سفید اور کالے کوٹ ، مسیحا ۔یا ۔۔۔۔۔۔

(Maemuna Sadaf, Rawalpindi)

حال ہی میں پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی جانب سے پر تشدداحتجاج کیا جس میں انھوں نے مریضوں تک کے آکسیجن ماسک اور ڈرپس وغیرہ بھی اتار دی گئی اور ہسپتال کے احاطہ میں بھی توڑ پھوڑ کی ۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان صاحب جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو ان پر بھی حملہ کیا گیا ۔ ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے اور ہوائی فائرنگ تک کی گئی ۔
 
اس واقعہ میں پانچ سے زائد افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ۔ لاہور میں واقع امراض ِ دل کے ہسپتال میں ہونے والے واقعہ نے اس طبقہ کے چہرے پر کالک مل دی ہے ۔ وکلاء کے پرتشدد رویے نے جہاں انسانیت پر بھی قدغن لگائی ہے وہاں ملک کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کردیا ہے ۔

بنیادی طورپر اس واقع کے دو پہلو ہیں ایک جانب تو ڈاکٹر حضرات ہیں جن کی کوتاہیوں کی داستانیں اب زبان ِ زد ِ عام ہوتی جا رہی ہیں ۔ ڈاکٹر ایک مقدس پیشہ ہے اس مقدس پیشہ سے تعلق رکھنے والوں پر ایک کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اکثر مریضوں کی زندگی کادارومدار بیماری کی درست تشخیص اور ڈاکٹر کے درست علاج پر ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر کو مسیحا کے طور پر جانا جاتا ہے جس کا کام انسانی جان کو بچانے اورانسان کو صحت کی جانب لانے کی کوشش کرنا ہے ۔ ارض ِ پاک میں آج کل کم و بیش ہر شہر میں آئے دن ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتالوں کی وجہ سے کئی مریض اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ تو دوسری جانب اکثر و بیشتر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈاکٹر کی کوتاہی کی وجہ سے کسی مریض کی جان تک چلی جاتی ہے تو پھر مریض کے لواحقین پرتشدد کاروائیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ برس ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتالوں کی وجہ سے ان گنت لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے ۔
 
اس واقعہ کادوسر ا پہلو وکیل ہیں ۔پاکستان بنانے والے قائد اعظم کا بھی پیشہ وکالت ہی تھا اور انھوں نے اپنے علم کو ملک کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا نہ صرف مطالبہ کیا بلکہ یہ ارض ِ وطن حاصل کی ۔ وکیل کسی بھی معاشرے کا ایک پڑھا لکھا قابل ، باعزت ، حساس اور باشعور فرد ہوتا ہے ۔وکلا ء کا کام معاشرے میں قانون کا بول بالا کرنا اور قانون کی پاسداری کو یقنی بنانا ہے۔اگر قانون کے رکھوالے ہی قانون کو ہاتھ میں لینے لگیں گے تو کسی اور کیا امید لگائی جا سکتی ہے ۔وکلاء کی جانب سے پہلی بار احتجاج جسٹس افتخار محمد کی سرگردگی میں تحریک چلائی گئی ۔ اس کے بعد وکلاء نے مختلف ریلیوں اور احتجاجی جلوسوں میں حصہ لیا لیکن حالیہ واقعہ کی قسم کی کوئی کاروائی اس سے پہلے نہیں کی گئی ۔مبادا کہ ہوائی فائرنگ یا توڑ پھوڑ کی جاتی ۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ اس واقعہ میں ایک فریق سیکیورٹی ایجسیز خصوصا پولیس بھی ہے ۔ کسی بھی ملک میں پولیس کا بنیادی کام اندرون ِ ملک امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنا ، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہے ۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی بھی حادثہ یا نقص امن کی صورت میں پولیس جائے وقوعہ پربروقت پہنچنے میں ناکام رہتی ہے ۔ حالیہ واقع میں بھی پولیس تمام کاروائی کے دوران بے بس نظر آئی ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے تشدد کی جانب رواں دواں ہے۔ معاشرے کا ہر طبقہ چاہے وہ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو اپنے مطالبات منوانے کے لیے تشدد کی راہ اختیار کرنے لگا ہے ۔ اس طرح کے احتجاج کے دوران وہ لوگ بھی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کا اس معاملہ سے نہ تو کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی وہ براہ راست اس احتجاج میں شامل ہوتے ہیں ۔

واضع رہے !حالات کیسے بھی کیوں نہ ہو ں یہاں تک کہ حالت ِ جنگ میں بھی ہسپتالوں پر نہ تو حملہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی مریضوں پر کسی قسم کا تشدد کیا جاتا ہے ۔ زیادہ تکلیف دہ اور معاشرے کی عکاس بات یہ ہے کہ ایک ایسا طبقہ جو پڑھا لکھا ہو ۔ جنھوں نے ڈگری حاصل کرنے کے لیے کئی سال صرف کیے ہوں اگر ان کے رویے اس طرح کے ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ڈگری تو دی جاتی ہے لیکن انسانی تربیت نہیں کی جاتی ۔ سیاسی وابسطگی سے قطع نظر انسانیت کا تقاضا یہ تھا کہ احتجاج کو احتجاج تک محدود رکھا جاتا اور ہسپتال کے احاطہ میں کسی قسم کی ہنگامہ آرائی سے گریز کیا جاتا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 272 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maemuna Sadaf

Read More Articles by Maemuna Sadaf: 164 Articles with 80201 views »
i write what i feel .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: