16 دسمبر یادیں آج بھی تازہ ہیں!

(Muhammad Ansar Usmani, Karachi)

16 دسمبر 2014 ۔تاریخ پاکستان کاو ہ کرب ناک دن جب پشاور کے آرمی بلک اسکول میں دہشت گردوں نے گھس کر 132 پھولوں اور عملے کے 9 افراد کو سفاکانہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے،یہ وہ مقام ہے جہاں قوموں کے معماران تراشے جاتے ہیں،استاد معاشرے کا وہ فرد ہوتا ہے جو قوم کے روشن مستقبل کے لیے نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرتا ہے تاکہ ملک وملت کو صحیح سمت ملے۔ 16 دسمبر کا دن ہماری قومی تاریخ پر دشمن کا لگا یا گیا دہرا زخم ہے۔16 دسمبر کے دن قوم پہ بپا کی جانے والی قیامت صغریٰ کا تصور محال ہے۔ذہن کے نہاں خانوں میں غم کا انبوہ کثیر یکجاہوجاتا ہے۔یہ دکھ ناقابل بیان ہے،جسے ہماری حالیہ تاریخ، ایک گھناؤنا اور تاریک دن مانتی ہے۔اس سانحہ میں جن والدین کے پھولوں کو مسلا گیا ان کے دکھ کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔نہ تو ہم لفظوں کی گرماہٹ سے انہیں کوئی تسلی دے سکتے ہیں نہ ہی ہمارے پاس اس صدمے کی مناسب تشفی موجود ہے۔ شہید بچوں کے والدین کے پہاڑ ایسے حوصلوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اسلامی جمہوری ریاست کے باسیوں پر دشمن کی طرف سے ایک ایسے وقت میں حملہ کیا گیا جب ملک میں سیاسی کشاکشی کا منظر تھا،بالادست طبقات میں اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی، حکمران طبقہ اپنے لیے دفاعی خول تیار کرکے چھپا بیٹھا تھا،عوام کی اجتماعی سوچ پر تالے پڑے ہوئے تھے،ملک میں ریاست کی غیر موجودگی سے دشمن بھی مطئمن ہوکر حملہ کرنے آپہنچا،پھر حکمرانوں کی سنگین غلطیاں تشدد پسند عناصر کے لیے تر نوالہ ثابت ہوئیں،نظریات کی اس جنگ میں نظریاتی سیاست اور مذہب کے نام پر معصوم بچوں کا سفاکانہ قتل عام کیاگیا،دنیا کو دہشت گردی کا پیغام دے کر ہمارے قومی پیرو کار ایک پیج پر جمع ہوئے ،اپنی خامیوں سے تہی دامن ہو کر عوام کو باور کرایا گیا کہ انسانی جان کی قیمت سیاسی نظریہ، مخصوص مذہبی تشریح ، حصول اقتدار کی تمنا اور ذاتی مالی مفادات سے زیادہ نہیں۔آرمی پبلک اسکول کے شہید بچوں کے خون سے قوم کے بند سوچ پر لگے تالے کھلے ،اس بات کا شعور بیدار ہوا کہ انسانی معاشرے میں ایسے رویوں کی قطعی گنجائش نہیں۔بچے کسی بھی قوم کا وہ اثاثہ ہوتے ہیں جن سے مستقبل کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔

ظالم ظلم سے باز نہیں آتا تودشمن دشمنی کو نہیں چھوڑتا۔یہ ابدی اور فطری عمل ہے جو انسان ہر زمانے میں کرتا آیا ہے۔لیکن دہشت گردی کی جنگ میں جس طرح ہمارے عسکری اداروں نے سیاسی اتحاد کے ساتھ دشمن کا خاتمہ کیا اگر اس کا ذکر نہ کیا جائے تو غیر مناسب ہوگا،یہی وجہ ہے کہ آج پوری قوم دہشت گردی کے خلا ف متحد ہے۔ آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے پاکستانی قوم کو گہرا زخم لگا کر دشمن نے اپنے مکروہ عزائم ظاہر کیے اور ہمیں توڑنے کی کوشش کی،مگر قوم نے ثابت قدمی دہشت گردی کے خلاف مثالی اتحاد قائم کیا جس سے دشمن کے خوف ناک ارادے خاک میں مل گئے۔ سانحہ پشاور میں جس بے دردی سے نونہالوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی ،ایسا منظر بنایا گیا جس کے اثرات شاید ہی دماغ کے پردہ اسکرین سے غائب ہوں۔ ایسا غم لگایا گیا جس کو لفظوں میں بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ سو کے قریب ماؤں کی گودوں سے ان کے لعل چھین لیے گئے۔ آج پانچ سال گزرنے کے بعد اس کی تلخ یادیں پوری قوم کو واپس 2014 کے دسمبر میں لے جاتی ہے۔ سانحہ میں زندہ بچ جانے والے خوش نصیب بچے اپنی قیادت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر عسکری سیاسی قائدین اس ملک کو محفوظ بنانے میں اپنی صلاحیتیں صرف کریں تاکہ قوم کا یہ قیمتی سرمایہ ملک کی خوش حالی کے لیے خود کو پیش کر سکے۔ ہمیں یہ بھی عہد کرنا ہوگا کہ ہم کسی بھی سانحہ سے گھبرا کر دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے ۔

پاکستان نظریہ اسلام کی بنا پر وجود میں آیا۔ ہمارا نظریہ ،تہذیب ، ثقافت ، اقدار اسلامی ہونے کے باوجود ہمارا دفاع سراسر غیر اسلامی ہے۔ ہمیں واشگاف الفا ظ میں اعتراف کرنا ہوگا کہ وہ قومی جد جہد کہ جس کی وجہ سے ہمیں خود مختار زمین ملی،قیادت کی من مانیوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ہوس اقتدار نے بے اعتمادی کواس حد تک بڑھادیا ہے کہ گزرے ستر سالوں میں قوم کو کوئی ایسی قیادت نصیب نہیں ہوئی جس نے قوم کی درست سمت راہنمائی کی ہو۔ نسل در نسل بے یقینی کا زہر قوم کے ضمیر میں سرایت کر چکا ہے۔مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم کی نا ختم ہونے والی کہانیاں رقم ہوتی ہیں جس کی وجہ ہماری زمین سانحات کی آماجگاہ بنتی جارہی ہے۔قیادت کی نااہلیوں، خود غرضیوں کا خمیازہ قوم آرمی پبلک اسکول ایسے سانحات سے چکاتی آرہی ہے ۔ہم زندہ قوم تو ہیں لیکن ہماری بیداری نام نہاد ہونے کے ساتھ سماجی عدو کا شکار ہے۔ہم بہت جلد بھول جانے کے مرض میں مبتلا قوم ہیں۔ یہ سوال بہت اہم ہے کہ ہم سانحہ ہونے کے بعد ہی خواب غفلت سے کیوں جاگتے ہیں؟

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 98 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ansar Usmani

Read More Articles by Muhammad Ansar Usmani: 17 Articles with 3521 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: