ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند شہر خواب

(Safdar Ali, )

کامیاب جوان پروگرام اپنی طرز کا پہلا پروگرام ہے نہ آخری ۔ہاں اگر کامیاب رہا تو پھر واحد منصوبہ ہو گا جو اپنے مقاصد کی تکمیل کرے گا ۔ شاید ہی کوئی حکومت ایسی گزری ہو جس نے اس طرح کی دلفریب اور اکثر حالتوں میں فراڈ اسکمیں متعارف نہ کرائی ہوں ۔
عوامی بہبود مقصد ہوتا تو کامیاب بھی ہوتیں ۔ ہوتا یہ رہا کہ کوئی نہ کوئی نقص اسکیم کے ساتھ نتھی کر لیا جاتا رہا تاکہ مصنوعی نمبر بھی ٹانک لیے جائیں اور حاصل وصول بھی کچھ نہ ہو۔ سو پیلی ٹیکسی اسکیم سے سستی روٹی سکیم تک ناکامیوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔انسان اب کس کس کا ذکر بد کرے ۔
نوجوانوں کی حمایت سے اقتدار کا مزہ چھکنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے بھی ایک دلفریب اسکیم پیش کر دی ہے ۔ان کا مقصد آخر ہے کیا ؟ اس کا فیصلہ اسکیم کی کامیابی یا ناکامی سے بخوبی ہو جائے گا ۔ فی الوقت کسی فتویٰ سازی کی کوئی ضرورت قطعا نہیں ہے۔بہتر ہو گا اسکیم کی چیدہ اور چنیدہ خصوصیات کا ذکر کر دیا جائے تاکہ عوام کو تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔
بقول تحریک انصاف' وزیراعظم کے ویژن کی روشنی میں انکے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ پروگرام ملک کی نوجوان آبادی کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور قومی تعمیر میں انکے کردار کو نمایاں کرنے کے حوالے سے " سنگ میل" کی حیثیت رکھتا ہے۔کامیاب جوان پروگرام نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ فریم ورک کے تحت تیار کیا جانے والا پہلا پروگرام ہے جس کے ذریعے تعلیم اور صلاحیت کے حامل لاکھوں نوجوانوں کو وسائل کی فراہمی اور تعمیر و ترقی کے مواقعوں کی دستیابی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
" کامیاب جوان " پروگرام کے ذریعے 100 ارب کا خطیر سرمایہ نوجوانوں کو قرضوں کی شکل میں مہیا کیا جائے گا، جس سے بےروزگاری اور غربت جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملی گی اور ملکی معیشت کی ترقی میں نوجوانوں کو نمایاں کردار میسر آئے گا۔
اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 3 مختلف کیٹیگریز کے تحت سرمایہ مہیا کیا جائے گا۔
پہلی کیٹیگری میں 10 ہزار سے لے کر 1 لاکھ تک کی مالیت کے بلا سود قرضے شفاف ترین نظام کے تحت مہیا کیے جائیں گے۔
دوسری کیٹگری میں 1 سے لے کر 5 لاکھ مالیت کے آسان ترین شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
تیسری کیٹگری میں 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک کے قرضے فراہم کئے جائیں گے۔
ملک بھر سے نوجوان www.kamyabjawan.gov.pk کو استعمال کرتے ہوئے آئن لائن درخواستیں جمع کروا سکیں گے۔ قرض کے حصول کے لئے آن لائن پورٹل کے علاوہ کوئی تحریر درخواست یا فارم دستیاب نہیں۔
اس پروگرام سے براہ راست 10 لاکھ نوجوان مستفید ہوں گے۔
خواتین کے لئے سرمائے کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں میں انکا کردار یقینی بنانے کے لئے 25 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔
جدید ترین اور نہایت شفاف انداز میں درخواستوں کی پڑتال کے ذریعے قرضوں کی تقسیم کا مربوط نظام مرتب کیا گیا ہے جس کی مکمل نگرانی وزیرِاعظم آفس سے کی جائے گی۔
ملک بھر سے موصول ہونے والی درخواستوں پر قرض کی رقوم کا اجراء نیشنل بنک آف پاکستان، بنک آف خیبر اور بنک آف پنجاب کے ذریعے کیا جائے گا۔
مذکورہ بنک ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وضع کیے گئے خفیہ سکور کارڈ کے تحت درخواستوں کی پڑتال عمل میں لائیں گے اور کسی بھی درخواست کی منظوری یا اسے مسترد کرنے کا 30 سے 45 روز میں فیصلہ کریں گے۔
کسی بھی درخواست کو مسترد کرنے کی صورت میں مذکورہ بنک تفصیلی وجوہات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
نوجوان اپنی جانب سے تیار کردہ کاروباری منصوبے کی فزیبلٹی جمع کروا سکیں گے یا انکی معاونت کے لئے فراہم کی جانے والی فزیبلٹی میں سے کسی ایک کو استعمال کر سکیں گے۔
نوجوانوں کی معاونت کے لئے مختلف کاروباری آئیڈیاز کے حوالے سے 200 فزیبلٹیز آن لائن دستیاب بنائی جا چکی ہیں۔

اس پروگرام سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لئے دستیاب مواقعوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
اس پروگرام سے قبل ایس ایم ای سیکٹر کو 1 لاکھ 75 ہزار قرضے دستیاب ہیں جبکہ اس پروگرام سے اس سیکٹر کے لئے 1 لاکھ 39 ہزار نئے قرضے دستیاب ہوں گے۔
اس پروگرام کے اجراء کے بعد کامیاب جوان پروگرام کے دیگر منصوبے جن میں
1۔ ہنر مند جوان
2۔ گرین یوتھ موومنٹ
3۔ نیشنل انٹرنشپ پروگرام
اور
4۔ سٹارٹ اپ پاکستان
کا بھی جلد افتتاح کیا جائے گا۔

بظاہر خوش نما اور خوش کن تفصیلات سامنے آئی ہیں لیکن جیسا کہ پہلے عرض کر چکا کہ اسکیم کی کامیابی یا ناکامی سے ہی اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے دی جا سکے گی ۔
قطع نظر اس کے کہ یہ پروگرام کامیاب ہوتا ہے یا ناکام ٬ یہ بات اپنی جگہ ایک ٹھوس حقیقت ہے ایسے منصوبے کسی ایسے ملک کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جس کی آدھی ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ اگر اس سکیم کو پوری دیانت داری اور شفافیت سے چلایا گیا تو یقینا یہ اقدام پاکستان کی سیاسی تاریخ کا روشن باب ہو گا اور اس سے تحریک انصاف کی حکومت کو بہت سہارا اور خوب عوامی تائید و حمایت حاصل ہو گی ۔
ہمیں امید ہے کہ نوجوان اس سکیم سے خاطر خواہ فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی ترقی میں اپنا مثبت حصہ ڈالیں گے ان شاءاللہ

ایسے نوجوانوں کے لیے اقبال کا یہ شعر
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 91 Print Article Print
About the Author: Safdar Ali

Read More Articles by Safdar Ali: 36 Articles with 4217 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: