تیرا مشرک

(Wasim Khan Abid, Peshawar)
میرا بھائی جب کبوتروں کا نیا جوڑا بنانا چاہتا ہے ،تو اسے تین روز صبح شام اکھٹے ایک دڑبے میں بند رکھتا ہے۔کچھ دنوں تک نر مادہ لڑتے ہیں گٹکتے ہیں اور پھر کمرومائز کر لیتے ہیں اور جو ڑا بن جاتا ہے۔۔۔ہمارے معاشرے کی اکثر شادیاں بھی ،دڑبا چاہت،،کے پیٹرن پر بنتی ہیں۔

میں بھی عجیب انسان ہوں قرآن مجید بچپن سے پڑھا،بلکہ مولوی صاحب سے مع ترجمہ اور تشریح کے پڑھا،لیکن مشرک کی وضاحت اس ڈھنگ سے پہلے کبھی نہ سُنی،جو انیلاکی بے تکی باتوں نے کر دی۔آج اتوار کی صبح میں کمرے میں بستر پر اوندھا پڑاچھٹی کا لطف اُٹھا رہا تھا، جبکہ انیلا کمرے کی صفائی میں مصروف میز اور الماری پر کپڑا رگڑ رہی تھی،اورساتھ میں کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی جب میں نے کی وجہ پوچھی تو جھٹ سے جواب دیا۔۔۔۔ ”عشق خواہ مجازی ہو یا حقیقی مشرک دونوں میں ملعون اور راندہ ہے۔۔۔ سمجھے!!!“۔۔۔۔شرک کی نہ معافی ہے اور نہ تلافی!!۔۔۔۔۔ہائے!۔۔۔میرے منہ سے بستر پر بیٹھتے ہوئے حیرت سے ہائے کے الفاظ نکلے۔۔۔ اور دماغ میں بچوں کا جھنجھنا،جھنجھنانے لگا۔۔۔ میں نے تعجب سے سوال کیا۔۔۔کیا؟۔۔مشرک؟۔۔کون مشرک۔۔؟۔۔۔اور انیلا نے میری طرف دیکھے بغیر شیشے پر پرانے اخبار کاگیلا ٹکڑا ملتے ہوئے کمال بے پر واہی سے جواب دیا۔۔”جب سر اور دل دو مختلف جگہوں پر جھکنے لگے تو سمجھو مشرک بن چکے ہو“۔۔۔ میں نے خاموشی سے اُسے گھورنا شروع کیا تو اس نے اپنا لباس درست کرتے ہوئے دوپٹے کا پلو پورے سر پر پھیلایا، اور باقی حصّہ اپنے سینے پر ڈالا، گویا نظروں کے تیراس کے بدن کو چھلنی کر دیں گے۔۔۔ انیلا چند لمحوں کی خاموشی کو توڑتے ہوئے پھر سے بول پڑی:مقصود! جب انسان کسی کو دل سے چاہے،تو اُسے چاہیے کہ: اُسی کا ہوکر رہے!!!۔۔ باقی انسانوں کی زندگی برباد نہ کرے!!!۔۔۔ انیلا کا یہ لہجہ میری چار سالہ ازدواجی زندگی میں میرا پہلا تجربہ تھا۔۔۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ اس ٹون میں مجھ سے کبھی مخاطب نہیں ہوئی۔۔ انیلا ایک لمحے کے لیے چُپ ہو گئی لیکن میں نے اپنی زندگی کی کتاب کے صفحات اُلٹاناشروع کردیے۔۔۔

انعم۔۔!!۔۔بڑی بڑی آنکھوں والی انعم!! گوری چٹی اور تیکھے نقوش والی ہنس مکھ انعم!!!۔۔خوبصورتی تو ایک طرف۔۔،جس کے سب لوگ معترف تھے۔۔۔!!!۔۔ لیکن جب میں اس کے قریب بیٹھتا تو سکون اور نفاست کا ایک ہالہ اس کے ارد گرد محسوس کرتا ایک روشنی کا دائرہ جس کے اندر داخل ہونے کے بعد میرے سارے غم دور ہوجاتے اور میرا دل ایک انجانی مسرت سے لبریز ہو جاتا۔میں اُسے چھونے کا قائل نہیں تھا بلکہ اُس کی آواز،اس کے جسم سے نکلنے والی لہریں اور اُس کی سانسوں کی خوشبوماحول کو استغراق کی کیفیت عطاکرتیں۔جب وہ میرے آس پاس ہوتی تو میں اپنی روح کو مکمل تصور کرتااور میری ذات کی تکمیل ہوجاتی۔ جب وہ دور جاتی تو ایسا لگتا بدن کا کوئی حصّہ کٹ چکا ہے اور میں اپاہج ہوں۔۔۔!!۔۔وہ مجھے پیار بھرے لہجے میں مقصود،کہہ کر کسی بات کی طرف متوجہ کرتی تو میری تخلیق کا مقصد پورا ہوجاتا۔

انعم پڑھی لکھی اور سجنے سنورنے کی دلدادہ تھی۔۔۔۔شاید اُسے بھی پیار تھا۔۔۔؟۔۔ نہیں،نہیں۔۔۔شاید۔۔۔اُسے اپنائیت محسوس ہوتی تھی؟؟؟۔۔۔نہیں۔۔لیکن اُسے اُنس تھا!!!۔۔شاید۔۔،کیونکہ میرا،ا ُس کے آس پاس ہونا اُسے بھی مسرور کرتا۔۔۔وہ بھی میرے ساتھ ہوتی، تو چہکتی۔۔۔اور خوب چہکتی۔۔سحر خیز پنچھیوں کی طرح۔۔۔۔اپنے آپ کو دانا ثابت کرنے کے لیے بڑی بڑی باتیں کرتی۔۔۔ مجھ سے پیار جتانے کے لیے میری فضول باتوں سے بھی متفق ہوجاتی۔۔۔سرد شاموں میں سنگِ مرمر کے یخ ٹھنڈے بینچ پر بالکل سامنے بیٹھ کر،سوچوں میں گم ہوجاتی اور ٹکٹکی باندھ کر تکتی رہتی۔۔گھر والے اُسے”انو“ کہتے لیکن میں ہمیشہ اس کا پورانام ادا کرتااور اپنا،پورا نام میرے ہونٹوں سے سن کر اُس کا چہرہ بھی کِھل جاتا۔

میں اُس کے ساتھ ہوتا توجان بوجھ کر بھولا بن جاتا، تاکہ اُسے سمجھانے کا موقع ملے۔۔۔اور وہ خود کو جہاندیدہ ثابت کرسکے۔۔۔وہ مجھے ایک ایک چیز کے بارے میں سمجھاتی۔۔۔ اگر پڑھائی کا کوئی ٹاپک ہوتا تو خود کو مجھ سے زیادہ لائق ثابت کرنے کے لیے مختلف چیزیں ایکسپلین کرنے کی کوشش کرتی اور میں چہرے کے ایسے ایکسپریشن دیتا کہ اُسے اپنی قابلیت کا یقین ہوجاتا۔۔۔ انعم میری گنہگار زندگی کی کوئی قبول عبادت تھی، یا تہجد کی کوئی معصوم سی دُعا۔۔۔ وہ مجھے دنیاکی حقیقت سمجھانا چاہتی تھی اور میں صرف اُس کو دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔جب وہ کچھ سمجھانے لگتی،تو میں دھوپ کی عینک میں صرف اس کے چہرے کی معصومیت،اور آنکھوں سے چھلکنے والی ذہانت کو دیکھتا رہتا۔۔۔اور پھر آسمان کی طرف مُنہ اٹھا کر دھیرے سے کہتا۔۔۔۔شکریہ اللہ جی!!!۔۔۔

وقت گزرتا گیا۔۔بلکہ خوشی خوشی گزرتا گیا،لیکن جب ہم دونوں نے اس ادھورے بندھن کو عمر بھر کے لیے باندھنا چاہا توانعم کے والدین کی غیرت والی رگ پھڑک اُٹھی۔۔۔ایک محلے دار سے یہ بھی کہا گیاکہ: کسی کتے کے پلے باندھ دوں گا لیکن مقصود کا گھر آباد نہیں کرے گی میری بیٹی!!!۔۔۔یہ ضد تھی؟۔۔۔ انا تھی؟۔۔۔بیٹی پر غصّہ تھا؟؟۔۔۔۔۔ یا پشتون کلچر؟۔۔کیونکہ نہ خاندانوں کے سٹیٹس میں فرق تھا اور نہ ذات پات کا کوئی مسئلہ۔لیکن اسکا باپ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔اور اپنی ضد پوری کرلی۔۔پھر؟؟۔۔۔۔ پھر کچھ نہیں ہوا!۔۔۔۔بلکہ ایک دن انعم کی شادی کوئٹہ میں کسی سرکاری ملازم سے ہوگئی۔۔۔ انعم اتنی دور چلی گئی کہ سالوں تک اپنے علاقے کی ہوا تک نہ لگی۔۔۔اور پھر اس کے بچے ہونے لگے،ایک، دو، تین۔۔۔ اوریوں انعم ماممتا میں سر تا،پاڈوب گئی۔۔۔۔انعم کو میں نے بھگانے کی ترکیبیں بھی بنا ئیں۔۔۔لیکن۔۔۔ وہ صرف اپنے باپ کی بیٹی تھی۔۔۔ اور اب اپنے بچوں کی ماں۔۔۔مجھ سے صرف اُنس تھا۔۔۔شاید!!۔۔۔اُنس۔۔!!۔۔نہیں!۔۔۔اُنس۔۔ہاں اُنس ہی تھا!!۔۔

گھر والوں نے زور دیا، معاشرے نے طعنے مارے اور بڑی بوڑھیوں نے مردانہ کمزوری کے مفروضے قائم کیے۔۔۔ ہر آنے جانے والی عورت میری ماں سے کہنے لگی بیٹے میں کچھ مسئلہ ہے؟۔۔۔ شادی کیوں نہیں کر رہا۔۔؟؟۔ اورنہ چاہتے ہوئے بھی مجھے انیلا کو قبول کرنا پڑا۔۔۔میرا بھائی جب کبوتروں کا نیا جوڑا بنا نا چاہتاہے، تو اُسے تین روز اکھٹے ایک دڑبے میں صبح شام بند رکھتا ہے،کچھ دنوں تک نر مادہ لڑتے ہیں،گٹکتے ہیں اورپھر کمپرمائز کر لیتے ہیں اور جوڑا بن جاتا ہے۔۔۔ ہمارے معاشروں کی اکثر شادیاں بھی ”دڑبا چاہت“ کے پیٹرن پر بنتی ہیں یعنی اکھٹے ایک کمرے میں بند ہوئے،کوئی سبیل نہ بنی اور چاہت، چاہت شروع ہوگئی۔۔۔ لیکن میں اس دڑبا چاہت کی زد میں نہیں آیا۔۔ عورت ذات بھی بڑی کائیاں ہوتی ہے،بات کی تہہ تک بڑی جلدی پہنچ جاتی ہے،اُسے چند ہی دنوں میں پتہ چل گیا کہ مقصود کا صرف چھلکا باقی ہے،اور روح نکل چکی ہے۔۔۔ہم دونوں نے زندگی کے چار سال ایک ہی چھت کے نیچے دو الگ الگ پلنگوں پر انجان مسافروں کی طرح گزار لیے۔۔۔۔دُنیا کی نظروں میں ایک ہنستا بستا اور خوشحال جوڑاکمرے کے اندر دو الگ دنیاؤں کے مسافروں پر مشتمل رہا۔۔۔شاید ایسے دیس کے مسافر جو ایک دوسرے کی زبان تک نہیں جانتے۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ: انیلا بھی کسی مقصود کے لیے انعم ہو، لیکن مجھے اپنی انعم کی یادیں سات جنم گزارنے کے لیے کافی تھیں۔۔۔کیونکہ ہم کبوتر نہیں،انسان تھے۔۔۔ہمیں ربّ نے یاد رکھنے کی صلاحیت دی تھی۔۔۔ اور میں انعم کو کیسے بھول جاتا۔۔۔؟۔۔ کیا کوئی اپنی روح سے کٹ کر باقی رہ سکتا ہے۔۔۔۔؟۔۔۔

انیلا شاید اس بے کیف اور اُجڑی زندگی سے اب تنگ آچکی تھی۔۔اور طعنوں پر اُتر آئی تھی۔۔۔وہ مجھے اپنانا چاہتی تھی۔۔۔وہ ایک گھر چاہتی تھی۔۔۔ایک مکان نہیں۔۔ایک شوہر چاہتی تھی۔۔۔یادوں کا پرانا قبرستان نہیں۔۔۔!!۔۔۔لیکن میری حیثت ایک قبر سے زیادہ نہ تھی۔۔۔اور اس قبر میں بھی ایک بوڑھا عشق دفن تھا۔۔۔ ایک قبر کسی زندہ کو دے بھی کیا سکتی ہے۔۔۔اور مجھ جیسی بے فیض قبر سے مایوسی کے سوا،کسی کو کیا فائدہ پہنچے!!۔۔ انیلا بے چاری نے اس قبر پر چار سال تک سجدہ کیا، بہت سے پاپڑ بیلے لیکن بے سود!۔
انیلا نے آج مشرک اس لیے کہا: کیونکہ میں نے اُس سے شادی کے لیے ہاں کی، اور اسکی زندگی برباد کی۔۔۔۔میں نے سماج کے آگے سر جھکا لیا تھا۔۔!۔۔ لیکن انیلا کو صرف دُکھ دیے۔۔۔۔،طعنوں کے ڈر سے شادی کے لیے ہاں کی!۔۔،گھر والوں کے فیصلے قبول کیے!۔۔لیکن میری روح انعم کے طواف میں گم رہی،جبکہ انیلا ایک شوہر کے لیے ترستی رہی۔۔میں واقعی ایک مشرک بھی تھا!!۔۔اور نیلا کا گنہگار بھی۔!!!۔ کیا میں نے شادی کے لیے ہاں کہہ کر انعم کے عشق میں انیلا کو شریک کیا تھا۔۔۔؟؟؟۔۔یا میں انیلا کا گنہگار تھا؟؟۔۔۔میرے دماغ میں جھنجھنا بجتا رہا۔۔۔!!!۔۔

انیلا کی زندگی کے چار سال میری وجہ سے برباد ہوچکے تھے۔لیکن اُس کی پوری زندگی برباد کرنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں تھا۔۔۔ میں نے اپنی جمع پونجی اور سارے گہنے،جلدی جلدی سمیٹ کر اس کی گٹھڑی سی کپڑے میں باندھ کر انیلا کے حوالے کی۔۔۔اور چار سالوں میں پہلی بارانیلا کا ہاتھ پکڑ کراُسے اپنی جانب کھینچا۔۔۔ اُس کا ماتھا میرے لِپ لیول پر آیا اور میں نے اُس کے ماتھے پر ایک لمبا، پہلا اور آخری بوسہ ثبت کردیا۔۔۔۔ پھراُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔وقفے۔۔ وقفے سے ایک،دو اور پھر تین کہہ کر، تین طلاقیں پوری کردیں۔۔۔ یہ بوسہ اُن چارسالوں کی ندامت کے لیے تھا جو میں نے اس کی زندگی سے منہا کیے تھے۔۔۔اُس نے برقع اُٹھایا اوروتے، بلکتے ہوئے میرے کمرے سے نکل گئی۔۔۔لیکن نکلنے سے پہلے گہنوں کی گٹھڑی میرے پلنگ پر اس زور سے پھینکی کہ سب کچھ کمرے میں بکھر گیا۔۔۔اُس کو روتا دیکھ کر میری آنکھوں سے بھی آنسو ٹپکنے لگے، اور میں دروازے کا چوکھٹ تھامے اُسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔ شاید میرا بھی چار سالوں کا اُنس تھا۔۔۔اور انیلا کا بھی۔۔۔!!! اس لیے وہ بھی روتے ہوئے، سرخ آنکھوں سے مجھے بار بار مڑ کے دیکھ رہی تھی۔اور گھر کے مین گیٹ کی طرف پیر گھسیٹ گھسیٹ کر قدم بڑھا رہی تھی۔
٭٭٭٭
نوٹ: یہ کہانی فکشن ہے اور اس کے تمام کردار فرضی ہیں۔کسی قسم کی مطابقت محض اتفاقیہ ہوگی۔
جملہ حقوقِ اشاعت بحقِ مصنف محفوظ ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 330 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Wasim Khan Abid

Read More Articles by Wasim Khan Abid: 24 Articles with 15903 views »
I am a realistic and open minded person. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: