بچے کی ضد ختم کرنے کے آزمودہ طریقے


وہ دور اب ماضی بن چکا ہے جب ہمارے ماں باپ ہمیں کچھ بھی کہہ دیتے تھے تو وہ پتھر پر لکیر ہوجاتا تھا اور ہماری مجال نہیں ہوتی تھی اس کے آگے ایک لفظ بھی کہنے کی۔۔۔یہ نہیں ہے کہ ہم نے کبھی ضد نہیں کی لیکن ہماری ضد میں اور آج کے بچے کی ضد میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔اسی طرح آج کے بچے کو ڈیل کرنے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔۔۔سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ آپ کا بچہ ضدی کیوں ہے۔۔۔
زیادہ تر یہ تین وجوہات بچے کو ضدی بناتی ہیں
جب اس کی بات کو اہمیت نا ملے یا والدین میں سے کسی ایک کی بھی توجہ میں کمی ہو
جب وہ کسی بھی طرح سے اپنی عزت میں کمی محسوس کرے
جب اس کے ماحول یا اردگرد کی کوئی بات اسے پریشان کر رہی ہو۔۔۔
ضدی ترین ننھے منے سپاہیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے آپ کو دے رہے ہیں چند آزمودہ طریقے

بچے کی بات کو سنیں
جی جی ہم جانتے ہیں کہ یہ جو بھی بول رہے ہیں اس میں کوئی سر ہے نا پیر۔۔۔یہ جو بھی بات کر رہے ہیں وہ ناممکن ہے لیکن ان کی بات کو سننا اتنا ہی ضروری ہے جتنا سانس لینا۔۔۔یقین جانئے جب ڈاکٹر آپ کی بات کو ، آپ کی بیماری کو سنتا نہیں ہے تو آپ کی تکلیف میں کمی نہیں آتی۔۔۔اور جب وہ سن لیتا ہے تو آدھی بیماری ختم۔۔۔بچے کی بات کو سننا بھی کچھ اسی طرح ہے۔۔۔آپ اس کی پوری بات کو نا صرف توجہ سے سنیں بلکہ اسے وہی اہمیت دیں جو آپ اپنے آفس کے یا گھر کے کسی بڑے مسئلے کو دیتے ہیں۔۔۔اس سے بچہ خود کو محفوظ اور پراعتماد محسوس کرے گا اور اس کی ضد میں پچاس فیصد تک کمی آئے گی ۔۔۔
 


زبردستی نہیں کریں
اگر ایک پانچ سال کا بچہ اس ضد پر آگیا ہے کہ وہ نہیں سوئے گا اور اس وقت صرف اور صرف ٹی وی دیکھے گا۔۔۔تو اسے پانچ سیکنڈز تک دیکھئے۔۔۔اور پھر اس کی بات مان کر خاموشی سے اس کے ساتھ پانچ منٹ ٹی وی دیکھیں۔۔۔اور پانچ منٹ بعد اسے کہیں کہ میں نے آپ کی بات مان لی ہے۔۔۔اب ٹھیک پانچ منٹ بعد آپ کو میری بات ماننی ہوگی۔۔۔یاد رکھئے آپ کے لہجے میں غصہ ، جبر یا زبردستی نا ہو بلکہ پیار ، درخواست اور محبت ہو۔۔۔اس دوران اسے پانی بھی پلائیں بہانے سے۔۔۔یاد رکھئے وہ پانچ منٹ سے بھی پہلے اپنی ضد سے ہٹ جائے گا۔۔۔بس آپ کا صبر اور برداشت چاہئے-

بچے کو عزت دیں
مانا کہ یہ آپ کی اولاد ہیں، آپ ان کے سربراہ ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ انہیں اپنا غلام سمجھ بیٹھیں اور یہ آپ کی سلطنت میں چوں تک کرنے کی مجال نہیں رکھتے۔۔۔جس طرح آپ کی عزت ہے ، جس طرح آپ کو کوئی محفل میں کچھ کہہ دے تو آپ کو برا لگتا ہے، جس طرح آپ کو کوئی کسی کے سامنے تھپڑ لگا دے تو آپ کی عزت پر آنچ آجاتی ہے۔۔۔یہ ننھے منے بھی اتنی ہی عزت رکھتے ہیں۔۔۔اس لئے ان سے بات ہمیشہ احترام سے اور ٹھنڈے لہجے میں کریں۔۔۔سخت سے سخت حالات میں جب یہ زمین پر لوٹ بھی رہے ہوں تو اپنے غصہ کو قابو میں رکھیں۔۔۔بہت مشکل ہے لیکن والدین کو اﷲ نے اسی لئے خاص بنایا ہے کہ انہیں صبر اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔۔۔
 


بچے کے ساتھ کچھ مثبت قسم کے گیم کھیلیں
اگر آپ کے بچے کو بات نا ماننے کی عادت ہے اور ہر بات کو نظر انداز کردیتا ہے یا ہر بات میں نہیں کہتا ہے تو ایک گیم اس کے ساتھ اکثر کھیلا کریں۔۔۔ہاں اور نہیں کا گیم۔۔۔کچھ مزے کے سوالات بدل بدل کر کیا کریں اور بچے نے اس کا جواب ہاں یا نہیں میں دینا ہے۔۔سوالات ہمیشہ وہی رکھیں جس کا جواب ہاں میں ہو۔۔۔نا کی مقدار آٹے میں نمک کے برابر ہو مثال کے طور پر۔۔۔آپ کو آئس کریم کھانا پسند ہے، آپ کو کھیلنا پسند ہے، آپ کو ماما پاپا جیسا بننا پسند ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ بچے کی نا کو ہاں میں بدلنے کے لئے اس قسم کے گیمز روزانہ بدل بدل کر کھیلیں۔۔۔

بچے کا ٹائم ٹیبل بنائیں
آپ کی والدین کی حیثیت سے ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے بچے کے کھانے، سونے، پینے، پڑھنے کا ایک باقاعدہ ٹائم ٹیبل بنائیں اور اس میں تبدیلی کی صورت میں کچھ نقصانات رکھیں۔۔۔ساتھ ہی پورے ہفتہ ٹائم ٹیبل کو اچھی طرح فالو کرنے پر فائدہ یا سرپرائز بھی رکھیں۔۔۔جس طرح ڈائٹ میں چیٹ ڈے ہوتا ہے اسی طرح بچوں کو چیٹ ڈے کی بھی اجازت دیں۔۔۔جس میں وہ اپنا ٹائم ٹیبل فالو کرسکتے ہیں۔۔۔ اگر وہ یہ نا کرے تو نقصان اسے اس کے کسی پسندیدہ کام نا ہونے کی صورت میں ملے گا۔۔۔اور سرپرائز میں آپ اسے آئس کریم یا اس کی پسند کا کھانا دے سکتے ہیں۔۔۔

بچوں کے ساتھ صرف صبر اور برداشت ہی کام آئے گا۔۔۔غصہ، ضد اور زبردستی اگر آپ میں ہے تو اس کا نقصان بچہ بھی اٹھائے گا۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 6276 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: