جہاں کبھی برف تھی، اب وہاں پتھر ہیں

ماحولیاتی تبدیلیوں سے گلیشیئرز پگھلنے کا معاملہ اکثر موضوعِ بحث رہتا ہے لیکن خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے سوئٹزر لینڈ کے کچھ گلیشیئرز کی تصاویر جاری کی ہیں جن سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔ ان تصاویر میں گلیشیئرز کی ماضی کی تصاویر اور حالیہ صورتِ حال کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔
 

ٹرینٹ گلیشیئر کی یہ چھوٹی اور بلیک اینڈ وائٹ تصویر 1891 میں لی گئی تھی جس میں برف نظر آ رہی ہے جب کہ پسِ منظر میں وہی گلیشیئر اب صرف پہاڑ پر پڑی تھوڑی سی برف میں تبدیل ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
 
ایلشچ گلیشیئر کی انیسویں صدی کی ایک تصویر جس کے پسِ منظر میں حالیہ صورتِ حال واضح دکھائی دے رہی ہے۔
 
ایلشچ گلیشیئر کا ایک اور منظر جس میں ماضی اور حالیہ صورتِ حال واضح ہے۔
 
گرنڈل والڈ گلیشیئر کی یہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر 1865 میں لی گئی تھی جب کہ رنگین تصویر رواں برس اگست کی ہے۔
 
گورنر گلیشیئر 1863 مٰں برف سے ڈھکا ہوا دکھائی دیتا تھا جب کہ 2019 میں یہاں صرف پتھر ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
 
رہونے گلیشیئر 1938 میں برف سے ڈھکا ہوا ہے جب کہ اگست 2019 میں برف یکسر غائب ہے۔
 
گیسن گلیشیئر پر 1890 میں کئی فٹ برف پڑی دکھائی دیتی تھی جب کہ 2019 میں یہ گلیشیئر سکڑ کر آدھا بھی نہیں رہا۔
 
ایلشچ گلیشیئر کے 1865 اور 2019 کے مناظر۔
 

Partner Content: VOA
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1035 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language: