اپنی کہانی

(جواد حسنین بشر, Islamabad)

”ایک چکن تکہ پلیز۔پیک کرنا ہے“۔ میں نے اتنا کہا اور مزید کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا۔ورنہ پورا جملہ جو ایک دن پہلے،وہیں اُسی جگہ کھڑے ہو کر میں نے بولا تھا وہ کچھ یوں تھا۔”ایک چکن تکہ پلیز۔ پیک کرنا ہے۔ ذرا جلدی“۔اس بارذرا جلدی کے الفاظ دہرانے کی ہمت اس لیے نہیں ہوئی کہ ریسٹورنٹ انتظامیہ نے جس لڑکے کو باربی کیو کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی اُس کے جواں سال چہرے پر مستقل اکتاہٹ جیسے ثبت رہتی تھی۔ معلوم نہیں کیوں؟ایک دن پہلے ہی میرے آرڈر کرنے کے بعد ایک اور خاصی بڑی عمر کے شخص نے جب یہی الفاظ دہرائے تھے، یعنی ذرا جلدی کے اضافے کے ساتھ، توجواب میں اس لڑکے کی بڑبڑاہٹ میں نے سن لی تھی۔ ”ذرا جلدی“۔اس نے لفظوں کو دہرایا نہیں بلکہ چبایا۔”جسے دیکھو ذرا جلدی۔ذرا جلدی۔کسی جنازے پر پہنچنا ہے کیا؟“۔بس اسی لیے میں نے اب کی بار اتنا ہی کہا اور مزید کچھ کہتے کہتے خاموش ہو گیا کہ بہرحال اکتاہٹ کے مارے اس نوجوان کے پاس لمبی لمبی سیخوں کا ایک انبار تھا جو خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ میں نے آرڈر دیا اور ریسٹورنٹ کے احاطے میں الگ سے رکھی ایک کرسی پر بالکل شریف سا ہو کر بیٹھ گیا۔شاید یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ مجھے بالکل بھی جلدی نہیں۔۔۔

ریسٹورنٹ کے سامنے مین روڈ پر ٹریفک رواں دواں تھی اور فٹ پاتھ پر لوگوں کا آنا جانا بھی جاری تھا۔ احاطے میں سجی دیگر میزوں پر اکا دکا گاہک بھی بیٹھے تھے۔ تبھی میری نظر اُس بڑھیا پر پڑی۔ اور میں نے پہلی نظر میں ہی جان لیا کہ وہ کوئی پاگل سی عورت ہے؟ وہ میرے بائیں جانب احاطے کی دیوار کے ساتھ رکھے،چوکور خانوں والے،کسی پنجرہ نماکافی بڑے ڈھانچے(کہ ریسٹورنٹ کے ساتھ والی دکان سٹیل ورکس کی تھی) کی طرف رخ کیے ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ دو تین بڑے بڑے شاپر تھے جنھیں وہ بڑھیاالٹ پلٹ رہی تھی اور ایک بڑا سا پیکینگ کاٹن بھی رکھا تھا، وہ بھی شاید اسی کا تھا۔ لباس کی وضع صاف بتا رہی تھی کہ وہ کہاں کی ہے لیکن یہ غیر ضروری ہے کہ میں واضح کروں۔بس وہ ایک پاگل سی عورت تھی۔ وہ اپنے سامنے والے میز پر کھانے میں مصروف ایک گاہک سے ہاتھ اور سر ہلا ہلا کرباتیں بھی کرتی جا رہی تھی۔کچھ اس انداز میں کہ جیسے کسی نادان کوبہت ہی اہم باتیں سمجھا رہی ہو۔وہ گاہک چشمہ لگائے،پینٹ شرٹ پہنے کوئی نوجوان تھالیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ بیزار سا ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بس سنی ان سنی کر رہا ہے، میری دلچسپی بڑھنے لگی۔۔۔

اس بڑھیا کی کہانی کیا ہے؟ وہ ایسی کیوں ہے؟ کسی طرح جان لوں۔ایسے کرداروں کی کہانیاں اکثرپڑھنے کو ملتی ہیں۔ شایدمیں بھی ایک لکھ پاؤں۔یعنی مجھے بھی ایک کہانی مل گئی ہے اور وہ شاید بھوکی بھی ہے؟ یقیناً پیسے بھی نہیں ہوں گے بیچاری کے پاس۔میں سوچنے لگا اورمجھے اُس پر ترس بھی آنے لگا اور اُسے کھانا کھلانے کی ہمدردانہ طلب بھی پیدا ہونے لگی۔ میری طبیعت کے کئی رخ ہیں اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ رخ آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتے ہیں۔شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہوگا؟ایک ساتھ، کبھی ایک رخ حاوی ہوجاتا ہے کبھی کوئی دوسرا،اور عجیب سی کشمکش جنم لیتی ہے۔ایک کھچڑی سی بن جاتی ہے۔ اس بڑھیا کووہاں دیکھ کر بھی میرے اندر عجیب سی کشمکش سر اٹھا چکی تھی۔ ایک طرف تو میں اس بڑھیا کی کہانی جاننا چاہتا تھا، شاید لکھنے کے لیے اور دوسری جانب اس سے ہمدردی کا احساس پیدا ہو کر مجھے شرم بھی دلا رہا تھا کہ اس بیچاری کے قابلِ رحم حالات اور مجبوریوں سے تم کہانی کشید کرو گے؟بے رحم لالچی لکھاری کہیں کے!!!

اور بھی بہت کچھ تھاجومیرے ذہن میں ایک ساتھ چلنے لگا تھا۔ وہ بھی کافی پیچیدہ سااور اس پیچیدگی سے بچنے کے لیے میں ذرا دیر کو اٹھا اور سیخوں میں تکے اورکباب پروتے لڑکے کے قریب جا کر مسکرا کے اسے دیکھا اور سرکو ہلکی سی جنبش دی۔ جیسے کہا ہو کہ مجھے بالکل جلدی نہیں اور کن اکھیوں سے دیکھنا بھی چاہا کہ میرا آرڈر تیار ہو بھی رہا ہے کہ نہیں؟ لیکن پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ سو پھر سے واپس کرسی پرجا کر بیٹھ گیا۔ اور ویسے بھی اب میں کچھ دیر اوروہاں ٹھہرناچاہتا تھا شاید۔۔۔ہاں شاید۔۔۔

میری نظریں پھر سے بڑھیا پر جا ٹکی۔وہ کچھ بھی نیا نہیں کر رہی تھی۔ بس وہی شاپر تھے جنھیں وہ الٹ پلٹ رہی تھی۔گاڑیوں اور راہگیروں کا کافی شور تھا اس لیے بہت زیادہ فاصلہ نہ ہونے کے باوجود میں بڑھیا کی باتیں سن نہیں پا رہا تھا۔جبکہ میں سننے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔یہ اور بات تھی کہ میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بظاہر انجان سا بن کر بیٹھا تھا۔ میں نے سوچا کہ تھوڑا قریب جا کر بیٹھ جاؤں۔ اور میں ایسا کر بھی سکتا تھا اس میں حرج ہی کیا تھا۔۔۔؟ ہاں شاید۔۔۔لیکن پھر وہی کافی کچھ پیچیدہ سا۔۔۔

میزیں اب گاہکوں سے بھرنے لگی تھیں اورمیں الگ سے رکھی اس اکلوتی کرسی پر بیٹھا خود سے الجھ رہا تھا۔ کہانی ضروری ہے یا کھانا کھلانا؟جی چاہا کہ ویٹر کو بلاؤں اور بڑھیا کے لیے کچھ کھانے کو آرڈر کروں۔ بیچاری نے کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں اورکھایا ہوگا تو کیسا؟ وہ ہوٹل پہ اسی لیے تو بیٹھی ہے۔یا پھر کچھ پیسے دے دوں۔ دس روپے؟ پچاس؟ نہیں کم سے کم سو روپے تو ہونے چاہئیں۔ایک اور پیچیدگی۔ یہ میرے اندر کیا چل رہا تھا وہ بھی ایک ساتھ؟تناؤ جنم لے چکا تھا۔ اور چکن تکہ؟ تیار کیوں نہیں ہورہا، تاکہ میں جاؤں۔۔۔؟نہیں بلکہ تھوڑا اور وقت مل جائے کہ میں بڑھیا کی کہانی جان لوں؟مجھے شرمندگی سی کیوں محسوس ہو رہی تھی؟میراشرمیلا پن اپنی جگہ تھا لیکن اس موقع پر پشیمانی کے احساس کا پیدا ہوناکیا معنی رکھتا تھا؟چھوڑیں اس پیچیدگی کو……میں ایک بار پھر سے سوچ رہا تھا کہ بڑھیا کے قریب جا کر بیٹھوں۔اور کافی دیر گہرے گہرے سانس لینے کے بعدمیں ایسا کرنے کے لیے جیسے ہی اٹھا ویٹر نے مجھ پر گویا بم گرایا۔ ”سر ایک چکن تکہ پارسل آپ کا ہے؟“۔اور اُس نے پیک میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے ہر طرح کی تما م تر شدتیں آنکھوں میں لا تے ہوئے گھور کے سیخوں سے کھیلتے اس لڑکے کو دیکھا اور۔۔۔اورجیسے کہنا چاہا کہ ”اتنی جلدی؟ جنازے پہ پہنچنا ہے کیا میں نے؟“۔اف یہ پیچیدگی۔میں بت سا بنا کھڑا تھا۔ جاؤں نہ جاؤں؟بڑھیا کے کھانے کے لیے کچھ آرڈر کروں؟ کہانی؟ سبھی کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔بے رحم لالچی لکھاری کہیں کے!!!

دس روپے؟ پچاس روپے؟ سو روپے؟ میں چل پڑا۔بڑھیا کے سامنے والا میز راستے میں پڑا تو نہ چاہتے ہوئے بھی خود بخود رک گیااور ایک کرسی پر دھڑام سے بیٹھ گیا۔ ویٹر کو آواز دی۔”چائے مل جائے گی؟ ایک چائے لا دو“۔کچھ وقت اور رکنے کے لیے کھانے سے پہلے ہی خالی پیٹ چائے کا آرڈر دے ڈالا۔اب میں بڑھیا کے قریب تھا۔وہ بس کچھ نہ کچھ بڑبڑاتی جا رہی تھی۔ وہ کیا کر رہی تھی۔ میں غور سے دیکھنے لگا۔شاید جزئیات لینے لگا۔وہ بڑے شاپر مزید شاپروں سے بھرے تھے۔ وہ انھیں ایک ایک کر کے نکالتی پھر بڑے سلیقے سے تہہ کر کے واپس ڈال دیتی۔ شاپروں کے علاوہ کبھی کوئی چپس کا پیکٹ یا کوئی جوس کا چھوٹاخالی ڈبہ بھی بر آمد ہو جاتااوراسی نوعیت کی کچھ دیگر چیزیں بھی۔ وہ ان مختلف چیزوں کوسیدھا کرتی، صاف کرتی اور احاطے کی دیوار کے ساتھ رکھے، اس پنجرہ نما ڈھانچے کے درمیانی حصے کو کسی شیلف کی طرح استعمال میں لاتے ہوئے،بڑی احتیاط سے انھیں سجا تی جاتی۔ پھر بڑے انہماک سے ان چیزوں کودیکھتی۔اور پھر اچانک ان کی ترتیب بدل دیتی۔اس نے کئی بار ایسا کیا۔اُس کا یہ مشغلہ جاری تھا۔ ویٹر چائے رکھ کرجا چکا تھا۔بڑ بڑاتے ہوئے اب اس کی نظریں مجھ پر بھی پڑ رہی تھیں۔وہ سر ہلا ہلا کرمجھ سے بھی مخاطب ہونے لگی تھی۔لیکن میری سمجھ میں بالکل بھی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیابول رہی ہے۔چائے پیتے ہوئے میں نے دیکھا کہ اس نے وہاں اپنی بنائی ہوئی شیلف میں سجا جوس کا ایک خالی ڈبہ اٹھایا اوراسے الٹ پلٹ کر اچھی طرح دیکھا اور پھر جیسے کچھ سمجھ گئی اور پھر سے ایک شاپر کو کھنگالنے لگی۔چند ہی لمحوں میں اس نے کوڑا کرکٹ کی زنبیل سے ایک اسٹرا (straw) ڈھونڈ نکالا اور اسے بڑے سلیقے سے جوس کے خالی ڈبے میں اپنی جگہ لگا کر، ہر سمت اورہر زاویے سے اس پر نظر ڈالی اور مطمئن ہو کر ڈبہ دوبارہ شیلف پر پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں دیگر رکھی چیزوں کے ساتھ سجا دیا۔اور پھر سے شاپر کھنگالنے لگی۔میں نے سوچا کہ بیچاری بڑھیا کو چائے کی آفر کروں۔یا ویٹر کو کہوں کہ چائے لے آئے۔ میں چاہ کر بھی بات نہیں کر پا رہا تھا۔جو کچھ بھی تھا بس ایک ساتھ میر ے اندر ہی چل رہا تھا۔۔۔

وہ کون تھی اور کیوں تھی؟ اس حال تک کیسے پہنچی؟ کس نے پہنچایا؟ اور کیوں؟وہ اس دنیا میں آئی ہی کیوں تھی؟ نہ آتی تو کیا ہو جاتا؟کیا وہ اضافی ہے؟اضافی لوگ؟ میں یہاں کیوں ہوں؟ کیا میں اس سے بہتر ہوں؟قدرے اچھا کھا پی رہا ہوں لوگ مجھے پاگل نہیں سمجھتے۔ میں یہ سب کیوں سوچ رہا ہوں؟ اس سب میں، کیامیرا بھی کوئی قصور ہے؟ اس موقع پرشرمندگی کا احساس کیا معنی رکھتا ہے؟میں شرمندہ سا کیوں ہوں؟کیا اس بڑھیا کی ساری زندگی ایک کہانی اس لیے بنی کہ میں اسے جان سکوں؟ اور پھر لکھ سکوں؟۔۔۔میں اُس کی کہانی کیوں جاننا چاہتا ہوں؟اور لکھنا بھی کیوں چاہتا ہوں۔۔۔ اور……اور۔۔۔میری اپنی کہانی کیا ہے؟سوالوں کی بازگشت نے پیچیدگی کواور بھی مہمیز کر دیا تھا۔سچ تو یہ ہے کہ میں وہاں سے بھاگ جاناچاہتا تھا لیکن بھاگ نہیں پارہا تھا۔ مجھ سے زیادہ مطمئن اورپر سکون تووہ بڑھیا تھی۔اسے میری یا کسی کی بھی کہانی جاننے میں شاید کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔

”یارمجھے ادھر ہی سرو (serve) کر دو“۔میں نے پیک شدہ چکن تکہ ویٹر کوتھمایا۔ ”چپاتی بھی لیں گے ساتھ؟“۔ویٹر نے مسکرا کر کہا۔”دے دو یار“۔میرا سر پھٹ رہا تھا اور آنکھوں کے کونے کنارے بھیگ رہے تھے۔ اف یہ پیچیدگی۔مجھے کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا نہ میں کچھ سن پا رہا تھا۔ایک لفظ بھی نہیں کہ وہ بڑھیا کیا بڑ بڑا رہی ہے اور ہمت بھی نہیں ہوپا رہی تھی کہ میں واضح مکالمہ کر پاؤں۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے سبھی لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں اور میری چالاکیوں سے آگاہ ہیں اور اندر ہی اندرمجھ پر، میری اداکاری پر ہنس رہے ہیں۔پیچیدہ کیفیات کا وہ سلسلہ یونہی چلتا رہا کہ ویٹر چکن تکہ اور چپاتیاں لے آیا اور میں انھیں اڑانے لگا۔ اس دوران، وقتافوقتاوہ میری جانب دیکھتی رہی تھی،میں چاہ کر بھی اسے شامل نہیں کر پایا؟ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بڑھیا کی آنکھوں میں بھوک کی چمک معدوم تھی۔اس کی آنکھیں خالی خالی سی تھیں۔جیسے اسے کوئی پروا ہ ہی نہ ہو۔اور پھراچانک کسی گاہک نے گزرتے ہوئے اُسے دس روپے تھما ئے تھے، بڑھیانے نوٹ کو ٹھیک سے دیکھا تک نہیں اور قمیض کے نیچے پہنی بڑی بڑی جیبوں والی شرٹ سے چھوٹے چھوٹے مستطیل کاغذ،گتے، کارڈز وغیرہ کاربڑ چڑھا بنڈل نکالا اور بڑی ہی بے اعتنائی سے،پاگل سی اس عورت نے، وہ دس کا نوٹ اس بنڈل کی زینت بنا دیا اور پھر اتنی ہی بے پروائی سے، واپس جیب میں ڈال لیا۔اُس کی آنکھیں نوٹوں کی چمک سے بھی جیسے یکسر عاری تھیں۔

میں کھانا ختم کر چکا تھا اور اپنی ہمت بھی۔مزید رکنا محال تھا۔آخر یہی سوچا کہ دس روپے۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ بلکہ پچاس روپے پکڑاکر میں بھی نکل جاؤں؟نہ جانے کیوں میں براہِ راست بات کرنے سے کترا رہا تھا۔ چھپا چھپا کر جیسے میں نے اپنابٹوا نکالااورویٹر کو بِل دیتے ہوئے پوچھا۔”یہ بڑھیا کون ہے؟ کیا یہ ایسے ہی بیٹھی رہتی ہے ادھر؟یہ کیا بولتی رہتی ہے؟“۔ ویٹر نے ایک مسکراہٹ نچھاور کی۔”بس سر پاگل سی ہے، بس اپنی فیملی وغیرہ کے بارے میں کچھ باتیں کرتی رہتی ہے، ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا“۔ میں نے بل کے پیسے ویٹر کو پکڑائے اور بٹواجیب میں رکھتے ہوئے پھر پوچھا۔”اس نے کچھ کھایا بھی ہے؟“۔اور ساتھ ہی پچاس روپے دینے کے علاوہ ایک پل کو میرے اندر بڑھیا کو کھانا کھلانے کی حتمی فیاضی بھی جاگ اٹھی۔ہاں شاید! ایسا ہی تھا۔ سو میں نے پھر سے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ویٹر بول پڑا۔”سر اس نے کھانا کھا لیا ہے“۔ اس بار میں نے ویٹر کو غور سے دیکھا۔”اچھا! کیا کھایا ہے؟“۔ویٹر ایک بار پھرمسکرایا۔”چکن تکہ سر“۔ میں چونکا۔”چکن تکہ؟ پیسے کس نے دیے؟“۔ویٹر کا شاید مسکرا مسکرا کر خوش اخلاقی کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا ارادہ تھا۔”پیسے اُس نے خود دیے۔یہ جب بھی آتی ہے اپنے پیسوں سے کھانا کھاتی ہے“۔ اب تو ایک پل بھی اور وہاں بیٹھنا میرے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔عین اسی لمحے ایک میز کے گرد بیٹھے چار پانچ گاہکوں نے آپس میں زور سے کسی بات پرقہقہہ بلندکیا۔ میں نے بڑھیا کو پچاس روپے بھی نہیں دیے اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔یہی سچ ہے کہ۔۔۔ میں اپنی کہانی اور نہیں جاننا چاہتا تھا۔قہقہوں کی آوازیں دور تک میرا پیچھا کرتی رہیں اورمجھے صاف محسوس ہورہا تھاکہ ان آوازوں میں بڑھیا کے علاوہ ایک اور آواز بھی شامل تھی جو صرف میرے لیے تھی(یاشایدمیری ہی تھی) اورآہستہ آہستہ باقی آوازوں سے بلند ہو رہی تھی۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 268 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جواد حسنین بشر

Read More Articles by جواد حسنین بشر: 5 Articles with 2969 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: