کیا آرامکو دنیا کے سب سے قیمتی کمپنی بن چکی ہے؟


آرامکو اپنے مہنگے شیئرز کی بدولت اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن چکی ہے۔ شیئرز کی ابتدائی طور پر جاری کردہ قیمت کے مقابلے میں کمپنی کے حصص کی قدر میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے تیل کی اس بڑی کمپنی نے اپنے حصص کی فروخت کے دوران 25.6 ارب ڈالر کمائے تھے۔ یاد رہے کہ آرامکو عالمی سطح پر خام تیل کا دسواں حصہ پیدا کرتی ہے۔

سعودی شاہی خاندان آرامکو کے حصص کی فروخت اس لیے کر رہا ہے تاکہ سعودی حکومت کا تیل پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔

شیئرز کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن توانائی کے بجائے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جائے گی۔

حصص کی قیمت میں حالیہ 10 فیصد اضافے سے مارکیٹ میں آرامکو کی قدر 1.88 کھرب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
 


1.88 کھرب کی قدر کے ساتھ آرامکو باآسانی دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن گئی ہے، تاہم یہ مالیت اس تخمینے سے تقریباً دو کھرب کم ہے جس کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان توقع رکھتے ہیں۔

لیکن پھر بھی آرامکو کے حصص دنیا بھر میں آج تک کے سب سے قیمتی شیئرز ہیں۔ ان کی قیمت چینی کمپنی علی بابا سے بھی زیادہ رہی ہے جس نے سنہ 2014 کے دوران نیو یارک میں اپنے شیئرز کی فروخت سے 25 ارب ڈالر کمائے تھے۔

مارکیٹ تک رسائی کا مشکل سفر
آرامکو کے حصص کی فروخت ایک مشکل سفر کے بعد ممکن ہو سکی ہے۔

بیرونی ممالک کی جانب سے شیئرز میں عدم دلچسپی کے بعد سعودی عرب کو 1.5 فیصد حصص کی فروخت کے لیے مقامی اور علاقائی سرمایہ کاروں کا سہارا لینا پڑا تھا۔

آرامکو کے حصص کی فروخت سعودی عرب کے تداول حصص بازار اور ایک بیرونی مارکیٹ میں کی گئی اور ابتدائی طور پر 100 ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا تھا۔

منصوبے کو اس وقت روکنا پڑا جب بیرونی سرمایہ کاروں نے موسمیاتی تبدیلی، سیاسی خطرات اور کمپنی کے معاملات میں عدم شفافیت کے خدشات ظاہر کیے۔
 


بین الاقوامی ادارے کمپنی کی قدر کے تخمینے سے بھی متفق نہ تھے جس کی وجہ سے آرامکو نے لندن اور نیو یارک میں اپنی تشہیر کے لیے کی جانے والی تقریبات منسوخ کر دی تھیں۔

ان سب وجوہات کی بنا پر آرامکو نے اپنی توجہ سعودی سرمایہ کاروں اور خلیج میں اپنے امیر اتحادیوں پر مرکوز کر لی تھی۔ ملک بھر میں تشہیر کی ایک مہم کے دوران سعودی بینکوں نے بھی اپنے شہریوں کو سستے قرضے دیے تاکہ وہ یہ حصص خرید سکیں۔

سعودی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اور تیل پر انحصار کم کرنے کے منصوبوں میں آرامکو کے حصص کی فروخت ایک اہم کڑی ہے۔

بڑے منصوبوں کی تکمیل اور نئی صنعتیں لگانے کے لیے سعودی بادشاہت کو اربوں ڈالرز کی ضرورت ہے۔

آرامکو کیسے وجود میں آئی
سعودی آرامکو کی تاریخ سنہ 1933 میں اس وقت شروع ہوئی جب سعودی عرب اور سٹینڈرڈ آئل کمپنی آف کیلیفورنیا (شیورون) کے مابین معاہدہ طے پایا۔

یہ معاہدہ تیل کے ذخائر کی کھوج اور کنوؤں کی کھدائی کے لیے ایک نئی کمپنی کی تشکیل سے متعلق تھا۔ اس کے بعد سنہ 1973 سے سنہ 1980 کے درمیان سعودی عرب نے آہستہ آہستہ پوری آرامکو کمپنی ہی خرید لی۔

انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق سعودی عرب میں وینزویلا کے بعد تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ اس کے ساتھ سعودی عرب تیل کی پیداوار میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

تیل کے معاملے میں سعودی عرب کو دوسرے ممالک پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہاں تیل نکالنا بھی نسبتاً سستا اور آسان ہے۔

یہ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے جس کی روزانہ 10 ملین بیرل پیداوار ہوتی ہے اور اس سے 356،000 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔


Partner Content: BBC
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1952 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: