محبت ایک سزا (حصہ اول)

(Faisal Bhatti, lahore)

کہتے ہے محبت کرنے والوں کا بھی ایک دن ہوتا ہے ۔جسے بہت خاص انداز میں منایا جاتا ہے۔محبت کرنے والے ایک دوسرے کو گلاب کا پھول دیتے ہیں۔اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔میں اپنے عالیشان سے آدس میں بیٹھا ایک ٹینڈر کی فائل میں مگن تھا۔آفس بوائے اندر آنے کی اجازت مانگتا ہے۔اُس کے ہاتھ میں ایک لفافہ ہوتا ہے۔جو میری طرف بڑھاتے ہوئے کہتا ہے
سر “کوئی کورئیر والا یہ لفافہ دے کر گیا ہے“

میں لفافہ اُس کے ہاتھ سے لیتا ہوں اور باہر جانے کا اشارہ کرتا ہوں ۔لفافے پر میرا نام لکھا ہوتا ہے،اور میرے آفس کا ایڈریس ،خاص بات اُس لفافے کی یہ ہوتی ہے،میں وہ تحریر پڑھ کر چونک جاتا ہوں۔لفافے کے سائیڈ پر لال پوانئٹر سے لکھا ہوتا ہے۔“تم اب یاد نہیں آتے“۔یہ الفاظ میرے لیے کسی بم سے کم نہ تھے۔میں نے فوراََٹیبل کلینڈر کی طرف دیکھا آج تاریخ کیا ہے١٤ فروری“آج اُس سے بچھڑے ١٥ سال ہو گئے تھے“۔وہ آج بھی میری ذات کا حصہ ہے۔مگر اُس کی جدائی کو میں آج تک نہیں بھلا سکااور نہ ہی بھلا پائوں گا۔وہ کہاں ہے، کیسی ہے مجھے کچھ خبر نہیں ہے۔مگر وہ میرے دیار دل میں روز اول کی طرح آج بھی براجمان ہے،اور ہمشیہ رہے گی۔افضل بیگ نے وہ لفافہ کھولااور اُس میں ایک کاغذ میں چند لائنیں تحریر تھی،جن کو وہ پڑھنے لگاتحریر ختم ہونے پراُس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی جھڑی تھی،جس کو جاری ہونے سے نہ روک سکا۔“آج وہ تنہا پردیس میں ضرور مجھ کواُس نے سوچا ہو گا،راہ چلتے جو اُس کو میرا خیال آیا خوابوں اور خیالوں میں میرا ہی چہرہ تراشا ہو گا۔

حنا بیٹا سنا ہے تم نے آج نہ ناشتہ کیا اور نہ ہی دوپہر کا کھانا کھایا اپنی حالت دیکھو ذرا کتنی کمزور ہو گئی ہو اور رو رو کر تم نےاپنی آنکھوں کا برا حال کر دیا ہے ۔اب اگر بڑے صاحب کو پتا چلا تو کیا کہیں گئے،رحمت بوا بولے جا رہی تھی۔میری بیٹی جو تم نے ضد لگائی ہوئی ہے اُس سے تمہارے دا جی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وہ بھی تماری طرح ضد کے پکے ہیں ۔رحمت بوا پیار سے میرے چہرے پر بکھرے بالوں کوسمیٹ نے لگی،میں نے بچپن ہی سے رحمت بوا کو دیکھا ماں کا پیار کیا ہوتا ہے ماں کس کو کہتے ہیں شاید وہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔میرے والد کا نام سردار نور الدین ہے۔جو کہ ایک سخت طبعیت کے مالک اور غصے کے تیز ہے۔انہوں نے میری شادی اپنے ہی جیسے رئیس خاندان میں طے کی تھی۔یہ بات مجھ تک پہنچی تو میں نے اس رشتے سے انکار کر دیا ،انہوں نے اس کی پراوہ نہ کی،میں اُن کی اکلوتی اولاد ہوں۔اور حکم صادر کیا جو تاریخ مقرر ہے ۔اُسی تاریخ میں شادی ہو گی،اور انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سنا تھا محبت دھیرے سے چپکے سے من کے اندر انس کی پائل پہن کر اُترتی ہے۔تو لخت اندر کی ساری کائنات بدل جاتی ہے۔“حنا نورالدین“جس کو دیکھتے ہی میرے دل کے تاروں نے جو دھن بجائی وہ بے جاہ نہ تھی۔سفید اسکارف کے ہالے میں اناری چہرہ،جھکی پلکیں ،شرمیلی مسکان اورگلابی ہونٹ آنکھوں میں خوابوں کی ننھی ننھی کونپلیں پھوٹ پڑیں۔اگلی صبح روشن اور چمکیلی تھی،افضل بیگ جلدی سے ناشتے میں مصروف تھا کہ چھوٹے بھائی نے سوال کیا!بھائی اآج خریت ہے نا کس بات پر آپ کے گال سرخ ہو رہے ہیں ۔لگتا ہے کوئی آپ کی زندگی میں آگیا ہے۔جس کی خوشی آپ کے چہرے سے عیاں ہے۔(باقی اگلی قسط میں)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 289 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Bhatti

Read More Articles by Faisal Bhatti: 10 Articles with 2234 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: