مذہب سے دوری ...... بے سکونی کی بڑی وجہ

(Rabia, Faisalabad)

آج ہم اکیسویں صدی میں رہ رہےہیں- جہاں دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے- وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا میعار زندگی بلند ہوتا جا رہا ہے-

آج ہمارے پاس زندگی گزارنے کی تمام آسائشیں موجود ہیں - ہمارے بچے اعلی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں - جہاں انھیں انگریزی تعلیم دی جاتی ہے- ہر مہینے کی تنخوا ہ میں ہزاروں روپے عورتوں کے ملبوسات اور کاسمیٹکس کی اشیا پر صرف ہو جاتے ہے-ہم روز بہ روز ماڈرن ہوتے جا رہے ہیں -ہمارے گھر بھی جدید طرز کے ہو چکے ہیں - مختصر یہ کہ ہم موڈرنِ ازم کی ایسی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں - جس میں خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں -

آج ہمارے پاس سب کچھ ہے- اگر کچھ نہیں ہے- تو وہ ہے سکون -سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد رات کو جب سونے کے لئے لیٹتے ہیں - تو سلینگ پلز لے کر سونا پڑتا ہے - ڈپریشن اور ٹینس جسے امراض ہمارے معاشرے کا اہم حصّہ بنتے جا رہے ہیں - ایک بے نام سی بے چینی اور اضطراب ہے جس نے ہمارے پورے وجود کا احاطہ کر رکھا ہے -

سکون ایک ایسی چیز ہے جسے پوری دنیا کی دولت دے کر بھی خریدا نہی جا سکتا - اور یہ وہ چیز ہے جسے پانے کے لئے آج کل ہر انسان سرکرداں ہے - مگر سکون ملے بھی تو کیسے ملے؟ بےسکونی کی سب سے بڑی وجہ مذہب سے دوری ہے - اگر یہ کہا جائے کے ہم نے اپنی زندگیوں سے مذہب کو نکال کر باہر کر دیا ہے تو اس بات میں کوئی شک نہی ہے - عید ، شب برات کے موقع پر ہمیں یہ یاد آ جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں - خدا ہمیں صرف اس وقت یاد آتا ہے جب کوئی مشکل یا آزمائش سر پر پڑتی ہے - جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو ہم خدا کو بھول جاتے ہیں اور اپنی پرانی روش پر واپس آ جاتے ہیں -بلکہ جو لوگ مذہبی ہوتے ہیں ہم ان کو بھی اپنے رویے سے گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہی چھوڑتے - ان کو دقیانوسی اور پینڈو کہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے - ہم نماز پرھتے ہیں -قرآن پرھتے ہیں اس طرح کہ ہماری عبادت او ر مذہب کا ہماری ذاتی زندگی پر کوئی فرق نہ پڑے -

کیا اسلام صرف عبادات کا مجموعہ ہے ؟ نہی بالکل نہی اسلام صرف عبادت کا نام نہی ہے بلکہ اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے تمام طریقے سکھا دیے ہیں- ہمیں ہر چھوٹی سے بڑی بات اور زندگی کی اونچ نیچ کے بارے میں سمجھا دیا ہے - اپنے لئے زندگی کو مشکل ہم نے خو د بنایا ہے -اپنے لئے مشکلات کے پہاڑ ہم نے خود کھڑے کئے ہیں - اسلام میں گنجائش ہے آسانی ہے پھر ہم یہ بےسکونی کا رونا کیوں روتے ہیں آخر؟ ہمیں ہر ایک سے شکایتیں ہیں - اپنی قسمت سے ، اپنے ماں باپ سے ، ملک سے ، حکمرانوں سے یہاں تک کہ خدا سے بھی - ہم ہر ایک کا احتساب کرنا چاھتے ہیں- کیا کبھی ہم نے خود ا حتسابی کی ہے؟اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں تو دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کی ضرورت نہ پرے گی - اپنے اصل سے دور رہ کر ، خدا سے دور رہ کر سکون کیسے ملے گا - سکون آپ کے دل سے وابستہ ہے - الله نے انسان کا دل تخلیق کیا اور اس کا سکون اپنے پاس رکھا اور فرمایا کہ
"یاد رکھو دلوں کا سکون الله کے ذکر میں ہے" -

میں یہ نہی کہتی کہ آپ دنیا سے کنارہ کش ہو کر عبادت میں مصروف ہو جاییں - بلکہ میں یہ کہتی ہوں کہ مذہب کو صرف عبادت تک نہ رکھیں - اسلام کو سمجھیں - اسلام کی روح کو سمجھیں - خدا نے زندگی گزارنے کے جو طریقے ہمیں ہ زندگی کو گزارنے کی کوشش کریں - اور سب سے بڑھ کر توازن رکھیں - خود کو مشین نہ بنائیں- نمودونمائش سے بچیں - یہ چیزیں صرف وقتی خوشی دے سکتی ہیں - سکون صرف خدا کی یاد میں ہے - خود بھی خوش رہیں - اور دوسروں کو بھی خوش رکھنا سیکھیں - کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لا کے آپ بہت سکون محسوس کریں گے- آزمائش شرط ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabia

Read More Articles by Rabia: 2 Articles with 813 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2019 Views: 572

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ