ہے بلکہ ان کے خاندان کے لوگ بھی اس کے معترف ہیں۔ مثلاً: ان کی بہن زہرہ عمران کا کہنا ہے کہ:
چھوٹے بھائی کی بے شمار صفات میں ان کی فراخ دلی سرِ فہرست ہے۔ نوجوانی ہی میں پردیس چلے گئے لیکن پردیس جانے سے پہلے اپنے وطن میں بھی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی خوشیوں کی خاطر خوب محنت کرتے رہے۔

بانو قدسیہ اردو ادب کی ایک قد آور شخصیت ہیں۔ وہ ناصر ناکا گاوا کے بارے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے لکھتی ہیں:
زہرہ عمران نے اپنے ”چھوٹے بھائی“کی کتاب کی اشاعت میں جس لگن سے کام کیااور اسے پایہئ تکمیل تک پہنچایا وہ قابلَ ستائش ہے۔اس کے علاوہ زہرہ عمران نے اپنے بھائی کی جن خوبیوں سے قارئین کو آگا ہ کیا ہے، وہ ہماری روایت کا حصہ تو رہی ہیں؛لیکن آج ہمارا معاشرہ جاپان کی طرح سینے سے لگا رکھنے کا پابند نہیں رہا“ معروف کالم نگار عرفان صدیقی ناصرناکاگاوا کی محنت کو قابلِ فخر قرار دیا ہے اور لکھا ہیے کہ ترقی کے زینے پر قدم رکھنے والوں کے لیے ایک مثال ہے۔

آج وہ ]ناصر[ ایک کامیاب جاپانی شہری ہے لیکن اسے آج تک لانڈھی کے پاکستانی سے ٹوکیو کے جاپانی کا سفر یاد ہے اور اس سفر پر فخر کرتا ہے۔

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی شخصیت اور نامور کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان ناصر ناکا گاوا کی تصانیف کو انتہائی اہمیت کی حامل سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ان کتابوں کی چند جلدیں دفتر ِ خارجہ کی اکیڈمی میں ضرور ہونی چاہیں تاکہ جو بھی سفیر جاپان جائے وہ ان کتابوں سے استفادہ کر سکے۔

میں تو یہ مشورہ دوں گاپاکستان میں دفتر ِ خارجہ کی جو اکیڈمی ہے۔ اس میں ناصر ناکا گاوا کی کتابوں کی چند جلدیں ضرور ہونی چاہیں کہ جاپان میں تعینات ہونے والے سفارتی نمائندے ان کی کتابوں سے مستفید
ہو سکیں اور جاپان کے بارے میں مفید معلومات حاصل کر سکیں۔ اسی طرح جاپان میں پاکستانی سفارتی دفاتر میں اس کتاب کا ہونا لازمی ہے۔٠۔۔۔(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 111 Articles with 48869 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
30 Nov, 2019 Views: 696

Comments

آپ کی رائے