ہم اخلاقی طور تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں؟

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

ایک انگریزدوست (جس کا تعلق انگلینڈ سے تھا )نے بتایا کہ وہ اور اس کی بیوی حال ہی میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ۔میری بیگم ڈاکٹر ہے اورمیں بزنس مین ہوں۔ جب اسلام قبول کیا تو ہم نے سوچا پاکستان جوایک عظیم ایٹمی اور اسلامی ملک ہے ۔ ہم وہاں جاکر اسلامی ماحول میں زندگی کا باقی حصہ گزاریں گے ۔میں نے پاکستان آکر کاروبارشروع کیاتو میرے تمام اندازے اور سارے خواب چکنا چور ہوگئے ۔ مجھے سب سے پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب میں نے اپنی بیوی کے ہمراہ لاہور سے پشاور تک کا سفر کیا ۔کسی ایک جگہ بھی طہارت گاہ صاف نہ ملی ۔ نماز ظہر کا وقت ہوا تو ہم سڑک کے کنارے بنی ہوئی ایک مسجدمیں رکے ‘ معلوم ہوا وہاں خواتین کے نماز پڑھنے کا کوئی تصور ہی نہیں اور نہ ہی وہاں خواتین کے لیے کوئی الگ سے وضو کرنے کی جگہ موجود تھی ۔ جی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ ریستورانوں کے ہاتھ روم تو اس قدر گندے اور عفونت زدہ تھے کہ وہاں استنجا اور وضو کرنے کے تصور ہی سے روح کانپ جاتی تھی اکثر باتھ روموں کے فرش گندے پانی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔فلش ٹوٹے ہوئے تھے اور جوسلامت تھے ان میں طہارت کے لیے پانی ہی موجود نہ تھاکموڈجن پرکرسی کی طرح بیٹھا جاتا ہے ان پر جوتوں کا کیچڑ لگا ہوا تھا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ ان پر لوگ پاؤں رکھ کر بیٹھتے ہیں ۔دنیا کی واحد ایٹمی اور اسلامی مملکت میں صفائی کے اس ماتمی معیار پر ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔حالانکہ نبی کریم ﷺ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیاہے لیکن یوں محسوس ہورہا تھا جیسے یہ حدیث پاکستان میں نافذالعمل نہیں رہی۔باامر مجبوری ہم دونوں میاں بیوی تیمم کرکے گاڑی کی سیٹ پر ہی نماز ادا کرتے رہے ۔یوں تو سارے سفر میں ہی میری بیوی کو لوگ گھور گھور کر دیکھتے رہے لیکن اٹک کے اس پار تو لوگوں کا یہ رویہ ناقابل برداشت ہوگیا ۔ایک جگہ بہت سارے لوگوں نے ہم دونوں کو گھیرلیا کہ ہمیں سخت خوف محسوس ہوا ۔اس لمحے ہمیں انگلینڈ میں اپنے رشتہ داروں کی ایک ایک بات رہ رہ کر یاد آرہی تھی ‘ ہم نے جب اسلام قبول کیا تو سب نے کہا" ٹھیک ہے تم نے قرآن پاک پڑھ کے اسلام قبول کرلیا ہے لیکن جب تم کسی مسلمان ملک میں جاؤ گے تو وہاں تمہارے تمام خواب اور خیال چکنا چور ہو جائیں گے ۔انہوں نے شاید ٹھیک ہی کہا تھا کہ دنیا میں سب سے غلیظ اور گمراہ کن قوم مسلمان ہے اور پاکستان کے مسلمان اس میں سر فہرست ہیں ۔افسوس ان کی یہ بات صحیح نکلی ۔ ہم اپنا بزنس سنٹر اسلام آباد میں قائم کرنا چاہتے تھے ‘ ایک عمارت کرائے پر لی۔ پورے اسلام آباد میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو وعدہ پورا کرتا ہو یا سچ بولتا ہو ۔ ہم نے جن لوگوں سے فرنیچر کا کام کروایا وہ وعدہ کرنے کے باوجود کئی کئی دن غائب ہوتے رہے ۔گارنٹی زبانی تھی‘ فرنیچر کو چند ہفتوں میں ہی کیڑا لگ گیا۔ بار بار یاددہانی کے باوجود وہ لوگ کہتے رہے ہم آکر ٹھیک کردیں گے لیکن کوئی نہیں آیا تنگ آکر ہم نے کہنا ہی چھوڑ دیا۔جس پارٹی نے لوہے کا کام کیا تھا ۔ان کا کام بھی ناقص نکلاگیٹ ‘ بل کھاتی سیڑھیاں ‘ ریلنگ سمیت کوئی ایک چیزبھی ایسٹی میٹ کے مطابق نہ تھی۔پانچ بار آنے کا وعدہ کیا ایک بار بھی نہیں آئے۔آخری بار میں خود ان کے پاس گیا صرف یہ پوچھنے کہ کیا ان کا اس حدیث پر یقین ہے کہ لاایمان لمن لا عہدلہ "جو وعدہ خلافی کرے اس کاکوئی ایمان نہیں" ۔مجھے اس وقت تعجب ہوا جب وہ میری بات سننے کی بجائے یہ کہتے رہے ہمیں حدیثیں نہ سناؤتم ایک گورے انگریز مسلمان ہو اور ہم پیدائشی مسلمان ہیں ۔جن ڈسٹری بیوٹرز نے مال پہنچانا تھا وہ بھی طے شدہ وقت پر نہیں پہنچا ۔گیس اور بجلی والے ‘ کارپٹ والے ‘ائرکنڈیشننگ والے ‘ کسی کے ہاں وقت کی پابندی کا تصور ہے نہ وعدہ ایفا کرنے کا یقین۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وعدہ پورانہ کرنے والوں اور جھوٹ بولنے والوں نے اپنی دکانوں کے اوپر قرآنی آیات لکھ کر لٹکائی ہوئی ہیں اور ہاتھوں میں تسبیح پکڑی ہوئی تھی ۔پاکستان میں تقریبا پچانوے فیصدلوگ قرآن پاک کے مطلب اور مفہوم سے واقف نہیں۔ اکثریت نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بھی مطلب نہیں جانتی ۔یہ کہہ کر وہ لوگ ہمیشہ کے لیے اپنے وطن انگلینڈ واپس چلے گئے ۔یہ باتیں توایک نو مسلم انگریز کی تھیں جو پتہ نہیں کیاکیا تصورات اور خیالات لے کر پاکستان آئے اورمایوس ہوکر اپنے وطن لوٹ گئے لیکن اگر ان کی باتوں کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں تو سو فیصد درست نکلتی ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ہر سال حج کرنے والوں میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہیں لیکن کرپشن کے میدان میں بھی پاکستان کے لوگ سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں ۔لیسکو ‘ سوئی گیس ‘ کنٹونمنٹ بورڈ ‘ا میونسپل کارپوریشن ‘یل ڈی اے ‘ موٹررجسٹریشن آفس ‘ ریونیو بورڈ اور پٹوار خانوں اور تھانوں میں بھی احادیث کے کتبے آویزاں دکھائی دیتے ہیں لیکن انہیں قرآنی آیات اور حدیثوں کے نیچے بیٹھ کر کھلے عام رشوت مانگتی جاتی ہے۔جہاں تک وعدہ خلافی اور میعاری کام نہ کرنے کی بات ہے اس بات کا میں خود شاہد ہوں کہ پلمبر ہو ‘ یا مکان بنانے والا مستری ‘ الیکٹریشن ہو یا رنگ ساز‘کارپینٹر ہو یا سٹیل فیکسر۔ کوئی ایک بھی نہ تو وعدے کے مطابق کام کرتا ہے اورنہ ہی معیار کو ملحوظ رکھتا ہے ۔بات بات پر جھوٹ بولنا ‘ دھوکہ دینا ‘ ادھار لے کر واپس نہ کرنا اور دودھ میں پانی اور زہریلا کیمیکل ملانا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے ۔اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہم اخلاقی طور پر واقعی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں ۔جہاں قوموں پر عذاب ناز ل ہوتے ہیں ۔اﷲ ہم پر رحم فرمائے لیکن ہم کسی پر رحم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 476 Articles with 202444 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: