شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

(A R Tariq, )

آج مسلمانوں کے خلاف یہودونصاری کی سازشیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ دنیا کے کسی بھی کونے پرکوئی بھی واقعہ،سانحہ،واردات یاحادثہ ہوجائے تو بغیر کسی تحقیق،ثبوت اس کا الزام مسلمان پر لگا دیا جاتا ہے اور اس کے بعدمسلمانوں کے بارے پروپیگنڈہ کاایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔نام نہاد،زر خرید دانشوروں کا ایک ٹولہ،جن کو اہداف دئیے ہوتے ہیں یا اسی چیز کے پیسے ملے ہوئے ہوتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان کے خلاف جتنا بغض اور نفرت دکھاسکتے ہو،دکھا دو، شاباش پورا زور لگا دو۔ یوں یہ نام نہاد دانشورجو عقل وفہم سے بھی عاری ہوتے ہیں،دین اسلام کی ذرا بھر بھی جھلک کا ان میں شائبہ نہیں ہوتا،حقائق کو جان بوجھ کر توڑمروڑ کر پیش کرتے ہیں اور اپنے یہودی آقاؤں کی من مرضی اور خواہش کے مطابق ماحول پیدا کرکے ان کی ہمدردیاں سمیٹتے مال بھی چوکھا پاتے ہیں۔اسلام اور مسلمان کے خلاف پورا زہر گھولتے دکھائی دیتے ہیں، کارروائی چاہے خود یہودو انصاری کی ہی پلاننگ کیوں نہ ہو،الزام مسلمان پر تھوپتے ذرا دیر نہیں لگاتے ،حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنااور اس کا ذمہ دار مسلمان کو ٹھہراناہی ان کی ذمہ داری اور کام ٹھہرا،اس رو میں پیسے کے لالچ میں اندھے ہوکر بعض مسلمان دانشور(جو مغربی تہذیب کے دلدادہ اور شیدائی ہیں) بھی بہہ جاتے ہیں اور ایسا کام دکھا جاتے ہیں کہ جس کے داغ پھر مسلمانوں سے مدتوں نہیں دھلتے ،مسلمانوں کو ہی اپنی کم عقلی،لاعلمی،حقائق کا صحیح ادراک نہ کرسکنے کی وجہ سے تمام واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور یوں لے ڈوبتے ہیں پھر مسلمانوں کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے ان سانحات پرمگر مچھ کی طرح آنسو بہائے جاتے ہیں،مسلمانوں کی مٹی پلید کی جاتی ہے،انہیں معصوم و بیگناہ افراد کا قاتل قرار دیا جاتا ہے،درندے،جانور جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مردودومعطون قرار دیا جاتا ہے،جاہل وگنوار قوم کا باسی گردانا جاتا ہے اور دہشت کی علامت قرار دے کر’’دہشت گرد ‘‘ڈیکلئیرکرکے’’ انسانیت کا دشمن‘‘ کا لیبل زبردستی لگا دیا جاتا ہے ،اسے زمانے کاغلیظ ترین شخص گردانا جاتا ہے پھردنیا بھرمیں اسلام اور مسلمان پر نفرین بھیجی جاتی ہے ،اسلام کے نام لیواؤں کو ڈھکوسلا کرنے والے اور امن کو تباہ کرنے والے مانا جاتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں،مسلمان کسی بھی ایسی کارروائی میں ملوث نہیں ہوتااور نہ ہی اس کامذہب اسے اس بات کی اجازت دیتاہے اور نہ ہی مسلمان ایسا کرتا،مسلمان کا امیج پوری دنیا میں خراب نہیں بلکہ ایک کوشش کے ذریعے خراب کیاجا رہا ہے ،دراصل یہ یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کا حصہ ہے ،کارروائی وہ خود کرتے ہیں اور نام مسلمان کا آتا ہے ،یوں وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے خود ہی پوری دنیا میں کشت وخون کرتا پھر رہا ہے اور موردالزام ہمیشہ مسلمان کو ہی ہر جگہ ٹھہراتا ہے جوکہ عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔اسلام امن و آتشی کا دین ہے، محبت واخوت کا درس دیتا ہے،کشت وخون سے منع کرتا ہے اور ایسی کسی بھی کاروائی کی پرزور مذمت کرتا ہے ،اسلیئے ایسی کسی بھی کاروائی کو ،جس میں ’’انسانیت سوز‘‘مظالم کا ذکر ہو، اسے اسلام اور مسلمان سے جوڑنا یانتھی کرنا کسی بھی طرح مناسب اور انصاف کی بات نہیں۔آج کے دور کے نام نہاد دانشور جو(جو یہودوانصاری کے آلہ کار اوران کی گود میں بیٹھے وظائف پارہے ہیں)کیسے جان سکتے ہیں کہ اسلام کیاہے اوراس کی تعلیمات ان سے کس بات کا تقاضہ کرتی ہے اور اس کے پیروکارکس طرح کی طبعیت کے مالک ہیں۔ان سے کہنا ہے کہ خدارااس پاپی پیٹ کا ایندھن اور پرآسائش زندگی گزارنے کی خواہش کی خاطراسلام کا حلیہ مت بگاڑو،مسلمانوں پر نفرین نہ بھیجو۔حالات کی عکاسی روپوں کی ریل پیل اور پیسوں کی جھنکار میں نہ کروبلکہ خوف خدا رکھتے ہوئے اور ایک دن مرکر اﷲ کے پاس جانا،کو سامنے رکھتے ہوئے کرو۔اسلام اور مسلمان کو بدنام نہ کرو۔مسلمان کسی کا بھی قاتل نہیں ہے،یہ سب یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف چالیں ہیں۔(جس میں مسلمان ممالک بدقسمتی سے آپسی لڑائی جھگڑے اور اختلافات کے باعث پھنستے جارہے ہیں)یہ مسلمانوں کے خلاف ’’صلیبی جنگ ‘‘کی طرف ان کا ایک قدم ہے۔جس کے متعلق نائن الیون واقعہ کے بعد اس وقت کے امریکی صدربش نے اپنی تقریر میں’’کروسیڈ‘‘کے لفظ استعمال کرکے کیا تھا۔ مگر بعد میں واقفان حال کے انکشافات پریہ کہہ کرالفاظ واپس لے لیے کہ غلطی سے منہ سے نکل گئے تھے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ ایسے ہی نہیں نکل گئے تھے بلکہ تہہ شدہ منصوبے کا حصہ تھے۔آج دنیا میں ہر طرف جاری امریکی جارحیت اور صرف مسلمانوں پر ہی مظالم، یہودیوں کے ایجنڈے اورانکے مقاصد کو واضح کر رہے ہیں کہ ان کے عزائم کیا تھے اور کیا ہیں۔ میری ایسے دانشوروں سے گزارش ہے کہ خداراحقائق کی درست عکاسی کیا کریں،حقائق کوتوڑ مروڑ کر یہودیوں کی خواہش کے مطابق پیش نہ کیا کریں۔اسی طرح مسلمان ،اسلام اور شعائر اسلام کے متعلق بھی بات کرتے احتیاط کادامن ہرگز نہ چھوڑاکریں۔خدارا اسلام کی منفی تصاویر پیش نہ کیا کریں،اسلام غالب آنے کے لیے آیا ہے اور پوری دنیا میں پھیل کر رہے گااوراس کی تعلیمات بڑی واضح،سچی اور ہدایت والی ہے۔جو سمجھنے والے کے قلوب ارواح میں اطمینان وسکون بن کر اتر جاتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 51 Articles with 16084 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2019 Views: 256

Comments

آپ کی رائے