اوپر سے نیچے

(Usama khan daultana, Khanewal)

وزیراعظم چاہتا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرناہے۔۔۔
وزراءاعلیٰ غیر آینی اقدامات و فیصلوں میں مصروف تھےرشوت کی قدر حلال کی روزی سے بھی زیادہ ہورہی تھی۔۔۔
جتنے پیسے اتنا بڑا عہدہ کے فارمولہ کے تحت امیروں کیلے روزگارکی قطاریں تھیں۔۔۔۔
وزیراعظم چاہتا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرناہے۔۔۔
ہر ادارہ زوال کا شکار تھا۔ہر ادارے کا خسارہ پورا کرنے کیلے پیسے لے کر لوگوں کو بھرتی کیا جا رہاتھا۔لوگ بھرتی ہونے کے بعد اپنی سرمایہ کاری سینکڑوں گنا سود کے ساتھ عوام سے اور حکومتی خزانے سے نکال رہے تھے۔۔۔
ملک کے ہر چھوٹے بڑے کا احتساب ہو رہاتھاسوائے حکمراں جماعت کو چھوڑ کر۔۔۔
احتساب میں فائدہ مند لوگوں کو چھوڑ دیاگیا۔۔۔۔
وزیراعظم چاہتا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرناہے۔۔۔
حکمراں پارٹی کا ہر غیرت مند، دردمند اور ملک پر قربان ہونے والا سیاستدان حکومتی عہدے کے علاوہ ملک کی بھلائی کیلے کام کرنے سے انکاری تھا۔۔۔
وزیر تعلیم ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہے رہے تھے کہ حکومت تعلیم کیلے مثالی کام کررہی ہے۔لیکن تقریب کے حال کے باہر اساتذہ چھ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر مظاہرہ کر رہے تھے۔۔۔
ایک وزیر میڈیا کو بیان دے رہا تھا کہ بچوں کو پڑھنا چاہیے۔اس کے حوالے سے سخت قوانین بنائے جاچکے ہیں۔لیکن وزیر کے گھر صفائی کا کام دس سالہ عدیل کرتا تھا۔۔۔۔
وزیر کہے رہا تھا کہ ملکی خزانہ خالی ہے۔چند لمحوں بعد اس نے کسی کو فون کیا کہ میرا تین ارب کا قرضہ معاف کروانے کیلے مجھے وہاں جانا پڑے گا۔۔۔۔
وہ روڈ کاآدھا فنڈ ٹھکیداروں کے ساتھ مل کر کھا گیااور روڈ ناقص بنا اور ٹوٹ گیا۔اس کا بیٹا اسی روڈ پر حادثے میں مارا گیا۔۔۔۔

وزیراعظم چاہتا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرناہے۔۔۔

وزیر کہے رہا تھا کہ صوبہ میں جرائم کو کم کرنے کیلے ایماندار پولیس آفسروں کو آگے لایا جائےگا۔لیکن اسی شام اس نے دو لاکھ لے کر ایک پولیس والے کو بھرتی کروایا۔۔۔۔

جج نے حلف دیا کہ فیصلہ ثبوت کو دیکھ کر کروں گا۔لیکن ایک کروڑ لے کر قتل کا مجرم بری کردیا۔۔۔
سیاستدان نشہ بیچ کر جیبیں بھر رہے تھے اور حکومت پریشان تھی کہ نشئی کیوں بڑھ رہے ہیں۔۔۔

استاد کا بچہ پرائیویٹ ادارے میں پڑھ رہاتھا اور ماہرین پریشان تھے کہ سرکاری ادارے تنزلی کاشکار کیوں ہیں۔۔۔

قران و حدیث کو کبھی ہاتھ نہ لگانے والا اس بات سے پریشان تھاکہ تفرقہ بازی کیوں ہے۔۔۔۔

وزیراعظم چاہتا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرناہے۔۔۔

مولوی نے درس میں کہا کہ صبر کرنے سے اللہ خوش ہوتاہے۔جبکہ مولوی سے ایک شخص ٹکرایا تو مولوی صاحب نے غصے سے اس کا گال سرخ کردیا۔۔۔

ایک عالم دین نے قران و حدیث سے ایک مسلہ بیان کیا تو علاقے کے وڈیرے نے یہ کہے کر اسے مسجد چھوڑنے کا کہے دیا کہ یہ مسلہ سخت اور نیا تھا۔۔۔

ایک بندہ شراب پی کر یہ کہے رہا تھا کہ یہ ملک تب تک ٹھیک نہیں ہوگا جب تک یہاں جاہل لوگ ہیں۔۔۔

ڈی۔پی۔او صاحب کھلی کچہری لگا کر لوگوں کے مسائل سن ریا تھا۔رات کو جناب نے 56 لاکھ لے کر دو اشتہاری رہا کروائے۔۔۔۔

ڈی۔پی۔او۔ صاحب نے تمام ان فحاشی کے اڈوں پر چھاپے مروائے جو ماہوار رقم دینے سے قاصر تھے۔۔۔۔

ڈی۔پی۔او۔ صاحب کی ہدایات پر ہوٹلوں پر چھاپے مروائے گئے اور کافی لوگوں کو زنا کرتے ہوے گرفتار کیاگیا۔لیکن رات گیارہ بجے ایک حسین و جمیل لڑکی کو ڈی۔پی۔او صاحب کے بستر پر پیش کیا گیا۔جو ڈی۔پی۔او صاحب کے جسم پر تِل کی نشاندہی بھی کر سکتی تھی۔اس تِل کے ہونے کی اس کی دو مذید وہ سہیلیاں بھی کرسکتی تھیں۔جو جناب کے بستر کی زینت رہیں۔

وزیراعظم چاہتا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرناہے۔۔۔

ڈی۔سی صاحب نے 84 لاکھ کے عوض سرکاری چند مربعوں کی ملکیت دینے کی حامی بھر لی تھی۔۔۔

ایک روڈ کی تعمیر کے حوالے سے خاموش رہنے پر ایک خاتون افسر اس شخص کو 12 لاکھ دے چکی تھی۔۔۔۔

ایک حکومتی عہدیدار مساوات بھائی چارہ اور خاص کر میرٹ پر تقریر کر رہا تھا۔لیکن اس کے ماتحتوں نے میرٹ پر پورا اترنے والے،ہر امتحان کو پاس کرنے والوں کو صرف اس بنیاد پر ASIکی نوکری نہ دی کہ ان کی داڑھی بڑھی تھی۔۔۔
24 گھنٹے لگاتارنوکری کرنے والے پولیس والے کو معطل کر دیا اس بنیاد پر کہ وہ ہشاش بشاش نہیں تھا۔۔۔۔۔
24 گھنٹے بغیر چھٹی کے سارا سال 20 ہزار پر نوکری کرنے والے پولیس اہلکار کو کہا گیا رشوت مت لینا۔۔۔۔

ایک دوکاندار نےگاہک کے بقایا اس کے بھول جانے پر واپس نہ کیے اور اپنی نجی محفل میں کہے رہا تھا کہ ملک تب صیح سمت جاے گا جب ایماندار لیڈر آئےگا۔۔۔

ایک مزدور سے جب ایک مالک نے پوچھا کہ میرا ایک ہزار کا نوٹ گرا ہے تم نے تو نہیں دیکھا تو مزدور نے انکار کیا۔مالک کے جانے کے بعد مزدور نے نوٹ سامنے والی جیب سے نکال کر زپ والی جیب میں رکھ لیا۔۔۔

ایک بچہ گھر سے سبزی کے پیسے لے کر سبزی لینے گیا۔لیکن بقایا دس روپے کی چیز خرید کر کھا لی۔ماں کے پوچھ
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 164 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Usama khan daultana

Read More Articles by Usama khan daultana: 6 Articles with 713 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: